Jul 6, 2019

روشن سیڑھی


انسانوں سےبھرےمعاشرےسےجب اکتاہٹ ہونےلگےیادل بھرجائےتوقدرت کےحسین نظارےبانہیں کھولےخوش آمدیدکہنےکےلئےبیتاب ہوجاتےہیں۔ لہلاتےدرخت ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں روح تک اپنی تاثیرمسیحائی پہنچاتی ہیں۔بدن کی گرمائش پتوں کی سرسراہٹ سےآلام وآرائش سےاتنی دورچلی جاتی ہےکہ واپس جانےکوجی نہیں چاہتا۔ مگررہناتوبستیوں میں ہی ہوتاہےکیونکہ آبادیوں میں جسم محفوظ ہوتےہیں اور نقصان سےمحفوظ انہیں قانون کی عملداری رکھتی ہے۔ درخت جب روشنی سےفاصلہ کرلیتےہیں توحشرات اورجانوروں کےقوانین کی عملداری شروع ہوجاتی ہے۔ جوننگےبدن پرخوراک کی تلاش میں حملہ آورہوتےہیں۔ چھوٹےپرندےچونچ میں چھوٹےکیڑےدبائےاپنےگھونسلوں کی طرف بچوں کےلئےمحوپروازہوتےہیںلیکن آبادیوں میں انسان ہوس وحرص،لالچ ومفاداورحسدونفرت کی ٹوکریاں بھرکراپنےبچوں کوعمربھرکاراشن مہیاکرنےکےلئےاحساسات وجذبات کی لاشوں کوبےدردی سےروندتےآگےبڑھتے ہیں۔ 
 انسان علم سےقداونچاکرتاہےاوردولت سےمعیار۔ رویےسےدباؤاورمقابلےسےتناؤکاماحول پیداکرتاہے۔ 
حواس خمسہ کاپانچ ہونا،بدن میں دل جگرپھیپھڑےمعدہ اورگردےکاپانچ ہونا،ہاتھ پاؤں کی انگلیاں پانچ ہونا،دوٹانگوں دوبازؤوں اورایک گردن کاپانچ ہوناایمان رکھنےوالوں کےلئےبہت اہمیت اختیارکرلیتےہیں جونمازپنجگانہ اوردین اسلام کےپانچ ارکان کواختیارکرلیتےہیں۔ 
ذہن میں خیالات اترآئےتوتخیل بن جاتاہےاگرخون اپنےراستےسےاترجائےتوزندگی راستہ بھٹک جاتی ہے۔ سجدوں میں دعائیں رہ جاتی ہیں۔ عجب تماشاہےجوچارسوپھیلاہے۔ فرعون کی ممی عجائبات جہاں بن کررہ گئی۔ فرعون سوچ بن کرجہاں میں دندناتےپھررہےہیں۔ 
قرآن نےآسمان سےزمین تک روشن سیڑھی کھڑی کردی اورانسان نےزمین پرپہیہ بناکرلڑھکناشروع کردیا۔ 

تحریر: محمودالحق




0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

سوشل نیٹ ورک