Showing posts with label پہچان انسان، امتحان. Show all posts
Showing posts with label پہچان انسان، امتحان. Show all posts
Apr 6, 2020
Feb 9, 2018
تتلیاں
زندگی تتلیوں کے رنگوں کی مانند خوبصورت دیکھائی دیتی ہے، آغاز سے بے خبر، انجام سے انجان۔ کون جانتا ہے کہ رنگ پانے کے لئے وہ ایک سفر سے گزرتی ہے انڈہ سے شروع ہو کر لاروا سے گزرتا پیوپا کے رینگنے تک چند پتوں سے خوراک پا کر خود کو ایک ایسے خول میں مقید کرنے تک جہاں خود کو تحلیل کر کے پروں میں رنگ بھرنے کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ جہاں ایک ایک قطرہ نئے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔ پھر چار چھ ہفتوں کی یہ زندگی اسے پھول سے پھول اور باغ سے باغ تک مستی میں مشغول دیکھائی دیتی ہے۔بچے بڑے بوڑھے خوبصورت رنگوں کے حسین امتزاج کے گرویدہ اور دلدادہ نظر آتے ہیں۔
ہم میں سے اکثر بعض اوقات باغ و بہار میں خوبصورت رنگوں سے مزین تتلیاں دیکھ دیکھ کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں تو کبھی افسردہ۔خوبصورت رنگوں سے پہلے رینگ رینگ کر شاخوں پر لگے پتوں کو کھا کر اتنے بھر لیتے ہیں کہ ایک دو ہفتوں میں اپنا وجود ختم کر کے ایک نئے روپ میں ڈھل جاتے ہیں۔
قدرت کے حسین نظارے اپنے اندر بے شمار خزانے رکھتے ہیں ، انہیں دیکھ کر دل باغ باغ ہوتے ہیں تو روح پر سکون و پر بہار ہو جاتی ہے۔سونے ہیرے بنے جواہرات اپنے گلے میں واہ کا ترانہ الاپتے ہیں اور دوسروں کے گلے کا ہار بنیں تو آہ کی دلسوزی میں چیختے ہیں۔یہ ہاتھوں سے بنائے بت نہیں ہوتے جن کے سامنے بنانے والے بھی جھک جاتے ہیں۔ پہاڑوں چٹانوں کے زیر بار ایک وقت کے بعدتحلیل ہو کر نئے وجود میں ڈھلتے ہیں۔
کوئی بادلوں سے برستا پانی قدرت کا شاہکار دیکھتا ہے اور کوئی بخارات سے بنتا بادل ایک طویل سفر کی داستان کو کرامت و کرشمہ سمجھتا ہے، جو طاقت کے سرچشمے سے اٹھتا ہے پھر بن کر بکھر کر تحلیل ہو جاتا ہے۔
زمین کی زرخیزی درختوں پودوں سے کھلتے مہکتے خوشبووں سے لبریز قدرت کے حسین مناظر کی تعریف و تحسین کا حق رکھتے ہیں۔ یہاں تک پہنچنے کا عمل نظروں سے اوجھل رہتا ہے اور حالت متغیر سے بے خبر۔آسمان پر اونچی اڑان بھرتی پتنگیں نظروں کو بھلی لگتی ہیں مگر لیکن دھاگے کا پتنگ کے ساتھ بندھا ایک سرا اور اپنے ہاتھ زمین پر دوسرا سرا کبھی غور کی معرفت حاصل نہیں کر پاتا۔ جیسے زندگی میں صرف کامیابی کی منزل پر پہنچے انسان کی آسائش و آرام کی زندگی ہی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی لطف و کرم کی کہانی زبان زد عام رہ جاتی ہے۔ سفر کی صعوبتیں ، حالات کی کشمکش، ہمت و صبر سے نئے رنگ بھرنے سے پہلے پرانے وجود کو تحلیل کر کے خول سے باہر نکلنے کی زور آزمائی کو سمجھنے کی قوت عطائی سے محرومی اپنے پر نوچنے کی حالت تک پہنچا دیتی ہے۔
آنکھ بچپن سے اپنے ارد گرد پھیلے خوبصورت رنگوں اور حالات کی ستم ظریفی کے شکار اجڑتے باغات کو دیکھتے پروان چڑھتے ہیں۔
ان الفاظ تک پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں، پھر کہنا کہ یہ کہنا بھی کوئی مشکل کام نہیں مگر جنم دینے والی سے اُس احساس کو کوئی دوسرا شخص محسوس نہیں کر سکتا۔ جسے مامتا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چاہے وہ رشتہ چیونٹی کا ہو چڑیا کا یا کسی انسان کا۔
اللہ تبار ک تعالی کی تخلیق سے محبت، کل کائنات میں بھری ماں کی محبت سے ستر گناہ سے بھی زیادہ ہے۔اتنا سوچ کر ہی وجود مٹی ہو جاتا ہے اور خالق کی محبت تخلیق کے راستے ان سیلز تک چلی جاتی ہے جو ڈی این اے سے مامتا تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔خالق کائنات کی تسبیح و ذکر سے غور و فکر کے وہ دروازے کھل جاتے ہیں جہاں حسن و جمال کی کہکشائیں قوس وقزح کے بظاہر دکھنے والے رنگ اور ان دیکھے جلوے ظاہر کو فراموش کر دیتے ہیں اور حقیقت کو موجزن۔
محبت اظہار کی مرہون منت نہیں ہوتی ، یہ صرف ایک وجود سے دوسرے رنگ میں ڈھلتی ہے۔جب رنگ پانے کی کوشش کرتے ہیں تو صرف "میں" رہ جاتی ہے اور جب اپنا وجود دوسرے رنگ میں ڈھل جاتا ہے تو "تو" رہ جاتا ہے۔
جب زندگی کا ہر رنگ ہر روپ صرف ایک رخ پہ بار بار مڑتا چلا جائے تو وہ ایک راستہ باقی رہ جاتا ہے جہاں مسافر کوئی معنی نہیں رکھتے بس ایک سفر رہ جاتا ہے۔اپنی منزل کا نشان تو بنایا جا سکتا ہے ، جو اس منزل کا مسافر نہ ہو اس کے لئے سفر تکلیف و اضطراب کا سبب بن جائے گا۔سب اپنی اپنی راہ کے مسافر ہیں ، ہمسفر صرف پڑاو تک ہیں۔کھائی اور اونچائی میں ایک سفر آسان اور ایک مشکل ہوتا ہے۔ایک وقت کے بعد ساتھ دینے کا عمل رک جاتا ہے۔ بعض کے قریب یہ آگے بڑھنے کا سفر ہے مگر یہ خول ٹوٹنے کا عمل ہے۔ جہاں وجود تحلیل ہوتے ہیں ایک نئے روپ میں ڈھلنے کے لئے۔ جب پروں میں رنگ منعکس ہوتے ہیں، شعائیں اور روشنیاں گزرتی رنگوں میں ڈھلتی چلی جاتی ہیں۔
رینگتا وجود کب اچانک تحلیل ہو جائے معلوم نہیں ،رنگوں کی دنیا اچانک کب پر پھیلادے معلوم نہیں۔
تحریر : محمودالحق
May 28, 2014
پہچان ِ انسان کا ا متحان
ہم پیدائش سے لے کر لحد تک سیکھنے سکھانے ، سننے سنانے ، منانے منوانےاورکھونے پانے کی کشمکش سے گزرتے ہیں۔کبھی چہرے کھل جاتے ہیں تو کبھی اُتر جاتے ہیں۔کبھی آنسو بہہ جاتے ہیں تو کبھی نکل جاتے ہیں۔ہم جان ہی نہیں پاتے ہم چاہتے کیا ہیں۔عارضی تسکین یا ابدی سکون؟
تعریف و تحسین لباس کی ہو یاحسن و جمال کی ،شان و شوکت کی ہو یا عنایاتِ خداوندی کی ۔۔۔رطوبتِ ہم آہنگی سوچ میں بہہ کر آنکھوں میں اُتر آتی ہے۔ جو ہمدردی کے لبادے اوڑھ کر مقامِ رفعت و عزت پر ٹڈی دل حملہ آور بن جاتے ہیں۔جو وجود کی کھیتی اُجاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
زمانہ جاہلیت سے ہی انسان پہچان کے امتحان سے گزرنے پر مجبور ہوا۔آگ ، چاند ،تارے اور سورج سے ہوتے ہوئے تخیلاتی بت پرستی پر صدیوں تک رکا رہا۔ہر نئی اُمید کی کرن اسے اپنی منزل کا نشان نظر آئی۔جس کی اندھا دھند پیروی شروع کر دی گئی۔ کبھی زائچوں سے تو کبھی جنتریوں کے ہندسوں سےقسمت و تقدیر کو جاننے کی سعی کی جاتی رہی مگر حاصل نمرود و فرعون سے مختلف نہیں۔۔۔فتح کے نشہ میں سرشار سکندر یونانی بھی خالی ہاتھ ہی رہا۔
حالات و واقعات تو مختلف ہو سکتے ہیں۔۔۔چہرے تبدیل ہو سکتے ہیں۔۔۔ مگربہکنا ، سنبھلنا آج بھی وہی پرانی روش پر ہے۔مقصدِ حیات سے ہٹانے والے مجبوریوں ،لا چاریوں ،ہمدردیوں ، محبتوں ، چاہتوں کے راگ آلاپتے ۔۔۔اپنی محرومیوں کا رونا رو تے ۔۔۔نفس ِدرندگی کی تسکین پر کمر بستہ دکھائی دیتے ہیں۔
جو آنکھیں ان چہروں کے پیچھے ہمدردی میں چھپے زہر فناءحقیقت کو دیکھ نہیں پاتیں۔۔۔۔تنہائی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔قسمت ان سے روٹھ جاتی ہے۔ میَں کا خول انہیں کھلنے نہیں دیتا۔ روشنی سامنے پا کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔کیونکہ تعریف وتحسین ایسا سانپ ہے جو حقیقت شناسی کی سیڑھی چڑھنے نہیں دیتا۔
ہمدردی کے دیپ جلا کر روشنی کی طرف بلانے والے خود چھپکلیوں کی طرح دیواروں سے چپکے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔
معصوم بھولے روشنیوں سے محبت کرنے والے روشنی ہی کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔اندھیروں سے بے خوف ہو جاتے ہیں۔جو انہیں کھینچ کر خود فریبی کی دلدل میں پھینک دیتے ہیں۔جو انہیں نکالنا چاہے تو خو ڈوبنے کے خدشے میں ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔
آج کی دنیا نیٹ کی دنیا ہے جس میں ہم جتنے بھی با پردہ کیوں نہ ہوں لفظ روح کو بے لباس کر دیتے ہیں۔سوچ و افکار کی آڑ میں چھپے آستین کے سانپ ڈسنے چلے آتے ہیں۔ چہروں کے شیدائی چہرے پیچھے، لفظ کے دیوانے لفظ کےپیچھے اورنفس کے بھکاری مجبوریوں کی صدا لگاتےمحبت کشکول پھیلائے سوالی بنے پھرتےہیں۔
کمپیوٹر وہ آئینہ ہے جس میں ہم دو آنکھوں سے یہ سوچ کر دیکھ رہے ہیں کہ صرف ہم ہی دیکھ رہے ہیں مگراسی کے دوسری طرف ہزاروں آنکھوں سےہم دیکھے بھی جا رہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی سکرین پر جودیکھنا چاہتے ہیں صرف انہیں ہی تلاش کے بعد دیکھتے ہیں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)