Jun 19, 2010

تفکرِ ایمان تنہائی شب میں بیتاب ہوا

تفکرِ ایمان تنہائی شب میں بیتاب ہوا
ہزاروں سال جل جل کر تو آفتاب ہوا

کہیں آگ کے دریا کہیں روشنی کے مینار
آنکھ مچولی کھیل کھیل کر ہی تو مہتاب ہوا

وارفتگی نم سے ہی ایک دانہ کو بہار آئی
حدتِ قطرہ سے ابر اور قطرہ ہی دمِ آب ہوا



در دستک / موسل بار

2 تبصرے:

طلحه صديقي said...

كيا بات هي جناب .....

محمودالحق said...

شکریہ طلحہ صاحب
آپ نے پسند کیا شاعری تو نہیں آتی مگر خیالات الفاظ میں خوب ڈھل جاتے ہیں .

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک