Showing posts with label معاشرہ،. Show all posts
Showing posts with label معاشرہ،. Show all posts

Sep 14, 2018

بھریا میلہ تنہا اکیلا

 زندگی کے بھرے میلے میں تنہائی کے مارے اکیلے،کھلے سمندر میں ٹائٹینک جہاز کے ڈوبنے کے یقین کے بعد بھی بےبسی سے لہروں کے تھپیڑوں سے ٹکرانے کی ہمت نہ رکھنے جیسے ہوتے ہیں۔چیخنا چلانا انہیں جان بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے سےبہتر نظر آتا ہے کیونکہ مسدود ہوتے راستے بچ جانے کی اُمید کرن بن کر خوفزدہ آنکھوں میں روشنی کی شمع روشن رکھتے ہیں۔ مستقبل کی پیش بندیاں فنا ہو جاتی ہیں اور ماضی برا بھی بھلا نظر آنے لگتا ہے۔تب انسان حال سے مستقبل کی بجائے ماضی میں داخل ہو جاتا ہے۔
خوف انسانی نفسیات کا وہ آسیب ہے جو آگے بڑھنے پر جکڑ لیتا ہے اور ماضی میں دھکیل دیتا ہے۔خوف رات کے  گھپ اندھیرے اور بینائی سے محروم  ہونے جیسا ہے ،جس میں کانوں میں سرگوشیاں منظر کشی کرتی ہیں۔
ایک اعضائے اجسام  ہیں جوچند روز کی فاقہ مستی پر ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور رسد طلب کی کمی بیشی سے آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں۔تاوقتکہ توازن برقرار رکھنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا لی جائے۔
انسانی رویے میں جو کام نہایت غیر اہم جانا جاتا ہے  وہ سوچ پر بے وجہ بوجھ اور دباؤ ہے۔جس کا آغاز پانچ سال کی عمر سے گھر اور سکول  میں نافذ مارشل لاءسے بیک وقت ہوتا ہے۔گلی محلے کی جمہوری روایات کے قریب سے گزرنے کی بھی مغلائی طاقتیں اجازت نہیں دیتیں۔نمبرز،گریڈ اور کریڈٹ کی تال میل سے  ایساتگنی کا ناچ نچایا جاتا ہےکہ آگے بڑھنے کی رفتار کم پیچھے رہنے کا خوف زیادہ رہتا ہے۔ معاشرے میں مقابلے کی فضا اس طرح قائم ہوتی ہے کہ مزاج اور رویے غیر اہم ہوتے چلے جاتے ہیں۔شکست کا خوف ٹکٹکی پر بندھنے جیسا ہو جاتا ہے اور کامیابی تکبر کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔طاقت سے مزاج اور  معاشرتی رویے منکسرالمزاجی میں ڈھل جاتے ہیں ناکامی پر وہ کوڑے برسانے والے جلاد بن جاتے ہیں۔ 
جوانی کی دہلیز تک پہنچتے پہنچتے بچپن ایسا روبوٹ بن جاتا ہے جوآن آف  ریموٹ رویوں کے ہاتھوں یرغمالی بن جاتا ہے۔جہاں اس  نے آزادی سے سوچ کے در کھولنے کی کوشش کی زنگ آلود قفل ہٹ دھرمی سے چابی کا منہ چڑانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ 
وقت اور رقم کی قیمت کے بدلے میں ڈگری اور سرٹیفیکیٹ تو ہاتھ لگ جاتے ہیں مگر دستور حیات کا مفہوم سمجھنے کے لئے حوصلہ افزائی کے سیمینار اٹینڈ کرنے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔ دباؤ کا نتیجہ بچپن میں ہکلاہٹ اور جوانی میں گھبراہٹ کی صورت میں نکلنا کوئی بڑی بات نہیں۔نیند کی گولیاں اور منشیات کا استعمال نوجوان نسل کو اندھیری گلی میں دھکیل رہا ہے۔جہاں داخل ہونے کے لئےصرف ایک بہکا لمحہ ہی کافی ہوتا ہے اور چھٹکارا پانے کے لئے ہفتوں علاج درکار ہوتا ہے۔منفی رویوں سے بگڑی صورتحال کا تدارک دوا سے زیادہ دعا اور مثبت رویےسے ہی ممکن ہے۔

تحریر: محمودالحق  
در دستک >>

May 15, 2015

دائرے

زندگی بھر ہم سینکڑوں دائرے اپنے ارد گرد بناتے ہیں۔کہیں رشتوں کے، کہیں تعلقات کےاور کہیں روٹی روزی کے چکر۔ان میں حسبِ ضرورت داخل ہوتے ہیں۔جب چاہا باہر نکل آتے ہیں۔اتنے مختصر اور قلیل مدتی دائرے ایک دوسرے میں ایسے پیوست ہوتے ہیں کہ دیکھنے میں ایک جگہ پر ہی جامد نظر آتے ہیں۔مگر جب انہیں الگ الگ کیا جائےتو پیاز کی پرتوں کی مانند اترتے چلے جاتے ہیں۔دیکھنے میں وہ دائرے ایک دوسرے میں ضم نظر آتے ہیں مگر گردش اپنے اپنے مدار میں کرتے ہیں۔
ہم جس کے قریب ہوتے ہیں وہی ہمیں بڑا نظر آتا ہے۔کنالوں پر محیط گھرسامنے کھڑی سو منزلہ عمارت کی آخری منزل سے دیکھنے پرایک نقطہ میں بدل جاتا ہے۔ آسمان پر چمکتے جگمگاتے ستارے آنکھوں کےقریب جلتے دئیے سے بھی معمولی دکھائی دیتے ہیں۔ وجود سے باہر کائنات کا آخری ستارہ اور وجود کے اندر سیل کا آخری جز ہمیں کم مائیگی کا احساس نہیں دلا پاتا۔کیونکہ اسے علم و معلومات کا شاخسانہ قرار دے دیا جاتا ہے۔اس خودکار نظام کو جانچنے پرکھنے کی جستجو علم کی کسوٹی پر پرکھی جاتی ہے۔لاکھوں تجربات پر مبنی کتب انبار انسان کی سوچ کو دنگ کرنے پر اکتفا کرتی ہے۔
دنیا میں آنکھ کھولنے والے پہلے انسان سے لیکر آنکھ بند کرنے والے آخری انسان تک وجود کے اندر اور باہر کے دائرے ایسے ہی رقصاں رہیں گے۔مگر احساسات و محسوسات کے دائرے انسانی کردار و افکار سے بنتے اور مٹتے رہیں گے۔سینکڑوں ہزاروں تجربات کے بعد یہ دائرے ہر انسان کے اندر خود بخود بنتے ہیں ۔ کچھ چھوٹے کچھ بہت بڑے۔جن میں داخل ہونا یا باہر نکلنا جوئے شیر لانے کے مترادف نہیں ہوتا۔یہ وہ حقیقت ہے جس کی عکاسی افسانوں ،  ناولوں اور ڈراموں تک ہی محدود رہتی ہے۔ شائد اسی لئے انسان اپنے خیال سے ڈرامہ نگار ہوتا ہے اور اس میں افسانوی رنگ بھر دیتا ہے۔
وجود رویوں کو کسی خاطر میں نہیں لاتا کیونکہ سالہاسال قربت میں رہ کر بھی محبت کے مفہوم سے نا بلد رہتا ہے۔زندگی صرف مانگنے یا پانے کا نام نہیں ہے۔ بانٹنا بھی نشہ کے خمار میں مبتلا کر دیتا ہے۔رویوں کی  کانچ سے آئینے بنتے ہیں۔ جو ہمیں  اپنے آپ میں معزز، معتبراور سچ کا عَلم تھماتے ہیں۔زندگی کے خارزار میدان میں مرتے مر جاتے ہیں مگر عَلم ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتے۔ آئینے ٹوٹ جائیں تو عکس کرچیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ پھر ایک نئے آئینہ کے سامنے جڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
افکار و خیالات کی بھٹی میں رویوں کو پکایا جاتا ہے۔ پھر انہیں شخصیت کے سانچے میں ڈھالا جاتا ہے۔ٹوٹنے جڑنے اور پگھلنے ڈھلنے کے عمل سے بار بار شخصیت کو ادھیڑا اور  بُنا جاتا ہے۔کوئل کوے کے گھونسلے میں انڈے دیتی ہے۔مگر  پھر بھی کوئل کے بچے کوے کی طرح کاں کاں نہیں کرتے بلکہ اپنی دلکش اور خوبصورت آواز میں کو کو کرتے ہیں۔ مگر انسان نیک فطرت پر جنم لینے کے باوجود برائی کی کاں کاں اختیار کر لیتا ہے۔

محمودالحق   
در دستک >>

Apr 20, 2014

سپرد رضا


انتہائی بھوکے پرندے جب کسی دالان ، کھیت کھلیان میں بھوک مٹانے اترتے ہیں تو اپنی جانوں کو ہتھیلی پر نہیں رکھتے بلکہ اپنے کان اور آنکھیں خطرہ بھانپنے کے لئے کھلے رکھتے ہیں۔ہڑبونگ ادھم مچاتے بچے بھی انہیں موت کے فرشتے نظر آتے ہیں۔ جہاں انہیں کھانا کھانے سے زیادہ جان بچانے کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔دوسری طرف بعض جاندار بھوک مٹانے کے لئے آخری کھانا سمجھ کر مرنے مٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ حالانکہ پیدا کرنے والا ہی زندہ رہنے کی گارنٹی دیتا ہے۔پھر بھی جب کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو جیسا فلمی ڈائیلاگ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت سننے میں آ جاتا ہے۔ شادی بیاہ پر طوفان بد تمیزی برپا کرتے مہمان اتنے اہم نہیں ہو سکتے کہ زور قلم کو حرف نظر کر دیا جائے۔ اس لئے واپس موضوع کی طرف چلتے ہیں۔
پانی کے آٹھ گلاس پینا صحت بخش ہے۔ چائے مضر صحت ہے۔ چاکلیٹ ،سوڈا بچوں سے دور رکھنا اچھا ہے۔انڈے دودھ چاول روٹی کے ساتھ تازہ پھل کا استعمال صحت کی تر و تازگی کا سبب ہیں۔ شوگر کے مریض چینی کا استعمال کم کریں۔ ہائی بلڈ پریشر والے نمک سے پرہیز برتیں۔صبح یوگا تو شام کو سیر کریں۔رات بستر میں جلد گھسیں صبح جلد نکلیں۔بھاگم بھاگ دکان دفتر پہنچیں تھک ہار واپس پلٹیں۔ایک مکمل اور پابند زندگی جہاں شب و روز کوئی نیا تماشا نہیں جہاں بیماری میں پرہیز تو تندرستی میں گریز برتا جاتا ہے۔
اس اُمید پر سوتے ہیں کہ جاگنا ہمارا مقدر ہے۔ اس اُمید پر گھر سے نکلتے ہیں کہ واپس  لوٹنا  ہمارا مقدر ہے۔کوشش نامکمل ہی کیوں نہ ہو نتیجہ سو فیصد چاہتے ہیں۔
اگر سورج  نظام کائنات سے نکلنا چاہے تو نکلنے کی اجازت نہیں۔ بادل بے آب و گیاہ ریگزاروں تک پہنچنے کے پابند ہیں۔ کہیں ہوا کا کم دباؤ ارد گرد ہواؤں کو آندھی کی صورت وہاں پہنچنے پر مجبور کرتا ہے۔اللہ تبارک تعالی کی رحمتیں مایوسی کی بنجر زمین پر موسلا دھار برستی ہیں۔ جو نم رہتے ہیں وہ پروان چڑھتے ہیں۔جو روٹھے رہتے ہیں وہ سوکھے رہتے ہیں۔
کسی نے کچھ نہ کیا اسے بہت کچھ مل گیا  اور کسی نے بہت کچھ کیا مگر اسے بہت کم ملا۔ موت کفن قبر  بر حق مانتے ہیں۔ رزق عزت مقام پر حق جتاتے ہیں۔ حق کو جانتے ہیں مگر مانتے نہیں۔خالق سے محبت کے دعویدار ہیں مگر صرف جھکنے کی حد تک۔سچ تو یہ کہ حق ادا نہ ہوا۔ رحمان رحمت کے زینے سے سینے میں دسترس رکھتا ہے۔ غرور و تکبر زمین سے پاؤں کی دھول مثل اُڑتا ہے۔ کیسے کہیں ہم تجھ سے  راضی ہیں تو ہم سے راضی ہو جا۔ راضی بالرضا سے ہو گا۔
خالق سے محبت کا تقاضا ہے کہ سپرد رضا کر دیا جائے اس سے پہلے کہ سپرد خاک کر دیا جائے۔
 
 
تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter