Jul 29, 2010

مست مستی مستان

راز پانے سے تو زندگی ضیا ہو گئی
آنکھیں رہیں کھلی تو موت فناہوگئی
سوچتاہوں کہ آج وہ لکھ ہی دوں جو کبھی کہہ نہیں پایا ۔میں اندھیروں سے محبت کرتا رہا اور روشنیاں مجھےجلاتی رہیں ۔صبر سے تھی جن کی گزر بسر محال۔میرے ہاتھوں ہی کو چوم کر زہر لگا دیا ۔ نوالہ میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
کراہنا مجھے درد سے تھا ۔ مسکرانا مجھے ان کو آہ ہو گیا ۔دل سے جو پڑھ لے زندگی کی کتاب کو۔ٹپکتا آنسو ایک بھی موتیوں کا خزانہ ہو گیا ۔جگر گر نہ تھاما ہوتا قلب آب پہ بھی دھڑکتا ہوتا۔ کسی ایک انسان کی یہ نہیں کہانی ۔ ہابیل قابیل سے ہے چلی یہ نفرت زمانی ۔پرندے سے ہے تعبیر داستان اُڑانِ پری ۔خواہشوں کے پنکھ پہ ہے یہ معلق ہواؤں میں ۔ داستان مجاہد میں ہے ٹوٹتی تلواریں روز۔ نظر کے سامنے ہوتا کنارہ۔ ڈوبتی کشتی سے پاؤں پھر بھی اترتا نہیں ۔جھاڑیوں سے پانی کے ریلے گزرنے سے رکتے نہیں ۔سخت زمین سے ہے جو سینچتے ۔ پانی کے کٹاؤ سے وہی ہیں بچتے ۔
اگر مشکل ہو تو اگے لطیفہ میں ہی کچھ بیان کروں ۔
خواب میں جو دیکھیں خوبرو حسینہ شانوں پہ اپنے زلفیں پھیلائےگنگنائے ۔ پیار کی باتیں ہوں عشق کی پینگیں بڑھائے ۔صبح اُٹھنا ہو محال۔ بیگم ہو وہی مگر ہاتھ میں نہ آج اس کے وہ مزا آئے ۔بات بات پہ جو بگڑے ۔
بار بار آئینہ سے وہ پوچھے ۔ پھر زیر لب مسکرائی ۔ سمجھ تو گئی وہ کہ اصل ماجرا ہے کیا ۔ سالوں کی خدمت کا صلہ ایک رات کی مستی میں چکا دیا ۔
خوبرو حسینہ ایک رات آئی اس کے خواب میں بھی ۔نہ زلف دراز، نہ چہرہ کھلتا گلاب ۔بولی تیرا آئینہ دیکھاتا تجھے تیرا عکس ۔ شوہر ہو تجھے کسی دیوتا کی پرستش ۔ یہ دیوتا تو رکھتا ہے ہر پجارن پہ نظر ۔مالا پہنانے سے تو ہے اسے یہ فتور چڑھا ۔چاہتا ہے یہ ہر دم پوجا کرتی داسی تو ناچتی ہوئی پجارن ۔
آنکھ کھلی تو بیگم نے پالیا وہ راز۔ آئے روز رکھتا ہے یہ کیوں چہرے پہ ملال ۔ ایک سال سے جو رکھا سنبھال۔ دن ایک میں کر دیا اس نے رخسار لال۔
پھر نہ آئی خواب میں اس کے وہی خوبرو دوشیزہ ۔جب جب بڑھتی گئی لالی تب تب جیب ہوتی گئی خالی ۔ بیگم کا تو ہے اب خوش حال ۔لیکن خواب میں ہی ہوتا ہے شوہر اب خوش بہت ۔ جب کہتے ہیں اسے اپنے ہاتھ سے ہی کمیٹی اپنی کی تو پرچی نکال ۔

2 تبصرے:

یاسر خوامخواہ جاپانی said...

جناب یہ بھی خوب لکھا۔
یہ تحریر پڑھ کر مجھے فسانہ عجائیب نامی کتاب یاد آگئی۔
جن دنوں میں یہ کتاب پڑھ رہا تھا۔
سب سے اسی انداز میں بات کر نے کی کوشش کرتا تھا۔
جب جاپانی میں بھی یہی انداز اختیار کیا تو بیگم جی نے آئینہ دکھا دیا تھا۔
آئینے میں مجھے خوامخواہ جاپانی نظر آ گیا تھا۔

محمودالحق said...

یاسر خوامخواہ جاپانی ----
میں نےفسانہ عجائب کتاب تو نہیں پڑھی تھی ۔ ابھی ابھی نیٹ پہ چند اقتباس پڑھنے کا موقع ملا
بات تو آپ کی ٹھیک لگی ۔ کچھ ایسا ہی اتفاق ہو گیا۔انداز اختیار کرنے کی بات خوب کہی ۔
انداز بیاں اگر بدلے تو خیر ہے مگر خواب دیکھنا خیر سے نہیں ہو گا ۔

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک