Feb 9, 2018

تتلیاں

زندگی تتلیوں کے رنگوں کی مانند خوبصورت دیکھائی دیتی ہے،  آغاز سے بے خبر، انجام سے انجان۔ کون جانتا ہے کہ رنگ پانے کے لئے وہ ایک سفر سے گزرتی ہے انڈہ سے شروع ہو کر لاروا سے گزرتا پیوپا کے رینگنے تک چند پتوں سے خوراک پا کر خود کو ایک ایسے خول میں مقید کرنے تک جہاں خود کو تحلیل کر کے پروں میں رنگ بھرنے کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ جہاں ایک ایک قطرہ نئے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔ پھر چار چھ ہفتوں کی یہ زندگی اسے پھول سے پھول اور باغ سے باغ تک مستی میں مشغول دیکھائی دیتی ہے۔بچے بڑے بوڑھے خوبصورت رنگوں کے حسین امتزاج کے گرویدہ اور دلدادہ نظر آتے ہیں۔
ہم میں سے اکثر بعض اوقات باغ و بہار میں خوبصورت رنگوں سے مزین تتلیاں دیکھ دیکھ کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں تو کبھی افسردہ۔خوبصورت رنگوں سے پہلے رینگ رینگ کر شاخوں پر لگے پتوں کو کھا کر اتنے بھر لیتے ہیں کہ ایک دو ہفتوں میں اپنا وجود ختم کر کے ایک نئے روپ میں ڈھل جاتے ہیں۔ 
قدرت کے حسین نظارے اپنے اندر بے شمار خزانے رکھتے ہیں ، انہیں دیکھ کر دل باغ باغ ہوتے ہیں تو روح پر سکون و پر بہار ہو جاتی ہے۔سونے ہیرے بنے جواہرات اپنے گلے میں واہ کا ترانہ الاپتے ہیں اور دوسروں کے گلے کا ہار بنیں تو آہ کی دلسوزی میں چیختے ہیں۔یہ ہاتھوں سے بنائے بت نہیں ہوتے جن کے سامنے بنانے والے بھی جھک جاتے ہیں۔ پہاڑوں چٹانوں کے زیر بار ایک وقت کے  بعدتحلیل ہو کر نئے وجود میں ڈھلتے ہیں۔ 
کوئی بادلوں سے برستا پانی قدرت کا شاہکار دیکھتا ہے اور کوئی بخارات سے بنتا بادل ایک طویل سفر کی داستان کو کرامت و کرشمہ سمجھتا ہے، جو طاقت کے سرچشمے سے اٹھتا ہے پھر بن کر بکھر کر تحلیل ہو جاتا ہے۔
زمین کی زرخیزی درختوں پودوں سے کھلتے مہکتے خوشبووں سے لبریز قدرت کے حسین مناظر کی تعریف و تحسین کا حق رکھتے ہیں۔ یہاں تک پہنچنے کا عمل نظروں سے اوجھل رہتا ہے اور حالت متغیر سے بے خبر۔آسمان پر اونچی اڑان بھرتی پتنگیں نظروں کو بھلی لگتی ہیں مگر لیکن  دھاگے کا پتنگ کے ساتھ بندھا ایک سرا اور اپنے ہاتھ زمین پر دوسرا سرا کبھی غور کی معرفت حاصل نہیں کر پاتا۔ جیسے زندگی میں صرف کامیابی کی منزل پر پہنچے انسان کی آسائش و آرام کی زندگی ہی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی لطف و کرم کی کہانی زبان زد عام رہ جاتی ہے۔ سفر کی صعوبتیں ، حالات کی کشمکش، ہمت و صبر سے نئے رنگ بھرنے سے پہلے پرانے وجود کو تحلیل کر کے خول سے باہر نکلنے کی زور آزمائی کو سمجھنے کی قوت عطائی سے محرومی اپنے پر نوچنے کی حالت تک پہنچا دیتی ہے۔
آنکھ بچپن سے اپنے ارد گرد پھیلے خوبصورت رنگوں اور حالات کی ستم ظریفی کے شکار اجڑتے باغات کو دیکھتے پروان چڑھتے ہیں۔ 
ان الفاظ تک پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں، پھر کہنا کہ یہ کہنا بھی کوئی مشکل کام نہیں مگر جنم دینے والی سے اُس احساس کو کوئی دوسرا شخص محسوس نہیں کر سکتا۔ جسے مامتا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چاہے وہ رشتہ چیونٹی کا ہو چڑیا کا یا کسی انسان کا۔ 
اللہ تبار ک تعالی کی تخلیق سے محبت، کل کائنات میں بھری ماں کی محبت سے ستر گناہ سے بھی زیادہ ہے۔اتنا سوچ کر ہی وجود مٹی ہو جاتا ہے اور خالق کی محبت تخلیق کے راستے ان سیلز تک چلی جاتی ہے جو  ڈی این اے سے مامتا تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔خالق کائنات کی تسبیح و ذکر سے غور و فکر کے وہ دروازے کھل جاتے ہیں جہاں حسن و جمال کی کہکشائیں قوس وقزح کے بظاہر دکھنے والے رنگ اور ان دیکھے جلوے ظاہر کو فراموش کر دیتے ہیں اور حقیقت کو موجزن۔ 
محبت اظہار کی مرہون منت نہیں ہوتی ، یہ صرف ایک وجود سے دوسرے رنگ میں ڈھلتی ہے۔جب رنگ پانے کی کوشش کرتے ہیں تو صرف "میں" رہ جاتی ہے اور جب اپنا وجود دوسرے رنگ میں ڈھل جاتا ہے تو "تو"  رہ جاتا ہے۔ 
جب زندگی کا ہر رنگ ہر روپ صرف ایک رخ پہ بار بار مڑتا چلا جائے تو وہ ایک راستہ باقی رہ جاتا ہے جہاں مسافر کوئی معنی نہیں رکھتے بس ایک سفر رہ جاتا ہے۔اپنی منزل کا نشان تو بنایا جا سکتا ہے ، جو اس منزل کا مسافر نہ ہو اس کے لئے سفر تکلیف و اضطراب کا سبب بن جائے گا۔سب اپنی اپنی راہ کے مسافر ہیں ، ہمسفر صرف پڑاو تک ہیں۔کھائی اور اونچائی میں ایک سفر آسان اور ایک مشکل ہوتا ہے۔ایک وقت کے بعد ساتھ دینے کا عمل رک جاتا ہے۔ بعض کے قریب یہ آگے بڑھنے کا سفر ہے مگر یہ خول ٹوٹنے کا عمل ہے۔ جہاں وجود تحلیل ہوتے ہیں ایک نئے روپ میں ڈھلنے کے لئے۔ جب پروں میں رنگ منعکس ہوتے ہیں، شعائیں اور روشنیاں گزرتی رنگوں میں ڈھلتی چلی جاتی ہیں۔
رینگتا وجود کب اچانک تحلیل ہو جائے معلوم نہیں ،رنگوں کی دنیا  اچانک کب پر پھیلادے معلوم نہیں۔ 

تحریر : محمودالحق

1 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک