Feb 21, 2010

تھوڑی سی لفٹ کرا دے

تحریر : محمودالحق

چھوڑو نا یار۔۔۔ آجکل ہمیں معاش کی فکر ہلنے نہیں دیتی۔۔۔ کون سے نظریات اور کہاں کے نظریات۔۔۔ میرے بلاگ پر جناب نعیم صاحب نے یہ تبصرہ فرمایا ہے ۔ لکھنے کا خیال تو تھوڑی سی لفٹ کرا دے سے متعلق تھا ۔ مگر سوچا لگے ہاتھوں اس تبصرہ پر بھی اظہار خیال ہو جائے ۔سنجیدہ موضوع پر لکھا جائے تو پڑھنے والے تعداد میں انتہائی کم ہوتے ہیں ۔یعنی سینکڑوں کی بجائے دہائیوں میں ۔ لیکن ٹریفک بڑھانے کے لئے میرا قطعا کسی فلمی یا غیر فلمی گانے کے بارے میں لکھنے کا موڈ نہیں ہے ۔ اور نہ ہی عدنان سمیع کا ڈائٹنگ پروگرام یہاں بیان کرنا ہے ۔کیونکہ میں ہمیشہ سے ہی موٹا کرنے والی خوراک کا دیوانہ رہا ہوں ۔اس لئے موٹاپا کم کرنے کی ترکیب بیان کی جسارت نہیں کر سکتا ۔ جو کام خود نہ کیا ہو دوسروں کے لئے کیوں مولانا فصیحت ہو جاؤں ۔میرا مزاج معتدل ہے ۔ شوکت علی کے گانے ہوں یا ترانے سننے میں ہی گردش خون بڑھا دیتے ہیں اس لئے ان سے بھی ہمیشہ آنکھ بچا کر نکل جاتے ۔ عطا اللہ عیسی خیلوی کولڑکپن میں جنازہ نکالتے سنا تو
بلڈ پریشر کم ہو گیا ۔ اب سننے کی ہمت نہیں کمزوری بڑھ چکی ہے ۔ چکر آ جاتے ہیں ۔ صحت مزاج پرسی کے گانوں سے ہی تسکین پاتی ہے اب تو ۔ خوشی ہوتی ہے جب کوئی ہمارا حال پوچھتا ہے ۔ بیماری سے اظہار نفرت کرتا ہے اور ہمیں ساتھ دینے کا حوصلہ باندھتا ہے ۔کہ چلیں اسی بہانے ہماری ہمدرد فوج میں نئے سپاہیوں کا اضافہ ہوتا ہے ۔جیسے میری تحاریر پر داد دینے والے مختصر الفاظ کے ساتھ حوصلہ دیتے ہیں۔ جیسے بہت اچھے ، جاری رکھو، ویری نائس ، گڈ شئیرنگ وغیرہ ۔ مگر سبھی تو سپاہی نہیں ہوتے۔ تفصیل سے روشنی ڈال کر بعض پہلی صفوں میں اعلی عہدوں کے تغمہ بھی سجا لیتے ہیں ۔ اورکچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بیماری کے متعلق ایسے انکشافات کرتے ہیں کہ سوتے میں آنکھ کھل جاتی ڈراؤنے خواب سے ۔مگر ان سب تفصیلات میں لفٹ کا ذکر تو کہیں بھی نہیں مل رہا ۔ ابھی تک تو صرف صفت ہی بیان کی جارہی ہے ۔ جو ہمیشہ انسان کی سرشت میں پائی جاتی ہے ۔بات تو شروع ہوئی تھی کہ ہر انسان کو روزی کے لالے پڑے ہیں ۔ پھر نظریات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ۔ہماری زندگی میں عملی لحاظ سے اس کا کیا عمل دخل ہے ۔ اگر میں یہ کہوں کہ جناب روزی کے لالے پڑے ہیں تو لالوں ( لالہ کی جمع یعنی بھائی ) سے لفٹ کی بجائے کیوں نہ لاالہ الااللہ سے ہی لفٹ کا قصد کیا جائے ۔ ہمارے مشورے بھی اب تو مال مفت دل بے رحم کی طرح محسوس ہوتے ہیں ۔ کہ جناب باتوں سے پیٹ نہیں بھرتے ۔ جان کے لالے پڑے ہیں ۔ لالہ سے مدد نہ ملی تو زندگی تہہ و بالا ہوتی نظر آ رہی ہے ۔اپنا بلاگ بنا کر بیٹھے ہیں در دستک ۔ چھتیں بغیر بالے کے ہیں ۔ محنت سے ہاتھوں میں چھالے ہیں ۔ گھر کے اندر اندھیرے تو باہر اجالے ہیں ۔دستک دیں تو کہاں ۔ دیواروں پر ۔صرف جھانکتے ہیں لوگ کبھی چلمن سے تو کبھی چوباروں سے۔ پریشانیاں اتنی ہیں کہ زندگی ایک کم ہے۔ کیونکہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ۔ جب ہر خواہش پہ دم نکلے تو ایک زندگی کے دم گن لیں ۔ اب تو حالت یہ ہے ہزاروں زندگیاں بھی کم نکلیں ۔ہم نے ہزاروں میں جینے کی بجائے ایک زندگی سے کام چلانے کی کوشش کی ۔ کوشش تو ہم نے یہ بھی کی تھی کہ گورنمنٹ کالج میں ایم اے تاریخ میں جب داخلہ لیا تو کلاس میں مجھے بھی کوئی لفٹ کرا دے ۔ آپ پھر غلط رخ دیکھ رہے ہیں ۔ میرا مطلب ہے کہ کلاس کے سبھی لڑکے لڑکیاں جب کسی اسائنمنٹ کو اکٹھے بیٹھ کر ڈسکس کرتے تو ہمیں اپنی طرف آتا دیکھ کر خاموشی چھا جاتی ۔اور ہم اپنا سا منہ لے کر کسی دوسری سمت چل پڑتے ۔ جہاں سے جو ملتا پڑھ لیتے اور پہلی پوزیشن سے جلا کر رکھ دیتے صرف کلاس ٹیسٹ میں ۔تقریبا چار ماہ بعد اقلیتی نشست سے جان چھوٹی ۔ لفٹ نہ ملنے کی بابت دریافت کیا کیونکہ چار ماہ اقلیت کا کردار نبھایا تھا ۔ فرمایا گیا جناب کا کردار ہی ایسا تھا ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں تھا کہ ہمارا گھر محلے میں چھڑوں (کنواروں ) کا گھر مشہور تھا ۔ کزنز اور محلے کے سبھی چھڑے وہیں ڈیرہ جماتے تھے ۔مگر جناب ہم تو ہمیشہ سے آنکھ نیچے رکھتے محلے میں ۔ تو کلاس میں کیسے اُٹھا سکتے تھے پھر یہ ناروا سلوک کیوں ہوا ۔اب اگرداخلہ لینے کے چند روز بعد ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے باہر آٹھ دس لڑکے دو مخالف پارٹی کے لڑکوں کوگھونسوں اور لاتوں سے پیٹیں گے تو کیا ہم خاموش تماشائی بنے تماشا دیکھیں گے ۔ نہیں نہ ! یاد تو ہو گا آپ کو کھڑکی پر حملہ اور لائن توڑنے والے شدید ناپسند تھے ۔ سو کود پڑے بیچ میں اور دونوں کو بچا کر اپنا فرض ادا کیا ۔ تو کیا برا کیا ۔ نیکی کا یہ صلہ ملا ۔پوری کلاس نے اقلیتی بنچوں پر بٹھا کر رکھا ۔کہ کہیں اس کی وجہ سے کسی مصیبت میں نہ پڑ جائیں ۔ لیکن مصیبت تو میرے گلے پڑی۔ جب مخالف محاذ کی طلبا تنظیم نے دعوت شمولیت دے دی ۔ ہم کرایہ کے --- تھوڑے تھے ۔ چمچہ گیری سے جان چھڑاتے چھڑاتے اب داداگیری کو پلے باندھ لیں ۔ پلہ تو ہم کب کا جھاڑ چکے تھے ۔ ابا جی کی پانچ مربع زرعی زمین کے ٹھیکیدار فصل کے اجڑنے پر معافی مانگ کر پلہ جھاڑچکے اور ہم اخراجات و ضروریات زندگی سے ۔امیروں کے بیٹے کلاس میں ڈالہ (بوتلوں کے )کھلواتے ۔ اور ہم اکثر ہی حلیم کی ریڑھی پر پائے جاتے ۔ ایسے موقع پر خیال آتا کہیں سے تھوڑی سی لفٹ ہی مل جائے ۔ دعا سنی گئی ۔ اور پانچ بڑے لالوں (بھائیوں) نے امریکہ سےماہانہ مدد کا بل پاس کیا کہ کہیں تنگیء داماں میں بیرون ملک کا قصد سفر نہ باندھ لے ۔ بوڑھے اور بیمار والدین کی بیماریوں کو شکست دئے بنا تو اپنا فوجی اڈا نہیں چھوڑنا تھا ۔ بل منظور ہوا تو دو سو ڈالر کا پہلا چیک امریکن ایکسپریس سے کیش کروایا تو 4200 روپیہ ہاتھ لگا ۔ اس وقت ڈالر 21 روپے کا تھا ۔ سترھویں گریڈ کی بنیادی تنخواہ 2200 روپے تھی ۔ اتنی جلدی ایسی لفٹ کہ انیسویں گریڈکی تنخواہ گھر بیٹھے ملنے لگے تو بھاٹی کی سلطان حلیم چھوڑ لکشمی چوک سے مرغ کڑاہی کا دور چلنے لگا ۔ابھی صرف تین چیک کو تین ماہ ہی کھا پائے تھے کہ چوتھا چیک مزاج ،سوچ ،تربیت اور اصولوں پر بوجھ بن گیا ۔سن رکھا تھا اللہ تبارک تعالی کو صرف اوپر والا ہاتھ پسند ہے یعنی دینے والا مدد کرنے والا ہاتھ ۔بس پھر کیا تھا آئی روزی کو لات مار دی ۔ ایک لمبا چوڑا خط لکھ دیا ۔ ہم اپنا مقصد پورا کریں گے ۔ والدین کی چھاؤنی نہیں چھوڑیں گے۔ مگر ہمیں مدد نہیں چاہیئے ۔ جو والدین کے پاس ہے میری ضرورتوں کے لئے کافی ہے ۔اور چیک کا سلسلہ رک گیا ۔سنا تھا برا وقت اکیلا نہیں آتا ۔ اب اگر ٹھیکیدار اچھا ملا تو ٹیوب ویل کا بور بیٹھ گیا اور پانی کی کمی سے آمدن کا سلسلہ رک گیا ۔ دو سال بعد مجھے ملازمت ملی وہ بھی 65 میل دور دوسرے شہر میں ۔ روزانہ آتا جاتا ۔ تنخواہ جو مجھے ملتی 2400 روپے ماہوار تھی ۔ اسی سال میری شادی ہوئی اور ولیمہ کےسادہ اخراجات پھر بیرونی امداد سے پورے ہوئے ۔ لیکن زندگی میں لالوں کی بجائے لاالہ الااللہ پر ایمان کو پختہ رکھا ۔وقت گزرتا رہا ۔پائی پائی جوڑ کرکاروبار شروع کیا ۔ والد صاحب کی بیس سال پرانی کار کی بجائے سوزوکی ایف ایکس پھر شیراڈ اور کشکول توڑنے کے دس سال بعد میرے پاس پجارو گاڑی تھی ۔ اکثر لوگ خیال کرتے کہ پھر کوئی بل منظور ہوا ہے مدد کا۔ مگر یہ پیکج میرے بوڑھے اور بیمار والدین کی دعاؤں کا تھا ۔

4 تبصرے:

عنیقہ ناز said...

ارے آپ نے تو اچھا لکھنے کا بھی ریکارڈ توڑ دیا۔ اتنی روانی سے زندگی کی کہانی بیان کر دی کہ ایک دفعہ شروع کرنے کے بعد پڑھتے ہی چلے گئے۔

M-Riaz Shahid said...

اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

Abdullah said...

حالانکہ فکر معاش میں بھی نظریات کار فرما رہیں تو جس بے اصولی بدمعاملگی اور بے ایمانی نے ہمارے معاشرے میں جگہ بنالی ہے وہ ختم ہونے کی امید بڑھ جائے گی!

محمودالحق said...

عنیقہ ناز بہن
شکریہ آپ نے پسند کیا
میں اس قابل کہاں کہ ریکارڈ توڑ پاؤں زندگی نے کافی توڑ بھن کی ہے

محترپ ریاض صاحب شکریہ
دعاؤں میں یاد رکھیں ہمیشہ

عبداللہ بھائی
زندگی کو نظریات سے الگ رکھنے سے سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ کم سے کم وقت میں زیادہ مال کا حصول مقصد حیات ٹھہر چکا۔

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک