Jul 31, 2010

کھلا آسمان تنگ زمین کو ہے یوں کہتا

آج خبریں سنتے ہوئے سیلاب کی تباہ کاریوں سے تباہ حال لوگوں کی حالت زار پہ افسوس سے دل بیٹھا جا رہا تھا ۔ غیر سرکاری اطلاع کے مطابق ایک ہزار سے زائد افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ بچ جانے والے لٹے پٹے قافلوں کی صورت سیلاب کے ریلوں سے گزر گزر کر محفوظ مقامات کی طرف رواں دواں ہیں ۔ گھروں کو تالے لگا کر خدا کے سپرد کر کے گھروں سے ایک روز بھی باہر رہنے والے اب نہ جانے کب گھروں کو واپس لوٹتے ہیں ۔ ہزاروں خاندان بے سروسامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے اس آفت کے ٹلنے کے انتظار میں شب و روز کیسے گزاریں گے ۔ بھوک سے نڈھال بچے ، دودھ کے لئے بلکتے ننھے معصوم اور اپنے عزیز و اقارب اور گھروں کی سائبانی سے محروم جوان اور بوڑھے یاس اور مایوسی کی تصویر بنے آنکھوں میں مستقبل کے حسین خوابوں کی بجائے مدد کے لئے ایک امید کا چراغ روشن رکھے ہوئے ہیں ۔جس میں قوم اپنے اجڑے بہنوں اور بھائیوں کے لئے پہلے کی طرح بھرپور مددو تعاون کی مثال قائم کرنے کی ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہی ہے ۔ ایک کے بعد ایک ناگہانی آفت کی وجہ سے قوم پے در پے صدمات سے دوچار ہے۔ پختونخواہ صوبہ بری طرح سیلاب کی تباہ کاری کا شکار ہے ۔ سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان انہیں کے حصے میں آیا ہے ۔ پنجاب اور بلوچستان میں بھی درجنوں افراد اپنی جان سے گزر گئے ۔ دیہاتوں کے دیہات پانی کے ریلوں سے پناہ کی تلاش میں گھر سے بے گھر ہیں ۔سندھ کی طرف بڑھنے والا پانی سیلاب کی تباہی کا منظر پہلے سے دکھا رہا ہے ۔ اللہ تبارک تعالی اس قوم پر رحم فرمائے ۔ آمین۔
آزمائش کے ایک ایسے دور کا نقطہ آغاز ہے جس کے انجام بخیر کا کسی کو علم نہیں ۔ ائیر بلیو کے جہاز کا مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا نے کی گتھیاں بھی سلجھ نہیں پائی تھی ۔ جہاز کے پائلٹ نے نو فلائی زون میں کیوں اڑان بھری ۔ طرح طرح کی قیاس ارائیاں جنم لے رہی ہیں ۔ تبصروں اور تجزیوں نے ایک نئے موضوع پر اظہار رائے کا دروازہ کھولا ہوا تھا ۔ سیلاب کی تباہ کاری سے اس پر پانی پھر گیا ۔ابھی تو وہ چہرے جو اس حادثے میں جاں بحق ہوئے نہیں بھول پائے تھے کہ اس نئی آفت کی وجہ سےجاں بحق اور مصائب کے شکار عوام کے حالات کا سن سن کر تکلیف میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
ابھی یہ منظر میری آنکھوں سے نہیں ہٹے تھے کہ صدر صاحب کے دورہ برطانیہ کی خبر نے بجلی گرنے کا کام کیا ۔جس میں لندن سے برمنگھم پارٹی اجلاس میں جانے کے لئے پانچ ہزار پاؤنڈ کے فضائی اخراجات کا تخمینہ کے علاوہ سینکڑوں کارکنوں کو اجلاس میں لانے کے لئے پندرہ سو پاؤنڈ روزانہ کے کرایہ پر بسیں ہائیر کی گئی ہیں ۔ ہزاروں پاؤنڈ روزانہ ہوٹل کے کرائے اور ایک لمبی اور بڑی گاڑیوں کا کارواں اس کے علاوہ اخراجات کے متقاضی ہیں ۔پارٹی اجلاسوں کا اہتمام اور انتظام سرکاری خرچ پہ ہونا ۔ بے حسی کی اس سے بڑی مثال قائم کرنے میں شائد صرف ہمارے حکمرانوں کا ہی شیوہ ہے ۔ یقینا کوئی دوسری قوم ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ہماری بد قسمتی ہے کہ نظام شاہی دور کی یاد تازہ کرنے کی تاریخ کے اہم عوامی کردار ہوں گے ۔
بھاری بھر کم ایمان افروز حکمران غاصبانہ قبضہ کی ظلم و ستم کی روایت کو بے حسی سے کمتر ثابت کرنے میں کامیاب ضرور ہوں گے ۔ ابھی تک تو زلزلہ زدگان ملنے والی پوری امداد کے انتظار کی کوفت سے ناامید ہو چکے ہیں ۔اربوں کھربوں بھی چند ہزار خاندنوں کی کفالت کی امید بر نہیں لاتا ۔
لکھنے کو تو بہت کچھ ہے مگر اثر پزیری کے اثرات سے بالکل خالی رہے گی ۔جو خزاں رسیدہ پتوں کی طرح روزانہ اپناہی منہ چڑاتا ہے ۔ ان حالات میں تفریح طبع کا سامان روز کیسے پیدا کروں ۔
دردستک سے اقتباس:۔
کھلا آسمان تنگ زمین کو ہے یوں کہتا
کہ تیرا سبب تجھی کو ہے میں لوٹاتا
غصہ تیرا طوفان تو نفرت تیری آندھی
میرا ہے جو اپنا مجھ ہی پر اس کو آزماتا
تجھ پر کروں رحم تو اپنے پہ ظلم
غبار آنسوؤں کو تو ہمیشہ میرے ترستا

2 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال said...

يہ وقت ہے کہ جو بچے ہوئے ہيں وہ اجڑنے والوں کی مدد کريں اور سب مل کے خلوص نيت سے ورد کريں
اِنا للہ و اِنا اليہ راجعون
لا الہ الا انتَ سُبحانکَ انی کُنتُ من الظالمين

Anonymous said...

وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا۔

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک