Feb 8, 2014

میرا گھر میری جنت


باتیں بنانے کے لئے قصے کہانیوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔گفتگو کے لئے موضوعات کی۔بحث کے لئے ہٹ دھرمی کی۔جہاں علم صرف اتنا ہی کافی ہوتا ہے جس کے بارے میں بابا بلہے شاہ نے کہا علموں بس کری او یار۔سخت گرمی میں کالی گھٹائیں برس کر لُو بھری ہواؤں کو ٹھنڈی نہ بنائیں تو سورج اور زمین کے درمیان پھر بادلوں کی کالی چادر کا کیا  کام۔زمین اور آسمان کے درمیان علم کی چادر پھیلےتو ایمان کی ٹھنڈک سے کہلائے مسلمان۔رزق رازق کا اختیار ہےخواہش طلب کی مددگار ہے۔صبر قناعت سے شکر عاجزی سےہم رکاب ہے۔چیونٹی کا تو نظام ہی اس کا جہان ہے۔
جو پوشیدہ ہے وہ مکمل بھی ہے چاہے ایٹم کا زرہ ہو یا گردش کائنات۔جو ظاہر روٹھ جائے تو منانے کی  کوشش ہوتی بار بار ہے۔جیت جائے تو شفاء ہار جائے تو قضاء ۔حاصل بے نتیجہ تو ہو سکتاہے مگر مقصد نہیں۔ کوشش رائیگاں  نہیں جاتی وقت گزر جاتا ہے۔محبت کم نہیں ہوتی نظر محبوب سے لا تعلقی اختیار کر لیتی ہے۔چہرے کے تاثرات خوشی اور غم کے علاوہ حیرانگی کے تاثر سے بھرپور ہوتے ہیں۔زبان میٹھے اور نمکین کے علاوہ کھٹے اور کڑوے ذائقے  کے سگنل  دماغ کے خلیوں تک پیغام رسانی کا  کام سرانجام دیتی ہے۔کان  جنہیں سننا پسند کرتے ہیں وہ دماغ کے نہاں خانوں میں آمدورفت کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں۔
ہم  میں سے کتنے ہوں گے جو اس حقیقت حال سے واقف ہیں کہ ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے۔نیکی کا خیال  کریں تو  وسوسہ عود کر آتا ہے۔سچی بات کہنے کا ارادہ ہو تو وہم ڈر کی صورت اندیشوں سے خوفزدہ کرتا ہے۔ماضی بیشتر اوقات افسوس میں مبتلا رکھتا ہے، مستقبل خوف سے نجات پانے نہیں دیتا۔ حال وہم و وسوسہ سے محتاط رہنے کی تلقین میں گزرتا رہتا ہے۔
ایک دروازہ ،ایک کھڑکی اور ایک روشندان کےذکر سے ایک کمرہ کا تصور نظرمیں گھوم جاتا ہے۔ چار دیواری  میں گھرے صحن سے وہی کمرہ گھر  یا مکان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔باسیوں کے قہقہوں کی جھنکار سے مکین محبت  کے نام لیوا  ہو جاتے ہیں۔  وہاں سے گزرتے کانوں میں رس گھلتا ہے۔کہیں شور وغوغا اُٹھنے سے نفرت کے نشان چھوڑجاتے ہیں۔ جہاں سے گزرتے کان پک جاتے ہیں۔ ہر عمل کا ردِ عمل  ضرور ہوتا ہے کہیں زبان سے کہیں بیان سے کہیں خاموشی سے کہیں فراموشی سے کہیں محبت سے کہیں نفرت سےکہیں اقراری سے کہیں بیزاری سے۔ دھوپ ہوتی ہے تو چھاؤں نہیں رہتی، چھاؤں آتی ہے تو دھوپ نہیں رہتی۔شب کی چاندنی ہو یا  دن کی روشنی  ایک وقت میں صرف ایک ہی رہے گا۔
نیکی کرنا  دین و دنیا میں سرخرو کرتا ہے۔برائی میں بڑائی نہیں۔سچ دنیا میں اکڑ کر رہتا ہے۔جھوٹ کے پاؤں نہیں آج یہاں تو کل وہاں۔ کبھی ایک در پہ تو کبھی در بدر ۔فیصلہ کا وقت آنے سے پہلےخود میں فیصلہ ضروری ہے کہ اس پار یا  ہمیں رہنا اُس پار ہے۔ایک رکھنا ایک چھوڑ دینا ہے۔جس سے دنیا ملے اسے رکھنا مقام قضاء تک رہے۔ جو دنیا سے د ور جاکر ملے اسے اپنانا مقام زمان تک رہے۔گھر میں کیا کیا ڈالیں گھر سے کیا کیا نکالیں۔جو بیکار ہیں رکھنا جو شرمسار کرے ہو سکے تو اسے چلتا کرو۔زندگی کو اپنے صرف یکتا کرو۔مکان ایک ہے تو مکین بھی ایک کرو۔ کام گر نیک ہے تو انجام بھی نیک کرو۔حاصل اگرلطیف ہے تو  کوشش  سے قریب کرو۔ کل تک جو بولا سچ میں جب اسے تولو ،ہو سکے تو آج اس سے جان چھڑا لو ۔کیونکہ گھر تو جنت ہے باغ و بہار میں رہنا وہاں ایک نعمت ہے۔حقیقت سے چشم پوشی  میں بدن سزاوار ہےتودھوکہ کی آگاہی میں باطن دلدار ہے۔ ہر صبح نئے دن کا آغاز  سچے کلام سے کریں۔ سچی بات سننے میں ہو یا نہ ہو مگر کہنے میں ضرور ہو۔خواہشوں  آرزؤں کی آلائشوں سے پاک گھر میں رہنا مکین کا حق ہے۔کیا ہم اُس کا حق اسے ادا کر رہے ہیں۔اگر نہیں تو مکاں کی ضرورتیں محدود کر کے مکیں کو لا محدود وسعتوں سے روشناس کر سکتے ہیں۔

تحریر: محمودالحق

2 تبصرے:

کوثر بیگ said...

تحریر میں بلا کا تسلسل ہے .
ہر صبح نئے دن کا آغاز سچے کلام سے کریں.اسی طرح کے بہت اچهے اچهے پیغام دیے ہیں .جزاک اللہ

Mahmood ul Haq said...

میں اپنے حصے کا کام کر رہا ہوں آپ اپنے حصے کا ۔ہم سب ہی کچھ نہ کچھ پیغام دیتے ہیں۔

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک