Nov 18, 2017

گرہیں

  آئینہ کے سامنے  مخاطب دوسرے ہوتے ہیں مگر چہرہ اپناہوتا ہے۔ لفظ اپنے لئے ہوتے ہیں مگر سناتے  دوسرے کوہیں۔نصیحت انہیں کرتے ہیں  مگر سمجھاتے خود کو ہیں۔ سوچ کی مہک سے لفظوں کی مالا پہن کر عجز و انکساری میں اتنے جھک جاتے ہیں کہ نشہ میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ پردے اُٹھانے چاہیں تو بدن تھکن سے چور ہو جائے فاصلے سمٹنے کا نام نہ لیں۔آئینہ میں عکس ہو یا زمین پر پرچھائی ،روشنی گل ہوتے ہی اوجھل ہو جاتے ہیں۔روشنیوں کے ان ہمسفروں سے اندھیروں کے خوف اچھے جو بند آنکھوں میں بھی خواب سجائے رکھتے ہیں۔قیدی پنچھی دانہ دانہ چگتے فضاؤں میں  اُڑتےآزاد پنچھیوں کو حسرت سے تکتے ہیں ، پروں کو پھڑ پھڑاتے ہیں ، یہ جانے بنا کہ  اونچی اُڑان کی طاقت پرواز ان جیسی نہیں ۔ 
قید جسم کی ہو یاروح کی ، سوچ کی ہویا رات کے خواب کی ۔ قید تنہائی ہے۔بیش قیمت لباس میں جسم بے چینی میں الجھنے جیسا۔ خود پسندی کی دوا سے  مرض دائم کی شفا جیسا۔ 
خواب یاد رہتے ہیں تعبیر بھول جاتی ہے،منزل یاد رہتی ہے سفر بھول جاتے ہیں، باتیں یاد رہتی ہیں لوگ بھول جاتے ہیں،خوشبو یاد رہتی ہے پھول بھول جاتے ہیں،مشکلیں یاد رہتی ہیں رحمتیں بھول جاتی ہیں،بیماریاں یاد رہتی ہیں  شفائیں بھول جاتی ہیں، نقصان یاد رہتے ہیں انعام و اکرام بھول جاتے ہیں حتی کہ دنیا یاد رہتی ہے آخرت بھول جاتے ہیں۔
رفتار اتنی بڑھا لیتے ہیں کہ تھکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں یا گھبراہٹ کا۔ خوش نصیبی کے محل کے باسی ہاتھی پر سوار جلوہ افروز ہوتے ہیں اور ایک تالی سے تخلیہ پا لیتے ہیں۔ شمع پر جان نچھاور کرنے والے پروانے آگ سے اُلجھتے اُلجھتے جان سے چلے جاتے ہیں مگر اسے پانے کے لئے کوشش میں کمی نہیں آنے دیتے۔طالب کو جو مقصود ہوتا ہے وہی اس کی طلب ہوتی ہے چاہ ہوتی ہے۔ کڑواہٹ بھرےرویوں کی گرہیں اتنی مضبوطی سے لگائی جاتی ہیں کہ اخلاق و اخلاص  کے دانتوں سے بھی کھلنی مشکل ہوتی ہیں۔ خدمت کرنے والے  صداقت سےعبادت تک جا پہنچتے ہیں۔ محنت   کرنےوالے ریاضت سے شہرت تک جا پہنچتے ہیں۔ خودی کے اُس مقام تک پہنچ جائیں تو رضا بندے تک پہنچتی ہے۔ شہرت کی سیڑھی پر پاؤں جما کر نظریں بلندی کی طرف گاڈ لیتے ہیں مگر عبرت کی دلدل میں دھنس کر رہ جانے والوں کے پاس سے گزر جاتے ہیں۔ جھوٹے فرعونوں کی پیروی و تقلید میں اِتنے آگے بڑھ جاتے ہیں  کہ فرمان کی تابعداری تک بھول جاتے ہیں۔ لفظوں کو سنہری حروف میں لکھتے ہیں لیکن عمل وکردار کے لئے کالے کرتوت کے جلی حروف سے نہیں بچتے۔
دستک دینے والے  سوالیوں کودروازے کھلے ملتے ہیں جہاں انہیں روٹیاں گن کر دی جاتی ہیں دعائیں ان گنت لی جاتی ہیں۔فقیر بند دروازوں اور گلیوں سے صدا دیتے گزر جاتے ہیں۔ مکینوں سے انہیں کوئی سروکار نہیں چلمن اُٹھے یا نہ اُٹھے۔

تحریر : محمودالحق           

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک