Jul 23, 2014

محبت بے نام ہے



آج صرف دل کی سنتا ہوں۔کل کی بات ہے یہ صرف میری سنتا تھا۔یہ مجھے سمجھاتا کہ میں تو عکس آئینہ ہوں ۔ میں نے سمجھا کہ یہ پسِ آئنیہ ہے۔میں تصویر پہ تصویر بناتا  چلا گیا اور یہ انہیں مٹاتا چلا گیا۔
غصہ تو بہت کیا ۔میرے رنگوں کو بے رنگ کر دیتا۔جیسے سکول میں استاد تختہ سیاہ  کے ہر نشان کو ڈسٹر سے  صاف کر دیتا۔
استاد تو میں تھا اس کا ۔حرف مٹانے کا اختیار تو میرا تھا پھر یہ اپنی من مانی کیوں کرتا رہا میرے ساتھ ۔ ہر جذبہ ، ہر احسا س کو کرایہ دار کی طرح مکان سے بے دخل کر دیتا۔
مطالبہ بھی عجب تھا  چاہت ِکرایہ چاہے نہ دو مگر سکونت مکین کی طرح رکھو مسافر کی طرح پڑاؤ نہیں۔
 اندھیروں سے ڈر کر پناہ کی تلاش میں آنے والے تیل بھر بھر چراغ لے جاتے مگر یہ بھول جاتے کہ چراغ ِ روشن کے لئے چنگاری چاہیئے ہوتی ہے۔پھر چاہے چراغ سے گھر روشن کر لو یا اسے جلا لو۔یہ جل کر روشنی بھی دیتا  ہے اور جلا کر بھی۔
لیکن خواہش میں ہمیشہ بنا تیل کے بجھا جادوئی چراغ رہتا ہے۔جو ہاتھ کی رگڑ سے ہی محل جگمگا دے۔
شاعر کی نطر محبت کے شعر رگڑنے سے  دل کے بیاباں روشن نہیں ہوتے۔جب تک  کہ دل خود نہ جلے ۔
محبت محبوب  کودیکھنے کا نہیں ، اس کی گلی سے گزرنے کا نام ہے۔اسے پانے کا نہیں اسے سوچنے کا نام ہے۔مٹنے کا نہیں ہمیشہ رہنے کا نام ہے۔دیکھنے کا نہیں جاننے کا نام ہے۔خواہش کا نہیں احساس کا نام ہے۔تعلق کا نہیں بے پرواہی کا نام ہے۔پھول چننے کا نہیں  کانٹو ں سے بچنے کا نام ہے۔خاک پر رہنے کا نہیں خاک میں رہنے کا نام ہے۔

1 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک