Apr 8, 2012

سچ کی تلاش

وہ سچ کی تلاش میں تھا۔ اس نے آنکھ ایسے ماحول میں کھولی جس کی تمنا دوسرے کئی برس سپنوں کی طرح کھلی آنکھوں میں بساتے ہیں۔مگرجن میں مایوسی لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں سے بھی زیادہ تاریک ہوتی ہے۔معاشرہ سے کٹ کر ضرورت صرف معاش رہ جاتی ہے ۔ پھر انسان بھی انس آن نہیں رہتا ۔ رشتوں کے ٹوٹنے کی آواز سوکھی لکڑی کے تنے سے الگ ہونے جیسی ہوتی ہے مگر سنائی نہیں دیتی ۔ اپنے پن سے جدا ہونے کا درد محسوسات سے خالی کبھی نہیں ہوتا ۔
اس کا یہی درد پیشانی پہ پڑی سلوٹوں سے عیاں تھا ۔ہر سوال کے آخر میں کیوں اور پھر ایک نئے سوال کی ابتدا ء ، یوں نہ تو وہ سوال سے اپنے آپ کو روک پایا اور نہ ہی جواب سے تسلی ۔" کیوں "نے اس میں گھبراہٹ کا سایہ پھیلا رکھا تھا ۔ سایہ اتنا گہرا ہو گیا کہ مایوسی کے اندھیرے میں اسے روشنی کی تلاش نے بے چین کر دیا۔ باپ سے سوال کرتا تو وہ دوسری بیوی اور اس کے پہلے بچوں کے معاملات میں الجھنے کی وجہ سے اسے پہلی غلطی کی سزا نظر آتا ۔
اس کی پہلی بیوی دوسرے شوہر کے ساتھ رہنے کے لئے اس کے بچوں کو بھی ساتھ لے گئی اور دوسری بیوی اپنی پہلی اولاد کے ساتھ ساتھ اس کی بچی پر بھی اپنا حق جتاتی ۔ ہمسائے اس سے نالاں ، دوست اس سے کنارہ کرتے ،مذہب میں اسے پناہ نہ ملتی ۔وہ الجھتا چلا گیا ۔نشہ کی بجائے اس نے دوا کا سہارا لیا ۔ جس سے خیالات کچھ دیر سستا لیتے مگر آنکھ کھولتے ہی اسے بے رحم سوالوں کے تھپیڑے آ لیتے۔وہ سوالوں کی گٹھڑی کندھوں سے اوپر دماغ میں سجائے سوالی بنا پھرتا ۔
آخر اسے کس کی تلاش تھی۔ کہیں رشتوں سے فرار کا راستہ ڈھونڈنے کے لئے سہارے کی تلاش میں تو نہیں مارا مارا پھر تا رہا ۔
ملاقات دو سری بار سوال پہلے والا ۔
اسے ایسی کتاب کی تلاش کیوں جس کے ایک ایک لفظ پہ سچائی لکھی ہو۔ بندے پہ جس کا اثر تو ہو مگر دسترس و اختیار سے اوپر ہو۔
جن کی نظریں اپنے چاروں اطراف برپا ہنگامہ خیزی سے دوچار ہوں۔ دماغ کے تندور میں خیال کے پیڑے سے اختلاف کی روٹی پکانے کا عمل جاری و ساری ہو۔ وہاں قلب میں میوے انتظار میں ہی سوکھ جاتے ہیں ۔
جو زندگی آنکھوں اور کانوں سے بسر کرتے ہیں زندہ قلب سے نہیں رہتے ۔ جو لفظ پڑھنے یا سننے سے ذہن میں سما جائیں مگرقلب میں نہ اتر پائیں تو برین واش تو ہو جاتا ہے مگر قلب صفائی سے محروم رہ جاتا ہے ۔
دروازے پہ دستک گھر کے مکین سے تعلق کی غماز ہوتی ہے۔ مکین سے محبت ہو تو دستک ملائمت احساس سے بھری ہو گی۔ دوسری صورت میں ہاتھ کی ضرب آنے والے کے ارادے کا ڈھنڈورا پیٹے گی۔
اللہ سبحان تعالی کے فرمان تک پہنچنے کے لئے ذہن کے دریچے بند کر کے قلب کی سیڑھی سے سچائی کی رسی تک رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اگر جینے میں کیوں ، کیا ، کیسے کےحروف اضافی کی تکرار ہو تو سوالوں کی بھرمار کے وزن سے پیشانی پہ سلوٹیں بڑھتی ہی رہتی ہیں ۔
چاندپر پڑتی سورج کی شعائیں اسے گھٹا بڑھا کر تاریخوں میں بدل دیتی ہیں۔ یہی شعائیں زمین پر دن رات کی تمیز کرتی ہیں۔ اس سے آگے کا علم نہیں ۔ کہیں مفروضے تو کہیں کہانیاں ہیں ۔
زمین میں ننھے بیج کے دبانے سے خوشبو اور مہک میں لپٹنے تک پھل اور پھول ایک وقت کی حقیقت کے عکاس ہیں ۔ پل بھر کے چکھنے کی داستان نہیں۔جو ابر کے کرم کے محتاج ہیں۔ جو اتاریں نہ جا سکیں تو خود ہی اتر کر زمین سے لپٹ کر فنا ہو کر پھر نئی زندگی بن جاتے ہیں ۔
رب العالمین کا تصور کرنے کے لئے بند کمرے سے نکل کر کھلے آسمان کے نیچے آنا ہو گا۔ نعمتوں کا تصور باغوں و بہاروں سے جدا ہو کر رنگ نہیں دکھا پائے گا۔ مہتاب کو اپنا کہہ دینے سے کسی کی ناراضگی کا اندیشہ نہیں رہتا۔کیونکہ زمین کے عشق میں وہ خود دیوانہ وار جھومتا ہے۔
ہوائیں زندگی کی محبت میں بسترسے لپٹی سانس تک آمدورفت جاری رکھتی ہے جو زرد پتوں کو گرا دیتی ہیں اور آندھی بن جائیں تو اُڑا دیتی ہیں ۔خیالات کی زمین پر جب شک کی پنیری لگائی جائے گی۔ تو اختلاف کی فصل کو کاٹنا بہ امر مجبوری بن جائے گا۔دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ ضروری ہے۔ ترازو میں تولنے والا ایک طرف ہمیشہ اپنے پاس باٹ رکھتا ہے۔ جس کے وزن کا پورا ہونا تول کی گارنٹی ہے۔
نئے ماڈل کی کار ، پوش علاقے میں مہنگے بنگلے خواہشات کے غلاموں کی امارت کی منڈیوں میں نیلام ہونے کی نشانیاں ہیں۔ جسے پانے کے لئے آزادی کے پروانے اپنی جانوں پر کھیل جاتے ہیں ۔
باتیں تو پرانی تھیں اسے نہ جانے کیوں نئی محسوس ہوئیں۔ شائد اسے دنیا میں جینے کے لئے جینے کا ڈھنگ ہی بتایا جاتا رہا۔ مگر سچ تو قلب میں ایسے اترے جیسے پھل میں رس اترتا ہے۔کلام کا اثر قلب کے پاک ہونے سے بڑھ جاتا ہے۔ علم تو معلم کا محتاج ہو سکتا ہے۔ عقیدتِ عشق،محبوب کے وصل سے وابستہ نہیں۔ خوشنودی کے لئے رضا بھی درکار ہوتی ہے۔
زیادہ سوالات کبھی گتھیاں سلجھانے کی بجائے خود ہی اُلجھ جاتے ہیں۔ جس سے طالب متعلم ہو جاتے ہیں اور فیصلے کرتے چلے جاتے ہیں۔ جو علم کی معراج تو بن جاتے ہیں مگرعمل کی میراث نہیں۔ برسہا برس کی دھول چند لمحوں میں قلب سے دھل جائے تو شکریہ کا ہار الفاظ کے گلے میں نہیں ڈالا جائے گا ۔بلکہ اس قلب کو پہنایا جائے گا جو سچائی کی تلاش میں در بدر بھٹک رہا تھا ۔ لفظوں کو موتیوں کی مالا بنا کر جس نے پرو لیا ۔

تحریر : محمودالحق

1 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک