Feb 6, 2010

یادداشت کھو جانے والی بیماری الزائیمر کی علامات

آج سے چند سال پیشتر پاکستان میں بہت کم لوگ الزائیمر کے متعلق جانتے تھے۔سیمینار منعقد کئے جاتے رہے تاکہ عوام میں بیماری کے بارے شعور بیدار ہو ۔ یادداشت کھونے والی بیماری جو رفتہ رفتہ انسان کو اپنے بس سے باہر کر دیتی ہے ۔
غیر محسوس طریقے سے دماغ کے خلئے آہستہ آہستہ جسم کے اعضاء کو آزاد ی کے پروانے تھماتے چلے جاتے ہیں ۔اورصرف وہی اعضاء کام سرانجام دیتے رہتے ہیں ۔ جو دماغ کے تابع نہیں ہوتے ۔ورنہ تو ایک کے بعد ایک بغاوت کرتا چلا جاتا ہے ۔خودمختاری کے اعلان کے بعد وجود کو زندہ جسم کی بجائے گوشت کا لوتھڑا بنا دیتا ہے ۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یاداشت کی کمی اور یاداشت کے خاتمے کی بیماری ”الزائیمر“ میں دماغ کی گہرائی میں حصہ لینے والے خلیوں الیکٹرانک الیکڑوڈ کے ذریعے متحرک کر کے دماغ میں”نیورون گروتھ“ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔امریکہ کے سابق صدر رونالڈ ریگن 1994میں اسی بیماری کا شکار ہوئے اور 2004 میں دس سال اس بیماری سے لڑتے لڑتے دنیا سے چلے گئے ۔مگر اس بیماری سے نجات نہیں پا سکے ۔تحقیق سے یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے نیند میں خلل سے اس بیماری کی علامات یادداشت میں کمی سے شروع ہو جاتا ہے ۔
لیکن اس وقت میں اس بیماری کے علاج یا تحقیق کے متعلق سیمیناروں کا احوال بیان نہیں کرنے جارہا ۔ بلکہ یہ بتانے جارہا ہوں کہ یہ بیماری اپنی ابتدائی حالت میں کون کون سی علامات ظاہر کرتی ہے ۔ اور اس کا آغاز کس طرح ہوتا ہے ۔ غیر محسوس انداز میں کہ ساتھ رہنے والے بھی اس بات سے بے خبر رہتے ہیں کہ ایک انسان اپنی زندگی بھول رہا ہے ۔ مرکزی حکومت (دماغ) سے ایک کے بعد ایک ریاست (اعضاء) آزادی کا اعلان بغاوت کر رہے ہیں ۔ انسان سمجھ ہی نہیں پاتا کہ وہ زندگی کے ان تنگ و تاریک راستوں میں داخل ہو رہا ہے ۔ جہاں وہ خود اور اس کے ساتھ رہنے والے ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔الزائیمر کا آغاز جیسا کہ ابتدائی تحقیق سے سامنے آئی ہے کہ ذہنی دباؤ اس کا بنیادی سبب ہے ۔ شروع میں مریض کی یادداشت ایک مختصر وقت کے لئے ختم ہو جاتی ہے جیسے وہ اپنے گھر کے افراد میں سے چند ایک کو پہچان نہیں پاتا اور کبھی کبھار جوانی کے ایام دور کے واقعات اور تعلق والے اسے یاد آتے بلکہ سامنے بیٹھے محسوس ہوتے ہیں ۔گھر سے باہر سیر کے لئے جائیں تو اچانک وہ اپنے گھر کی شناخت بھول جاتے ہیں ۔ گھر کے سامنے کھڑے اپنا گھر تلاش کرتے ہیں ۔ پھر اسی تلاش میں ایک گلی سے دوسری میں جاتے جاتے گھر سے دور نکل جاتے ہیں ۔ اور جب انہیں یادداشت واپس آتی ہے تو اس وقت تک اپنے گھر سے بہت دور نکل چکے ہوتے ہیں ۔ گھر کی پہچان تو واپس آ جاتی ہے مگر اب گھر سامنے نہیں رہتا ۔ کھانا کھا چکنے کے بعد بھی انہیں اس بات کا خیال ہوتا ہے کہ انہوں نے ابھی کھانا نہیں کھایا ۔انہیں یاد دلانا پڑتا ہے کہ وہ کھانا کھا چکے ہیں ۔دن و رات کا فرق ختم ہو جاتا ہے آدھی رات کو سالوں پہلے چھوڑا گیا دفتر اچانک یاد آجاتا ہے اور تیار ہو کر اندھیرے میں دفتر جانے کی تیاری میں گھر سے باہر جانے کی ضد کرتے ہیں ۔آہستہ آہستہ یادداشت کھونے کا دورانیہ بڑھتا جاتا ہے ۔اور دیر تک اپنے حال سے جدا ہو جاتے ہیں ۔ماضی پرانے ریکارڈ کی طرح نکل کر سامنے آ جاتا ہے ۔اردو انگلش لکھنے پڑھنے والی آنکھیں لفظوں سے شناسائی کھو دیتی ہیں ۔ مریض سمجھتا ہے کہ اس کی نظر کمزور ہو چکی ہے مگر دراصل دماغ کے وہ خلئے جس میں الفاظ کا ڈیٹا سٹور رہتا ہے صاف ہو جاتا ہے ۔پاخانہ پیشاب کے لئے باتھ روم تک پہنچ نہیں پاتے اور راستے میں ہی کپڑے خراب ہو جاتے ہیں کبھی بستر پر تو کبھی کسی فرش پر ۔ مریض سمجھ نہیں پاتا کہ کیا ہو رہا ہے ۔ ہاتھ میں پانی کا گلاس پکڑنے کا فن بھول جاتے ہیں ۔ روٹی کا نوالہ بنانے کی ترکیب یاد نہیں رہتی ۔ چمچ کو ہاتھ سے پکڑنا بھول جاتے ہیں ۔ بنیادی طور پر انگلیاں دماغ سے آزادی کا بغل بجا دیتی ہیں ۔اور لکڑی کے سہارے سے بھی لا تعلق ہو جاتی ہیں ۔کئی سال یہی معمولات زندگی رہتی ہے ۔ اگر کبھی دست کی شکایت سے کمزوری یا نقاہت ہو جائے تو ایک دو دن بستر پر رہ جائیں تو پھر پاؤں پر کھڑا ہونا ممکن نہیں رہتا ۔ بچے کی طرح لڑکھڑا کر گر جاتے ہیں ۔ زیادہ تر وقت اپنے حوش وحواس میں نہیں رہتے ۔ چند لمحوں کے لئے یادداشت لوٹ کر آتی ہے ۔ اور مریض صرف بستر تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے ۔ کھلی آنکھیں اور سانس لیتی ہوا صرف زندگی کی علامت رہ جاتی ہے۔ یہ زندگی مہینوں نہیں سالوں پر محیط ہے ۔ ایک ایک پل مریض جس تکلیف سے گزرتا ہے بیان سے باہر ہے ۔اس بیماری کا دورانیہ آغاز کے بعد15 سے 20 سال تک بھی رہ سکتا ہے ۔
یہ بیماری زیادہ تر بوڑھے لوگوں میں دیکھنے میں آئی ہے مگر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ 50 کی عمر کے افراد جو شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہے وہ بھی اس بیماری کا شکار ہوئے ۔ترقی یافتہ ممالک میں تو الزائیمر کا مرض کافی پرانا ہے ۔ اور وہ سال و سال سے اس کا علاج دریافت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ مگر فی الحال کوئی خاص کامیابی نہیں ملی مگر اس سے بچاؤ ممکن ہے کہ ڈپریشن اور سٹریس سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کی جائے ۔ مگر اب ہمارے معاشرے میں یہ بیماری وبا کی طرح پھیل رہی ہے ۔جوں جوں معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ رشتوں میں محبت اور ہمدردی کے جزبات کم ہوتے جارہے ہیں ۔ خاص طور پر معاشی ، خاندانی اور معاشرتی مسائل سے پریشانیاں بڑھی ہیں ۔کہیں دولت کی تقسیم سے تو کہیں رشتوں کے لین دین سے آپس میں ناچاتیاں پیدا ہوتی ہیں ۔زیادہ تر وہی لوگ اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں جو گھل گھل کر جیتے ہیں ۔دل کی بات کسی سے نہیں کہتے ۔ غم دکھ کسی ہمدرد سے بانٹتے نہیں بلکہ خود سے برداشت کرنے اور کڑھتے رہنے سے دماغ میں شریانیں سکڑتی چلی جاتی ہیں ۔ جب یہ بیماری سامنے آتی ہے تو وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے ۔ اپنے ارد گرد ماحول کا جائزہ لیں کہیں ہمارا اپنا کوئی پیارا تو برداشت کی قوت کو آزماتے آزماتے زندگی تو نہیں بھول رہا ۔
اللہ تعالی ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور صحت و تندرستی سے زندگی گزارنے کےڈھنگ پرعمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


محمودالحق

5 تبصرے:

شاہدہ اکرم said...

اِنتہائ معلُوماتی تحرير ہے ہم ميں سے اکثر لوگوں کے ساتھ ايسا ہو جاتا ہے غير محسُوس طريقے سے ليکِن عِلم نہيں ہوتا کہ ہو کيا رہا ہے ايسے ميں ہميں چاہيئے کہ دُنيا ميں رہتے ہُوۓ دُنيا کی باتوں کو جانيں اور ديکھيں کہ جو کُچھ ہو رہا ہے وُہ کيُوں اور کيسے ہو رہا ہے؟اور اگر ہميں کِسی بات کا عِلم ہے يا کہيں سے کُچھ معلُوم ہُوا ہے تو دُوسروں تک بھی يہ معلُومات پہُنچائيں تا کہ کوئ اور بھی اِس سے فائِدہ اُٹھا پاۓ
ميں آپ کی اِس تحرير کے لِۓ آپ کی تہہ دِل سے شُکر گُزار ہُوں

sadia saher said...

salam

nice sharing --- ALLAH pak humare pyaaroon pe aur hum sab pe reham kare ameen

محمودالحق said...

میرے والد 1990 میں اس بیماری کا شکار ہوءے 1997 میں پہلی بار انکشاف ہوا کہ اسے الزاءیمر کہتے ہیں ۔ اور ان کی وفات 2003 تک میں خود ان کی دیکھ بھال اور نرسنگ کرتا رہا ۔ جو میں نے لکھا میرا ذاتی تجربہ ہے جو چودہ سال جاری رہا ۔اس بیماری کا سامنا کرنا اعصابی جنگ لڑنے کے مترادف ہے ۔

محمد ریاض شاہد said...

غالبا باکسنگ کے ماضی کے شنشاہ محمد علی بھی اسی بیماری میں مبتلا ہیں ۔ ویسے اس بیماری کا کوئی روحانی اور نفسیاتی علاج بھی ہے یا اس پر کام ہو رہا ہے

محمودالحق said...

ریاض شاہد صاحب محمد علی کو پارکنسن کی بیماری ہے جو جسم کے ایک حصہ کو متاثر کرتی ہے ۔ جس میں انسان سست ہو جاتا ہے اپنا بیلنس نہیں رکھ پاتا انہیں چلنے میں دشواری پیش آتی ہے مسلز میں سختی پیدا ہو جاتی ہے ۔یہ دونوں الگ الگ بیماریاں ہیں ۔ جہاں تک میرا علم ہے الزائیمر پر کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں بیماری کی تفصیلات سے اگاہی ہو جاتی ہے اور مریض کو ہینڈل کرنے میں آسانی رہتی ہے میں نے وہ پڑھی ہیں مگر علاج کہیں سے نہیں ملا حتی کہ امریکہ سے بھی نہیں ۔

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک