Feb 7, 2010

کالونی سے کمپیوٹر تک

چند سال پہلے تک زندگی گزارنے کا ڈھنگ مزاج فطرت میں تھا ۔ رہن سہن سے لے کر ملنے ملانے تک عزیز و اقارب ہوں یا احباب گھر انہ گھرہستی سے مزین اخلاق و کردار تھا ۔جب مہمان آتے تو خوشی سے پھولے نہ سماتے بچے اور جب چھٹیاں ختم ہونے پر لوٹتے تو چہرے اداسی کی تصویر بنے رخصت کرتے اور جانے والے محبتوں کے تسلسل ٹوٹنے پر بھاری قدموں سے اجازت مانگتے ۔خوشیاں ایک پل کو جدا ہوتی محسوس ہوتیں ۔مگر یہ کیفیت زیادہ دیر تک قائم نہ رہتی ۔کالونی محلے میں ساتھ رہنے والےپھر ساتھ جڑ جاتے ۔قہقہوں پر صرف ایک گھر کا حق نہ ہوتا ۔
ایک گھر سے نکلتے تو بلی کی طرح سات گھروں سے بھی آگے میزبانی کا مزہ چکھ کر لوٹتے ۔ہر گھر کھلے بازؤوں سے استقبال کرتا ۔کھیل کھیل میں کبھی ناراضگی ہو جاتی تو پھر صبح وہیں سے آغاز ہوتا ۔ غصہ تو تھا مگر نفرت کا پاس سے بھی گزر نہ ہوتا ۔سالوں سے ایکدوسرے کے قریب بسنے والے قربت کے ایسے رشتوں میں بندھے ہوئے تھے ۔کبھی کبھارملنے اور دور دراز رہنے والےعزیز و اقارب ان کے سامنے اجنبی لگتے ۔ روز ایک نئی کہانی کا آغاز ہوتا ۔شرارتوں کے قصے ہنسی مذاق میں زبان زد عام ہوتے ۔ عمر کے درجے ہی دوستی کے معیار تھے ۔ باپ اور بڑے بھائیوں سے بچوں تک دوستیاں سیڑھیوں کے پائیدان کی طرح ہوتیں ۔کھیل میں گروپ بازی نہ ہوتی ۔ آج ایک ٹیم میں تو اگلے دن دوسری ٹیم میں ہوتے ۔اتحاد و اتفاق تو تھا لیکن نفاق نہیں ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ترقی کا پہیہ جب چلا تو مزاج مسافروں کی طرح اس میں سوار ہوتا چلا گیا ۔رفتار بڑھتی چلی گئی ۔ سب ہی آگے کی طرف دوڑ پڑے کیونکہ اب پیچھے مڑ کر دیکھنے کا وقت نہیں رہا۔ ہاتھ چھوٹنے کا دور گزر چکا ۔ اب تو ہاتھ ہلا کر رخصت ہونے کا وقت نہیں بچا ۔جنہوں نے اسی سفر میں جنم لیا وہ کالونی محلے کی چاشنی کو نہیں سمجھ سکتے ۔کیونکہ جس گھوڑے پر وہ سوار ہوئے ہوا سے بھی تیز رفتار ہے ۔سینکڑوں ہزاروں میل پر پھیلی ریاست دو انگلیوں کی مسافت پر رہ گئی ہیں ۔وفا کا بھروسہ نہیں مگر عشق میں اندھا پن ہے ۔محبوب سات پردوں میں چھپنے کا تو سنا تھا لیکن اب وہ سات سمندر پار بھی چھپتا نہیں ۔ فاصلے سمٹ کر انگلی کی پور کی مسافت پر ہیں ۔ انٹر نیٹ کی دنیا سے جڑا یہ ہمارا محبوب جان کمپیوٹر ہے ۔جس کے بارے میں بہت جگہ پڑھا کہ اب تو اس کے بغیر دل نہیں لگتا ۔اداسی چھا جاتی ہے ۔ بیویوں کے لئے تو سوکن کا درجہ حاصل کر چکی ہے ۔اور کنوارے روٹھے محبوب منانے کی طرح فورم کی گلیوں میں بے تحاشا چکر لگاتے ہیں ۔اب تو دل کی قربتیں دھڑکن سے جڑی رہ گئی ہیں ۔جو گردش خون سے مسافت طے کرتی ہیں ۔ کبھی سوچا نہ تھا کہ میں بھی اس کی زلف دھاگہ کا اسیر ہو جاؤں گا ۔اور بیشتر فارغ وقت اسی کے ساتھ نغمہ گاتا پھروں گا ۔ لیکن آج نفیس نفس انسان کی تلاش، وقت کی کمی کا شکار ہے ۔خواہش اور ضرورت ہوا پر سوار ہے ۔ہوا ترقی کی رفتار ہے ۔ اور انسان کبھی خوش تو کبھی بیزار ہے۔ کبھی کبھار تو سوچتا ہوں کہ بہتر ہو اگر کچھ وقت کے لئے توقف کر لوں ۔رفتار کی کمی سے ہیجان انگیزی میں کچھ بہتر نتائج سامنے آنے کے امکانات زیادہ ہیں ۔کمپیوٹر سے صرف گھر تک محدود ہو کر رہ گیا ہوں ۔ایک زمانہ تھا شہروں میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کا الگ الگ حلقہ ارباب تھا ۔ ہم صرف اپنی پسند کے ہی حلقہ اثر تک محدود رہتے ۔ مگریہاں نہ چاہتے ہوئے بھی نظر پڑ ہی جاتی ہے ۔بچپن سے ہی گھر میں جو نظریہ موجود تھا اسی کے ساتھ ہی زندگی پروان چڑھتی رہی۔مگر جوانی ، معاشرہ ، مزاج ، رویے، کتاب، سیاست اور مذہبی خیالات و اعتقادات سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ۔سنی العقیدہ ماحول میں پرورش پائی ۔ بچپن میں کربلا گامے شاہ بھاٹی گیٹ لاہور دوستوں کے ساتھ بھی جا چکے ۔مگر تربیت میں کیا کمی رہ گئی کہ صرف اپنے مسلک پر سختی سے کاربند نہیں رہے ۔ دوسرے بھی قابل احترام تھے ہمارے لئے ۔درخت کی شاخیں چاہے کتنی بھی دور تک کیوں نہ پھیل جائیں ، آپس میں ان کا ربط بھی نہ ہو اور ہواؤں کے چلنے سے آپس میں ٹکراتی رہیں ۔ مگر جڑی ایک جڑ کے ساتھ ہیں ۔ وہیں سے آب گوہر قطرہ قطرہ سمو کر تنے کے ذریعے شاخوں پتوں تک پہنچتا ہے ۔ پھول کتنا بھی خوشبو دار کیوں نہ ہو ۔جڑ سے کٹ کر خوشبو تو در کنار خود بھی مرجھا جاتا ہے ۔
دے اس قوم کو ایسی جِلا
یہ پکار اٹھیں یا خدا یا خدا
سمجھ کر یہ تیرا فرمانِ ضیا
اپنی روح کو جسم سے کریں جدا
تائب ہوں جو اپنی خطا
ملیں انہیں فرمانِ اجلِ جزا
تحریص و ترغیب تو ہے ابلیسِ ادا
چھن جائے مسلم کی ایمانِ رضا
جو خود ہے وہاں سے نکالا گیا
تیرے لیے بھی چاہے گا ویسی سزا
گر نہ ہو لغزشِ تحریز پا
آئے ایک ہی صدا یا خدا کرم فرما
نہیں ہے وہ تم سے جدا
قلب تو ہے اسکی نورِ ربا
خارِ وفا تو ہے ہمیشہ کی فنا
رضاء خدا ہی کو ہمیشہ بقا
اتنی بھی کیا جلدی سانس لے ذرا
پہلا پڑاؤ ہے تجھے پھر ہے جانا
بن گیا ایندھن جو کٹ گیا
بچ گیا جو جَڑ سے جُڑ گیا

کمپیوٹر سے جو دوستی ہو چکی تو اس کی ہر اچھی یا بری عادت کو اپنانا تو ممکن نہیں مگر ایک بات کا خیال ضرور رکھا جاتا ہے کہ کہیں لکھتے لکھتے قلم شاخ کسی دوسری شاخ سے نہ چھو جائے ۔ نقصان شاخوں کا نہیں ہمیشہ پتوں کا ہوتا ہے ۔جنہوں نے مہکنا اور کھلنا ہوتا ہے ۔بنیادی طور پر میں ایک کم علم انسان ہوں ۔ بھاری کتابوں کا بوجھ میں کیا اُٹھا پاؤں گا ۔ زندگی بھر کےعمل کے لئے چند احکامات ہی کافی ہیں ۔ کیا خوب کہا اقبال (رح) نے ،عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے ۔ ہر فورم پر تاکیدی مضامین پڑھنے کو ملتے ہیں کہ ذاتیات اور بحث و مباحث سے اجتناب برتا جائے۔
یہ سب اردو فورم کسی طرح کی کوئی خدمت انجام نہیں دے رہے ۔وقت کا ضیاع ہے نوجوان نسل کو تفریح فراہم کرنے کا انتظام ہے ۔ اس میں خوبیاں کم برائیاں زیادہ ہیں ۔ اگر میرے ساتھ کوئی بحث چاہتا ہے تو میں ثابت کرتاہوں ۔سنجیدہ نہ ہوں یہ صرف مثال کے لئے لکھے ہیں ۔ یہ حقیقت بھی نہیں ہے ۔ میرے یہ جملے کتنے لوگوں کو چبھے ہوں گے ۔ چندتنقیدی جملے خامیوں کے ساتھ ساتھ خوبیوں کو بھی لپیٹ جاتے ہیں ۔برداشت کےمادہ سےبہت سی خامیاں خود سے فنا ہو جاتی ہیں ۔چونکہ اب کمپیوٹر نے کالونی کی جگہ لے لی ہے ۔ تو اس رشتے سے ہم سب محلے دار ہوئے تو جناب مجھے تو آپ کو برداشت کرنا ہی ہو گا ۔ جو نہیں کرتے وہ شکریہ کے قریب سے بھی نہیں گزرتے ۔ اب نام لے کر پردہ نشینوں کو کیا بے پردہ کروں ۔ جتنا وقت ایک کالم لکھنے میں صرف ہوتا ہے اگر لطیفے لکھتا تو یقینا کمائی (پوائنٹ)لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں ضرور ہوتی ۔ لیکن اس کام میں ہم ہمیشہ ہی ناکام رہے کیونکہ ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے ۔ درد کی داستان میں پھولوں سے شناسائی کھو چکے ، کانٹے اعتبار کے قابل نہیں ۔میرا یہی تخیل شاعری میں خود بخود ڈھل جاتا ہے ۔ایک نشست میں لکھنا ہوتا ہے ۔ چاہے تو شعر ڈھل جائیں یا کالم ۔آج کا کالم حاضر ہے ۔ شعر چند ماہ پہلے لکھے تھے ۔ شاعری میں تو کوئی پڑھتا نہیں تو مجبورا کالم میں پھنسا دیتا ہوں ۔ کالم کے بہانے میرے اشعار جو شائد شعراء کرام کے ترازو پر پورے نہ اترتے ہوں ۔ وہ بھی نکل جاتے ہیں ۔میں کونسا باقاعدہ شاعر یا قلم کار ہوں کہ کتابیں چھاپ کر رائلٹی لینی ہے۔اگر کوئی صرف پڑھ ہی لے تو ہمیں محنت کا صلہ مل جاتا ہے ۔شائد کسی دل سے دعا بھی نکلتی ہو ۔دعاؤں ہی سے تو یہاں تک پہنچا ہوں ۔
کس سے اپنے درد کا اظہار کروں
کوئی تو ہو جسے راز دار کروں
اب تو پھول بھی شناسا نہ رہے
آخر کب تک کانٹوں پہ اعتبار کروں
میری داستان تو ہے ایک نوحہ کناں
سنا سنا کر کب تک بیزار کروں
بھر دے لب تک پیمانے کو ساقی
مدہوشی میں استادِ زمانہ کو برخوردار کروں
جہالت جہاں سے میں بے علم ہی اچھا
الف اقرا ہی کو اپنا علم سالار کروں
آبِ کوثر کی ایک بوند کا طلبگار ہوں
تیرے حکم کو کیسے اور کیونکر انکار کروں
مجھے درد کی دعا دے دوا نہ دے
تہی دامن خزاں کو بھی بہار کروں



تحریر و اشعار: محمودالحق

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک