Feb 25, 2012

دنیا کی زندگی اور اس کی زینت

ان دیکھے مستقبل کے بارے میں کبھی پختہ اور مکمل یقین رہتا ہے تو کبھی شکوک و شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ اکثر بچوں کے مستقبل کو ابتدائی ایام زندگانی میں ہی تابناک مستقبل کی صورت میں پروان چڑھایا جاتا ہے ۔ مگر فیصلہ حالات اور قابلیت کی بنا پر اپنے منطقی انجام تک پہنچتا ہے ۔ ذہین بچے 80 % سے اوپر نمبروں یا اے اور اے + کے ساتھ ایکدوسرے سے بڑھ چڑھ کر مقابلے میں جیتنے پر کمر بستہ رہتے ہیں ۔ اوسط طالبعلم سکولوں سے بھاگ کر ورکشاپوں میں کام کرنے والوں سے بدرجہا بہتر شمار میں رہتے ہیں ۔ ذہانت کی درجہ بندی بچوں میں بزرگوں کے اختیار کئےگئے قوم پرستی ، فرقہ پرستی اور ذات پرستی جیسے درجوں کی طرح منقسم رہتی ہے ۔جیسے درجہ چہارم کے ملازمین درجہ اول کے افسران سے مصافحہ سے آگے تعلقات کی استواری سے محروم رہتے ہیں ۔
کب ، کیسے ، کیوں اور کہاں جیسے اکثر سوالوں کے جوابات ساحل سمندر پر رہتی ریت سے لے کر اونچے اونچے پہاڑوں پر جمے پتھروں میں اُلجھ کر رہ جاتے ہیں ۔ پہاڑوں سے اُبلتے چشمے ریت کی محبت سے محروم کیوں رہتے ہیں ۔اور کنکریوں کا ساتھ ہمیشہ کیونکر رہتا ہے ۔
یہاں نظام تعلیم ، مادی وسائل یا معاشرتی مساوات کا پوسٹ مارٹم کرنا مقصود نہیں ۔جو کہنا چاہتا ہوں اسے ایک مختصر کہانی سے سمجھانا بھی چاہوں گا ۔ اگر دل نہ مانے تو اس پر عمل کرنا بالکل ضروری نہیں ۔
فلاسفی کا ایک پروفیسر کلاس روم میں اپنے سامنے مختلف اشیاء رکھے کھڑا تھا ۔جب کلاس شروع ہوئی تو اس نے خاموشی سے ایک خالی بڑے مرتبان کو دو انچ سائز کے پتھروں سے بھر دیا ۔
پھر اس نے طالب علموں سے پوچھا کہ کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ۔
وہ یک زبان بولے : ہاں
تب پروفیسر نے کنکریوں سے بھرا ایک بکس پتھر بھرے مرتبان میں ڈال دیا ۔ اور مرتبان کو ہلکا سا شیک کیا ۔کنکریاں پتھروں کے اندر جگہ بناتی ہوئی ٹھہر گئیں ۔
تب اس نے پھر سٹوڈنٹس سے پوچھا کہ کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ۔
انہوں نے جواب میں کہا : ہاں
اس کے بعد پروفیسر نے ریت سے بھرا بکس اُٹھایا اور اسے مرتبان میں انڈیل دیا ۔ جس میں پتھر اور کنکریاں پہلے سے موجود تھے ۔ ریت نے مرتبان میں موجود ہر خالی جگہ کو پر کر دیا ۔
تب پروفیسر نے پھر اپنا سوال دھرایا : کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ؟
سٹوڈنٹس یک زبان بولے: جی ہاں
پروفیسر نے کہنا شروع کیا کہ میں تمہیں یہ شناخت کرانا چاہتا ہوں کہ یہ مرتبان تمہاری زندگی کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اور پتھر تمہاری زندگی کی ضروری چیزیں ہیں جیسے تمہاری فیملی یعنی ماں باپ ، بیوی بچے ، عزیز رشتہ دار اور تمہاری صحت ۔ اگر تم ہر چیز کو کھو بھی دیتے ہو اور یہی باقی رہتے ہیں تو پھر بھی تمہاری زندگی بھرپور رہے گی ۔کنکریاں تمہاری زندگی کے دوسرے معاملات کی نمائندگی کرتی ہیں ۔جیسے ملازمت ، گھر ، سواری وغیرہ اور ریت ان سب کے علاوہ ہر چھوٹی بڑی زینت کی چیز ہے ۔
اگر تم مرتبان میں سب سے پہلے ریت بھر دو تو پتھروں اور کنکریوں کے لئے جگہ نہیں بچے گی ۔ تمہاری زندگیاں بھی اسی طرح ہیں "۔

اگر ہم اپنی زندگی میں تمام وقت اور طاقت غیر ضروری معاملات پر صرف کر دیں گے ۔ تو ہماری زندگی میں ان کے لئے جگہ نہیں بچے گی جو ہمارے لئے اہم ہیں ۔جو ہمیں خوشی دیں ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ پہلے ترجیحات کو طے کرنا ہے ۔ جو ہمارے لئے اہم اور ضروری ہیں انہیں زندگی میں پہلے بھرنا ہو گا ۔ حقوق و فرائض کی ادائیگی کے معاملات ، تجارت کے اصول وضوابط طے شدہ ہیں ۔ ان کے لئے بڑے واضح احکامات ہیں ۔لباس کے تراش خراش میں پردہ کا لحاظ رکھنا اشد ضروری ہے ۔ اور دوسرے معاملات میں اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی ترغیب ہے ۔ تحریص کی ممانعت ہے ،علم میں رغبت ہے ، افکار میں جہت ہے ، سوچ میں مفارقت ہے ، عقل میں شراکت ہے ، نظریہ نظر شرارت ہے ، نیکی میں بہشت ہے ، عبادت میں قربت ہے ۔
جو کوئی چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی زینت ، ہم ان کے لئے ان کے عمل اس (دنیا) میں پورے کر دیں گے ۔اور اس میں ان کی کمی نہ کی جائے گی۔  ۱۵   یہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آْگ کے سوا کچھ نہیں ، اور اکارت گیا جو اس (دنیا) میں انہوں نے کیا اور جو وہ کرتے تھے نابود ہوئے ۔
سورۃ ھود ۱۶
جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور زیبائش اور ایک دوسرے پر آپس میں فخر کرنا اور ایک دوسرے پر مال اور اولاد میں زیادتی چاہنا ہے جیسے بارش کی حالت کہ اس کی سبزی نے کسانوں کو خوش کر دیا پھر وہ خشک ہو جاتی ہے تو تُو اسے زرد شدہ دیکھتا ہے پھر وہ چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور الله کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے اور دنیاکی زندگی سوائے دھوکے کے اسباب کے اور کیا ہے
سورۃ الحدید۲۰

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Feb 17, 2012

MOTIVATE, EDUCATE and ACTIVATE



ہر جگہ ہر دھاگہ جہاں کسی نے کوئی حدیث یا آیت شئیر کی تو بحث کا آغاز کر دیا جاتا ہے ۔ معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا ۔ کہ کیا اردو فورم  ٹی وی چینل کی طرح ریٹنگ بڑھانے کے لئے ہر جگہ ہر موضوع میں اعتراضات و اختلافات کی کھلی چھٹی کے فارمولہ پر عمل پیرا ہے ۔
کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرآن وسنت ہے ۔ جس کے لئے "دانشور" توپیں لئے یہیں براجمان ہیں ۔
نوجوان نسل کے اخلاق و اطوار سدھارنے کی ضرورت ہے ۔ گالی یا گولی سے سکھایا نہیں جا سکتا ۔ ویلنٹائن ڈے کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا ضروری ہے ۔
مگر جو ممالک انہیں مناتے ہیں ان کا دوسرا رخ بھی پیش کرنا چاہوں گا ۔ کہ وہ اپنی قوم کی تربیت کہاں اور کیسے کرتے ہیں ۔ اور ہمارے ہاں شہروں سے گلی محلوں حتی کہ گھروں تک میں ایسا کوئی رواج نہیں ۔ اگر ہے تو صرف لڑائی جھگڑا ، الزامات ، نفرت ، فرقہ پرستی ۔
علامہ اقبال نے ٹھیک ہی کہا تھا ! کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک!
امریکہ میں ایک 17 سالہ لڑکی نے 1999 میں اپنی موت سے پہلے ایک مضمون لکھا تھا جسے آج بھی نیشنل پروگرام کے تحت سکولوں میں سمجھایا اور بتایا جا رہا ہے ۔ مختصرا" ایک نیوز لیٹر سے اقتباس پیش کر رہا ہوں ۔

This week Elementary Schools kicked off Rachel,s Challenge , a national program that our district adopted to promote kindness and compassion towards others. Rachel,s challenge is based on the life and writings of Rachel,s Scott , a 17 year old student well known for her friendliness and compassionate nature . She wanted to change the world through small acts of kindness .Rachel wrote an essay for school stating . " I have this theory that if one person can go out of their way to show compassion then it will start a chain reaction of the same .This program encourages the students to live their life with purpose, kindness , and compassion by accepting Rachel,s 5 Challenges.
  پانچ چیلنجز کیا ہیں یہاں دیکھ سکتے ہیں

میری سب ممبران سے گزارش ہے کہ اپنی سوچ ، علم اور توانائیاں مثبت رخ پہ استعمال کریں ۔ نئی نسل کو زبر پیش میں الجھا کر ناقدین کی صفوں میں اضافہ نہ کریں ۔ بلکہ انہیں اس ملک کا ایک ذمہ دار شہری بننے میں مدد کریں ۔
قرآن و سنت سے اختلافی مسائل کو نکال نکال کر علمیت کے مینار اونچے کرنے کی بجائے ان باتوں کو شئیر کریں جو ان کے اخلاق سدھارنے میں ممد و معاون ہوں ۔ اور ایسے موضوعات کو زندہ رکھیں ۔ نا کہ انہیں "اچھی شئیرنگ ہے " " اچھی تحریر ہے " " بہت شکریہ " کا لیبل لگا کر کسی پرانے صندوق میں پرانے خطوں کی طرح ڈال دیں ۔

نوٹ :۔
 ایک اردو فورم پر لکھی گئی میری تحریر
در دستک >>

شاہیں کا جہاں اور

حال سے ماضی اچھاہو تو پچھتاوا ، برا ہو تو ایک خواب سے بڑھ کر نہیں ہوتا ۔رہنا تو بحرحال حال میں ہوتا ہے ۔اگر جان پر بن آئے تو جینا محال ہوتا ہے ۔کامیابی قدم چومے تو سر فخر سے بلند رہتا ہے ۔ ناکامی میں پاؤں کے جوتے کی دھول سر کو آتی ہے ۔زندگی محنت کا تقاضا کرتی ہے ۔ خواب کے بغیر تو لگن بھی بنا بال وپر کی ہوتی ہے ۔
اقبال نے اپنے شاہین کو بلندیوں کا تاج پہنایا ۔ جس نے پہاڑوں کی چٹانوں کو اپنا مسکن بنایا ۔ قصر سلطانی کے گنبد تو مٹی پر پڑے پتھروں سے دھول میں اَٹے ہیں ۔شاہین اپنی فطرت ، عادت اور خصلت میں دوسروں سے ممتاز رہتا ہے ۔بھوک سے نڈھال بھی مردار سے زندگی کی بھیک نہیں مانگتا ۔جینا ان کا وقار ، زندگی ان کی شکار ، جھکنے کے نہیں روادار ۔ مگر دوستی میں ہاتھوں سے اُڑ کر شکار پر لپکتے ہیں ۔خوبصورتی میں ان سے بڑھ کر بہت ہیں مگر قیمت میں ان سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔کیونکہ ان کا وقار پرواز سے ہے ۔ جینے کے انداز سے ہے ۔ حالانکہ ان کے شکار میں پرندے اور خرگوش ہی رہتے ہیں ۔
انسان کی پہچان کے اسباب میں سر فہرست گمراہی اور راست روی ہے ۔ اللہ جنہیں مومن کہہ کر مخاطب کرتا ہے ۔ وہ قصر سلطانی کے گنبد پر بسیرا نہیں کرتے ۔ جو ایسی خواہش رکھیں وہ شہباز نہیں ۔ اونچی پرواز میں کرگس بھی کم نہیں ہوتا ۔مگر بقول اقبال
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک جہان میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
جو پرواز کی طاقت رکھتے ہیں پاؤں ان کے زمین کی طاقت بھی رکھتے ہیں ۔انسان ہاتھ اور پاؤں سے زیادہ علم کی طاقت سے سرفراز ہوا ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فرشتے اللہ کے حکم سے سر بسجود ہوئے ۔ اسی علم کی بدولت انسان پہلے خشکی پھر پانی اور آخر کار ہوا میں سواری کرنے کے قابل ہوا ۔اسی طرح نیزوں ، تلواروں سے لڑتا بھڑتا توپوں ٹینکوں سے ایٹمی ہتھیار لے جانے والے میزائلوں تک ایجادات سے سرخرو ہوا ۔علم کی بدولت تسخیر کی خوبیوں سے مالا مال ہوتا گیا اور روح انسانی کو پابند سلاسل کرتا چلا گیا ۔
قید میں ضمیر قفس کے ہے ہجوم تنہائی
پابۂ زنجیر ہے نفسِ طائر رہائی
اونچی اُڑان تو ہے مگر شاہین جیسی نہیں ۔جہان کرگس کا ہو تو اُڑان بھی اسی کی ہو گی ۔
بقول اقبال !
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
اس میں مٹی کی فطرت ہے تو تحریص بھی مٹی سے ہے ۔ جس کا منبع مادیت ہے ۔
خاکی کے اوڑھنے بچھونے کو زندگی ہے پرائی
خود ہی کھیتی اُگاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ اناج پر قبضہ بھی جماتا ہے ۔ مگر مٹی نے اناج کو اُُگانے کا ڈھنگ نہ بدلا ۔ انسان کے کھانے کا ڈھنگ ضرور بدل گیا ۔ بدل تو ہر انداز گیا ۔ میلوں دوری کا فاصلہ محبت بھرے خطوط سے ناپا جاتا تھا ۔ انٹر نیٹ نے قربت کی انتہا کر دی زیادہ تر دور کے رشتوں میں ۔ اپنے خلوص بھرے خطوط سے بھی محروم ہو کر رہ گئے ۔
بھاٹی گیٹ جرمن و لندن کے قریب ہو گیا مگر لوہاری گیٹ سے دور ہو گیا ۔

تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

Feb 4, 2012

احساس تشکّر ۔۔۔۔ تم کتنے خوش قسمت ہو

ہماری آنکھیں روزانہ سینکڑوں مناظر کو ذہن میں نقش کرتی ہیں ۔ان میں سے اکثر وبیشتر بے اثر رہتے ہیں ۔ گہرے نقوش چھوڑنے والے منظر چند لمحوں سے زیادہ اثر پزیر نہیں ہوتے ۔ کیونکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دوسروں میں کیا کمی ہے ۔ہمارے پاس کون کون سی نعمتیں ہیں ، ان کا شمار کم ہی کیا جاتا ہے ۔اس سے پہلے کہ کچھ اور لکھوں ایک ماخوذ کہانی پیش کرنا چاہوں گا ۔
بینائی سے محروم ایک لڑکا بلڈنگ کے باہر سیڑھیوں پر پاوّں میں ہیٹ رکھ کر بیٹھا ایک پلے کارڈ سے آنے جانے والوں سے مدد کا طلبگار تھا ۔جس پر لکھا تھا کہ
میں اندھا ہوں برائے مہربانی میری مدد کریں ۔
اس کے ہیٹ میں صرف چند سکے موجود تھے ۔ ایک شخص اس کے پاس سے گزرا ۔ جیب ٹٹول کر چند سکے نکالے اور ہیٹ میں ڈال دئَے۔ پھر اس نے پلے کارڈ کو اُٹھایا اسے پلٹایا اور چند الفاظ لکھ کر اسے واپس وہیں رکھ دیا تاکہ پاس سے گزرنے والے نئے الفاظ کو دیکھ سکیں ۔کچھ ہی دیر میں ہیٹ سکوں سے بھر گیا ۔اندھے لڑکے کی مدد میں کافی لوگوں نے پیسے دئیے ۔
اسی دوپہر وہ شخص جو پلے کارڈ پر نئے الفاظ لکھ کر گیا تھا وہاں یہ دیکھنے کے لئے آیا ۔ کہ اب حالات کیا ہیں ۔
لڑکے نے اس کے قدموں کی چاپ سے اسے پہچان لیا ۔اور پوچھا : کیا تم نے ہی آج صبح میرے کارڈ میں تبدیلی کی تھی ۔تم نے کیا لکھا تھا ؟
وہ شخص بولا میں نے صرف سچ لکھا تھا ۔میں نے وہ کہا جو تم نے کہا ۔ مگر ایک مختلف انداز میں ۔
میں نے لکھا : آج کا دن بہت خوبصورت ہے ۔ مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا ۔
دونوں تحریروں نے لوگوں کو یہی بتایا کہ لڑکا اندھا ہے ۔
پہلا کارڈ یہ بتا رہا تھا کہ لڑکا اندھا ہے ۔ دوسرے کارڈ نے لوگوں کو  بتایا کہ 
تم کتنے خوش قسمت ہو کہ تم اندھے نہیں ہو۔
--------------
یہ کہانی سبق دیتی ہے کہ ہمارے پاس جو ہے اس کے لئے ہمیشہ شکر گزار ہونا چاہیئے ۔ مثبت  اور مختلف سوچ کو پروان چڑھائیں ۔ اگر ہم اپنی نعمتوں کو شمار کریں  تو دوسروں کی محرومیوں کا احساس جا گزیں ہو گا ۔ جو قربانی اور مدد کے جزبے کو فروغ دے گا ۔ ہماری نعمتیں جسمانی اعضاء کی تندرستی سے لے کر  مال و متاع کی فراخی تک وسیع ہیں ۔ کائنات کی وسعت ہماری عقل و شعور اور اندازے سے بالا تر ہے ۔معاشرہ جب نعمتوں کی شکر گزاری سے محروم ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ تو بے حسی کے دور کا آغاز ہوتا ہے ۔میرا کیا اور تیرا کیوں ، کی تکرار سے اجنبیت کا رحجان پرورش پاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم حکمرانی میں بھی ہر مذہب کے افراد امن وسکون سے زندہ رہتے ہیں ۔ اور مسلم حکمرانی کے باوجود ایک مذہب کے ماننے والے اپنی حفاظت کا حصار ٹوٹنے نہیں دیتے ۔
دوسروں پر سبقت لے جانے کا جنون خون کی طرح سر پر سوار رہتا ہے ۔کامیابیوں کے جھنڈے میدان میں گاڈ کر لوگوں کے دلوں میں دھاک بٹھانے سے زیادہ نشہ پاتے ہیں ۔
آئیے دیکھتے ہیں آیات قرآنی میں ہمارے لئے کیا احکام ہیں ۔ اور ان پر ہم کہاں تک عمل پیرا ہیں ۔
  ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ ایک دانہ کی مانند ہے جس سے سات بالیں اُگیں ہر بال میں سو دانے ہوں اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے بڑھاتا ہے اور اللہ وسعت والا جاننے والا ہے ۔ البقرہ ۲۶۱

 جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں پھر نہیں رکھتے خرچ کرنے کے بعد کوئی احسان ، نہ کوئی تکلیف [ پہنچاتے ہیں] ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہے ، نہ کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ البقرہ ۲۶۲
  
اچھی بات کرنا اور درگزر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے جس کے بعد ایذاء دینا ہو اور اللہ بے نیاز برد بار ہے ۔ البقرہ ۲۶۳

اے ایمان والوں ، خرچ کرو اس میں سے پاکیزہ چیزیں جو تم کماوّ اور اس میں سے جو ہم نے نکالا تمہارے لئے زمین سے اور اس میں سے گندی چیز خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو جبکہ تم خود اس کو لینے والے نہیں  مگر یہ کہ تم چشم پوشی کر جاوّ اب جان لو کہ اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے ۔ البقرہ ۲۶۷

آج کل تو والدین بھی محنت سے پال پوس کر جوان  اولاد  سے شکایات کے انبار رکھتے ہیں ۔ اولاد کے لئے والدین معاشرے میں داخل ہونے کا پہلا دروازہ ہیں ۔ جہاں سے گزر کر پلٹنے کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ حالانکہ ہماری کمائی پر پہلا حق ان کا ہے ۔جنہیں دروازہ کی پرانی چوکھٹ سمجھ کر اپنے نئے گھروں میں فٹ نہیں کیا جاتا ۔رشتہ دار ، یتیم ، مسکین کا حق تو اس کے بعد رکھا گیا ہے ۔کہنے سننے میں یہ بات عام ہے کہ معاشرہ بے حسی کا شکار ہے ۔
معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے اور انسان ہی غرض ، مفاد اور بے حسی کا شکار ہے ۔خیالات کے خزانے پہلے اپنی خواہشوں سے بھرتا ہے ۔ اوردوسرےکو  جزبات کے پیالے میں مکرو فریب بھر بھر دیتا ہے ۔
اور تمہارے پاس جو کوئی نعمت ہے سو اللہ کی طرف سے ہے ،پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف تم روتے چلاتے ہو ۔ النحل ۵۳
 

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Feb 1, 2012

ٹرپل فلٹر ٹیسٹ

قدیم یونان کے عظیم فلاسفر سقراط کے پاس اس کا ایک جاننے والا آیا ۔ اس نے سقراط سے کہا  کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے  ایک  سٹوڈنٹ کے بارے میں میں نے کیا سنا ۔
سقراط نے کہا ایک لمحے کے لئے رکو ۔ اس سے پہلے کہ تم مجھے کچھ بتاوّ۔ میں چاہتا ہوں کہ تم ایک ٹیسٹ پاس کرو ۔جس کا نام ٹرپل  فلٹر ٹیسٹ ہے ۔
سقراط نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے تم مجحے میرے سٹوڈنٹ کے متعلق بتاو۔ جو تم کہنا چاہتے ہو اس کو فلٹر کر لیتے ہیں ۔
پہلا فلٹر سچائی ہے ۔ کیا تمھیں کامل یقین ہے کہ جو تم مجھے بتانا چاہتے ہو  وہ سچ ہے ۔
نہیں : وہ شخص بولا حقیقت میں میں نے صرف سنا ہے ۔ 
ٹھیک : سقراط نے کہا کہ تم حقیقت میں یہ نہیں جانتے کہ وہ بات سچ ہے یا نہیں ۔
سقراط  نے کہا کہ اب ہم دوسرا فلٹر استعمال کرتے ہیں ۔ اچھائی کا فلٹر ۔
جو تم مجھے میرے سٹوڈنٹ کے بارے میں بتانا چاہتے ہو ۔ کیا وہ اچھی بات ہے ۔
نہیں: اس شخص نے جواب دیا ۔
سقراط نے کہا ۔ اس کا مطلب ہے کہ تم مجھے کوئی بری خبر سنانا چاہتے ہو ۔ حالانکہ تم اس کی سچائی کے بارے میں بھی یقین نہیں رکھتے ۔
سقراط نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تم اب بھی ٹیسٹ پاس کر سکتے ہو ۔کیونکہ ابھی  تیسرا فلٹر باقی ہے ۔ جو تم مجھے بتانا چاہتے ہو کیا وہ میرے لئے فائدہ مند ہے ۔
نہیں : وہ شخص گویا ہوا ۔
سقراط نے کہا کہ کیا تم مجھے وہ بات بتانا چاہتے ہو جو سچ نہیں ، اچھی  بھی نہیں اور میرے لئے فائدہ مند بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ معمولات زندگی میں کتنی ہی باتیں ا دھر سے اُدھر بغیر تحقیق کئے پھیلا دیتے ہیں ۔  مگر کبھی یہ خیال نہیں کرتے کہ جنہیں بتایا جا رہا ہے ان کے لئے اس کی افادیت کیا ہے ۔ کہیں گپ شپ اور وقت گزاری کے لئے سنی سنائی باتوں میں قیمتی وقت ضائع تو نہیں کر رہے ۔جس کا فائدہ نہ تو سننے والے کو ہوتا ہے اور نہ ہی سنانے والے کو ۔
  فتنہ پرور لوگ نفرت کا بیج بونے کے لئے محبت کے رشتوں میں سنی سنائی اور جھوٹی باتوں سے رخنہ ڈالتے ہیں ۔جنہیں سننے والے بغیر کسی حیل و حجت کے قبولیت کی سند عطا کر دیتے ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کانوں تک پہنچنے والی بات کو فلٹر ٹیسٹ سے کشیدہ کر لیں۔ تاکہ بات کی حقیقت سے زیادہ بات پہنچانے کی نیت واضح ہو سکے ۔ جو کہ اتنا مشکل اور دشوار ہر گز نہیں ہے ۔ لیکن سچائی جاننے سے زیادہ فکر اس بات کی ہوتی ہے کہ کس نے کیا کہا ۔چاہے ہمیں اس کا کوئی فائدہ نہ ہو ۔
یہ ایک عمومی رویہ ہے جو ہم اپنی دانست میں بہتری کی نیت سے پروان چڑھاتے ہیں ۔سنانے والے الفاظ کا سہارا لیتے ہیں ، سننے والے کانوں کا۔ مگر تحقیق کے چند بول بولنے سے کمزور پڑ جاتے ہیں ۔
سقراط  جس دور کا فلاسفر تھا وہاں جہالت کی تاریکی زیادہ تھی ۔وہ قرآنی تعلیمات کے روشن باب کا دور نہیں تھا ۔مگر معاشرتی و اخلاقی اقدار پر اس کا تجزیہ عملی فضیلت  سے زیادہ حقیقت اشنائی کا سبق دیتا ہے ۔
آج ہمیں کسی سقراط کے حاصل کئے گئے نتائج سے اپنی زندگی کے معاملات کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ ہمارے پاس وہ پاک کتاب ہے کہ جس کے ایک ایک حرف سے انسانیت  کی بھلائی ، محبت کی پزیرائی اور حقیقت کی سچائی ٹپکتی ہے ۔جسے پانے کی چاہت ہو اسے ہر آیت میں حکم خداوندی نظر آتا ہے ۔ جن پر عمل پیرا ہونا فرض کی ادائیگی کا فرمان ثبت ہوتا ہے ۔
قرآن پاک کی آیات مخلوق خدا کے لئے ہیں ۔ مگر ان کی تلاش بعض مواقع پر ثابت کرنے کے لئے کی جاتی ہیں ۔ان میں ہر بری 
بات سے منع کیا گیا ہے اور اچھائی کی ترغیب دی گئی ہے ۔

وہ جسے چاہتا ہے حکمت( دانائی )عطا کرتا ہے ۔اور جسے حکمت دی گئی اسے بہت بھلائی ملی  ۔ " سورۃ البقرہ ۲۶۹ 
آج کل مختلف فورمز  پر مذہبی مباحث میں قرآن و سنت پر علمیت کے علم اٹھائے حکمت و دانائی سے محروم تفرقہ بازی  میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ نئی نسل کو بحث و مباحث  کے ذریعے  قرآنی تعلیمات  کا اصل مفہوم  پہنچانے کے فرض منصبی کے دعوی دار نظر آتے ہیں ۔
 اللہ تبارک تعالی فرماتا ہے
وہی تو ہے جس نے آپ ﷺ پر کتاب نازل کی ۔ اس میں محکم ( پختہ ) آیتیں ہیں ۔ وہ کتاب کی اصل ہیں ۔اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ  ہے  پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے ۔ وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں  ۔ فساد ( گمراہی) کی غرض سے اور اس کا ( غلط ) مطلب ڈھونڈنے کی غرض سے اور اس کا مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔
سورۃ آل عمران ۷


تحریر :محمودالحق
در دستک >>

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک