Showing posts with label عشق حقیقی. Show all posts
Showing posts with label عشق حقیقی. Show all posts

Sep 27, 2026

پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہو

 پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہو

عشقِ وفا کہاں جو چاہتِ محبوب وصلِ بیتاب پہ ہو

  • مفہوم: پروانہ خود شمع کی آگ میں جلتا ہے مگر قصور سورج کی حرارت و تپش پر ڈال دیا جاتا ہے۔ وہ عشق سچا اور وفادار نہیں کہلا سکتا جس کی تمام تر چاہت صرف محبوب کے ملن اور بے تاب وصال تک محدود ہو۔
  • تشریح:
    1. پہلا مصرع: شاعر ایک استعاروں کی مدد سے بات کر رہا ہے کہ جب نقصان یا تبا ہی اپنے فیصلے اور اپنی بے راہ روی (شمع کے گرد طواف) سے ہوتی ہے، تو انسان اکثر اپنی غلطیوں کی ذمہ داری دوسروں (تمازتِ آفتاب) پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔
    2. دوسرا مصرع: سچے عشق کی پہچان وصل (ملن) نہیں بلکہ خود سپردگی، صبر اور جدائی میں بھی وفاداری ہے۔ اگر کسی کا عشق صرف اپنے ملن کی بے تابی اور خود غرض خواہشات پر مبنی ہو تو اس میں سچی وفاداری اور قربانی کا عنصر مفقود ہوتا ہے۔

زندگی کو تماشا نہ بناؤ تماشا خود زندگی ہو جائے

درد کا چیخِ مسکن خوشی القاب پہ ہو

  • مفہوم: زندگی کو غیر سنجیدگی، کھیل کود یا نمائش کا ذریعہ نہ بناؤ ورنہ ایک دن خود زندگی ہی تمہاری تذلیل اور تماشا بن جائے گی۔ پھر حال یہ ہوگا کہ دل کے اندر درد اور چیخوں کا مسکن (گھر) ہوگا، مگر ظاہری طور پر خوشی اور سرور کے القابات سجائے جا رہے ہوں گے۔
  • تشریح:
    1. پہلا مصرع: زندگی ایک ذمہ دارانہ اور سنجیدہ عمل ہے۔ جو لوگ زندگی کی قدر و قیمت نہیں پہچانتے اور اسے محفلوں اور نمائشوں کا تماشا بناتے ہیں، وقت ان کو اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں وہ دنیا کے لیے عبرت کا نشان اور تماشا بن جاتے ہیں۔
    2. دوسرا مصرع: انسان کی منافقت اور بظاہر خوش نما دنیا کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ جب انسان اندر سے ٹوٹ چکا ہوتا ہے اور اس کے دل و ذہن میں صرف درد کی چیخیں ہوتی ہیں، لیکن دنیا کو دکھانے کے لیے وہ اپنے اوپر خوشی کا لیبل اور مسکراہٹ کا القاب سجا لیتا ہے۔

تختِ عرش کو دوام رہتا جو ہوا میں ہے

فرشِ محل نہیں پائیدار قائم جو بنیادِ آب پہ ہو

  • مفہوم: وہ تخت و اقتدار جو صرف ہوا (غرور، فریب، یا بے بنیاد باتوں) پر قائم ہو، اسے کبھی ثبات و دوام حاصل نہیں ہوتا۔ ٹھیک اسی طرح کسی عالی شان محل کا فرش پائیدار نہیں رہ سکتا جس کی بنیاد ہی پانی پر رکھی گئی ہو۔
  • تشریح:
    1. پہلا مصرع: شاعر اقتدار، طاقت اور غرور کی عارضی نوعیت کو بیان کر رہا ہے۔ جو لوگ ہوا اور تکبر کے بل بوتے پر خود کو تختِ عرش کا مالک سمجھتے ہیں، وہ غلط فہمی میں ہیں۔ ہوا بدلتے ہی تخت گر جاتے ہیں۔
    2. دوسرا مصرع: پانی کی بنیاد پر بنی عمارت جلد یا بدیر گر جاتی ہے۔ یہ مصرع اس بات کا سبق دیتا ہے کہ جو رشتہ، عزت یا کامیابی جھوٹ، فریب یا کمزور اصولوں (بنیادِ آب) پر قائم کی جائے، اس میں پائیداری اور استحکام کبھی نہیں ہو سکتا۔

گل گلزار سے تو مہک بہار سے ہے وابستہ

اگتا ہے صرف خار ہی بستا جو سراب پہ ہو

  • مفہوم: پھول کا وجود چمن سے ہے اور اس کی خوشبو بہار کے موسم سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کے برعکس جو شخص سراب (جھوٹے دلاسوں اور فریب) پر اپنا مسکن بنائے گا، اسے وہاں پھول نہیں بلکہ صرف کانٹے ہی ملیں گے۔
  • تشریح:
    1. پہلا مصرع: ہر اچھی اور خوبصورت چیز کا ایک ماحول اور ذریعہ ہوتا ہے۔ پھول اور اس کی مہک کی بقا گلزار اور بہار میں ہی ممکن ہے۔ یعنی نیک نیتی اور سچی کوششوں سے ہی اچھے نتائج اور خوشبو جنم لیتی ہے۔
    2. دوسرا مصرع: سراب ریت پر چمکتے ہوئے اس پانی کو کہتے ہیں جو حقیقت میں نہیں ہوتا۔ جو انسان حقیقت کو چھوڑ کر خیالی پلاؤ، فریب یا غلط امیدوں (سراب) پر زندگی کی عمارت تعمیر کرتا ہے، اسے زندگی میں سوائے دکھ، زخم اور کانٹوں (خار) کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

شاہِ زماں سے دل گرفتہ رہتے جو معظمِ ہمراز

دلگیریٔ فقیر میں سدا رنگ تابانیء مہتاب پہ ہو

  • مفہوم: وقت کے بڑے بادشاہوں اور حکمرانوں کے مقرب اور معظم رازدار بھی اندر سے پریشان اور دل برداشتہ (دل گرفتہ) رہتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ایک درویش/فقیر کی اداسی اور قناعت میں بھی چاند کی طرح سچائی، چمک اور سکون کی تابانی پائی جاتی ہے۔
  • تشریح:
    1. پہلا مصرع: دنیاوی مال و دولت، جاہ و جلال اور بادشاہوں کی مصاحبت انسان کو اندرونی سکون نہیں دے سکتی۔ بادشاہوں کے ساتھ رہنے والے بڑے سے بڑے عہدے دار اور ہمراز بھی خوف، خدشات اور دلی تنگی میں مبتلا رہتے ہیں۔
    2. دوسرا مصرع: فقیر یا عارفِ حق کی زندگی اگرچہ ظاہری طور پر غم اور سادگی سے بھری ہوتی ہے، لیکن ان کا دل چاند کی روشنی (تابانیِ مہتاب) کی طرح روشن، پاک اور مطمئن ہوتا ہے۔ حقیقی خوشی اور سکون دنیاوی اقتدار میں نہیں بلکہ فقر اور قناعت میں ہے۔

کلام : محمودالحق

در دستک >>

Feb 2, 2026

ذکرِالأنفال: (حقیقتِ حیات اور ادراکِ بندگی)

ہم بہت آسانی سے حاصل کی گئی کامیابیوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں پھر اپنی عقل و دانش پر فخر سے سینہ تان لیتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔حاصل وہی ہوتا ہے جو اللہ تبارک تعالی کی رضا ہو ۔ جس سے وہ راضی ہو اسے نوازنے میں دیر نہیں کرتا مگر دنیا کا وقت دن رات اور سونے جاگنے میں ایسے تقسیم رہتا ہے کہ دن ہفتے ، ہفتے مہینے اور مہینے سال بھر تک چلتے ہیں جو ہیجان و بے چینی کا سبب ہوتے ہیں۔ہمیں تواریخ تو یاد رہتی ہیں مگر موضوع و مناسب حالات کا ادراک نہیں ہو پاتا۔ انسان بنیادی طور پر جلد باز جو ٹھہرا نتیجہ جاننے میں سال مہینے چٹکیوں میں چاہتا ہے۔ کیونکہ ماضی اس کے لئے ایک کہانی ، حال خواہش اور مستقبل سہانا خواب نظر آتا ہے۔ ماضی کو بھلانا تو چٹکیوں میں ممکن کر دکھاتا ہے مگر خوابوں کی تعبیر بھی پلک جھپکنے میں تکمیل کے مراحل طے کرتی ہوئی چاہتا ہے۔

مگر وہ یہ نہیں جان پاتا کہ جس طرح ۱۴۳۸ سال کے بعد بھی قرآن مجید کے الفاظ ایک ایسی مستقل حقیقت ہیں جو وقت مقررہ پر منازل کی مسافت کا تعین رکھتے ہیں۔چاند ستاروں سے لے کر سردی گرمی خزاں بہار کے لئے ایک مخصوص وقت کی پابندی لازم قرار پا چکی ہے۔ پھولوں کا کھلنا پھلوں کا پکنا پرندوں کا انڈے سینا اور چرند میں بچوں کی پیدائش کا عمل وقت مقررہ کا مرہون منت ہے۔ مگر خواہش میں انسان نےانہیں منزل مقصود بنا رکھا ہے جو دس بیس پچاس سال کے بعد نہ تو خود ہی اپنا وجود برقرار رکھ پاتے ہیں اور نہ ہی نئے انداز و تخلیق کی پائیداری کی کوئی گارنٹی دے پاتے ہیں۔گھر تبدیل کر کر کے پھر تبدیلی کے لئے کچھ نیا کرنے کی طرف توجہ مرکوز ہو جاتی ہے۔

جن سے جو کام لینا مقصود ہوتا ہے پہلے انہیں منطقی انجام سے دوچار کیا جاتا ہے جسے کبھی آزمائش تو کبھی تقدیر میں نہ ہونے سے تعبیر کر لیا جاتا ہے۔بچہ امتحان دینے تک پرجوش اور پر اُمید ہوتا ہے مگر غیر متوقع رزلٹ کے آنے پر مایوسیوں کے اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے ۔ آگے بڑھنے پر مشکل کا شکار اور ارادے کی کمزوری کا شکار ہونے لگتا ہے۔ جواز ایسا تلاش کرتا ہے جو مصلحت کے بغیر ہوتا ہے۔اللہ تبارک تعالی کسی جان پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ آسانی سے پانے والے مشکلات کی چکی میں پس کر خواہش کی تکمیل تک دو مختلف زاویہ سے زندگی کا مفہوم سمجھنے کی منطق کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر نشانیاں عقل والوں کے لئے ہیں جو قرآن مجید میں طے شدہ ہیں۔ سونے کے سکے لین دین میں کسی نہ کسی صورت آج بھی ہیں مگر بدلے میں کاغذ کے چند ٹکڑوں پر راضی ہو جاتے ہیں۔مٹی گارے کی چنائی سے بنے گھر اینٹ سیمنٹ کی طاقت حاصل کر چکے مگر دوسری نسل تک پہنچتے پہنچتے بڑھاپے کے لاغر پن کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہو جاتے ہیں۔

جس مبارک گھر کی جالیاں عشق و محبت کے متوالوں کو نشہ و سرور کی کیفیت میں مبتلا کر دیں اور عظمت و بزرگی خداوند تعالی کے گھر کا غلاف دیکھنے اور چومنے والوں کو سحرزدہ کر دے ،وہ اسے پاک پروردگار کا احسان عظیم جانے اور اس گھر کی حاضری ایک طویل دعا اور قبولیت کے فرمان کا شاخسانہ قرار دے تو عظمت کے مینار آنے والوں کو اصل حقیقت سے روشناس کرواتے ہیں۔سبز گنبد اور سیاہ غلاف عاشقوں کے لئے عید سعید کے خوشیوں کے لباس ہیں جنہیں نظروں میں سمو کر آنکھوں کے نور میں جذب کر لیتے ہیں۔ نہ جانے کتنے ہی آنسوؤں کی قربانی کے بعد قبولیت کے شرف سے فیضیاب ہونے جا رہے ہوں۔

وجود اپنے احساس کو لمس سے محسوس کرتا ہے مگر روح عشق میں خوشبو کی طرح۔۔۔ کائنات میں آخری ستارے تک رسائی پانے کے فاصلے کی خواہش سے پہلے ۔۔۔عشقِ امتحان وجود میں احساس کی آخری منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔شہد کی مکھی سفر در سفر کے بعد پھول در پھول سے جو رس پاتی ہے وہ مٹھاس میں یکساں ہوتا ہے۔ اللہ تبارک تعالی اپنے گھر تک پہنچنے کے لئے آخری دنیاوی خواہش کی آزمائش کو بھی بندے پر آزماتا ہے کہ فرمان کی تکمیل تک نافرمانی کی کڑواہٹ سے پاک جذبِ احساس وجود کے نہاں خانوں میں گردش خون سے بھی اتنا خالص ہو جائے کہ دعائیں بے اثری سے محفوظ ہو جائیں اور رحمتیں ونعمتیں ظاہر و باطن کو وحدتِ ایمان میں یک جان دو قالب کی طرح پرو کر اظہار و افکار کےسمندر سے نکال کر عمل و کردار کے بہتے میٹھے چشموں کے پانی سے پیاسوں کو سیراب کرتا آگے بڑھتا چلا جائے۔

اللہ تبارک تعالی جب اپنے بندوں کو نمونہءعمل بناتا ہے تو راستوں کو ان کی مرضی کے تابع نہیں کرتا بلکہ ان کے دلوں کو اپنے خیال بندگی سے منور کر دیتا ہے۔ پھر تو نہ ہی امتحان ہوتا ہے نہ ہی نتیجہ اور نہ ہی منزل۔بس ایک راستہ ہے جو عین شباب آفتاب کی طرح روشن جو پہلے قدم سے ہی اپنا رُخ متعین کر دیتا ہے۔ کسی کے دل میں عقیدتِ خیال کا طوفان برپا کر دیتا ہے تاکہ عاشق محبوب رو برو ہو جائیں۔ جہاں سوچ کے در بند ہو جاتے ہیں اورچاہ کی زمین ،چاہت کے آسمان ایک ہو جاتے ہیں۔ آنکھ صرف وہی دیکھتی ہے جو وجود سے باہر ہو ، اندر کہاں تک وہ اُتر پاتی ہے کسی خیال کسی احساس کی دسترس سے انتہائی باہر ہے۔اللہ تبارک تعالی کی محبت جن کا عشق ہو انہیں علم سے بے بہرہ سوکھے پتوں سے اُمید کی فصل اُگنے کی آس نہیں ہونی چاہیئے۔ آندھیاں صرف انہیں کو پھل بننے تک پہنچاتی ہیں جنہیں خوشبو اور ذائقہ دینا مقصود ہو باقی زرد پتوں کی طرح اُتر جاتے ہیں۔ زمین سے اُٹھا کردرختوں پر لٹکانے سے اُمید بہار نہیں آ سکتی۔ کیونکہ لوٹنے کا وقت گزر چکا ، بڑھنے کا وقت ہے، پکنے کا وقت ہے، خوشبو پھیلانے کا آغازِ موسم ہے۔ مایوسیوں محرومیوں کی خزاں ،بہار کی آمد کا انتظار نہیں کرتی مگر اُمید ِنو اپنا سفر ادھورا نہیں چھوڑتی۔ظاہر کی قیاس میں باطن کی حقیقت پوشیدہ رہتی ہے۔

اگر لفظ سچے ہوں تو پھر خیال بھی ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔ گو مگو میں وہی رہتے ہیں جودنیا کی عارضی شہرت کے داعی ہوتے ہیں۔ مگر زندگی کی حقیقت عمل سے ثابت ہوتی ہے جب نفی خیال سے نکل کر وجود کو ریزہ ریزہ کر دے اورکھڑا ہو نے میں بھی درد کی ہائے میں نا شکری نہ ہو۔رحمتوں کی اُمید بر آنے کا یقین ہو۔ جو حق کے ساتھ رہتے ہیں مایوسیاں ان کے قریب نہیں رہتیں۔کمزور پر نفس بھاری رہتا ہے ،مضبوط ایمان کی رسی کو تھامنے سے قوی ہو جاتا ہے۔ جہاں الفاظ اعمال پر بھاری ہو جائیں ،سفارش یقین کی سیڑھی بن جائے وہاں چلتی ٹرین کے پیچھے بھاگنے سے منزل مقصود تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ جہاں ایک ہی پٹڑی پر مخالف سمت جانے والی ٹرینیں پہنچیں تو مسافر اپنی سمت کی طرف سفر کریں گے۔ یہاں تعداد کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ سیاست و تجارت میں تو ایسا ہو سکتا ہے مگر قیامت کا سفر اس سے مختلف ہے۔ جہاں اکیلا بھی جیت کر رحمتوں کی آغوش میں لپٹے گا۔

نئے سال 2017 کا سورج دنیا میں اسی طرح طلوع ہو گا نئی قیاس آرائیوں کے ساتھ مگر شائد کسی کے لئے واضح اور حقیقت پسندی کی چکا چوند روشنیوں سے بھرپور تنہائیوں کا ابتدائے سفر، طالب کی تلاش و جستجو کے لئے ذکرِالأنفال۔

تحریر : محمودالحق

 

فکر انگیز تبصرہ

آپ کی یہ تحریر، "ذکرِ الانفال"، محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ تصوف، فلسفہِ حیات اور انسانی نفسیات کا ایک گہرا مرقع ہے۔ آپ نے جس خوبصورتی سے انسانی جلد بازی، مادی اشیاء کی ناپائیداری اور مشیتِ الٰہی کے سامنے تسلیم و رضا کی تصویر کشی کی ہے، وہ قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

تحریر کے چند اہم نکات جو روح کو چھوتے ہیں:

وقت اور تسلسل: آپ نے یہ واضح کیا کہ کائنات کی ہر چیز (پھلوں کا پکنا، موسموں کا بدلنا) ایک طے شدہ وقت کی پابند ہے، جبکہ انسان "فوری نتیجے" کی خواہش میں اپنی بے چینی بڑھا لیتا ہے۔ یہ نکتہ صبر کی اصل روح کو اجاگر کرتا ہے۔"کائنات کی ہر شے—پھول کے کھلنے سے لے کر چاند کے ڈھلنے تک—ایک مخصوص وقت اور 'اذنِ الٰہی' کی پابند ہے۔ مگر انسان اپنی جلد بازی اور عقل کے تکبر میں یہ بھول جاتا ہے کہ کامیابی سمیٹی نہیں جاتی، عطا کی جاتی ہے۔ 'ذکرِ الانفال' ایک ایسی ہی فکری نشست ہے جو ہمیں مادی فریب سے نکال کر بندگی کے اصل رُخ اور عشقِ صادق کی خوشبو سے روشناس کرواتی ہے۔ آئیے، زندگی کو اس کے حقیقی مفہوم میں دیکھنے کی ایک کوشش کرتے ہیں۔"

عشق اور بندگی: سبز گنبد اور غلافِ کعبہ کا تذکرہ جس والہانہ انداز میں کیا گیا، وہ ایک سچے تڑپنے والے دل کی عکاسی کرتا ہے۔ روح کا عشق میں "خوشبو" کی طرح ہونا ایک بہت ہی بلیغ تشبیہ ہے۔

آزمائش کی حقیقت: یہ جملہ کہ "اللہ راستوں کو بندوں کی مرضی کے تابع نہیں کرتا بلکہ ان کے دلوں کو بندگی سے منور کر دیتا ہے"، پوری تحریر کا نچوڑ معلوم ہوتا ہے۔ جب دل بدل جائے تو پھر منزل کی تھکن کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔

امید اور حقیقت پسندی: آپ نے زرد پتوں اور آندھیوں کی مثال سے واضح کیا کہ ثابت قدم وہی رہتے ہیں جن میں خوشبو اور ذائقہ (اخلاص) ہو۔

ایک مشاہدہ: آپ کی تحریر میں ماضی، حال اور مستقبل کے امتزاج کو "کہانی، خواہش اور خواب" کہنا انسانی نفسیات کی بہت درست عکاسی ہے۔  اس تحریر کے حقائق آفاقی ہیں جو آج بھی اتنے ہی تازہ ہیں۔"کیا ہم واقعی اپنی عقل سے کامیاب ہوتے ہیں یا یہ محض ربِ کریم کا احسانِ عظیم ہے؟ ماضی کی کہانیوں، حال کی خواہشوں اور مستقبل کے سہانے خوابوں کے درمیان کہیں ہماری روح سچی پکار بھول گئی ہے۔ تحریر 'ذکرِ الانفال' میں محمود الحق صاحب نے انسانی نفسیات، مادی زوال اور عشقِ الٰہی کے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے جو ہمیں ایک عام مسافر سے 'طالبِ حق' بنا دیتے ہیں۔"

جذباتی اور وجدانی

"مٹی گارے کے گھروں سے لے کر دل کے نہاں خانوں تک... ہر چیز ایک آزمائش ہے۔ جس مبارک گھر کی جالیاں عشق کے متوالوں کو سحر زدہ کر دیں، وہاں پہنچنے کے لیے وجود کو ریزہ ریزہ ہونا پڑتا ہے۔ 'ذکرِ الانفال' محض ایک تحریر نہیں، بلکہ ایک روحانی سفر ہے جو آپ کو بتاتا ہے کہ جب اللہ کسی کو اپنا نمونہِ عمل بناتا ہے، تو اس کے دل کو اپنے خیالِ بندگی سے کیسے منور کر دیتا ہے۔"

آپ کی تحریر کے تمام حصوں میں پوشیدہ حکمت اور روحانی فلسفے پر تفصیلی روشنی ڈالنے کے لیے ہم اسے چار بڑے فکری ستونوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ہر حصہ انسانی زندگی کے ایک الگ پہلو کی اصلاح کرتا ہے:

1. نفسیاتی کشمکش: جلد بازی اور مادی فریب

آپ نے تحریر کے آغاز میں انسانی نفسیات کے اس پہلو کو چھیڑا ہے جو اسے ہر چیز "فوری" حاصل کرنے پر اکساتا ہے۔

عقل کا تکبر: جب ہم آسانی سے کامیاب ہوتے ہیں، تو اسے اپنی دانش مندی قرار دیتے ہیں، حالانکہ وہ محض اللہ کی عطا ہوتی ہے۔

وقت کا جبر: انسان چاہتا ہے کہ قدرت اس کی خواہشات کے مطابق چلے، جبکہ کائنات ایک منظم الٰہی وقت (Divine Timing) کی پابند ہے۔ آپ کا یہ نکتہ کہ "ماضی کہانی، حال خواہش اور مستقبل خواب ہے" انسان کی اس بے چینی کو ظاہر کرتا ہے جو اسے حال میں جینے نہیں دیتی۔

2. مادی زوال اور وقت کی قید

اس حصے میں آپ نے مادیت کی بے ثباتی کو بہت گہرے پیراۓ میں بیان کیا ہے۔

ناپائیداری: اینٹ، سیمنٹ اور مٹی کے گھروں کی مثال سے آپ نے یہ سمجھایا ہے کہ مادی چیزیں وقت کے ساتھ "لاغر" ہو جاتی ہیں۔ جو چیز آج مضبوط ہے، کل وہ بوجھ بن جاتی ہے۔

قدرت کی گواہی: آپ نے چودہ سو سال سے قائم قرآنی الفاظ، موسموں کی تبدیلی اور حیاتیاتی نظام (انڈے سینا، پھلوں کا پکنا) کو اس بات کی دلیل بنایا ہے کہ پائیداری صرف اللہ کے بنائے ہوئے اصولوں میں ہے۔ مادی ترقی کی کوئی "گارنٹی" نہیں ہے۔

3. روحانی ارتقاء: عشق اور بندگی کی حقیقت

یہ آپ کی تحریر کا سب سے جذباتی اور وجدانی حصہ ہے۔ یہاں آپ نے مادی سفر کو روحانی سفر (حج و زیارت) سے بدلا ہے۔

تطہیرِ قلب: اللہ اپنے گھر بلانے سے پہلے بندے کو آزماتا ہے تاکہ اس کے اندر سے "نافرمانی کی کڑواہٹ" نکل جائے۔

وحدتِ ایمان: یہاں مقصد صرف جسم کا پہنچنا نہیں بلکہ روح کا عشق میں "خوشبو" بن جانا ہے۔ جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کا ظاہر اور باطن ایک ہو جاتے ہیں (یک جان دو قالب)، اور اس کی دعائیں بے اثری سے محفوظ ہو جاتی ہیں۔

4. فلسفہِ عمل: زرد پتے بمقابلہ پختہ پھل

تحریر کا آخری حصہ "امید" اور "کردار" پر زور دیتا ہے۔

نمونہِ عمل: اللہ جب کسی سے کام لیتا ہے، تو اسے حالات کا نہیں بلکہ اپنے "خیالِ بندگی" کا تابع کر دیتا ہے۔ پھر انسان نتیجے کی فکر سے آزاد ہو کر صرف راستے پر توجہ دیتا ہے۔

خلوص کی شرط: آپ نے آندھیوں کی مثال سے واضح کیا کہ مشکلات صرف انہیں "پھل" بناتی ہیں جن میں خوشبو اور ذائقہ (اخلاص) ہو۔ جن کا ایمان کمزور ہوتا ہے، وہ زرد پتوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں۔

تنہائی کا سفر: آخر میں آپ نے واضح کیا کہ حق کی راہ پر تعداد کی اہمیت نہیں ہے۔ سیاست و تجارت میں ہجوم جیتتا ہے، مگر اللہ کی عدالت میں اکیلا شخص بھی اپنے ایمان کی بدولت پوری دنیا پر بھاری ہو سکتا ہے۔

خلاصہِ فکر

آپ کی تحریر کا نچوڑ یہ ہے کہ "ذکرِ الانفال" دراصل اس مالِ غنیمت یا اس روحانی عطا کی تلاش ہے جو انسان کو مادی خواہشات کی نفی کرنے اور رضائے الٰہی کے تابع ہونے کے بعد ملتی ہے۔ یہ "خزاں میں بہار کی امید" کا سفر ہے۔

محمود الحق ایک ایسی فکر کے داعی ہیں جو مادیت کے شور میں گم ہوتی ہوئی انسانی روح کو بندگی اور احساس کے میٹھے چشموں سے سیراب کرنے کی سعی کرتی ہے۔ ان کی تحریروں کا خاصہ "فلسفہِ خودی" اور "تسلیم و رضا" کا وہ امتزاج ہے جو قاری کو ظاہری زندگی کی قیاس آرائیوں سے نکال کر باطن کی حقیقتوں سے روشناس کرواتا ہے۔

آپ کی فکر کے بنیادی عناصر درج ذیل ہیں:

مشاہدہِ کائنات: قدرت کے نظام (موسموں، چاند ستاروں اور وقت) سے سبق کشید کرنا۔

روحانی ادراک: مادی کامیابیوں کے بجائے الٰہی رضا اور عشقِ رسول ﷺ کو منزلِ مقصود قرار دینا۔

اصلاحِ معاشرہ: انسانی جلد بازی اور ہیجان کے مقابلے میں صبر، توکل اور مضبوط ایمان کی رسی تھامنے کی ترغیب دینا۔

محمود الحق صاحب کے نزدیک تحریر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک "ذکر" ہے—ایک ایسا ذکر جو لفظوں کی سچائی سے دلوں میں عقیدت کا طوفان برپا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ان کا قلم آرائشِ الفاظ کے بجائے "تطہیرِ قلب" کا فریضہ سرانجام دیتا ہے، تاکہ مسافر اپنی سمت کا درست تعین کر سکیں۔

آپ کی تحریر کے سب سے حساس اور خوبصورت حصے "عشق اور امتحان" کی مناسبت سے، میں نے اس کے فلسفے کو مزید گہرا کرنے کے لیے کچھ فکری پیراگراف اور اقوال ترتیب دیے ہیں۔ یہ اس مقام کی ترجمانی کرتے ہیں جہاں وجود مٹتا ہے تو روح چمکتی ہے۔

عشق اور امتحان: روح کی کیمیا گری

عشق کوئی آسائش نہیں، بلکہ ایک ایسی آگ ہے جو سونے کو کندن بنانے کے لیے لازم ہے۔ آپ کی تحریر کا یہ نکتہ کہ "وجود لمس کو محسوس کرتا ہے مگر روح عشق کو خوشبو کی طرح"، دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ بندگی صرف جسمانی حرکات کا نام نہیں، بلکہ یہ کیفیات کا سفر ہے۔

1. آزمائش کا فلسفہ (تطہیرِ جذب)

اللہ جب کسی بندے کو اپنے قریب کرنا چاہتا ہے، تو اس کی دنیاوی سہولتیں چھین کر اسے "حیرت" اور "احتیاج" کی وادی میں لے آتا ہے۔ یہ امتحان اس لیے نہیں ہوتا کہ اسے تڑپایا جائے، بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کے اندر سے غیر اللہ کی محبت کا زنگ اتر جائے۔

قول: "عشق کا پہلا سبق 'نفی' ہے؛ جب تک تم اپنی خواہش کو 'لا' (نہیں) کے خنجر سے ذبح نہیں کرتے، 'الا اللہ' کی مٹھاس روح میں نہیں اترتی۔"

2. شہد کی مکھی کی مثال (مسلسل جستجو)

آپ نے شہد کی مکھی کا تذکرہ کر کے کمال کر دیا۔ شہد کی مکھی ہزاروں پھلوں کا رس چوستی ہے مگر مٹھاس ایک جیسی ہوتی ہے۔ اسی طرح مومن کے حالات بدلتے رہتے ہیں (کبھی دکھ، کبھی سکھ) مگر اس کے ایمان کا ذائقہ (توکل) ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے۔

امتحان: پھول سے رس نکالنا۔

نتیجہ: وہ مٹھاس جو دوسروں کو شفا دے۔

روحانی سبق: مومن کا کردار بھی ایسا ہی ہونا چاہیے کہ وہ حالات کی تلخی پی کر معاشرے کو عمل کا میٹھا چشمہ فراہم کرے۔

3. آخری حد: جہاں سوچ کے در بند ہوتے ہیں

آپ نے لکھا کہ "عاشق و محبوب روبرو ہو جائیں تو سوچ کے در بند ہو جاتے ہیں"۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عقل ہار مان لیتی ہے اور صرف "حکم" باقی رہ جاتا ہے۔ یہاں پہنچ کر انسان یہ نہیں پوچھتا کہ "کیوں؟" بلکہ وہ کہتا ہے "جو تیری رضا"۔

نکتہ: عقل حساب کرتی ہے (سیاست و تجارت)، جبکہ عشق سودا نہیں کرتا (قیامت کا سفر)۔

آپ کی تحریر "ذکرِ الانفال" میں موجود گہرائی اتنی وسیع ہے کہ اسے ابھی کئی مزید زاوئیوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان پہلوؤں پر روشنی ڈالنے سے آپ کی فکر کے نئے در وا ہوں گے:

1. عمرانی پہلو (Sociological Perspective): نسلوں کا فرق

آپ نے تحریر میں ذکر کیا کہ گھر "دوسری نسل تک پہنچتے پہنچتے ناقابلِ اعتبار ہو جاتے ہیں"۔ یہ ایک بہت بڑا سماجی نکتہ ہے۔

تجزیہ: مادی ترقی نسلوں کے درمیان خلیج پیدا کر رہی ہے۔ ہم عمارتیں تو پکی بنا رہے ہیں، مگر رشتوں اور اقدار کی وہ بنیادیں (مٹی گارا) بھول گئے ہیں جو برسوں قائم رہتی تھیں۔ یہ پہلو بتاتا ہے کہ معاشرتی استحکام اینٹ سیمنٹ میں نہیں، بلکہ ان 'قدیم اقدار' میں ہے جو وقت کے ساتھ لاغر نہیں ہوتیں۔

2. معاشی پہلو (Economic Insight): کاغذ بمقابلہ سونا

آپ کا یہ جملہ کہ "سونے کے سکے کاغذ کے چند ٹکڑوں پر راضی ہو گئے"، ایک گہرا معاشی فلسفہ ہے۔

تجزیہ: یہ انسانی قناعت کے زوال کی طرف اشارہ ہے۔ ہم نے 'حقیقی قیمت' (سونا/اصلیت) کو چھوڑ کر 'خیالی قیمت' (کاغذ/نمود و نمائش) کو اپنا لیا ہے۔ معاشی دوڑ میں انسان اس لیے بھی بے چین ہے کیونکہ وہ ایسی چیزیں جمع کر رہا ہے جن کی اپنی کوئی حقیقت نہیں۔

3. نفسیاتی پہلو (Psychological Aspect): ہیجان اور بے چینی کا علاج

آپ نے دن، ہفتوں اور مہینوں کے چکر کو "ہیجان کا سبب" قرار دیا ہے۔

تجزیہ: جدید نفسیات اسے 'Anxiety' کہتی ہے۔ آپ کی تحریر اس کا علاج 'ذکر' اور 'انتظار' (پھل پکنے کا وقت) میں بتاتی ہے۔ جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ ہر چیز کا ایک 'وقتِ مقررہ' ہے، تو اس کے اندر کا ہیجان ختم ہو جاتا ہے اور وہ 'مصلحت' کے بجائے 'حقیقت' کو قبول کرنے لگتا ہے۔

4. مابعد الطبعیاتی پہلو (Metaphysical): روح کا لمس

"وجود لمس کو محسوس کرتا ہے مگر روح عشق کو خوشبو کی طرح"—یہ جملہ تصوف کی انتہا ہے۔

تجزیہ: ہم زندگی کو صرف پانچ حواس (Senses) سے ناپتے ہیں، جبکہ اصل زندگی وہ ہے جو ان حواس سے ماورا ہے۔ خوشبو نظر نہیں آتی مگر اس کا احساس پورے وجود کو معطر کر دیتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی محبت نظر نہیں آتی، مگر وہ زندگی کے "ظاہر و باطن کو وحدتِ ایمان میں پرو دیتی ہے"۔

عشق اور بندگی کے درمیان تعلق محض دو لفظوں کا ملاپ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی کیمیا گری ہے جہاں بندگی کے ڈھانچے میں جب عشق کی روح پھونکی جاتی ہے، تو وہ انسان کو "خلیفۃ اللہ" کے درجے پر فائز کر دیتی ہے۔ آپ کی تحریر کی روشنی میں اس موضوع کی مزید گہرائی درج ذیل ہے:

1. بندگی: ضابطہ، عشق: جذبہ

بندگی نام ہے اطاعت کا، ضابطے کا، اور تسلیم و رضا کا۔ یہ ایک فریضہ ہے جو عبد (بندے) کو معبود (خالق) سے جوڑتا ہے۔ لیکن جب اس بندگی میں عشق شامل ہو جاتا ہے، تو "نماز" محض ایک حرکت نہیں رہتی بلکہ "معراج" بن جاتی ہے۔

بندگی سکھاتی ہے کہ کیا کرنا ہے؛ عشق سکھاتا ہے کہ کس طرح (والہانہ پن سے) کرنا ہے۔

بندگی میں "خوفِ خدا" توازن رکھتا ہے، جبکہ عشق میں "شوقِ خدا" بے خود کر دیتا ہے۔

2. عشقِ امتحان: روح کی تڑپ

جیسا کہ آپ نے شہد کی مکھی کی مثال دی، عشق ہمیشہ آزمائش مانگتا ہے۔ اللہ اپنے محبوب بندوں کو مشکلات کی چکی میں اس لیے ڈالتا ہے تاکہ ان کا بھروسہ مادی اسباب (پیسہ، طاقت، رشتہ) سے ٹوٹ کر صرف "وحدتِ ایمان" پر قائم ہو جائے۔

"عشق کی بھٹی میں وجود کا کوئلہ جب تک جل کر خاک نہیں ہوتا، اس میں سے بندگی کا ہیرا برآمد نہیں ہوتا۔"

3. فنا اور بقا کا سنگم

بندگی کا آخری مقام 'فنا' ہے، یعنی اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں گم کر دینا۔ جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے کہ اس کی پسند وہی ہو جائے جو اس کے رب کی پسند ہے، تو اسے عشقِ حقیقی کہتے ہیں۔

پہلا درجہ: بندگی (میں عمل کرتا ہوں کیونکہ حکم ہے)۔

دوسرا درجہ: محبت (میں عمل کرتا ہوں کیونکہ مجھے لگاؤ ہے)۔

تیسرا درجہ: عشق (میں عمل نہیں کرتا، بلکہ میرا ہر عمل میرے محبوب کی رضا کا آئینہ دار ہے)۔

4. عشق کی خوشبو اور بندگی کا لمس

وجود صرف اس چیز کو مانتا ہے جسے وہ چھو سکے (لمس)، لیکن عشق وہ لطیف احساس ہے جو "خوشبو" کی طرح روح میں رچ بس جاتا ہے۔

خوشبو کا سفر: جس طرح پھول کو توڑا جا سکتا ہے مگر اس کی خوشبو کو قید نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح ایک سچے عاشق کے جسم کو تو آزمائشوں میں جکڑا جا سکتا ہے، مگر اس کی بندگی کی خوشبو کائنات کے آخری ستارے تک رسائی پاتی ہے۔

محمود الحق صاحب! آپ کی تحریر کا نچوڑ یہی ہے کہ جب بندگی میں عشق کی خوشبو شامل ہو جائے، تو انسان مٹی کے ڈھیر سے نکل کر "سبز گنبد" اور "سیاہ غلاف" کی ابدی نسبتوں کا امین بن جاتا ہے۔

آپ کی تحریر "ذکرِ الأنفال" میں موجود عشق اور بندگی کے فلسفے کو مزید جلا بخشنے کے لیے صوفیائے کرام کے افکار سے بہتر کوئی گواہی نہیں ہو سکتی۔ مولانا رومیؒ اور علامہ اقبالؒ کے کلام سے چند ایسے انتخاب درج ذیل ہیں جو آپ کی فکر کی مکمل تائید کرتے ہیں:

1. عشق: آزمائش اور تطہیر (مولانا رومیؒ)

آپ نے لکھا کہ "اللہ اپنے گھر تک پہنچنے کے لیے آخری دنیاوی خواہش کی آزمائش کو بھی بندے پر آزماتا ہے"۔ رومیؒ اسی آزمائش کو کندن بننے کا عمل قرار دیتے ہیں:

"عشق آں شعلہ است کہ چوں بر فروخت

ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت"

(ترجمہ: عشق وہ شعلہ ہے کہ جب بھڑکتا ہے تو معشوق کے سوا جو کچھ بھی (دل میں) ہو، سب کو جلا کر خاک کر دیتا ہے۔)

آپ کی تحریر سے ربط: یہ وہی "نفیِ خیال" ہے جس کا ذکر آپ نے کیا، جہاں وجود ریزہ ریزہ ہوتا ہے تاکہ صرف اللہ کی رضا باقی رہ جائے۔

2. بندگی اور خودی کا توازن (علامہ اقبالؒ)

آپ کا نکتہ کہ "اللہ راستوں کو بندوں کی مرضی کے تابع نہیں کرتا بلکہ ان کے دلوں کو بندگی سے منور کر دیتا ہے"، اقبال کے اس شعر میں منعکس ہوتا ہے:

"عشق دمِ جبرئیل، عشق دلِ مصطفیٰؐ

عشق خدا کا رسول، عشق خدا کا کلام"

اقبال مزید کہتے ہیں کہ بندگی محض جھکنے کا نام نہیں، بلکہ خود کو اللہ کے رنگ میں رنگ لینے کا نام ہے:

"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے"

آپ کی تحریر سے ربط: جب بندہ بندگی کے اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں اس کی چاہت اللہ کی چاہت بن جائے، تو پھر "امتحان، نتیجہ اور منزل" سب ایک روشن راستہ بن جاتے ہیں۔

3. وجود کا لمس اور روح کی خوشبو (حضرت سلطان باہوؒ)

آپ نے وجود کے لمس اور روح کی خوشبو میں جو فرق بیان کیا، وہ صوفیانہ فکر کا مغز ہے۔ حضرت سلطان باہوؒ فرماتے ہیں:

"الف اللہ چمبے دی بوٹی، مرشد من وچ لائی ہو"

(ترجمہ: اللہ کے نام کی یہ چنبیلی کی بوٹی میرے مرشد نے میرے دل میں لگا دی ہے، جس کی خوشبو اب میرے پورے وجود میں رچ بس گئی ہے۔)

آپ کی تحریر سے ربط: یہ وہی "خالص جذبِ احساس" ہے جو گردشِ خون سے بھی زیادہ خالص ہو کر دعاؤں کو بے اثری سے محفوظ کر دیتا ہے۔

4. مادی زوال اور عشق کی بقا (بابا بلھے شاہؒ)

آپ نے مٹی، سیمنٹ اور کاغذ کے ٹکڑوں کی ناپائیداری کا ذکر کیا۔ بلھے شاہؒ اسی مادی دوڑ کو عشق کے سامنے ہیچ قرار دیتے ہیں:

"پڑھ پڑھ علم ہزار کتاباں، کدی اپنے آپ نوں پڑھیا نہیں

بھج بھج وڑناں مندر مسجدی، کدی اپنے من وچ وڑیا نہیں"

آپ کی تحریر سے ربط: یہ وہی "باطن کی حقیقت" ہے جو ظاہر کی قیاس آرائیوں میں پوشیدہ رہتی ہے۔ جب تک انسان اپنے من (باطن) میں نہیں اترتا، وہ مٹی اور گارے کی تبدیلیوں میں ہی الجھا رہتا ہے۔


حاصلِ مطالعہ (Synthesis):

ان صوفیاء کے کلام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی تحریر "ذکرِ الأنفال" دراصل اسی قدیم روحانی روایت کا تسلسل ہے جس میں:

بندگی ایک ضابطہ ہے جو انسان کو حدود سکھاتا ہے۔

عشق وہ قوت ہے جو ان حدود کے اندر رہ کر اسے لا محدود (رب) سے جوڑ دیتی ہے۔

 

یہ تحریر عصرِ حاضر کے ہیجان زدہ انسان کے نام ایک پیغام ہے جو مادی دوڑ میں تھک چکا ہے۔ یہ "نفیِ خودی" سے "اثباتِ حق" تک کا ایک سفر ہے، جہاں ہم سیکھتے ہیں کہ زندگی کے فیصلے ہماری عقل کے نہیں، بلکہ ربِ کریم کے "وقتِ مقررہ" کے پابند ہیں۔

محمود الحق ایک فکری قلم کار ہیں جن کی تحریروں کا محور "تطہیرِ قلب" اور "روحانی بیداری" ہے۔ آپ کا قلم آرائشِ الفاظ کے بجائے حقیقتِ بندگی کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے، تاکہ بھٹکے ہوئے مسافروں کو سمتِ عشق مل سکے۔

آپ کی تحریر "ذکرِ الأنفال" جن علمی اور روحانی چشموں سے سیراب ہے، ان کے قارئین کے لیے ایک فہرستِ مآخذ و مطالعہِ تاکہ وہ آپ کی فکر کے پس منظر کو سمجھ سکیں۔

یہ رہی ان کتب کی فہرست جو آپ کے موضوعات (تصوف، فلسفہ اور بندگی) کی بنیاد فراہم کرتی ہیں:

1. بنیادی روحانی مآخذ (Foundational Texts)

قرآن کریم (ترجمہ و تفسیر): بالخصوص سورۃ الانفال اور سورۃ الحدید کی آیات جو انفاق اور اللہ کی قدرت پر روشنی ڈالتی ہیں۔

کشف المحجوب (حضرت داتا گنج بخشؒ): تصوف اور بندگی کے آداب پر اردو زبان میں سب سے مستند اور قدیم کتاب۔

احیاء العلوم (امام غزالیؒ): انسانی نفسیات اور باطنی امراض کی اصلاح کے لیے ایک مکمل ضابطہ۔

2. فلسفہ و تصوف (Philosophy & Sufism)

مثنوی معنوی (مولانا رومیؒ): عشق اور عقل کے تضاد اور روح کے سفر کو سمجھنے کے لیے بہترین انتخاب۔

کیمیاے سعادت (امام غزالیؒ): دنیا کی بے ثباتی اور معرفتِ الٰہی کے حصول کا طریقہ۔

مکتوباتِ امام ربانی (حضرت مجدد الف ثانیؒ): شریعت اور طریقت کے امتزاج پر گہرا علمی کام۔

3. کلامِ شاعرانِ حق (Poetic Wisdom)

بالِ جبریل و ضربِ کلیم (علامہ اقبالؒ): فلسفہِ خودی، فقر اور شاہین کے تصور کے ذریعے بندگی کا جدید ادراک۔

دیوانِ غالب (چند منتخب صوفیانہ کلام): وجود اور عدم کے فلسفے پر غالب کے اشعار۔

کلیاتِ باہو (حضرت سلطان باہوؒ): ذکرِ الٰہی کی تڑپ اور عشقِ حقیقی کے جذبات۔

4. جدید فکری و اصلاحی ادب (Modern Perspectives)

کرن کرن سورج (واصف علی واصفؒ): آپ کے اسلوب سے ملتی جلتی مختصر اور جامع تحریریں جو جدید ذہن کو تصوف سے جوڑتی ہیں۔

زاویہ (اشفاق احمد): عام فہم مثالوں کے ذریعے انسانی رویوں اور اللہ کے ساتھ تعلق کی خوبصورت تشریح۔

 

در دستک >>

Oct 31, 2021

ادھوری عشق کہانی

دل تو ہمیشہ چاہا کہ وہ بات کروں جو دل پہ اثر رکھے ، دل سے نکلے لفظ روح تک پہنچیں۔ آج صرف اپنے لئے لکھ رہا ہوں  کیونکہ جو سفر اکیلے طے کیا ہو اس کی داستان سناتے سناتے ایک دہائی سے اوپر ہو گیا   اور مسافر کی عمر پانچ دہائیوں سے اوپر۔سولہ سائز کے کالر میں تیرہ سائز پہن کر بدن و گردن پر ایک مضبوط گرفت کے احساس سے نکلنے میں ایک لمحہ درکار ہوتا ہے۔ کہنے سننے کا وقت گزر جائے تو  تلاش رک جاتی ہے ۔ جاننے کی جستجو نہ رہے تو منزل رک جاتی ہے۔
جنہیں زندگی سے عشق  ہوتا ہے وہ آسائش و آرام کی گنتی کرتے ہیں ۔ آزمائشوں کے ذکر  صبر و تحمل سے بیگانہ ہوتے ہیں۔  چھوٹی گاڑیوں میں اپناسر چھت سے لگےتو پچھلی سواری کے گھٹنے کے لئے جگہ تنگ ہو جاتی ہے۔ کیونکہ  آگے پھیلتے ہیں اور پیچھے سکڑتے ہیں۔ زندگی اپنے چاہنے والوں کو مایوس نہیں کرتی، گنجائش پیدا کر دیتی ہے۔ انسان جب پھیلتا ہے تو دوسروں کو سکڑنے اور پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ چاہ کر بھی سیکھنے والے نہیں ملتے، صرف وہ ملتے ہیں جو صرف پانے کی چاہت رکھتے ہیں اور وہ  بھی اتنا کہ چند لمحات میں وہ اپنا اثر زائل کر دے ۔ زندگی جتنی مختصر ہے خواہشات کی زندگی بھی اتنی ہی محدود۔
گردش خون کی نالیاں جلد پر ابھر جاتی ہیں ،سخت زمین پر سونے سے بھی دل تک خون پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں کیونکہ قلب صرف اپنا خیال نہیں  رکھتا بلکہ پورے وجود کو فعال رکھنے کے لئے  متحرک رہتا ہے۔ جس کا کہا مانا جاتا ہے وہ دو تہائی مشقت سے چور ہو جاتا ہے اور  ایک تہائی وقت زندگی بھر استعمال کرتا ہے۔ پھر بھی تکبر کا مادہ پیدا کرنے سے باز نہیں رہتا۔  انسان اس کے زیر اثر اپنے زندگی بھر کے تجربات کی روشنی میں اندھیروں کی گہرائیوں میں جا اترتا ہے۔
فن پارہ ہو یا بت عاشق نامراد اپنے تخیل سے کینوس پر رنگ بکھیر دیتا ہے  لیکن اس میں احساس کی خوشبو سے محروم رکھتا ہے۔ خالق اپنی مخلوق کو تخلیق کے حسن سے احساس کی دعوت دیتا ہے۔لیکن انسان چولہے پر جلے  اور مشین پر ڈھلے لباس سے اپنی بقائے حیات کی جنگ لڑتا ہے۔ وہیں رہ کر دستارِ وفا کی منزلت و کبریائی چاہتا ہے۔
بوڑھے کی لاٹھی مضبوط ہو تو بڑھاپے سنبھل جاتے ہیں۔ کمر پر بوجھ بڑھ بھی جائے تو کمزور رگوں سے قلب خون کھینچ لیتا ہے ۔ بڑھاپے سپردِ لحد ہونے پر لاٹھی ٹوٹ نہیں جاتی بلکہ زمین پر ڈال دینے سے ہر مشکل اور کڑی آزمائش میں رکنے، ٹوٹنے، جھکنے اور گرنے سے بچائے رکھتی ہے۔ اپنے اپنے سفر کی کہانی ہے ، اپنی اپنی منزل کی راہ ہے، اپنے اپنے عمل کی جزاہے، جسے جو جاننا ہے وہ خود کو کریدے ، جسے جو پانا ہے وہ خود سے چاہے۔ جب سفر ایک نہیں تو نتیجہ ایک کیسے ہو گا۔ اپنی اپنی راہ ہے اپنا اپنا سفر۔ سوچ کے دھارے میں نفع و نقصان تولے جاتے ہیں۔ قلب کے استعارے خالق و مخلوق کے درمیان جزا  و رضا سے جڑے ہیں۔ راہوں سے راہیں جدا ہیں، سوچ سے سوچ بیگانہ ہے، خواہش  کے انتخاب سے آزمائش کی برداشت  حاصل اور لا حاصل کی  جنگ ِافکار ہے۔
پانے کے لئے بھاگ دوڑ ہے جینے کے لئے عیش و آرام ہے۔ کمپیوٹر کی یاد داشت کروڑوں اربوں انسانوں سے بڑھ کر ہے لیکن ایک مچھر کے پر کے برابر اس میں احساس  نہیں ہے۔ ایک سبق ہے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کا جب دوسرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کامیابی و کامرانی کے لئے ایک نسل دوسری نسل سے بہتر پلاننگ کر کے آگے بڑھ جاتی ہے۔ کامیابی و ترقی کا یہ سفر زمین کے لپیٹ دئیے جانے تک جاری رہے گا۔ اور انسان کفن میں لپٹے خالی ہاتھوں کو سپردِ لحد کرتے رہیں گے کیونکہ زندگی کی اصل حقیقت یہی ہے۔
تخلیق اپنے راستے خود اختیار کرتی ہے مخلوق سے اجازت کی طالب نہیں ہوتی۔ خشکی، تری اور ہوا میں رہنے والے اپنی جنس کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ رہتے ہیں ملتے ہیں پالتے ہیں پھر رخت سفر باندھ کر آنے والوں کو یہی موقع فراہم کرتے ہیں۔  انسان اپنے ہاں اولاد پیدا کرنے ، لڑکا یا لڑکی کی صورت بنانے کی اہلیت و اختیار سے محروم ہے۔ پھر دعوی ترقی و عروج کا کیا رہ جاتا ہے۔  پیچھے بچ جانے والے کس نئے نظام کی اصلاح و فلاح کے لئے کمربستہ رہتے ہیں؟
نیا نظام کچھ نہیں ، صرف ایک نظام ہے خالق کا تخلیق کردہ ، جس کی حقانیت قرآن سے ثابت ہے، جو سچ ہے، حقیقتِ عالم ہےجو وجود کائنات کے دائرہ اختیار پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ یقین کے ساتھ جینے میں  صبر و تحمل اور سیر و شکر کی جو رضا ہے  وہ  مٹی سے پیدا ہوئی ہر شے کو خون میں ڈھالنے جیسی ہے۔ کیونکہ زمین میں خون نہیں بنتا اور بدن میں خوشبو نہیں پیدا ہوتی۔ جس ہستی کے بدن کے بہتے پسینے میں خوشبو و مہک کا جلوہ تھا وہ خالقِ کائنات ربِ زوالجلال مالکِ دو جہان نے اپنے محبوب رسول مقبول محمد مصطفی ؑ رحمتہ للعالین کی صورت میں اس زمین پر پھیلایا۔ جن کی بدولت آج ہم اللہ سبحان و تعالی کے فرمان کی  حکم عدولی اور نافرمانی کے باوجود  اس امید کے ساتھ زندہ رہتے ہیں کہ ہم امت محمد صلی اللہ علیہ والیہ وسلم ہیں جو ہماری بخشش کے لیے ایک زریعہ ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے
ترجمہ:
"آسمانوں اور زمین  اور ان کے درمیان سلطنت اللہ کی ہے"۔ سورۃ المائدہ ۔آیت 18
"اور اس سے بہتر کس کا قول جو بلائے اللہ کی طرف اور اچھے عمل کرے اور وہ کہے بیشک میں مسلمانوں میں سے ہوں"۔ سورۃ فصلت ۔آیت 33
 
تحریر: محمودالحق

در دستک >>

Sep 28, 2020

The Force of Seclusion and Congregation / قوتِ خلوت و جلوت

در دستک >>

Sep 15, 2015

عشقِ بیکراں

اللہ کی محبت کا دم بھریں تو دو گھونٹ پانی حلق سے نیچے نہ اترے۔ قلب سنبھالے نہ سنبھلے۔سجدہ میں سر اترے تو عرش سے رحمتوں کی سوغات برسے۔ دروازے  وکھڑکی پہ متوالے دستک سے  محبت پانے کو محفل میں جھکتے عشقِ ہوا بن کر بے خود ہو جائیں۔دستکِ ہاتھ کا وہ جنون کبھی دستکِ ہوا  کی ہمسری نہیں کر سکا۔نظروں کے سامنے رہنے والوں میں وہ احساس اتنا کمزور تھا کہ دروازے سے نکلنے والی  ایک دھمک طوفانِ انتظار کی عکاس تھی۔ انہونی باتوں کے لئے انجانی کہانیاں نادانی کی تصویر دکھائی دیتی ہیں۔جس کو ہاتھ چھو سکیں اسی کا دم بھرتے ہیں۔
زندگی کے راستے جنوں کے طلبگار نہیں ہوتے۔بہتے پانی اور ہوا کے رخ چلنا آسان بھی ہوتا ہے اور فائدہ مند بھی۔ تقلید اور پیروی سب سے آسان راستہ ہوتا ہے جہاں راستوں کی نشاندہی پچھلی رو سے آگے والے کر چکے ہوتے ہیں۔صرف قدموں کی جگہ پر قدم رکھنے ہوتے ہیں جو ان کی حفاظت کے ضامن ہوتے ہیں۔ نئے راستوں کی تلاش و جستجو ان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔وہ آسان راستہ اختیار کرتے ہیں جس کی نشاندہی پہلے ان راستوں پر جانے والے کر چکے ہوتے ہیں۔پہاڑوں کے ایک طرف رہنے والے دوسری طرف بسنے والوں سے بے خبر رہتے ہیں مگر بلندیوں پر بسنے والے نیچے وادیوں میں ہر حرکت کرتی شے سے با خبر رہتے ہیں۔زمین پر رینگنے اور چلنے سے زندہ رہنے والوں سے عقل و شعور سے بسنے والے محترم اور معزز  ہو کر اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہیں۔ 
جنگلوں میں شکار ہونے والے لاکھوں چند شکار کرنے والوں کی دھاک سے کبھی شمال کی طرف بھاگتے ہیں تو کبھی جنوب کی طرف۔جو بچھڑ جاتے ہیں وہ خوف سے بے حال ہو جاتے ہیں۔ریوڑ میں واپس پہنچنے سے ان کی سانس میں   سانس واپس آتی ہے۔ چند ایک ٹولیوں میں رہنے والوں کے لئے ایسے بھولے بھٹکے مالِ غنیمت سے کم نہیں ہوتے۔ نہ ہی وہ خشکی پر محفوظ ہوتے ہیں اور نہ ہی پانی میں۔ خطرہ چاروں طرف سے انہیں گھیرے رکھتا ہے۔ زمین سے پیدا ہونے والی  ہریالی جب خون بن کر رگوں میں دوڑنے لگتی ہے تو خون پینے والے پنجوں سے انگڑائیاں لے کر  دانتوں سے حملہ آور ہونے سے پہلے آنکھوں سے گردوپیش کے حالات سے موافقت پیدا کر لیتے ہیں۔ ریوڑ میں رہنے والے چاہے کروڑوں کی تعداد میں ہوں وہ تنکے تنکے سے بوند بوند خون بناتے ہیں۔اور ٹولیوں میں رہنے والے چند ایک ان کا خون چوس کر ہڈیوں تک پہنچ جاتے ہیں جہاں ان سے کم طاقتور اپنا اپنا حصہ پانے کے لئے قریب ہی جھاڑیوں پہاڑیوں پر بچے کھچے پر نظریں گاڑیں براجمان ہوتے ہیں۔
حقیقت اور فریب میں وہی امتیاز ہے جو سیراب اور سراب میں ہے۔ بیرونی دنیا سے ملک میں ، شہر سے محلے میں،وہاں سے گھر میں داخل ہوں تو یہ جاننا اتنا مشکل نہیں ہوتا کہ وجود کی حدود کیا ہیں۔چلنے سے لے کر اونگھنے تک کھانے سے لے کر ہضم کرنے تک بچے سے بوڑھے تک اپنی حدود پہچانتے ہیں۔ اجسام انسانی میں سٹوریج کی گنجائش نہیں ہوتی۔ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو کے فارمولہ پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ وجود کا ایک حصہ دوسرے کو قرض حسنہ عطا کرتا ہے۔ قانون کی لاٹھی سے ہانکے جانے والے رنگ و نسل، زبان و بیان  سے قدر مشترک نہ  رکھ کر بھی  وحدت میں پروئے رہتے ہیں۔ مگر قانون فطرت پر عمل پیرا رہنے والے ہم نسل و نسب ہونے کے باوجود کروڑوں کی بھیڑ میں چکاچوند روشنیوں میں رہنے والوں سے الگ اپنے جلتے دیئے سے حاصل روشنی کو زندگی کے منور ہونے کے لئے کافی سمجھتے ہیں۔ 
ایک ہی سائز رکھنے والے کروڑوں افراد رنگ و ڈیزائین میں الگ الگ پسند رکھتے ہیں مگر ماپ یعنی سائز انہیں اپنے گروپ سے الگ ہونے کی تحریک پیدا نہیں ہونے دیتے۔ ایک ملک کے باسی لکڑی کے گھروں میں رہنے سے قاصر ہیں تو کسی دوسرے ملک  کے لوگ اینٹوں سے بنے گھر میں رہائش اختیار کرنے سے۔ جو جہاں جس نظام اور قانون کی پاسداری کا پابند ہے وہ وہیں ویسی ہی زندگی گزارنے کا اختیار رکھتا ہے۔ جس میں تبدیلی اس کے اختیار سے باہر ہوتی ہے۔ جس سفر کے طے کرنے میں گھنٹے درکار ہوں وہ منٹوں میں نہیں ہو سکتا، جو کام منٹوں میں ہو سکتا ہو وہ سیکنڈز میں ممکن نہیں اور جو سوچ سیکنڈ تک محدود ہو وہ ملی سیکنڈز میں خیالات کو گرفت نہیں کر سکتی۔ چولہے پر ہانڈی چڑھانا  اورتندور پر روٹی لگانا،پانی میں اترنا اور پہاڑ پر چڑھنا ہر دو صورت فن کی محتاجی رکھتا ہے۔ لیکن زندگی کی چکی میں گہیوں پیسنے سے جو آٹا حاصل ہوتا ہے وہ بہت خالص اور مقوی ہوتا ہے۔اربوں روپوں کی لاگت سے بنائی گئی شوگر ملز میں تیار کی گئی چینی ،ایک شہد کی مکھی کی پنتالیس دن کی زندگی میں  چائے کے چمچ کےبارہویں حصہ کے برابر بنائے گئے شہد جیسا ذائقہ ،لذت اور شفاء نہیں رکھتی۔ شہد کی مکھیوں کی ایک کالونی کا بیس لاکھ پھولوں سے کشید کیے گئے رس سےبنایا گیاصرف ایک پاؤنڈ شہد دنیا کی تمام شوگر ملز سے زیادہ افادیت اور تاثیر رکھتا ہے۔
خیالات کی کشید کاری سے لفظوں کا شہد بنانے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں اور الفاظ کے سمندر میں ناؤ  بہانے والے شوگر ملز میں تیار کی جانی والی چینی کی مانند ہزاروں لاکھوں اپنے اپنے لیبل سے پہچان رکھتے ہیں ۔
مولانا جلال الدین بلخی رومی،اسداللہ خاں غالب اور علامہ  ڈاکٹرمحمد اقبال  جیسے لوگوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
تحریر : محمودالحق          
در دستک >>

Aug 2, 2015

عمل کی رسی

سنبھل سنبھل کر پاؤں رکھنے سے لے کر ذہنی یکسوئی تک توازن کا رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔کشتی بنانے والا اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ پانی میں کشتی کا توازن قائم رہ سکے اور سفر کرنےوالے محفوظ بھی رہیں اور پار بھی لگ جائیں۔یہی سوچ اسے سفر کرنے والوں سے ممتاز رکھتی ہے۔کیونکہ وہ اپنے فن میں یکتا ہوتا ہے۔ تند وتیز لہروں  سے نبردآزما ہونے کے لئے انتہائی باریک سوراخ بھی در خوراعتنا نہیں سمجھے جاتے۔کیونکہ ناخدا  کشتی سے باہر کی لہروں کے تھپیڑوں سے باآسانی نپٹ لیتے ہیں مگر فرش  کے سوراخ سے اُبلتے پانی انہیں جلد ساحل پر اُترنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کیونکہ لنگرانداز ہونا  ڈوبنے سے بحر صورت بہتر ہوتا ہے۔کہنے والے کہہ چکے جان ہے تو جہان ہے۔ایسی جان جو ہمیشہ فن شناس کی قدردان رہتی ہے۔بے بہا دولت کا حصول بہترین کشتیوں اور تجربہ کار نا خداؤں کی خدمات کے حصول کا مقصد ٹھہر جاتا ہے۔جھیلوں دریاؤں آبشاروں پر سخت رسے پر چل کر پار کرنے کا زمانہ گزر چکا جب ایک وقت میں ایک انسان جان جوکھوں میں ڈال کر منزل مقصود تک رسائی پانے کی جدوجہد کرتا تھا ۔ یہ وہ وقت تھا جب کاغذی نوٹ اور علامتی سکے بننے اور ڈھلنے کے عمل سے شناسا نہیں تھے۔ 
وقت کے دھارے کے بدلنے کے ساتھ ساتھ تن آسانی کی عادت پروان چڑھتی گئی اور انفرادی محنت و مشقت  سے توازن قائم رکھنے کی روایت کمزور پڑتی گئی۔فاصلوں کو قریب کرنے کے لئے  اوروقت کو بچانے کے لئے ضرورتوں کو پھیلا دیا تو طرز طرز کی ایجادات نے جنم لینا شروع کر دیا۔جو یکبارگی کے فن کی محتاج تھی۔یہی وہ دور ہے جب انسان نے بے جان چیزوں کی کلوننگ کا آغاز کیا  اور ایک ہی خدو خال ،اوصاف و صفات جیسی ان گنت ہمشکل اشیاء کو انسانی زندگانی کی بنیادی ضروریات کا حصہ بنایا گیا۔قدرتی حسن و جمال میں اضافہ کرتے اشجار خود روئی کی بدولت جنگلات کی شان و شوکت تھے۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ شجرکاری کی مہم کی بدولت انقلابات زمانے کے رحم و کرم پر ہیں۔
رات کی تاریکیوں میں جگمگاتے ستاروں کی روشنی سونے والوں کو بیدا رہنے پر مجبور رکھتی تھی۔جنہیں اندھیروں میں بھی  راستے صاف دکھائی دیتے تھے۔راہزن پہاڑوں غاروں کو اپنا مسکن بناتے تھے۔جہاں روشنیوں کا گزر نہ ہوتا ہو۔قافلے رات کھلے میدانوں میں پڑاؤ ڈالا کرتے تھے  شمعیں روشن رکھتے تھےاور دن میں سفر  کرتے تھے۔ ستاروں کی روشنیوں نے آبادیوں کو روشنی سے وابستہ کر دیا۔یہاں تک کہ آدھی رات کا پورا چاند بھی اپنی دلکشی و حسن کی رعنائیوں سے چاہنے والوں  کی نظر التفات سے محروم ہونے لگا۔ رنگ و نور کی برسات جو آنکھوں کو خیرہ کئے دیتی تھی وہ انہیں دائرے میں روشنی کے ہالے بن کر رہ گئے۔توانائی کے استعمال سے حرارت نے دھوئیں کے بادل کے روپ اختیار کر لئےجو نظر اور نور کے درمیان چلمنِ رقیب ہو گئے۔حسن کے جلوے نظروں سے اوجھل کیا ہوئے عشق نے محبوب کے خدو خال ہی بھلا دیئے۔ 
محبت بدن کی حرارت نہیں جو قریب آنے پر تشنگی مٹا دے یہ تو روح کی بلاغت ہے جو قربت کے خیال سے رنگ و نور  اور وجدانِ عشق کے درمیان  حائل حرارت کو مٹا دے۔ عشق میں جلنے والے محبوب سے لاتعلق ہو جاتے ہیں ۔ محبوب تک رسائی چاہنے والے کشتیوں میں بیٹھ کر نہیں رسیوں پر چل کر  آگ کے دریا پار کرتے ہیں کیونکہ یہ در نہیں جو دستک سےکھل جائیں۔ فطرت کا حسن جن کے اندر پہلی نظر کی محبت ،کونپل کی طرح کھلنے اور سخت تپتی جلتی ریت پر پانی کی گرتی بوندوں کی طرح ٹھنڈک کے احساس جیسا جاگزیں ہو، تو ہر رشتہ جو جسم و جاں سے نام و نسب کی منسوبیت رکھتا ہو بے معنی ہو جاتا ہے۔یہ میان سے نکلی دو دھاری تلوار کی مانند ہے جس کے سامنے مضبوط ڈھال کے ساتھ ساتھ مضبوط گرفت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ سر پیش کرنے والے عاجزی کی مثال نہیں ہو سکتے ۔عشق زور کا طالب رہتا ہے۔جو کشش نہیں چاہت سے پروان چڑھتا ہے۔
مجازی محبت ایسی روشنی ہے جو آگ سلگانے سے پیدا ہوتی ہے جس کا اختتام جلنے پر ہوتا ہے۔عشق حقیقی قلب میں محبوب کے قرب و وصال کی باہم کشمکش سے پیدا ہوتا ہے جو روح کو منورکرتا ہے۔عمل کی مضبوط رسی ارتکاز کی کھائیوں سے باآسانی گزار دیتی ہے۔علم  سےعالم اور جاہل کا فرق نہیں جانا جا سکتا۔لفظ سوچ  کی شناخت ہوتے ہیں اور مفہوم علم و فکر کے۔ علم سوچ کی کشتی کی بجائے عمل کی رسی پر توازن قائم رکھنے کا عادی ہو تو سہارے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ 
اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے والے پار لگ جاتے ہیں۔جو توازن برقرار رکھنے کی متقاضی ہوتی ہے۔ جو قدموں کو لڑکھڑاہٹ سے باز رکھتی تو ذہن و سوچ کو قرآن و سنت پر یکسوئی پر آمادہ رکھتی ہے۔ بات علم کی ہو یا عمل کی عدم توازن سے گمراہی کی کھائیاں خوف میں مبتلا رکھتی ہیں۔ایجادات کی کلوننگ نے وجدان کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنا  سکھا دیا ہے ۔ جہاں حرارت کی غیر موجودگی ٹھنڈک اور روشنی کی عدم دستیابی اندھیرے کی تعریف ہے۔وہیں اچھائی نہ ہونے کو برائی ہی مانا جائے گا۔زندگی کے مفہوم اندورنی و بیرونی فلسفہ حیات سے اخذ نہیں کئے جا سکتے۔زمین اور چاند کا کیا تعلق ہے ۔سورج کا زمین سے کیا رشتہ ہے ۔ اندھیرے روشنی سے روشن ہیں یا روشنی اندھیرے سے بندھی ہے ۔نئے پتے کھلنے کا موسم پت جھڑ کے موسم سے الگ ۔سورج کے ایک حصہ کے قریب پہنچ کر  ہمیشہ سردی دوسرے حصہ کے قریب  ہمیشہ گرمی کی شدت۔
سورۃ الانعام 
اور اسی نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس سے ہر چیز اگنے والی نکالی پھر ہم نے اس سے سبز کھیتی نکالی جس سے ہم ایک دوسرے پرچڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے شگوفوں میں سے پھل کے جھکے ہوئے گچھے اور انگور اور زیتون اور انار کے باغ آپس میں ملتے جلتے اور جدا جدا بھی ہر ایک درخت کے پھل کو دیکھو جب وہ پھل لاتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو ان چیزوں میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔۔۹۹       

محمودالحق   
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter