Mar 27, 2013

ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار

بڑے بڑے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جبتک کہ اس میں اللہ تبارک تعالی کی رضا شامل نہ ہو۔ تاریخ شاہد ہے کہ مٹھی بھر لوگوں کی جماعت ایک کثیر فوج کے مد مقابل کھڑی ہو گئی۔اس امید کے ساتھ کہ انہیں کامیابی نصیب ہواگر ان کا اللہ چاہے تو۔ تو اللہ تبارک تعالی نے ان کے بھروسہ اور اعتماد کو پزیرائی بخشی اور وہ کامیابی سے سرخرو ہوئے۔ کہانیاں کامیابیوں کی زبان زدعام رہتی ہیں۔ قیاس وہم و افسوس کا شکار ہوتے ہیں۔
باطن کو ظاہر سے کمزور سمجھنے والے باطن کی طاقت سے آگاہ نہیں ہوتے۔ ظاہر نمود و نمائش سے مزین ہوتا ہےاورباطن مخفی قوتوں سے آراستہ۔ آنکھوں کو وہی دکھایا جاتا ہے جو وہ دیکھناچاہتی ہیں۔ کانوں کو وہی سنایا جاتا ہے جو وہ سننا چاہتی ہیں۔ بہلانے پھسلانے کے نت نئے انداز ترنم آبشار کی لگن دھن رکھتے ہیں۔ جمہوریت میں انسانوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں۔ مگر جو قوم تبدیلی کے لئے اُٹھتی ہے وہ گنی نہیں جاتی بلکہ جزبہ و جنوں سے جانی جاتی ہے۔ جہازوں ، گاڑیوں، مکانوں کو گنا جاتا ہے پھر ان میں انسانوں کو گنا جاتا ہے۔
سورج کے گرد طواف کرتی زمین فاصلوں کے ماپنے سے حقیقت شناسی کا سبق دھراتی ہے۔ جس کی حدوں سے باہر نکل کر ہر شے بے وزن ہو جاتی ہے۔ ہوا میں اُڑتے پرندے رائٹ برادرز کو زمین سے اُٹھنے میں تحریک کا سبب ہیں تو نیوٹن کو سیب زمین پر گرنے سے۔ بادل اپنے وقت پر گرج چمک کر برس جاتے ہیں۔ نفع و نقصان کا تخمینہ لگانا انسان کے جمع وتفریق کے فارمولہ کےتحت ہوتا ہے۔ زیر زمین رہنے والے کیڑے مکوڑے جڑی بوٹیوں کی افزائش سے تقویت پاتے ہیں اور ان سے پرندے زندگی۔ ہریالی سے چوپائے صحت و تندرستی پاتے ہیں تو درندے ان کے خون سے۔ انسانوں میں بے حسی ، بے مروتی، خیر وشر کی تمیز کا نہ ہونا، سچ  و جھوٹ میں فرق نہ کرنا، حرام و حلال میں تمیز نہ کرنا، تحریص و ترغیب کی تحریک کا موجب ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک گناہ زندگی بھر کے پچھتاوے سے بھی دھونے میں ناکام رہتا ہے۔
لینے اور دینے والے عہد وپیماں کی بجائے ضابطہ اخلاق کے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں۔ قربانی دینے والے ، ایثار کرنے والے ہمیشہ دوسروں کی نظر میں سر بلند نہیں ہوتے۔ جب تک کہ اللہ تبارک تعالی کی رحمتیں ان پر نفع کی صورت میں آشکار نہ ہوں جو دن کی روشنی کی طرح عیاں ہوتے ہیں۔ حادثہ کا شکار ہونے والے جہاز یا گاڑی میں منزل تک پہنچنے کا ارادہ کرنے والےکسی مجبوری سے سفر نہ کرنے والے حادثہ کی روح فرسا خبر کو  بد قسمتی  اور خوش قسمتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ تیز ہواوں کے نتیجے میں گرنے والے پتے بد قسمت نہیں ہوتے اور نہ ہی درختوں پر رہنے والے خوش قسمت ۔ یہ ایک خود کار سسٹم کے تابع ہیں۔ پانی روشنی اور ہوا لے کر پروان چڑھنے والےپتے ٹہنیوں اور تنوں کی عمر نہیں پاتے۔ بار بار جنم لیتے ہیں بار بار ختم ہوتے ہیں۔ جس دن مٹی جڑ سے رشتہ توڑ لیتی ہے پھر جنم جنم کے سلسلے رک جاتے ہیں۔ جب تک زمین ہے جنم ہوتےرہیں گے۔ جب کائنات نے زمین کو چھوڑ دیا نئے جنم کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔
روشی پانی ہوا سے زندگی پانے والا ایک پتہ روشنی پانی ہوا سے زندہ رہنے والے ایک انسان سے کیونکر عظیم ہو سکتا ہے۔ جبکہ دونوں جنم لینے اور ختم ہونے کی فطرت پر ہیں۔عظیم وہ ہے جوعظمت پر کامل یقین رکھتا ہے۔ وہ عظمت جو اسے وسیلہ سے ملی۔ جس میں مرتبہ حسن اخلاق کو حاصل تھا۔ احترام صداقت اور ایمانداری سے تھا۔ قدرومنزلت نام و نسب کی بجائےشرافت ودیانتداری سے تھی۔ بشر تو سبھی تھے مگر عظمت کے مینار کوئی کوئی تھے۔
پیدائش و اموات کے درمیان افزائش کے مراحل تعلیم و تربیت کے پھلوں سے ذائقہ و خوشبو سے مزین ہوتے ہیں۔ تہذہبی اور ترتیبی معاشروں میں حسن اخلاق اور اخلاص کی کیاریاں پھولوں کوسینچتی ہیں۔ جن معاشروں میں یہ اقدار نہیں ہوتیں وہ جنگل کی مانند بے رنگ و بے ترتیب ہوتے ہیں۔ جو کٹنے سے پہلے گنے جاتے ہیں پھر کٹ کر تولے جاتے ہیں۔ کیاریوں میں اُگے پھول کثیر تعدادی سے آنکھوں کو ٹھنڈک نہیں پہنچاتے بلکہ خوبصورت رنگوں کے امتزاج کثیر سے روح کو تسکین دیتے ہیں۔
 
تحریر : محمودالحق    

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک