Jan 14, 2018

تسلسل زیاں


زندگی وہ پتنگ ہے جو ہوا تیز ہونے پر بلندیاں چھونے لگتی ہے ، کم ہوا میں جب زمین پر گرنے لگتی ہے تو اسے سنبھال کر رکھ لیا جاتا ہے تا وقتکہ اتنی ہوا موجود ہو کہ وہ اپنا آپ سنبھال پائے۔ بے صبری کا مظاہرہ کریں تو زمین اور دیواروں سے ٹکرا کر پھٹ جانے کی نوبت آ پہنچتی ہے۔ بعض اوقات زندگی میں اپنے ہی کھیلے گئے کھیل بہت بڑا سبق چھوڑ جاتے ہیں۔زندگی بسنت کا ایک ایسا تہوار ہے جہاں پورے شہر کی پتنگیں ایک ساتھ اڑان نہیں بھرتیں۔ بلکہ اپنی چھت پہ صرف اپنے لئے ہی ہوا کا زور چلتا ہے۔گڑیا کی شادی ، تتلیوں کے پیچھے بھاگنے اور بارش کے پانی میں کاغذ کی کشتی بہانے سے ایک ایک منزل بڑھتے خوشیوں اور خواہشوں کی سیڑھی پر اوپر اٹھتے ہیں۔ پیچھے مڑ کر دیکھنا بہت نیچے دیکھنے جیسا ہو جاتا ہے۔ چوٹی بہت قریب دکھائی دیتی ہےمگر سفر ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ کمزور جانوروں پر طاقتوروں کے حملے زوروشوق سے دیکھے جاتے ہیں مگر کبھی طاقتور کو کمزور ہو جانے پر کسمپرسی کی موت مرتے نہیں دیکھتے۔حسن اتنی دیر تک یاد رکھا جاتا ہے جتنی دیر تک اسے سنبھالا جاتا ہے۔ پھر وہ بھلا دیا جاتا ہے کیونکہ نئے اس کی جگہ لینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
بہت غور و خوض کے بعد یہ جانا کہ ہم نے پیچھے کچھ نہیں چھوڑا بلکہ ماضی نے ہمیں آگے دھکیل دیا ہے۔سالگرہ  منائی جاتی ہے آگے بڑھنے کی خوشی میں مگر یہ کیا آنے والا سال تو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ شائد یہی وجہ ہےکہ زندگی کھینچا تانی میں گزر جاتی ہے۔ محنت انسان کو آگے دھکیلتی ہے اور منزل اسے کھینچتی ہے۔ اول و آخر کے درمیان اس کھینچاتانی کا نام زندگی ہے۔  کامیابی و ناکامی کے باٹ سے زندگی کے پلڑے اونچے نیچے ہوتے رہتے ہیں۔ فطرت سے زیادہ خوبصورت مثالیں موجود نہیں، لیکن انہیں سمجھنے کے لئے پہلے اس حقیقت کو جاننا ضروری ہے کہ ایسے تغیر و تبدل کی انسانی تاریخ میں یکساں نظام فطرت میں نعم البدل وہ مقام پانے میں ناکام رہتا ہے۔ 
ماضی انسان کے لئے بدن میں کمر کے اس حصے جیسا  ہے جہاں کھجلی کرنا بھی اس کے اپنے بس میں نہیں ہوتا۔ مستقبل آنکھ کے اس نور کی مانند ہے جو کچھ دیر اندھیرے میں رہنے پر دیکھنے کی قوت پا لیتا ہے۔
ماضی میں کئے گئے عقل و دانش بھرے فیصلے، حال میں درپیش حالات کے مدوجزر کی نذر ہو جاتے ہیں۔ جو آہ رہ جاتے ہیں تو کبھی واہ بن جاتے ہیں۔ جو کانٹے تکلیف نہ دیں وہ پھولوں کے ساتھ گلدستہ کی سجاوٹ میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔انا اور تکبر وہ کانٹے ہیں جو زندگی کے حسن کو گرہن لگا دیتے ہیں۔ 
ہم تعلق مرضی کے چاہتے ہیں اور رشتے تابعداری کے۔کامیابی میں دکھاوا چاہتے ہیں اور ناکامی میں پردہ پوشی۔ طوطے وہ پسند کرتے ییں جو ہماری زبان بول سکیں، جانور وہ پسند کرتے ہیں جو ہماری زبان  سمجھ سکیں اور انسان وہ پسند کرتے ہیں جو ہماری ہاں میں ہاں ملانے والے ہوں۔ شاعری کو داد نہ ملے تو دیوان بھی ویران ہے۔ کہانی، ڈرامہ اور افسانہ چھپ کر گھر گھر نہ پہنچے تو بے مول ہے۔ پڑھنے والے بہت زیادہ ہوتے ہیں پڑھانے والے کم اور سمجھانے والےاتنے ہی ہوتے ہیں جتنے سمجھنے والے۔

تحریر: محمودالحق

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک