Showing posts with label عشق اللہ. Show all posts
Showing posts with label عشق اللہ. Show all posts

Oct 31, 2021

ادھوری عشق کہانی

دل تو ہمیشہ چاہا کہ وہ بات کروں جو دل پہ اثر رکھے ، دل سے نکلے لفظ روح تک پہنچیں۔ آج صرف اپنے لئے لکھ رہا ہوں  کیونکہ جو سفر اکیلے طے کیا ہو اس کی داستان سناتے سناتے ایک دہائی سے اوپر ہو گیا   اور مسافر کی عمر پانچ دہائیوں سے اوپر۔سولہ سائز کے کالر میں تیرہ سائز پہن کر بدن و گردن پر ایک مضبوط گرفت کے احساس سے نکلنے میں ایک لمحہ درکار ہوتا ہے۔ کہنے سننے کا وقت گزر جائے تو  تلاش رک جاتی ہے ۔ جاننے کی جستجو نہ رہے تو منزل رک جاتی ہے۔
جنہیں زندگی سے عشق  ہوتا ہے وہ آسائش و آرام کی گنتی کرتے ہیں ۔ آزمائشوں کے ذکر  صبر و تحمل سے بیگانہ ہوتے ہیں۔  چھوٹی گاڑیوں میں اپناسر چھت سے لگےتو پچھلی سواری کے گھٹنے کے لئے جگہ تنگ ہو جاتی ہے۔ کیونکہ  آگے پھیلتے ہیں اور پیچھے سکڑتے ہیں۔ زندگی اپنے چاہنے والوں کو مایوس نہیں کرتی، گنجائش پیدا کر دیتی ہے۔ انسان جب پھیلتا ہے تو دوسروں کو سکڑنے اور پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ چاہ کر بھی سیکھنے والے نہیں ملتے، صرف وہ ملتے ہیں جو صرف پانے کی چاہت رکھتے ہیں اور وہ  بھی اتنا کہ چند لمحات میں وہ اپنا اثر زائل کر دے ۔ زندگی جتنی مختصر ہے خواہشات کی زندگی بھی اتنی ہی محدود۔
گردش خون کی نالیاں جلد پر ابھر جاتی ہیں ،سخت زمین پر سونے سے بھی دل تک خون پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں کیونکہ قلب صرف اپنا خیال نہیں  رکھتا بلکہ پورے وجود کو فعال رکھنے کے لئے  متحرک رہتا ہے۔ جس کا کہا مانا جاتا ہے وہ دو تہائی مشقت سے چور ہو جاتا ہے اور  ایک تہائی وقت زندگی بھر استعمال کرتا ہے۔ پھر بھی تکبر کا مادہ پیدا کرنے سے باز نہیں رہتا۔  انسان اس کے زیر اثر اپنے زندگی بھر کے تجربات کی روشنی میں اندھیروں کی گہرائیوں میں جا اترتا ہے۔
فن پارہ ہو یا بت عاشق نامراد اپنے تخیل سے کینوس پر رنگ بکھیر دیتا ہے  لیکن اس میں احساس کی خوشبو سے محروم رکھتا ہے۔ خالق اپنی مخلوق کو تخلیق کے حسن سے احساس کی دعوت دیتا ہے۔لیکن انسان چولہے پر جلے  اور مشین پر ڈھلے لباس سے اپنی بقائے حیات کی جنگ لڑتا ہے۔ وہیں رہ کر دستارِ وفا کی منزلت و کبریائی چاہتا ہے۔
بوڑھے کی لاٹھی مضبوط ہو تو بڑھاپے سنبھل جاتے ہیں۔ کمر پر بوجھ بڑھ بھی جائے تو کمزور رگوں سے قلب خون کھینچ لیتا ہے ۔ بڑھاپے سپردِ لحد ہونے پر لاٹھی ٹوٹ نہیں جاتی بلکہ زمین پر ڈال دینے سے ہر مشکل اور کڑی آزمائش میں رکنے، ٹوٹنے، جھکنے اور گرنے سے بچائے رکھتی ہے۔ اپنے اپنے سفر کی کہانی ہے ، اپنی اپنی منزل کی راہ ہے، اپنے اپنے عمل کی جزاہے، جسے جو جاننا ہے وہ خود کو کریدے ، جسے جو پانا ہے وہ خود سے چاہے۔ جب سفر ایک نہیں تو نتیجہ ایک کیسے ہو گا۔ اپنی اپنی راہ ہے اپنا اپنا سفر۔ سوچ کے دھارے میں نفع و نقصان تولے جاتے ہیں۔ قلب کے استعارے خالق و مخلوق کے درمیان جزا  و رضا سے جڑے ہیں۔ راہوں سے راہیں جدا ہیں، سوچ سے سوچ بیگانہ ہے، خواہش  کے انتخاب سے آزمائش کی برداشت  حاصل اور لا حاصل کی  جنگ ِافکار ہے۔
پانے کے لئے بھاگ دوڑ ہے جینے کے لئے عیش و آرام ہے۔ کمپیوٹر کی یاد داشت کروڑوں اربوں انسانوں سے بڑھ کر ہے لیکن ایک مچھر کے پر کے برابر اس میں احساس  نہیں ہے۔ ایک سبق ہے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کا جب دوسرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کامیابی و کامرانی کے لئے ایک نسل دوسری نسل سے بہتر پلاننگ کر کے آگے بڑھ جاتی ہے۔ کامیابی و ترقی کا یہ سفر زمین کے لپیٹ دئیے جانے تک جاری رہے گا۔ اور انسان کفن میں لپٹے خالی ہاتھوں کو سپردِ لحد کرتے رہیں گے کیونکہ زندگی کی اصل حقیقت یہی ہے۔
تخلیق اپنے راستے خود اختیار کرتی ہے مخلوق سے اجازت کی طالب نہیں ہوتی۔ خشکی، تری اور ہوا میں رہنے والے اپنی جنس کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ رہتے ہیں ملتے ہیں پالتے ہیں پھر رخت سفر باندھ کر آنے والوں کو یہی موقع فراہم کرتے ہیں۔  انسان اپنے ہاں اولاد پیدا کرنے ، لڑکا یا لڑکی کی صورت بنانے کی اہلیت و اختیار سے محروم ہے۔ پھر دعوی ترقی و عروج کا کیا رہ جاتا ہے۔  پیچھے بچ جانے والے کس نئے نظام کی اصلاح و فلاح کے لئے کمربستہ رہتے ہیں؟
نیا نظام کچھ نہیں ، صرف ایک نظام ہے خالق کا تخلیق کردہ ، جس کی حقانیت قرآن سے ثابت ہے، جو سچ ہے، حقیقتِ عالم ہےجو وجود کائنات کے دائرہ اختیار پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ یقین کے ساتھ جینے میں  صبر و تحمل اور سیر و شکر کی جو رضا ہے  وہ  مٹی سے پیدا ہوئی ہر شے کو خون میں ڈھالنے جیسی ہے۔ کیونکہ زمین میں خون نہیں بنتا اور بدن میں خوشبو نہیں پیدا ہوتی۔ جس ہستی کے بدن کے بہتے پسینے میں خوشبو و مہک کا جلوہ تھا وہ خالقِ کائنات ربِ زوالجلال مالکِ دو جہان نے اپنے محبوب رسول مقبول محمد مصطفی ؑ رحمتہ للعالین کی صورت میں اس زمین پر پھیلایا۔ جن کی بدولت آج ہم اللہ سبحان و تعالی کے فرمان کی  حکم عدولی اور نافرمانی کے باوجود  اس امید کے ساتھ زندہ رہتے ہیں کہ ہم امت محمد صلی اللہ علیہ والیہ وسلم ہیں جو ہماری بخشش کے لیے ایک زریعہ ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے
ترجمہ:
"آسمانوں اور زمین  اور ان کے درمیان سلطنت اللہ کی ہے"۔ سورۃ المائدہ ۔آیت 18
"اور اس سے بہتر کس کا قول جو بلائے اللہ کی طرف اور اچھے عمل کرے اور وہ کہے بیشک میں مسلمانوں میں سے ہوں"۔ سورۃ فصلت ۔آیت 33
 
تحریر: محمودالحق

در دستک >>

Sep 28, 2020

The Force of Seclusion and Congregation / قوتِ خلوت و جلوت

در دستک >>

Nov 24, 2016

ذکرِالأنفال

ہم بہت آسانی سے حاصل کی گئی کامیابیوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں پھر اپنی عقل و دانش پر فخر سے سینہ تان لیتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔حاصل وہی ہوتا ہے جو اللہ تبارک تعالی کی رضا ہو ۔ جس سے وہ راضی ہو اسے نوازنے میں دیر نہیں کرتا مگر دنیا کا وقت دن رات اور سونے جاگنے میں ایسے تقسیم رہتا ہے کہ دن ہفتے ، ہفتے مہینے اور مہینے سال بھر تک چلتے ہیں جو ہیجان و بے چینی کا سبب ہوتے ہیں۔ہمیں تواریخ تو یاد رہتی ہیں مگر موضوع و مناسب حالات کا ادراک نہیں ہو پاتا۔ انسان بنیادی طور پر جلد باز جو ٹھہرا  نتیجہ جاننے میں سال مہینے چٹکیوں میں چاہتا ہے۔ کیونکہ ماضی اس کے لئے ایک کہانی ، حال خواہش اور مستقبل سہانا خواب نظر آتا ہے۔ ماضی کو بھلانا تو چٹکیوں میں ممکن کر دکھاتا ہے مگر خوابوں کی تعبیر بھی پلک جھپکنے میں تکمیل کے مراحل طے کرتی ہوئی چاہتا ہے۔
مگر وہ یہ نہیں جان پاتا کہ جس طرح ۱۴۳۸ سال کے بعد بھی قرآن مجید کے الفاظ ایک ایسی مستقل حقیقت ہیں جو وقت مقررہ پر منازل کی  مسافت کا تعین رکھتے ہیں۔چاند ستاروں سے لے کر سردی گرمی خزاں بہار کے لئے ایک مخصوص وقت کی پابندی لازم قرار پا چکی ہے۔ پھولوں کا کھلنا پھلوں کا پکنا پرندوں کا انڈے سینا اور چرند میں بچوں کی پیدائش کا عمل وقت مقررہ کا مرہون منت ہے۔ مگر خواہش میں  انسان نےانہیں منزل مقصود بنا رکھا ہے جو دس بیس پچاس سال کے بعد نہ تو خود ہی اپنا وجود برقرار رکھ پاتے ہیں اور نہ ہی نئے انداز و تخلیق کی پائیداری کی کوئی گارنٹی دے پاتے ہیں۔گھر تبدیل کر کر کے پھر تبدیلی کے لئے کچھ نیا کرنے  کی طرف توجہ مرکوز ہو جاتی ہے۔
جن سے جو کام لینا مقصود ہوتا ہے پہلے انہیں منطقی انجام سے دوچار کیا جاتا ہے جسے کبھی آزمائش تو کبھی تقدیر میں نہ ہونے سے تعبیر کر لیا جاتا ہے۔بچہ امتحان دینے تک پرجوش اور پر اُمید ہوتا ہے مگر غیر متوقع رزلٹ کے آنے پر مایوسیوں کے اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے ۔ آگے بڑھنے پر مشکل کا شکار اور ارادے کی کمزوری کا شکار ہونے لگتا ہے۔ جواز ایسا تلاش کرتا ہے جو مصلحت کے بغیر ہوتا ہے۔اللہ تبارک تعالی کسی جان پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ آسانی سے پانے والے مشکلات کی چکی میں پس کر خواہش کی تکمیل تک دو مختلف زاویہ سے زندگی کا مفہوم سمجھنے کی منطق کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر نشانیاں عقل والوں کے لئے ہیں جو قرآن مجید میں طے شدہ ہیں۔  سونے کے سکے لین دین میں  کسی نہ کسی صورت آج بھی ہیں مگر بدلے میں کاغذ کے چند ٹکڑوں پر راضی ہو جاتے ہیں۔مٹی گارے کی چنائی سے بنے گھر اینٹ سیمنٹ کی طاقت حاصل کر چکے مگر دوسری نسل تک پہنچتے پہنچتے بڑھاپے کے لاغر پن کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہو جاتے ہیں۔
جس  مبارک گھر کی جالیاں عشق و محبت کے متوالوں کو نشہ و سرور کی کیفیت میں مبتلا کر دیں اور عظمت و بزرگی خداوند تعالی کے گھر کا غلاف دیکھنے اور چومنے والوں کو سحرزدہ کر دے ،وہ اسے پاک پروردگار کا احسان عظیم جانے اور اس گھر کی حاضری ایک طویل دعا اور قبولیت کے فرمان کا شاخسانہ قرار دے تو عظمت کے مینار آنے والوں کو اصل حقیقت سے روشناس کرواتے ہیں۔سبز گنبد اور سیاہ غلاف عاشقوں کے لئے عید سعید کے خوشیوں کے لباس ہیں جنہیں نظروں میں سمو کر آنکھوں کے نور میں جذب کر لیتے ہیں۔ نہ جانے کتنے ہی آنسوؤں کی قربانی کے بعد قبولیت کے شرف سے فیضیاب ہونے جا رہے ہوں۔
وجود اپنے احساس کو لمس سے محسوس کرتا ہے مگر روح عشق میں خوشبو کی طرح۔۔۔ کائنات میں آخری ستارے تک رسائی پانے کے فاصلے کی خواہش سے پہلے ۔۔۔عشقِ امتحان  وجود میں احساس کی آخری منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔شہد کی مکھی سفر در سفر کے بعد پھول در پھول سے جو رس پاتی ہے وہ مٹھاس میں یکساں ہوتا ہے۔ اللہ تبارک تعالی اپنے گھر تک پہنچنے کے لئے آخری دنیاوی خواہش کی آزمائش کو بھی بندے پر آزماتا ہے کہ فرمان کی تکمیل تک نافرمانی کی کڑواہٹ سے پاک جذبِ احساس وجود کے نہاں خانوں میں گردش خون سے بھی اتنا خالص ہو جائے کہ دعائیں بے اثری سے محفوظ ہو جائیں اور رحمتیں ونعمتیں ظاہر و باطن کو وحدتِ ایمان میں یک جان دو قالب کی طرح پرو کر اظہار و افکار کےسمندر سے نکال کر عمل و کردار کے بہتے میٹھے چشموں کے پانی سے پیاسوں کو سیراب کرتا آگے بڑھتا چلا جائے۔
اللہ تبارک تعالی جب اپنے بندوں کو نمونہءعمل بناتا ہے تو راستوں کو ان کی مرضی کے تابع نہیں کرتا بلکہ ان کے دلوں کو اپنے خیال بندگی سے منور کر دیتا ہے۔ پھر تو نہ ہی امتحان ہوتا ہے نہ ہی نتیجہ اور نہ ہی منزل۔بس ایک راستہ ہے جو عین شباب آفتاب کی طرح روشن  جو پہلے قدم سے ہی اپنا رُخ متعین کر دیتا ہے۔ کسی کے دل میں عقیدتِ خیال کا طوفان برپا کر دیتا ہے تاکہ  عاشق محبوب رو برو  ہو جائیں۔ جہاں سوچ کے در بند ہو جاتے ہیں  اورچاہ کی زمین ،چاہت کے آسمان  ایک ہو جاتے ہیں۔ آنکھ صرف وہی دیکھتی ہے جو وجود سے باہر ہو ، اندر کہاں تک وہ اُتر پاتی ہے کسی خیال کسی احساس کی دسترس سے انتہائی باہر ہے۔اللہ تبارک تعالی کی محبت جن کا عشق ہو انہیں علم سے بے بہرہ سوکھے پتوں سے اُمید کی فصل اُگنے کی آس نہیں ہونی چاہیئے۔ آندھیاں صرف انہیں کو پھل بننے تک پہنچاتی ہیں جنہیں خوشبو اور ذائقہ دینا مقصود ہو باقی زرد پتوں کی طرح اُتر جاتے ہیں۔ زمین  سے اُٹھا کردرختوں پر لٹکانے سے اُمید بہار نہیں آ سکتی۔ کیونکہ لوٹنے کا وقت گزر چکا ، بڑھنے کا وقت ہے، پکنے کا وقت ہے، خوشبو پھیلانے کا آغازِ موسم ہے۔  مایوسیوں محرومیوں کی خزاں ،بہار کی آمد کا انتظار نہیں کرتی مگر اُمید ِنو اپنا سفر ادھورا نہیں چھوڑتی۔ظاہر کی قیاس میں باطن کی حقیقت پوشیدہ رہتی ہے۔
 اگر لفظ سچے ہوں تو پھر خیال بھی ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔ گو مگو میں وہی رہتے ہیں جودنیا کی  عارضی شہرت کے  داعی ہوتے ہیں۔ مگر زندگی کی حقیقت عمل سے ثابت ہوتی ہے جب نفی خیال سے نکل کر وجود کو ریزہ ریزہ کر دے اورکھڑا ہو نے میں  بھی درد کی ہائے میں نا شکری نہ ہو۔رحمتوں کی اُمید بر آنے کا یقین ہو۔ جو حق کے ساتھ رہتے ہیں مایوسیاں ان کے قریب نہیں رہتیں۔کمزور پر نفس بھاری رہتا ہے ،مضبوط ایمان کی رسی کو تھامنے سے قوی ہو جاتا ہے۔ جہاں الفاظ اعمال پر بھاری ہو جائیں ،سفارش یقین کی سیڑھی بن جائے  وہاں چلتی ٹرین کے پیچھے بھاگنے سے منزل مقصود تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ جہاں ایک ہی پٹڑی پر مخالف سمت جانے والی ٹرینیں پہنچیں تو مسافر اپنی سمت کی طرف سفر کریں گے۔ یہاں تعداد کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ سیاست و تجارت میں تو ایسا ہو سکتا ہے مگر قیامت کا سفر اس سے مختلف ہے۔ جہاں اکیلا بھی جیت کر رحمتوں کی آغوش میں لپٹے گا۔
نئے سال 2017 کا سورج دنیا میں اسی طرح طلوع ہو گا  نئی قیاس آرائیوں کے ساتھ مگر شائد کسی کے لئے واضح اور حقیقت پسندی کی چکا چوند روشنیوں سے بھرپور تنہائیوں کا ابتدائے سفر، طالب کی تلاش و جستجو کے لئے ذکرِالأنفال۔

 تحریر : محمودالحق         
در دستک >>

Jun 4, 2014

در کائنات

آٹھ سال بعد آٹھ ماہ سے لاہور میں بیتے دن آٹھ دہائیوں کی کہانی میں اوراق کتاب کی مانند کبھی کھلتے تو کبھی بند ہورہے ہیں۔ شہر مجھے نیا نہیں مگر باسی اجنبیت میں مدرس میں داخل ہوتے پہلے قدموں کی ہچکچاہٹ کا عملی نمونہ بنے پھرتے ہیں۔
جب الف سے آدم کی الف سے اولاد نے الف سے اللہ کے نام کی پہچان میں در کائنات پر پہلی دستک دی۔ جہاں سے ہر دستک پر ایک ہی آواز آتی ہے کہ " تمام تعریفیں اللہ کے لئے جو تمام جہانوں کا رب ہے " ۔
جس نے جان کو جہان میں آدم کو فضیلت سے اپنا نائب بنایا۔ فرشتوں نے اس پر کہا کہ " جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔ اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تجھ کو بے عیب کہتے ہیں۔ اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں " ۔
تمام جہانوں کے رب نے کہا کہ " وہ بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے " ۔جیسا اس نے رحم کیا آدم پر " پھر اس نے آدم کی توبہ قبول کی بیشک وہ توبہ قبوم کرنے والا رحم کرنے والا ہے" ۔
اور توبہ قبول کی قوم موسی علیہ السلام کی " اس نے توبہ قبول کی تمہاری بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے " ۔
جو عین شان رب العالمین ہے" بدلہ کے دن کا مالک ہے " چاہتا ہے کہ کائنات کا ہر زرہ اس کی حمدو ثنا  میں مصروف عمل رہے۔آدم یاد رکھے کہ وہ نائب ہونے کے ناطے صرف یہی پکارے کہ " ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں" ۔
جو اپنے راستہ سے بھٹک گیا ہدایت کے راستہ سے۔ انعام و اکرام کی خواہش کی بجائے جنہوں نے گمراہی اختیار کی اور بالآخر غضب کا شکار ہوئے۔
تمام جہانوں کا رب رحمن الرحیم آدم کو محبت و فضیلت کے سائے تلے دعا سے راست روی اور بخشش کا طلبگار بناتا ہے تاکہ فساد سے دور رہے۔

در دستک >>

May 24, 2014

تشنگی کی انتہا

کائنات کی وسعتیں لا محدود ، تا حدِ نگاہ فاصلے ہی فاصلے،نگاہ اُلفت سے کھوج کی متلاشی مگرتھکن سے چُور بدن کا بستر پر ڈھیر ہو نا اپنی ذات پر احسانِ عظیم   سے کم نہیں ہوتا۔بظاہر  یک نظر تخلیق و حسن کے جلوے  آنکھوں پر لا علمی کی پٹی باندھ دیتے ہیں اور عقل پر دلیل کی۔حقیقت جانے بغیر سچائی تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔حقیقت جاننے کے لئے مخبر خیال مثبت و منفی رویوں کی چغلی کرتے پائے جاتے ہیں۔وسوسہ خیال کی جڑوں میں نا اُمیدی کی کھاد ڈالتا ہے۔جو اسے حقیقت بن کر سچ تک پہنچنے کے راستے کی دیوار بنتا ہے۔
حقیقت شناسی کا علم ایک سمندر ہے جس کی چاہ پانے والوں کی جزبیت  چڑیا کی چونچ میں سمانے والے قطروں سے زیاد نہیں۔ اللہ کی محبت جس دل میں سما جائے وہ  عشق کا ایسا سمندر ہے جس کی تشنگی ایک چڑیا کی چونچ میں سمانے والے چند قطروں سے ممکن نہیں۔آگ پانی سے دور اپنے آلاؤ روشن رکھتی ہے۔سمندر کے سینے پر جلنا آتش کے بس کی بات نہیں۔جب پانی اپنے بہاؤ سے ان راستوں پر گامزن ہو جاتا ہے تو  آگ کی چنگاریاں چیخ چیخ کر دم توڑ دیتی ہیں۔۔۔۔بچتا ہے تو صرف پانی ۔۔۔۔۔پیاس بجھانے سے لے کر سیراب کرنے تک  ۔۔۔۔دھرتی حدت سے نمو پانے کے نشے میں اُتر جاتی ہے۔
قلب عشق کا وہ سمندر ہے۔۔۔ جو اس کے وجود پر اُترتا ہے تو۔۔۔۔۔چند قطروں سے بیتابی ۔۔۔۔شادابی میں بدل جاتی ہے۔سمند ر کی تشنگی پیاس مٹانے میں ہے ۔۔۔۔۔خود مٹنے میں نہیں۔۔۔۔۔۔جو اعتماد اور چاہت کی کشتیوں کے بادباں کھول کر  عشق کے سمندر میں اُترتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تو  عقیدت و احترام کی لہریں انہیں غرق کرنے کی بجائےبحفاظت کناروں تک پہنچا دیتی ہیں۔
محبت کے موتی چونچوں میں بھر کر وہ چڑیاں  ۔۔۔۔نفرت و حقارت کےجلتے آلاؤ میں ۔۔۔۔۔ڈالے جانے والے عاشقوں کو بچانے کے لئے  ۔۔۔۔چونچ میں بھرے محبت کے سمندر سے لائے ۔۔۔۔ چند قطروں سے آگ بجھانے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔  وہ جانتی ہیں کہ یہ  پانی عاشق ِحقیقی کو  آگ سے بچانے کے لئے نا کافی ہے ۔۔۔۔۔۔ مگر عشق و محبت کی داستان میں وہ اپنا کردار نبھانا چاہتی ہیں۔تاکہ سچے عشق اور سچے عاشق کی نظر میں سرخرو ہو جائیں۔
تشنگی کی انتہا کیا ہے؟
 سمندر کا پانی ۔۔۔۔۔۔۔ جنگل کی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔ایک  چڑیا کی چونچ   ۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت کے سمندر سے چند قطرے پانی چڑیا کی چونچ میں عشق کی آگ بجھانے میں جب  ناکافی ہو جاتے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔تو تشنگی کی انتہا ہے یہ ۔۔۔۔۔۔۔ پا کر بھی مکمل پایا نہ جا سکے۔۔۔۔۔۔ بجھا کر بھی مکمل بجھایا نہ جا سکے۔
برسہا برس سے  خوش نصیبی کو ترستی بنجر زمین ۔۔۔۔۔ جس کے اوپر سےبادل بن برسے گڑ گڑا کر  گزر جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اسے چند قطرے سیرابی  کیفیت سے دوچار کر دیتے ہیں۔ یہ زمین کی تشنگی کی انتہا ہے ۔۔۔۔۔۔مگر بادل مکمل برس کرتحلیل ہونے سے سیراب ہونے کی کیفیت سے سرشار ہوتا ہے۔یہی اس کی تشنگی کی انتہا ہے۔
اشرف المخلوقات میں تشنگی کی انتہا جاننے کے لئے ۔۔۔۔۔  کیفیت سے زیادہ عقل کے ترازو پر رکھی سمجھ  بوجھ  ۔۔۔۔۔کانٹ چھانٹ کے بعد محتاط طرز عمل سے زیادہ تر پڑھی جاتی ہے سمجھی نہیں۔
کسی جزبہ ۔۔۔۔شدت احسا س۔۔۔۔۔۔افکار تخیل۔۔۔۔۔۔لمس لفظ ۔۔۔۔۔۔۔یا ۔۔۔۔۔قربتِ محبوب کی کسوٹی پر پرکھا نہیں جا سکتا۔
صرف اتنا جان لینے سے حقیقت حق کے ساتھ  ۔۔۔۔ ضمیر روشن کو آمادگی کی راہ پہ   ۔۔۔۔خوش آمدیدی نظریں بچھائے  ۔۔۔۔لینے آ جائے تو جواب مل جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔لینے کی جگہ اگر اللہ تبارک تعالی کی محبت کا سمندر ہو  ۔۔۔۔۔۔۔ پانے والی چڑیا ہو۔۔۔۔۔۔  دینے کی جگہ آگ میں ڈالا گیا عشق حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا ہو ۔۔۔۔۔۔۔ تو پانے میں کمی اور دینے میں جان تک چلی جانے سے تسلی نہ ہو  تو
تشنگی کی انتہا کسے کہتے ہیں  ۔۔۔۔۔جان جاتےہیں۔


 تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

Feb 24, 2014

سرُ پھوکاں عشق دیاں زلفِ ہیر وی مستی اے

آکھ وچ ککھ اے رہندے نال فقیراں دے
بھل بھلیاں رہ جانیاں  آندے حکم نزیراں دے

لوکاں ہمیشہ ڈھاڈے سن پائے جندڑی ہاسے سن
شاہواں دیاں پوشاکاں ہتھ انہاں دے کاسے سن

پانی دا رنگ نیلا آسماناں رنگ وی نیلا اے
راتاں پانی کالا اے آسماناں رنگ چمکیلا اے

رانجھے نہ آوے ونجلی ہیر دی کادی ہستی اے
سرُ پھوکاں عشق دیاں زلفِ ہیر وی مستی اے

جٹیاں دعاواں منگدیاں گلیاں وچ   پھج دیاں
ٹٹے تیراں نال میلا حسن دا نہیں کج دیاں

لیلی چیکاں ماریاں چمڑی دکھے جے مجنوں دی
سسی تھلو ں ٹیلے تے آساں لائی پنوں دی

عشق رب سچے دا بن ویکھے ترسیاں دا
اپنے تک اپڑن دا  راہ وکھایا رسیاں دا


محمودالحق
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter