Showing posts with label اللہ. Show all posts
Showing posts with label اللہ. Show all posts

Oct 7, 2020

ذکرالانفال

در دستک >>

Feb 9, 2018

تتلیاں

زندگی تتلیوں کے رنگوں کی مانند خوبصورت دیکھائی دیتی ہے،  آغاز سے بے خبر، انجام سے انجان۔ کون جانتا ہے کہ رنگ پانے کے لئے وہ ایک سفر سے گزرتی ہے انڈہ سے شروع ہو کر لاروا سے گزرتا پیوپا کے رینگنے تک چند پتوں سے خوراک پا کر خود کو ایک ایسے خول میں مقید کرنے تک جہاں خود کو تحلیل کر کے پروں میں رنگ بھرنے کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ جہاں ایک ایک قطرہ نئے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔ پھر چار چھ ہفتوں کی یہ زندگی اسے پھول سے پھول اور باغ سے باغ تک مستی میں مشغول دیکھائی دیتی ہے۔بچے بڑے بوڑھے خوبصورت رنگوں کے حسین امتزاج کے گرویدہ اور دلدادہ نظر آتے ہیں۔
ہم میں سے اکثر بعض اوقات باغ و بہار میں خوبصورت رنگوں سے مزین تتلیاں دیکھ دیکھ کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں تو کبھی افسردہ۔خوبصورت رنگوں سے پہلے رینگ رینگ کر شاخوں پر لگے پتوں کو کھا کر اتنے بھر لیتے ہیں کہ ایک دو ہفتوں میں اپنا وجود ختم کر کے ایک نئے روپ میں ڈھل جاتے ہیں۔ 
قدرت کے حسین نظارے اپنے اندر بے شمار خزانے رکھتے ہیں ، انہیں دیکھ کر دل باغ باغ ہوتے ہیں تو روح پر سکون و پر بہار ہو جاتی ہے۔سونے ہیرے بنے جواہرات اپنے گلے میں واہ کا ترانہ الاپتے ہیں اور دوسروں کے گلے کا ہار بنیں تو آہ کی دلسوزی میں چیختے ہیں۔یہ ہاتھوں سے بنائے بت نہیں ہوتے جن کے سامنے بنانے والے بھی جھک جاتے ہیں۔ پہاڑوں چٹانوں کے زیر بار ایک وقت کے  بعدتحلیل ہو کر نئے وجود میں ڈھلتے ہیں۔ 
کوئی بادلوں سے برستا پانی قدرت کا شاہکار دیکھتا ہے اور کوئی بخارات سے بنتا بادل ایک طویل سفر کی داستان کو کرامت و کرشمہ سمجھتا ہے، جو طاقت کے سرچشمے سے اٹھتا ہے پھر بن کر بکھر کر تحلیل ہو جاتا ہے۔
زمین کی زرخیزی درختوں پودوں سے کھلتے مہکتے خوشبووں سے لبریز قدرت کے حسین مناظر کی تعریف و تحسین کا حق رکھتے ہیں۔ یہاں تک پہنچنے کا عمل نظروں سے اوجھل رہتا ہے اور حالت متغیر سے بے خبر۔آسمان پر اونچی اڑان بھرتی پتنگیں نظروں کو بھلی لگتی ہیں مگر لیکن  دھاگے کا پتنگ کے ساتھ بندھا ایک سرا اور اپنے ہاتھ زمین پر دوسرا سرا کبھی غور کی معرفت حاصل نہیں کر پاتا۔ جیسے زندگی میں صرف کامیابی کی منزل پر پہنچے انسان کی آسائش و آرام کی زندگی ہی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی لطف و کرم کی کہانی زبان زد عام رہ جاتی ہے۔ سفر کی صعوبتیں ، حالات کی کشمکش، ہمت و صبر سے نئے رنگ بھرنے سے پہلے پرانے وجود کو تحلیل کر کے خول سے باہر نکلنے کی زور آزمائی کو سمجھنے کی قوت عطائی سے محرومی اپنے پر نوچنے کی حالت تک پہنچا دیتی ہے۔
آنکھ بچپن سے اپنے ارد گرد پھیلے خوبصورت رنگوں اور حالات کی ستم ظریفی کے شکار اجڑتے باغات کو دیکھتے پروان چڑھتے ہیں۔ 
ان الفاظ تک پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں، پھر کہنا کہ یہ کہنا بھی کوئی مشکل کام نہیں مگر جنم دینے والی سے اُس احساس کو کوئی دوسرا شخص محسوس نہیں کر سکتا۔ جسے مامتا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چاہے وہ رشتہ چیونٹی کا ہو چڑیا کا یا کسی انسان کا۔ 
اللہ تبار ک تعالی کی تخلیق سے محبت، کل کائنات میں بھری ماں کی محبت سے ستر گناہ سے بھی زیادہ ہے۔اتنا سوچ کر ہی وجود مٹی ہو جاتا ہے اور خالق کی محبت تخلیق کے راستے ان سیلز تک چلی جاتی ہے جو  ڈی این اے سے مامتا تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔خالق کائنات کی تسبیح و ذکر سے غور و فکر کے وہ دروازے کھل جاتے ہیں جہاں حسن و جمال کی کہکشائیں قوس وقزح کے بظاہر دکھنے والے رنگ اور ان دیکھے جلوے ظاہر کو فراموش کر دیتے ہیں اور حقیقت کو موجزن۔ 
محبت اظہار کی مرہون منت نہیں ہوتی ، یہ صرف ایک وجود سے دوسرے رنگ میں ڈھلتی ہے۔جب رنگ پانے کی کوشش کرتے ہیں تو صرف "میں" رہ جاتی ہے اور جب اپنا وجود دوسرے رنگ میں ڈھل جاتا ہے تو "تو"  رہ جاتا ہے۔ 
جب زندگی کا ہر رنگ ہر روپ صرف ایک رخ پہ بار بار مڑتا چلا جائے تو وہ ایک راستہ باقی رہ جاتا ہے جہاں مسافر کوئی معنی نہیں رکھتے بس ایک سفر رہ جاتا ہے۔اپنی منزل کا نشان تو بنایا جا سکتا ہے ، جو اس منزل کا مسافر نہ ہو اس کے لئے سفر تکلیف و اضطراب کا سبب بن جائے گا۔سب اپنی اپنی راہ کے مسافر ہیں ، ہمسفر صرف پڑاو تک ہیں۔کھائی اور اونچائی میں ایک سفر آسان اور ایک مشکل ہوتا ہے۔ایک وقت کے بعد ساتھ دینے کا عمل رک جاتا ہے۔ بعض کے قریب یہ آگے بڑھنے کا سفر ہے مگر یہ خول ٹوٹنے کا عمل ہے۔ جہاں وجود تحلیل ہوتے ہیں ایک نئے روپ میں ڈھلنے کے لئے۔ جب پروں میں رنگ منعکس ہوتے ہیں، شعائیں اور روشنیاں گزرتی رنگوں میں ڈھلتی چلی جاتی ہیں۔
رینگتا وجود کب اچانک تحلیل ہو جائے معلوم نہیں ،رنگوں کی دنیا  اچانک کب پر پھیلادے معلوم نہیں۔ 

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Apr 9, 2015

حسنِ تخلیق


وقت کی سوئیاں ساکت ہو جائیں تو کیا زندگی رک جائے گی،سانسیں تھم جائیں گی، خواب بکھر جائیں گے،خواہشیں مٹ جائیں گی،آرزوئیں دم توڑ دیں گی یا رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں بدلے گا۔آنکھیں اندھیرا چھا جانے پرکالی چادر اوڑھ لیتی ہیں مگر ہاتھ ٹٹول ٹٹول کر اپنے لئے راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔ چاہے پاؤں کتنی ہی ٹھوکروں سے سنبھل پائیں۔
زندگی ہاتھ پاؤں کی مانند لگے بندھے اختیار تک محدود نہیں ہوتی۔یہ تو تخیل پرواز رکھتی ہے۔پرندوں کی طرح فضاؤں میں اُڑان بھر کر ایک منزل سے کہیں دور دوسری منزل تک سفر طے کر لیتی ہے۔آسمان پر چمکتے تارے جو صرف گنتی میں رہتے تھے وہ اپنی ساخت ہیت اور گردش مدار کا اتہ پتہ دینے لگے ہیں۔
عقلِ انسان نے آنکھ کو دو انتہاؤں کے وہ مناظر دکھا دئیے کہ عقل پر ماتم کرتے کرتے تخلیق یزداں تک جا پہنچے۔ خوردبین نے انہیں امیبا اور ہبل نے گلیکسیوں کی جگمگاتی دنیا کے در وا کر دیئے۔ قانون قدرت کے طلسماتی کرشماتی کائنات کے بھید کھول دیئے۔ جس کی وسعتوں میں عقل انسان دھنستی چلی جا رہی ہے۔خاص طور پر وہ نشانیاں جو عقل والوں کے لئے ہیں۔انسان عجائبات کی دنیا کا باسی ہے۔ جس میں عجوبے سجا سجا کر رکھے جاتے ہیں۔نباتات کی دنیا میں پیدا ہونے والا ہر بیج تناور درخت نہیں بنتا۔ وقت کی دھوپ چھاؤں انہیں بانجھ بنا دیتی ہے تو کبھی زمین کو بنجر۔آنکھوں سے پڑھے گئے الفاظ اور کانوں سے سنے گئے فقرےیاد داشت کے الگ الگ فولڈرز میں محفوظ کر لئے جاتے ہیں۔مگر بعض اوقات کچھ  کہی ان کہی کہانیاں  خود سے جنم لے لیتی ہیں۔
دعوؤں سے درماندگی دور ہوتی ہے۔خامیوں سے درستگی کی جانب سفر ہوتا ہے۔مگر درحقیقت حقیقت جاننے کی جستجو  میں بعض اوقات سچ دور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ملنا اور پانا تب بیکار ہوتا ہے جب اسے سنبھالا نہ جا سکے۔
بچپن معصومیت سے جانا جاتا ہے، جوانی حسن سے تو بڑھاپا لاغرپن سے۔قید و بند کو صعوبت جانا جاتا ہے،آزادی کو نعمت۔اگر زمین چاند سورج آزادی پالیں تو تصویر کا دوسرا رخ کیا ہو گا۔آنکھ ایک بار جس منظر کو ایک بار موہ لے لبھا لے۔ پھر بند آنکھ میں وہی منظر خواب سہانے بن کر واویلا مچاتے ہیں۔
حرکت کرنے والی ہر شے جاندار و بے جان آگے بڑھنے پر ہی رفتار بڑھا پاتی ہے۔پیچھے ہٹنا  ایک حد تک ہی ممکن ہے کہ جس سے صحیح سمت اختیار کی جا سکے۔بہت زیادہ تنہا رہنے والے اور بہت زیادہ بھیڑ میں پھنسے لوگ ہی خود فراموشی کے سوالات کی بوچھاڑ کا شکار رہتے ہیں۔ کبھی کبھار ٹھنڈے میٹھے چشموں سے چند قطرے سیرابی سے تسکین پا لیتے ہیں۔چشموں سے پھوٹتا میٹھا پانی کئی آبادیوں سے گزر کر مینڈکوں کی آفزائش گاہ اور مگر مچھوں کی کمین گاہ بن جاتا ہے۔پانی کے ریلے تو گزر جاتے ہیں مگر مٹھاس پانے والےچشموں تک رسائی کی کوشش کرتے رہتے ہیں کیونکہ بہتے پانی ہر بستی میں اپنا پتہ چھوڑ جاتے ہیں۔
منہ سے نکلے اور قلم سے لکھے الفاظ اس حقیقت کے آئینہ دار ہوتے ہیں جن سے ان کے میٹھے یا کڑوے پن کے آغاز سفر کی روئیداد بیان ہوتی ہے۔فلسفہ حیات میں طےشدہ ترجیحات پر ڈگری عطا ہوتی ہے جو کبھی نمبروں تو کبھی اے بی سی ڈی سے تولی جاتی ہے۔جو تعبیری لحاظ سے خاکی ہے ابدی اور دائمی نہیں۔
پہناوا ہیرے جواہرات سے مزین ہے تو حسن اداؤں سے۔ یہ سب ایسے ہی ہے جیسے کہ بھوک آنکھ بھر کر دیکھنے سے مٹتی ہو۔جلوے اور دکھاوے کا اختیار تو قدرت کا ہے جو اپنی بڑائی اور طاقت کی سند رکھتا ہے۔ہر تخلیق کا اپنا حسن ہے جو اسے اپنی ذات میں ممتاز رکھتا ہے۔ بھاؤ تاؤ تو دوکاندار اور خریدار کا پتہ دیتے ہیں، بڑائی اور طاقت کا نہیں۔مہنگا سودا بیچ کر دوکاندار ممتاز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی مہنگی شے پہن کر خریدار۔

محمودالحق
در دستک >>

Dec 16, 2013

انشااللہ

بڑے بڑے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جب تک کہ اس میں اللہ تبارک تعالی کی چاہ شامل نہ ہو جائے۔ تاریخ شاہد ہے مٹھی بھر لوگوں کی جماعت ایک کثیر فوج کے مدمقابل کھڑی ہو گئی۔ اس امید کے ساتھ کہ انہیں کامیابی نصیب ہو اگر ان کا اللہ چاہے تو۔
تو اللہ تبارک تعالی نے ان کے بھروسہ اور اعتماد کو پزیرائی بخشی اور وہ کامیابی سے سرخرو ہوئے۔ کہانیاں کامیابیوں کی زبان زد عام رہتی ہیں۔ قیاس وہم و افسوس کا شکار ہوتے ہیں۔
باطن کو ظاہر سے کمزور سمجھنے والے باطن کی اصل طاقت سے آگاہ نہیں ہوتے۔ ظاہر نمود و نمائش سے مزین ہوتا ہے۔ باطن مخفی قوتوں سے آراستہ۔آنکھوں کو وہی دکھایا جاتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتی ہیں۔ کانوں کو وہی سنایا جاتا ہے جو وہ سننا چاہتے ہیں۔ بہلانے پھسلانے کے نئے نئے انداز ترنم آبشار کی لگنِ دھن رکھتے ہیں۔
سورج کے گرد طواف کرتی زمین فاصلوں کے ماپنے سے حقیقت شناسی کا سبق دھراتی ہے۔ جس کی حدوں سے باہر نکل کر ہر شے بے وزن ہو جاتی ہے۔ ہوا میں اُڑتے پرندے رائٹ برادرز کو زمین سے اُٹھنے میں تحریک کا سبب ہیں۔ تو نیوٹن کو سیب زمین پر گرنے سے۔ بادل اپنے وقت پر گرج چمک کر برس جاتے ہیں۔ نفع و نقصان کا تخمینہ لگانا انسان کے جمع و تفریق کے فارمولہ کے تحت ہوتا ہے۔ زیر زمین رہنے والے کیڑے مکوڑے جڑی بوٹیوں کی افزائش سے تقویت پاتے ہیں اور ان سے پرندے زندگی۔ ہر بالی سے چوپائے صحت و تندرستی پاتے ہیں تو درندے ان کے خون سے۔
انسانی معاشرے میں بے حسی ، بے مروتی، خیر و شر کی تمیز کا نہ ہونا، سچ و جھوٹ میں فرق نہ کرنا، حرام و حلال میں تمیز نہ کرنا ، تحریص و ترغیب کی تحریک کا موجب ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک گناہ زندگی بھر کے پچھتاوے سے بھی دھلنے میں ناکام رہتا ہے۔
لینے اور دینے والےعہد و پیمان کی بجائے ضابطہ اخلاق کے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں۔ قربانی دینے والے، ایثار کرنے والے دوسروں کی نظر میں ہمیشہ سر بلند نہیں ہوتے۔ جب تک کہ اللہ تبارک تعالی کی رحمتیں ان پر نفع کی صورت میں آشکار نہ ہوں  جو دن کی روشنی کی طرح عیاں ہوتے ہیں۔ منزل تک جلد پہنچنے کا ارادہ کرنے والے اور کسی مجبوری سے بیچ راستے سے ہی واپس پلٹ کر سفر پر نہ جانے والے اسی جہاز یا گاڑی کے حادثہ کے شکار ہونے کی روح فرسا خبر کو ایک بدقسمتی اور دوسرے خوش قسمتی سے تعبیر کرتے ہیں۔
تیز ہواؤں کے نتیجے میں گرنے والے پتے بد قسمت نہیں ہوتے اور نہ ہی درختوں پر رہنے والے خوش قسمت۔ یہ ایک خودکار سسٹم ہے جس کے وہ تابع ہیں۔ پانی ،روشی اور ہوا لے کر پروان چڑھنے والے پتے ٹہنیوں و تنوں کی عمر نہیں پاتے۔ بار بار جنم لیتے ہیں بار بار ختم ہوتے ہیں۔ جس دن مٹی جڑ سے رشتہ توڑ لیتی ہے پھر جنم کے سلسلے رک جاتے ہیں۔ جب تک زمین ہے جنم ہوتے رہیں گے ۔ جب کائنات نے زمین کو چھوڑ دیا نئے جنم کا سلسلہ ختم ہو جائیگا۔
روشنی پانی  ہوا سے زندگی پانے والا ایک پتہ،  روشنی  پانی  ہوا سے زندہ رہنے والے ایک انسان سے کیونکر عظیم ہو سکتا ہے۔ جب کہ دونوں جنم لینے اور ختم ہونے کی فطرت پر ہیں۔ عظیم وہ ہے جو عظمت پر کامل یقین رکھتا ہے۔ وہ عظمت جو اسے وسیلہ سے ملی۔ جس میں مرتبہ حسنِ اخلاق کو حاصل تھا۔ احترام صداقت اور امانت داری سے تھا۔ قدرومنزلت نام و نسب کی بجائے شرافت و دیانتداری سے تھی۔ بشر تو سبھی تھے مگر عظمت کا مینار کوئی کوئی تھا۔
پیدائش و اموات کے درمیان افزائش کے مراحل تعلیم و تربیت کے پھلوں سے ذائقہ و خوشبو سے مزین ہوتے ہیں۔ تہذیبی و ترتیبی معاشروں میں حسنِ اخلاق و اخلاص کی کیاریاں پھولوں کو سینچتی ہیں۔ جن معاشروں میں یہ اقدار نہیں ہوتیں وہ جنگل کی مانند بے رنگ  اور بے ترتیب ہوتے ہیں جو کٹنے سے پہلے گنے جاتے ہیں ، پھر کٹ کر تولے جاتے ہیں۔ کیاریوں میں اُگے پھول کثیر تعدادی سے آنکھوں کو ٹھنڈک نہیں پہنچاتے بلکہ خوبصورت رنگوں کے امتزاجِ کثیر سے روح کو تسکین پہنچاتے ہیں۔


تحریر : محمودالحق
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter