Oct 18, 2026

اہلِ اِیمان کی گریہ میں سکوتِ کائنات

یہ اشعار عمیق فلسفیانہ، روحانی اور فکر انگیز مضامین پر مشتمل ہیں۔ ذیل میں تمام بندوں کا آسان ترجمہ (مفہوم) اور تفصیل کے ساتھ تشریح درج کی جا رہی ہے:

اہلِ اِیمان کی گریہ میں سکوتِ کائنات

بائیں عملِ غافل میں شور و غوغہء حاجات

مفہوم:

ایمان والوں کے رو رو کر دعا کرنے (عاجزی) میں پوری کائنات کی خاموشی اور سکون پوشیدہ ہے، جبکہ دوسری طرف غفلت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے عمل میں دنیاوی خواہشات اور ضرورتوں کا شور و غوغا برپا ہے۔

تشریح:

اس شعر میں دو مختلف سوچوں اور طرزِ زندگی کا موازنہ کیا گیا ہے۔ ایک طرف اہل اکثر و مومنین ہیں جو اللہ کی بارگاہ میں عاجزی، ندامت اور آنسوؤں کے ساتھ جھکتے ہیں۔ ان کی اس خاموش اور باوقار گریہ و زاری میں ایک روحانی سکون اور کائنات کی حقیقی باطنی خاموشی سموئی ہوئی ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو دنیا اور اس کی فانی خواہشات میں اتنے غافل ہیں کہ ان کا ہر عمل محض طلب اور ہوس کا شور ہنگامہ بن کر رہ گیا ہے۔

لوحِ تقدیر میں لکھے با سبب اسباب

انسان اپنے ہی تئیں میں عملِ مکافات

مفہوم:

لوحِ تقدیر میں ہر چیز کی علت اور اسباب لکھ دیے گئے ہیں، اور انسان درحقیقت خود اپنے ہی کیے کا نفع و نقصان (مکافاتِ عمل) بھگتتا ہے۔

تشریح:

شاعر تقدیر اور انسان کے عمل کے باہمی تعلق کی وضاحت کر رہا ہے۔ قدرت نے کائنات کو علت اور معلول (عادت و اسباب) کے قانون پر قائم کیا ہے، جس کا اندارج لوحِ تقدیر میں موجود ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مجبورِ محض ہے؛ بلکہ انسان اپنے اعمال کے نتیجے میں وہی کاٹتا ہے جو وہ بوتا ہے (مکافاتِ عمل)۔ انسان کی اپنی نیت اور عمل ہی اس کے نصیب کا سبب بنتے ہیں۔

ارضِ شوی میں ہے عاجزیء شبیری

منزلِ نوید میں ہے خوشہء انجیرِ التفات

مفہوم:

کربلا (یا قربانی کے میدان) میں حضرت امام حسینؑ کی عظیم عاجزی و تسلیم موجود ہے، اور خوشخبری کی منزل پر اللہ کی عنایت و توجہ کا میٹھا پھل میسر ہے۔

تشریح:

"ارضِ شوی" سے مراد قربانی، امتحان یا کربلا کی سرزمین ہے، جہاں "عاجزیِ شبیری" (حضرت امام حسین علیہ السلام کا صبر، تسلیم اور رضا) کی مثال ملتی ہے۔ جو انسان حق کی راہ میں ایسی عاجزی اور قربانی دیتا ہے، اس کے لیے ہدایت اور بشارت کی منزل ("منزلِ نوید") پر اللہ کی رحمت اور التفات کا "خوشہء انجیر" (نعمت و عنایت) منتظر ہوتا ہے۔

را مقابل ہر زہ محاصل مشاہیر

اک قطرہ بقاء میں تاثیرِ طبیبِ کائنات

مفہوم:

دنیاوی مشاہیر اور نامور لوگوں کے بیہودہ حاصل کے مقابلے میں، بقا اور ہمیشگی کا ایک قطرہ (یعنی حقیقت یا روحانی آبِ حیات) کائنات کے طبیب (حق تعالیٰ یا رسول کریمؐ) کی شفا بخش تاثیر رکھتا ہے۔

تشریح:

دنیاوی شہرت اور نام و نمود کے نتیجے میں ملنے والے تمام فائدے بے کار اور فانی ("ہرزہ محاصل") ہیں۔ اس کے برعکس، سچائی، ایمان اور بقا کا صرف ایک قطرہ یا لمحہ ہی کافی ہے، کیونکہ اس میں کائنات کے حقیقی طبیب کی شفابخش اور حیات بخش تاثیر ہوتی ہے جو انسان کی روح کو ہمیشگی عطا کرتی ہے۔

پردہ سیمیں مزّین رنگِ بالاج

خیرہ نہ کر دے کہیں آبِ انگور مشکات

مفہوم:

چاندی جیسی چمکتی سکرین یا پردہ جو زرق برق رنگوں سے آراستہ ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ دنیاوی انگور کی شراب (دنیا کا نشہ) طاقِ ہدایت (مشکات) کی روشنی کو دھندلا دے۔

تشریح:

اس شعر میں عصری اور دنیاوی جاذبیت کی طرف اشارہ ہے۔ "پردہء سیمیں" اور "رنگِ بالاج" دنیا کی ظاہری چمک دمک اور رنگینیوں کی علامت ہیں۔ شاعر خبردار کر رہا ہے کہ کہیں دنیاوی لذتوں اور خواہشات کے نشے ("آبِ انگور") کا اثر اتنا زیادہ نہ ہو جائے کہ انسان کے دل میں موجود ہدایت اور نور کا چراغ ("مشکات") خیرہ ہو جائے اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک جائے۔

نارکِ تحریم تکبیرِ قیام مقامِ رکوع

سجود ہی پہنچائے تجھ کو تا منزلِ نجات

مفہوم:

نیت باندھنے (تکبیر تحریمہ)، قیام کی حالت اور رکوع کے مقام سے گزر کر، آخرکار سجدہ ہی وہ عمل ہے جو تجھے نجات کی منزل تک پہنچائے گا۔

تشریح:

شاعر نے نماز کے مختلف ارکان (تکبیر، قیام، رکوع اور سجدہ) کو بندگی کے سفر کے مراحل کے طور پر پیش کیا ہے۔ اگرچہ نماز کا ہر رکن اہم ہے، لیکن بندے کا اللہ سے سب سے زیادہ قرب اور عاجزی کی انتہا "سجدہ" میں ہوتی ہے۔ یہی مکمل تسلیم و رضا اور سجدہ ہی انسان کی مغفرت اور نجات کا اصل ذریعہ بنتا ہے۔

مانع طور و نور غائب و حضور

حرف بہ حرف لفظ بہ لفظ یہ صادق آیات

مفہوم:

غیب اور ڈائریکٹ (حضور) کے تمام نور اور طورِ تجلی کی مانع و حامل، سطر سطر اور لفظ بلفظ یہ سچی اور برحق آیات ہیں۔

تشریح:

یہاں کلامِ الٰہی (قرآنِ مجید) کی عظمت اور جامعیت کا بیان ہے۔ وہ نور جو کوہِ طور پر تجلی بن کر چمکا تھا اور غیب و حضور کے جتنے بھی اسرار ہیں، وہ سب کی سب اس سچے کلام کی آیات میں لفظ بلفظ اور حرف بحرف محفوظ اور صادق ہیں۔ یہ کلامِ الٰہی ہی حقیقت تک پہنچنے کا حتمی اور سچا ذریعہ ہے۔

کھلے جو بامِ در میرا غنچہء نصیب میں

سخنِ سوز و جاں میں نہ رہے دل کی بات

مفہوم:

اگر میرے نصیب کے غنچے پر خوش قسمتی کا در و بامی کھل جائے، تو روح اور جان کو جلا دینے والی بات پھر دل ہی میں پوشیدہ نہ رہے بلکہ ظاہر ہو جائے۔

تشریح:

شاعر تمنا کر رہا ہے کہ اگر اس کے مقدر کا شگوفہ کھل جائے اور اسے اظہار و قبولیت کا موقع مل جائے، تو اس کے اندر جو درد، سوز اور روحانی کیفیت ("سخنِ سوز و جاں") موجود ہے، وہ صرف دل کے اندر دب کر نہ رہ جائے بلکہ شعر و سخن کی صورت میں ظاہر ہو کر دنیا تک پہنچ جائے۔

 

کلام: محمودالحق 

در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter