Dec 12, 2010

ہم بادشاہ کے غلام ہیں بینگن کے نہیں

ہمارے ادارے کو ایک  کے میل (خیالی ای میل ) میں یہ خط موصول ہوا ہے جسےادارہ اپنی نیک نیتی سے مشتہر کر رہا ہے ۔

خط کا متن !

مجھے کسی سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنی ہے ۔ لہذا ضرورت مند پارٹیاں اپنے مکمل کوائف اور منشور کے ساتھ رابطہ کریں ۔ خاص طور پر سابقہ کارگزاری کا چارٹ منسلک کرنا نہ بھولیں ۔ جس میں منافقت ، ریا کاری ،مالی بے ضابطگی ، اقربا پروری اور رشتہ داروں کو نوازنے کی تفصیلات الگ الگ کالموں میں تفصیلا بیان ہوں ۔

شرائط :
اس بات کی یقین دہانی ضروری ہے کہ جو عہدہ یا رتبہ مجھے عنائت ہو میری زندگی کے بعد میری اولاد کا اس پر حق تسلیم کیا جائے گا ۔
مال کی بندر بانٹ میں مجھے حق سے محروم کرنے کی ہر سازش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ اور اس کی تلافی کے لئے علاقے کی نالیوں اور نالوں کی صفائی میں %25 کمیشن رکھا جائے گا ۔
پارٹی صدارت کے لئے انتخابات کے مطالبے کے خلاف دھرنہ دینے کی صورت میں ایل پی جی کا پرمٹ اور ٹیکس کی عدم ادائیگی پر قانونی چارہ جوئی سے تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔
آبدوزوں کے کمیشن ،چینی کی گراں فروشی اور ڈیزل، تیل کی قیمتوں میں ہیر پھیر سے حاصل قیادتی آمدن کا کم از کم %0.00001 لندن میں میرے لئے فلیٹ خریدنے کے لئے مختص کیا جائے گا ۔
اسمبلی کے پلیٹ فارم ( اگر پارٹی قیادت کی خوشنودی حاصل کرنے کے بعد ممبر بن پایا تو ) اور ٹی وی مناظروں ( اگر اینکر بغیر رقم لیے دعوت دیں تو ) میں جیوے جیوے کہنے اور گلا پھاڑ کر مخالف دھڑے پر لعن طعن کرنے کے عوض میرے حلقہ کی کم از کم تین زکواۃ کمیٹیوں کے فنڈز غریبوں ناداروں یتیموں بیواؤں میں تقسیم میرے بینک اکاؤنٹ سے کی جائے گی ۔

اہلیت :
میری اہلیت کا سب سے بڑا ثبوت اور گارنٹی یہ ہے کہ میرے دور و نزدیک خاندان کے اباؤاجداد میں سے کسی کا بھی تحریک پاکستان میں کوئی کردار نہیں رہا ۔
قائدین تحریک سے تو تعلق کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ اگر تعلق ثابت ہو جائے تو جو چور کی سزا وہ میری ۔
قوم کی تکلیف اور دکھڑے سننے پر نیند زیادہ اور بھوک بڑھ جاتی ہے ۔
ایک کان سے سننے اور دوسرے کان سے نکالنے کا سیاسی مزاج رکھتا ہوں ۔
عوامی مسائل پر مگر مچھ کے آنسو بہانے میں اپنا کوئی ثانی رکھتا ۔
لوگوں کو بیوقوف بنانا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ جو بچپن سے بڑوں کی سرپرستی میں کھیلتا آرہا ہوں ۔
منافع خوروں ، ٹیکس چوروں ، زخیرہ اندوزوں اور ملاوٹ خوروں میں رہ کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہے ۔
ہمارا یہ بھی ماننا ہے کی ہم بادشاہ کے غلام ہیں بینگن کے نہیں ۔
آقاؤں کی شخصیت پرستی میں ہمارے خاندان کا دور دور تک کوئی مقابلہ نہیں ۔
اس کے علاوہ سیاست میں گندگی پھیلانے کی ہماری مثالیں دی جاتی ہیں ۔
انسانوں کے علاوہ بیشتر جانوروں اور پرندوں کی عادات و اطوار کا بنظر طائر مشاہدہ کر چکے ہیں ۔
صرف امن کی فاختہ کو سمجھنے کا وقت نہیں ملا ۔
مکاری میں لومڑی ، بھوک میں شیر اور وفاداری میں کتے سے بہت متاثر ہیں ۔

موقع پرست
ایک آدنی درخواست گزار

نوٹ : ادارہ خط کے مضر اثرات سے محفوظ رہنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے

4 تبصرے:

یاسر خوامخواہ جاپانی said...

جناب آپ کا ادراہ انہی شرائط پر میرے لئے بھی کچھ ایسی ہی خدمات انجام دے دئےگا؟
ادائیگی میرے کامیاب ہونے پر ضرور کردی جائے گی۔

Anonymous said...

خط لکھنے والے کے نام
اقتدار کے بھوکوں میں ایک اور بھوکے کے اضافے پر ہمیں خوشی ہوئی ۔۔۔ہم آپ جیسے لعنتی کردار کا ساتھ دینے کے لعنتی لیڈروں کے ٹولے کو اکھٹا کرنے میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہیں ۔

عادل بھیا said...

اوووہ!!! یہ کیا تھا؟

emraaniqbal said...

عادل بھیا۔۔۔ یہ طنز تھا۔۔۔ اس سب سیاستدانوں پر، جن پر یہ کوائف پورے اترتے ہیں۔۔۔

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک