Aug 30, 2010

علم باز گشت

حسب معمول بارش کے قطروں کا درختوں پر گرنے کا نظارہ کرنے کے لئے بالکونی میں براجمان ہوں ۔بارش سے بچنے کے لئے چھوٹی چڑیا اپنی ہمجولیوں کے ساتھ میرے پاس ہی کسی محفوظ پناہ گاہ میں چیں چیں جیسی کسی اجنبی زبان میں مصروف گفتگو ہیں ۔جو غور کرنے کے بعد بھی سمجھ سے بالا تر ہے ۔اور نہ ہی ان کی حرکات و سکنات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کر رہی ہیں ۔بارش کے رکتے ہی وہ دو دو تین تین کی ٹولیوں میں کبھی یہاں تو کبھی وہاں روٹی روزی کی تلاش میں سرگرداں ہو ں گی ۔اگر روزی روٹی کے لالے نہ ہوں تو ہر طرف خاموشی خوف کا سبب بن جاتی ہے ۔
ہمیں کئی طرح سے انسانی تہذیبی معاشرے سے بولنے کے لئے خیالات کی پیوند کاری ملتی ہے ۔ بغور مطالعہ کے بعد چند مفید مشاہدات سے استفادہ پانے کی خواہش جنم لیتی ہے ۔مشاہدات تو اتنے زیادہ ہیں کہ خواہشات پوری کرنے کی دھن میں لگ جائیں تو کم از کم ایک صدی بھی کافی نہیں ہو گی ۔یہاں میں نے عمر کی بجائے صدی سے کام لیا ہے ۔طویل زندگی پانے کی امید اتنی گھمبیرتا میں ممکن نظر نہیں آتی۔البتہ صدی کے نہ گزرنے میں کسی شک و شبہ کی فی الحال گنجائش نظر نہیں آتی ۔
ابتدائی زندگی کے ایام میں ہم نے وہی بولا ہوگا جو پیدائش کے بعد سکھانا شروع کیا گیا ۔یعنی جب سننا ہی علم کی تحصیل کا مقام تھا ۔پھر تو پڑھائی کا پہاڑ ہے یا پہاڑے ۔شائد اسی وجہ سے بچے سکول میں پڑھائی کرنے جانے سے پہلے وقت کو بہتر جانتے ہیں ۔جب وقت نہیں ٹھہرتا تو حصول علم کا تسلسل کیسے تھم سکتا ہے ۔قید میں بوڑھے طوطے سیکھنے کے عمل سے دور ہو جاتے ہیں ۔حافظہ کی کمزوری حافظ حلوہ سے پوری کرنے کی کوشش بھی رائیگاں جاتی ہے۔البتہ بادام کے بارے میں مختلف آراء ہیں ۔
لکھنا حروف تہجی کا محتاج تو ہو سکتا ہے ۔مگر بولنا کسی کلیہ کے قید و بند میں نہیں ۔ تعلیم و تدریس سے پہلے یقینا انسانی معاشرہ ہاتھوں ، آنکھوں اور منہ کی بناوٹ سے ہی بولنے اور سمجھنے کے قاعدہ و قانون کی پابندی میں رہا ہو گا ۔اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ پہلے انسان نے بولنا سیکھا پھر لکھنا پڑھنا ۔ اور مشاہدات سے علم ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا ۔ اگر انسانی معاشرے میں حصول علم کا شوق پروان چڑھتا چلا گیا ۔تو حدودو قیود کی قد غن بھی لگائی جانے لگیں ۔ ایک لکھنا وہ ہے جس کی بنیاد پر آج انسانی معاشرہ سائنسی ترقی کی معراج پر ہے ۔آغاز جس کا کئی صدیاں پہلے ہوا ۔ اور زیادہ تر علم کی پیاس بجھانے کے لئے تھا ۔
جیسے رائٹ برادرز نے اپنے پیش روؤں کی طرح جو شوق پالا ۔ پیسہ خرچ کر کے پورا کیا ۔ آج جہاز سازی کی صنعت میں اس خاندان کی آجارہ داری نہیں ہے ۔انسان نے جتنی بھی ایجادات کیں ان میں شائد ہی کوئی ایک فی سبیل اللہ ہو ۔گاؤں کے سیدھے سادھے بے روزگار نوجوان بھی چوبرجی لاہور میں کھڑے بے کار پی آئی اے کے جہاز پر دبئی چلو کا خرچہ ادا کر کے سوار کرا دئے گئے تھے ۔
اب دوسری طرز کے لکھنے کو لے لیں ۔ لائبریری سے علم بجھے تو بجھا لیں ۔ خریدنے نکل کھڑے ہوں تو گھر کا چولہا بجھا لیں ۔تمام کتابوں تک رسائی ممکن نہیں رہی ۔ایک پبلشر سے سے پوچھا اتنی قیمت کیوں ۔ جواب میں مہنگائی کا وہی رونا تھا ۔ کاغذ مہنگا تو پرنٹنگ کی سیاہی بھی نہیں سستی ۔ پھر سستا کیاہے ۔ دو روپے کی روٹی ۔ یہ جملہ روزمرہ زندگی میں چست کیا جاتا ہے۔ کم از کم مہنگائی کے اس دور میں گرانی کا سبب بے علمی کا کوئی عمل تو نہیں ہو سکتا ۔
یہی ایک وہ نقطہ ہے جس کی تلاش ہو سکتی ہے کہ لکھنا ہی سب سے مشکل ہے ۔جو میں لکھتا ہوں وہ کسی کھاتے میں نہیں ہے ۔بات لکھاریوں کی کر رہا ہوں ۔جنہوں نے اتنا لکھا کہ اب ان پر لکھنے کی باری ہے ۔اب اگر سوچیں کہ واقعی کاغذ اور سیاہی کی بڑھتی قیمتوں نے ایسا کیا ہے ۔ تو میرا یہ مطلب نہیں ہے ۔ کیونکہ چھپوانے کے لئے بھاری رقم کا تقاضا تو الگ ہے ۔مگر لکھنے کے لئے سوچ کی جن اتھاہ گہرائیوں میں اترنا پڑتا ہے ۔ حقیقت میں ایک مشکل کام ہے ۔ اپنی ذات کو زرہ بے نشان بنا دیتا ہے ۔ سلام ہے ان ادیبوں شاعروں اور نثر نگاروں کو جنہوں نے جہاز اُڑانے والے رائٹ برادرز کی طرح تخلیق ادب کی تراکیب نکالیں ۔اور آنے والی نئی نسلیں ان سے مستفید ہوئیں ۔ان کی اکثر نایاب کتابیں کتب فروشوں کے ٹھیلوں پر سستے داموں آج بھی علم کی تشنگی رکھنے والوں کی پیاس بجھاتی ہیں ۔اور خوبصورت سرورق میں لپٹی امپورٹڈ کاغذ سے بنی صرف ہاتھ میں پکڑنے سے اپنے مالی وزن کا اظہار کر دیتی ہیں ۔

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک