Showing posts with label طنز و مزاح. Show all posts
Showing posts with label طنز و مزاح. Show all posts

Aug 10, 2010

ہوا میں تجھے کیسے اچھالوں

مری کے پہاڑوں پر گنگناتی فلمی ہیروئین پانچ سات سہیلیوں کے درمیان موج مستی کا گیت آلاپ رہی ہوتی ۔ تو درختوں کی اوٹ سے چند اوباش نکل کر رنگ میں بھنگ ڈالنے پہنچ جاتے ۔آپس کی بات تو تکار سے بڑھتے بڑھتے ہاتھ پکڑنے تک جا پہنچتی تو لڑکیوں کا ہاتھ جوتے کو ہاتھ میں لینے تک جا پہنچتا ۔ اور چھترول شروع ہونے سے کبھی پہلے کبھی بعد میں اوباش گرتے پڑتے بھاگ کھڑے ہوتے ۔
ایسے فلمی مناظر اکیسویں صدی میں ریلیز ہونے والی فلموں میں عکس بند نہیں کئے جاتے ۔کیونکہ اب عشقیہ داستانوں پر مبنی کہانیاں پزیرائی نہیں پاتیں ۔اس تابوت میں آخری کیل اسی کی دہائی میں مولا جٹ فلم میں دارو نے ٹھونک دیا تھا ۔جب ماکھا جٹ ناک پہ جوتے کا نشان لے کر آیا تھا ۔اور نوری نت نے دارو کو ذلت کے نشان کو مٹانے پر شاباشی دی تھی ۔ستر اسی کی دہائی میں ایسے حقیقی واقعات کے بھی چشم دید گواہ ہوں گے ۔جو سرراہ جوتا بازی کی کرشمہ سازی دیکھ چکے ہوں ۔گواہ تو شائد حکمران پارٹی کے قائد کو مخالف اتحاد کی طرف سے جوتے دیکھانے کے بھی ہوں ۔ جنہیں چمڑا مہنگا ہونے سے مراد لے لیا گیا ۔
غرض جوتا سازی کی صنعت ہو یا جوتا بازی ۔اس کے مختلف ادوار ہیں ۔اب اگر پولیس کے زیر استعمال چھتر کی بات کی جائے تو وہ ایسا ہے کہ جسے کبھی پہنا نہیں جا سکتا ۔پھر بھی اسے چھتر کہا جاتا ہے ۔شائد اس کے پڑنے کی آواز جوتے پڑنے سے ملتی جلتی ہے ۔
بیسویں صدی سے اکیسویں صدی میں جو روایات من و عن منتقل ہوئیں ۔ ان میں سر فہرست پولیس کا چھتر ہے ۔ دوسری طرف سیاسی طور پر جوتا بازی کبھی بھی اچھا شغل نہیں رہا ۔مگر گزشتہ چند سالوں میں اس صنعت کو خاصی شہرت و پزیرائی حاصل ہو چکی ہے ۔
اکثر دو مد مقابل ٹیموں کے درمیان ٹاس کے ذریعے سکہ اچھال کر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون پہلی باری کا حقدار ہے ۔لیکن انفرادی اور اجتماعی طور پر جوتا ایسا تاثر نہیں رکھتا ۔ کیونکہ وہ اچھل کر ہی فیصلہ دے دیتا ہے ۔
ایک بات تو طے ہے کہ روزمرہ استعمال میں رہنے والا مقبولیت کی چوٹیاں سر کرنے کا عزم رکھتا ہے ۔ جوتے کی نوک پہ رکھنے کے محاورے سے جس نے تذلیل کی گہرائیوں کو چھوا۔ اب وہ ہواؤں میں اچھل اچھل کر خوشیوں میں پھولے نہیں سماتا ۔ بحرحال جوتا پڑنے سے اچھلنے کا درد جھیلنا زرا مشکل دیکھائی دیتا ہے ۔
اچھے نتائج کا نکلنا بعید از قیاس نہیں ۔ جوتا بازی سے دیکھنے والے ضرور سبق حاصل کرتے ہیں ۔جیسا کہ ہم نے میٹرک سائنس میں فسٹ ڈویژن میں پاس کیا ۔اتنی تفصیل تو دینا ضروری ہو گیا کہ کہیں ہمیں جوتا بازی کا شکار نہ سمجھ لیا جائے ۔ ایسا تجربہ زندگی میں دیکھنے سے زیادہ نہیں ۔گلے سے نکلنے والی ہائے ہائے سننے سے تو آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتا تھا ۔
جب نویں جماعت کے آغاز میں نئے کمانڈر ان چیف انگلش کے ٹیچر نے چارج سنبھالا ۔ تو بچپن سے ہی کمزور یادداشت رکھنے والے اس رنگیلے کھیل کے زیر عتاب آئے ۔دونوں ٹانگوں کے نیچے سے دونوں کان پکڑنا بھاری بھر کم موٹوں کے لئے پہلے ہی کسی سزا سے کم نہیں تھا ۔اوپر سے دفعہ 12 لگنے سے سزا با مشقت بھی ہو جاتی ۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ٹیچر باٹا کا 12 نمبر پہنتے تھے ۔
اب جب کہ جوتا سازی ایک منعفت بخش کاروبار کے بعد جوتا بازی قبولیت عام کی سند حاصل کرتی تلوار بنتی جارہی ہے ۔ جو تلوار جیسی دھار تو نہیں رکھتی مگر زخم اس سے بھی کہیں گہرا دیتی ہے ۔اور اس پر مرہم رکھنا ابھی وقت نے سیکھا نہیں ہے ۔
اگر ملکی سربراہان اور سیاسی قائدین پر یہ دفعہ عوامی مینڈیٹ سے نافذالعمل ہو گئی ۔ تو امید کی جا سکتی ہے کہ اچھی یادداشت رکھنے والے ضرور امتحانات میں فسٹ کلاس حاصل کریں گے ۔ اور کمزور خلیفے اچھے اداروں کی رکنیت کے اہل نہیں ہوں گے بلکہ قابل ہی نہیں ہوں گے ۔ کیونکہ قابلیت کے لئے جہالت کے اندھیرے دور کرنے ضروری ہیں ۔
یونیورسٹی میں پڑھنے والے نہر کنارے چلتے چلتے محبوبہ کو منا بنا کر ہوا میں اچھالنے کی خواہش کریں اور محبوبہ منا بننے پر اعتراض کی بجائے اچھالے جانے پر خوش ہو ۔ تو منے کو اپنا حق یوں اچھال کر استعمال کرنے والوں پر اعتراض ضرور ہو گا ۔
اب اعتراض ہوتا ہے تو ہوتا رہے ۔خوشیوں کے لمحات بچے ہی کتنے ہیں ۔ جو اعتراضات کی بھینٹ چڑھا دیں ۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے کہاں سب بچے ہیں ۔انھیں بھی تو خوراک اچھال اچھال کر ہی دی جارہی ہے ۔اور وہ منے کی طرح اپنی آغوش میں سما لیتے ہیں ۔ جن کے اپنے جگر گوشے منے خوفناک سیلابی ریلے اپنے ساتھ بہا کر لے گئے ۔اور وہ کچھ نہ کر سکے ۔
ان کے چاروں اطراف اس قدر پانی ہے کہ ان کے بہتے آنسو کسی کو دیکھائی ہی نہیں دیتے ۔
در دستک >>

Jul 29, 2010

مست مستی مستان

راز پانے سے تو زندگی ضیا ہو گئی
آنکھیں رہیں کھلی تو موت فناہوگئی
سوچتاہوں کہ آج وہ لکھ ہی دوں جو کبھی کہہ نہیں پایا ۔میں اندھیروں سے محبت کرتا رہا اور روشنیاں مجھےجلاتی رہیں ۔صبر سے تھی جن کی گزر بسر محال۔میرے ہاتھوں ہی کو چوم کر زہر لگا دیا ۔ نوالہ میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
کراہنا مجھے درد سے تھا ۔ مسکرانا مجھے ان کو آہ ہو گیا ۔دل سے جو پڑھ لے زندگی کی کتاب کو۔ٹپکتا آنسو ایک بھی موتیوں کا خزانہ ہو گیا ۔جگر گر نہ تھاما ہوتا قلب آب پہ بھی دھڑکتا ہوتا۔ کسی ایک انسان کی یہ نہیں کہانی ۔ ہابیل قابیل سے ہے چلی یہ نفرت زمانی ۔پرندے سے ہے تعبیر داستان اُڑانِ پری ۔خواہشوں کے پنکھ پہ ہے یہ معلق ہواؤں میں ۔ داستان مجاہد میں ہے ٹوٹتی تلواریں روز۔ نظر کے سامنے ہوتا کنارہ۔ ڈوبتی کشتی سے پاؤں پھر بھی اترتا نہیں ۔جھاڑیوں سے پانی کے ریلے گزرنے سے رکتے نہیں ۔سخت زمین سے ہے جو سینچتے ۔ پانی کے کٹاؤ سے وہی ہیں بچتے ۔
اگر مشکل ہو تو اگے لطیفہ میں ہی کچھ بیان کروں ۔
خواب میں جو دیکھیں خوبرو حسینہ شانوں پہ اپنے زلفیں پھیلائےگنگنائے ۔ پیار کی باتیں ہوں عشق کی پینگیں بڑھائے ۔صبح اُٹھنا ہو محال۔ بیگم ہو وہی مگر ہاتھ میں نہ آج اس کے وہ مزا آئے ۔بات بات پہ جو بگڑے ۔
بار بار آئینہ سے وہ پوچھے ۔ پھر زیر لب مسکرائی ۔ سمجھ تو گئی وہ کہ اصل ماجرا ہے کیا ۔ سالوں کی خدمت کا صلہ ایک رات کی مستی میں چکا دیا ۔
خوبرو حسینہ ایک رات آئی اس کے خواب میں بھی ۔نہ زلف دراز، نہ چہرہ کھلتا گلاب ۔بولی تیرا آئینہ دیکھاتا تجھے تیرا عکس ۔ شوہر ہو تجھے کسی دیوتا کی پرستش ۔ یہ دیوتا تو رکھتا ہے ہر پجارن پہ نظر ۔مالا پہنانے سے تو ہے اسے یہ فتور چڑھا ۔چاہتا ہے یہ ہر دم پوجا کرتی داسی تو ناچتی ہوئی پجارن ۔
آنکھ کھلی تو بیگم نے پالیا وہ راز۔ آئے روز رکھتا ہے یہ کیوں چہرے پہ ملال ۔ ایک سال سے جو رکھا سنبھال۔ دن ایک میں کر دیا اس نے رخسار لال۔
پھر نہ آئی خواب میں اس کے وہی خوبرو دوشیزہ ۔جب جب بڑھتی گئی لالی تب تب جیب ہوتی گئی خالی ۔ بیگم کا تو ہے اب خوش حال ۔لیکن خواب میں ہی ہوتا ہے شوہر اب خوش بہت ۔ جب کہتے ہیں اسے اپنے ہاتھ سے ہی کمیٹی اپنی کی تو پرچی نکال ۔
در دستک >>

Jul 28, 2010

حد ہو گئی

بلا سوچے سمجھے لکھنا فنکاری تو ہے مگر فن تحریر نہیں کہلا سکتا ۔ آج وہی کرنے جا رہا ہوں یعنی فنکاری ۔ ہر حد کو پھلانگنے کی آرزو ہے ۔آم اور امرودتوڑنے کے لئے تو دیواریں پھلانگتے رہے بچپن میں ۔ آج وہ کرنے جا رہے ہیں جسے دیکھ کر اہل علم کہیں گے کہ" حد ہو گئی یار "اگر بلاگ بنا ہی لیا ہے تو پیچھے بچا کیا ہے ۔
کیا اب شاعروں اور ادیبوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ جو بے چارے حد سے گزرے ہوئے تھے ۔ اہل دانش اگر یہ کہیں وہ حد سے گرے ہوئے تھے ۔ تو پھرکھری کھری سننے سے کیسے بچیں گے ۔سنائیں کیوں نہ ساغر صدیقی مرحوم کو بھرے ہوئے سگریٹ پلا کر شاعری پر ہاتھ صاف کرنے والے مشاعروں میں واہ واہ کے ترانوں سے دم مست قلندر کرتے رہے ۔ تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں ۔ شعر کو تول کر وزن بتا دیتے تھے ۔کہ کس کے ترازو سے نکلا ہے ۔
کہیں یہ تو نہیں سمجھا جا رہا ۔ کسی مشاعرے میں نہ بلانے کے غصے میں غبار نکال رہے ہیں ۔ایسا سوچئے گا بھی نہیں کیوں کہ میں ہفتہ میں ساتوں دن شیو بناتا ہوں ۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ میں بہت خوش رہتا ہوں۔ لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ غمگین رہنے والے ہمیشہ برا لکھتے ہیں اور خوش رہنے والے اچھا ۔
اچھا اور برا تو مقدر سے بھی ہوسکتا ہے ۔ اگر گالی دینے سے تھپڑ کھائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن اگر منہ میں بڑبڑاناہی دوسرے کو ناگوار گزرے۔ تو حد سے گزرنے میں کیا حرج ہے ۔ کوئی شاعر تو اس حد تک جا سکتا ہے کہ " کتنے شیریں ہیں تیرے لب – گالیاں کھا کر بھی بے مزہ نہ ہوئے"۔
مگرہمیں کہاں تک جانا ہو گا ۔ایسا کام ہی نہ کرو کہ چھیڑنے میں مزہ رہے ۔ ابھی چند روز پہلے ہی کسی مہربان نے ایسا چھیڑا کہ اپنی صفائی دیتے دیتے منہ خشک اور کڑوا ایسا ہوا ۔ کہ کھانے میں سالن کی بجائے کھیر بھر بھر کر چپاتی کے نوالے بناتا رہا۔ مگر کیا کہنے چھیڑنے والے کے جو دوسروں کو دیکھ دیکھ کر ایک آنکھ بار بار بند کرتے ہوئے مشکڑیاں مار رہے تھے ۔اور اپنا لہو تھا کہ ابل ابل جا رہا تھا ۔چار گلاس پانی پینے سے لہو ٹھنڈا کیا ۔
بات انہوں نے اس جملے سے ختم کی کہ سناؤ آج کل کیا لکھا جارہا ہے ۔جھنجھلا کر جواب دیا کہ اب ایس لکھوں گا ۔قاری پڑھ پڑھ کر بھر بھر دل کا بوجھ ہلکا کرے ۔اور ایسے لوگوں کو ڈھونڈتا رہے پوری اکیسویں صدی ۔
جی ہاں مجھے کوئی جلدی نہیں ہے بدلہ لینے کی ۔حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ رکھا ہے ۔خود ہی انصاف کرے گا ۔ کیونکہ اب انصاف عدالتوں میں بھی نہیں تو پنچائت بلا کر بھی نا انصافی کا رونا رہے گا ۔
لیکن اگر یہ سمجھا جائے کہ میں نے چھوڑ دیا ۔ تو بلاگ کی دنیا چھوٹ سکتی ہے مگر " ہت تیری کی " کی نہیں ۔یہ تو اکثر پوچھتے ہیں کہ لکھنے کا خیال کیسے آیا ۔بلاگستان کا ممبر ہونے کا یہ اعزاز تو ملا کہ جناب بچپن سے شوق رکھتے ہیں اور جو بچپن سے جانتے ہیں ۔ ان کے لئے اتنا کہنا کافی ہوتا ہے کہ بچپن سے پک رہا تھا ۔ اب جا کر کہیں دم دینے کے قابل ہوا ہے ۔بھلا یہ بھی کوئی بریانی کی دیگ ہے جو اب دم پخت ہوئی ہے ۔
دیرآید درست آید کو سچ ثابت کرنے کے لئے حد پھلانگنے کی کوششٰں میں ہیں ۔اپنا ڈومین پانے کی دوڑ میں اب ہم بھی شامل ہو گئے ۔ورڈ پریس پہ بلاگ سپاٹ کا سارا مواد منتقل ہو چکا ، تھیم سلیکٹ ہو گیا ۔
بلا عنوان سے ہی سائیٹ بنانے کا عنوان مل گیا ۔لیکن ابھی خوشی کی خبر سے کافی دور ہیں ۔نام تو پہلےہی سوچ رکھا ہے ۔بدنام بعد میں ہو گا ۔
کھانے کی ہوش نہیں رہی ۔ کمپیوٹر پر بیٹھے بیٹھے پرانے درد نکل نکل کر چئیر سے چپک جاتے ہیں ۔ایک کے بعد ایک مسئلہ مشکڑیاں مار رہا ہے ۔ بلاگ تین چار بار حادثے کا شکار ہونے سے بچا ہے ۔ اب لہو کے ابال کو آٹھ دس گلاس پانی سے ٹھنڈک پہنچائیں گے ۔
کہتے ہیں کہ کچھ پانے کے واسطے کچھ کھونا بھی ہوتا ہے ۔اپنا ڈومین پانے کے لئے بلاگ کے اثاثہ جات سے ہاتھ دھونا گھاٹے کا سودا رہے گا ۔ کیونکہ قاری کو پرانی تحریریں ایک ایک کر کے پھر سے پڑھنی پڑیں گی ۔
بلاگستان میں ایک ٹرم بہت مقبول ہے کہ ٹریفک بڑھانے کے نسخہ جات کا استعمال کیسے کیا جائے ۔
حالانکہ حکومت عرصہ دراز سے ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لئے کبھی کم بچے خوشحال گھرانہ اور کبھی بچے دو ہی اچھے کو زندگی کی بیمہ پالیسی کے اشتہار سے ترغیب دلانے کی ہمیشہ کوشش کرتی رہی ہے ۔
مگر دعا ہے کہ پاکستان کی آبادی بڑھنے سے رک جائے مگر بلاگستان کی ٹریفک بڑھتی جائے ۔
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter