Jan 10, 2017

اطاعت و بندگی

زندگی کی چکاچوند روشنیوں سے اندھیرے مٹانے کے لئے مستعار تیل لے کر چراغ بھرتے رہتے ہیں، زندگی کی شام ڈھلتی رہتی ہے ، اندھیرے پھیلتے رہتے ہیں ، نہ سفر تمام ہوتا ہے اور نہ ہی دل کے دئیے روشن ہوتے ہیں۔ بس ایک تماشا ہے جو آنکھوں کی پتلیوں نے دیکھا۔ کبھی کبھار سوچ ایسی جادوئی قوت سے بھرپور وار کرتی ہے کہ عمل تیز دھار تلوار کے سامنے ایک کمزور شاخ کی طرح کٹ کٹ کر گرتے جاتے ہیں۔ وجود شکست خوردہ فوج کی طرح ہتھیار پھینک کر قیدی ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات فتح غافل کر دیتی ہے اور کبھی شکست مضبوط حصار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ماضی کی کمزور اور کچی دیواریں آج قدآور بلند ستونوں پر محرابوں سے مزین بلند و بالا عبادت گاہیں عازم مسافران کو خالق حقیقی کے جاہ و جلال، اختیار قدرت اور انجام بے خبری کے لئے نوشتہ دیوار ہیں۔ نئے آنے والے جانے والوں کے قدموں کے نشانات کی کھوج میں رہتے ہیں۔ مگر قدموں کےنشان تو ان کے پھتر بھی محفوظ کرنے کے پابند ہوتے ہیں جو ویرانوں میں بیوی اور بچہ چھوڑ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک تعالی انہیں مقام ابراھیم بنا کر اپنے گھر کے سامنے محفوظ کر دیتا ہے۔ اللہ جنہیں محبوب بنا لیتا ہے انہیں مشعل راہ بنا دیتا ہے۔ زمین کی تاریکیوں میں اتر کر بھی نشان راہ بن جاتے ہیں۔ تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں پر خطر راہ عشق کے امتحاں اتنے آساں بھی نہیں کہ ایک جھلک دیکھنے کے لئے رو برو ہو جائیں۔ زندگی ایک ایسا امتحان ہے جس کے جواب رٹے رٹائے ہیں مگر جو سوال لوح و قلم سے لکھے گئے ہیں ان کے جواب عمل کی سیاہی سے دستور حیات کے کاغذ پہ لکھے جاتے ہیں۔ سائل کتابیں کھول کھول دعاوں میں ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ جہاں ایک نقطہ سے مفہوم بدل جانے کا ڈر لگا رہتا ہے۔ خوبصورت منظر کشی کرنے والے رائیٹر ہو سکتے ہیں یا پینٹر۔ آرٹ کے قدیم گراں قدر نمونے ناقابل یقین قیمتوں پر فروخت ہوتے ہیں۔ مگر وہ گلاب کے پھول کی ایک پنکھڑی سے بھی بیش قیمت نہیں ہو سکتے۔ باغوں بہاروں، پہاڑوں اور نخلستانوں میں بارش کی ہر بوند کا ایک ہی رنگ و ذائقہ ہے مگر جب زمین سے نکالا جائے تو تاثیر بدل جاتی ہے۔ اللہ تبارک تعالی کا فرمان قرآن ایک ہی ہے مگر ہر جگہ کی تاثیر الگ الگ۔ سونا بنانے کا فارمولہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ زندگی بھول جاتے ہیں مگر سونا تو ڈھونڈ کر نکالا جاتا ہے ، پھر بھٹی میں پکا کر ڈھالا جاتا ہے۔ ہیرے جڑے نگینے کی قیمت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ عشق مجازی میں ہر شے قابل خرید و فروخت ہوتی ہے۔ مگر عشق حقیقی میں دام نہیں ہوتے الفت ہوتی ہے۔ دنیاوی غرض و غایت ایک طرف اور آخروی خواہش خیر دوسری طرف کھڑی ہو تو ایک نظر میں صرف ایک ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ تفریق کرنے والے ہی راہ پانے والے ہیں۔ جو آنکھ اے بی سی کی شناخت سے کھلی ہو وہ الف ب پ کو سمجھنے سے قاصر ہو گی۔ لفظ کتابوں سے نکل کر خوشبو کی طرح ہواوں کو معطر کر دیں تو ان کی قیمت کا تعین کرنا بس میں نہیں ہو سکتا۔ لفظ حق کے داعی ہوتے ہیں۔ جو سچ جاننے والوں کو مانتے ہیں۔ مسجد نبوی کے خوشبو بھرے صحن میں بیٹھا جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو میرا ذہن زیارات مدینہ کی خوشبو بھری یادوں میں سلتا جا رہا ہے۔ کتنے عظیم لوگ تھے جنہوں نے اللہ کی بندگی اور رسول صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کی اطاعت میں زندگیاں وقف کر دیں۔ جو قرآن کی ابتدائی آیات پر ایمان لے آئے۔ ہمارے پاس تو مکمل قرآن پاک ہے۔ اللہ تبارک تعالی ہمیں ایمان کی سلامتی دے اور حق پر رہنے اور سچ کہنے کی قوت ایمانی سے سرفراز کرے آمین محمودالحق

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک