Aug 19, 2011

ایک سوال ادھورا جواب

پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر میں اگر ٹریفک سگنل کے چاروں اطراف کی سرخ لائٹ کو بلنک کر دیا جائے ۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چاروں اطراف کی ٹریفک دیکھ بھال کر اور پہلے آئیے پہلے جائیے کے کلیہ پر عمل پیرا ہو تو ہمارے ہاں ایسے چوک میں کیا منظر ہو گا ۔ جہاں کوئی پولیس کا سپاہی بھی تعینات نہ ہو ۔ یقینا طوفان بد تمیزی ہو گا ۔ ہر سواری پہلے گزرنے کو اپنا حق اولین سمجھتی ہے ۔ بلکہ یہاں تک بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سرخ لائٹ پر بھی زیادہ دیر تک رکنا محال ہوتا ہے ۔ بلا وجہ ہارن بجانا مشغلہ ایسا ہے جیسا اسمبلی میں ڈیسک بجانا ۔
ہم اکثر سنتے ہیں کہ ہم بحیثیت قوم ایسی با کمال خوبیوں کے مالک ہیں کہ علامہ اقبال کو بھی یہ کہنا پڑا کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔ بلا شبہ مٹی تو زرخیز ہے جسے پانے کے لئے سنٹرل ایشیا سے لے کر یورپ تک کے حکمران ایک دوسرے کو دھول چٹواتے رہے ۔ مگر آخر کار مقامی افراد کو اپنی مٹی کی زرخیزی کو سونا بنانے کا حق مل گیا ۔ سونے کی چڑیا سمجھ کر مغربی حکمران کوہ نور تاج میں سجا کر پلٹ جانے میں ہی عافیت پا گئے ۔ منٹو پارک کے اجلاس نے جو بنیاد رکھی ۔ اقبال پارک بن کر اسے دھرنا اور جلوس سے پورا کیا جاتا رہا ۔
انگریز کی لاٹھی اور گولی کا بدلہ اس کے جانے کے بعد توڑ پھوڑ سے لینے کی کوشش آج تک جاری ہے ۔ حکمران بدل گئے مگر لاٹھی اور گولی کی سرکار نہیں بدلی ۔ بدلے بھی کیسے قانون 1861 کو ہی چند تبدیلیوں کے ساتھ جاری و ساری رکھا جاتا رہا ۔ اگر پوچھا جائے کہ جناب کیسے جاری ہے تو خبر کا حوالہ دینے میں کیا حرج ہے آرڈیننس کے تحت صوبے میں کمشنری نظام، سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979ءاور پولیس ایکٹ 1861ءبحال ہوگئے ہیں۔
اگرعلامہ صاحب جانتے کہ بنیادی ڈھانچہ تبدیل کرنے میں چونسٹھ سال بھی کافی نہیں ہوں گے تو زرا نم کی بجائے پوری طرح سیراب کرنے کی بات کرتے ۔ 1930 ، 1933 کی گول میز کانفرنسز کی ناکامی کے بعد دل برداشتہ قائد قوم کو ان مسلمانوں کی دگرگوں حالت زار کا حوالہ دے کر طوفان میں پھنسی کشتی کو نکالنے کے لئے خط نہ لکھتے ۔ کیونکہ مسلم لیگ کا نیا دھڑا سر شفیع کی قیادت میں مسلمانوں کی قیادت کا ترجمان نہیں تھا ۔ مگر کام ہونے کے بعد اب سب ہی ترجمانی کے دعوی دار ہیں ۔
بات تو ہو رہی تھی ٹریفک سگنل پر رکے مسافروں کی ۔ جا پہنچی آزادی کے متوالوں تک ۔ فکر کی کوئی بات نہیں قلمکار کا قلم بھی رکشہ کی طرح اپنے پاؤں پلٹنا جانتا ہے ۔ مارشل لاء کی سرخ بتی پر کئی کئی سال رکا رہتا ہے ۔ جمہوریت کی سبز بتی پر رفتار تیز کر لیتا ہے ۔
قائداعظم نے اتحاد اور نظم و ضبط کا بھی درس دیا تھا ۔ جسے یقین کے ساتھ بھٹو نے ایوب کے خلاف استعمال کیا اور بھٹو کے خلاف خود قومی اتحاد نے ۔ پھر اس کے بعد تو دس سال تک نظم و ضبط کا خوب مظاہرہ ہوا ۔ اور اس کے بعد اب تک صرف برداشت کے مظاہرے ہیں ۔ مظاہرے تو بے شمار ہیں ان کے احوال کے لئے کتاب لکھنا ہو گی ۔ کتاب کے لئے ایک عدد مصنف درکار ہوتا ہے اور چھاپنے کے لئے پبلشر اور ان سب کے لئے رقم کی مدد درکار ہوتی ہے ۔ صرف توڑ پھوڑ کی کہانی پر زر کثیر خرچ کرنا دانائی نہیں ۔ قومی معاملہ پر اس بے اعتناعی کو بزدلی سے محمول نہ کیا جائے ۔ کیونکہ
وہ اور ہوں گے کنارے سے دیکھنے والے
ہماری نہ پوچھ ہم نے تو طوفاں کے ناز اٹھائے ہیں
اس میں کیا شک ہے کہ بعض بے گناہوں نے تو کوڑے بھی کھائے ہیں ۔ اب بے چارے وہ کوڑے کے ڈھیر کے قریب بسیرا رکھتے ہیں ۔ جو اس وقت کچھ کھانے سے محروم رہ گئے تھے اب ان کے کھانے کے دن ہیں ۔
قلم بار بار پتنگ کی طرح ایک ہی طرف کنی کھائے جا رہا ہے ۔ کیا کریں برابر کرنے کے لئے کوئی میرے قائد کا جانشین نہیں ہے ۔ ولی عہد تو بہت ہیں جو تیز ہوتی ہوا میں مزید کنی کھانے کے لئے قوم کی امنگوں کی پتنگ کو مزید ہوا دے رہے ہیں ۔
اتنی لمبی تمہید باندھنے کی ضرورت پیش آنے کی وجہ بھی تو دینی پڑے گی وگرنہ اعتراض باندھنے میں حجت سے کام کیوں نہ لیا جائے گا ۔ کیونکہ نئی بات تو اس میں ایک بھی نہیں ۔ جب قائد ہی بھلا دیا تو صرف تاریخ پڑھا کر کیا سبق یاد کروایا جا سکتا ہے ۔ باد مخالف سے تو عقاب نہیں گھبرایا کرتے مگر الفاظ سیاہی سے ضرور گھبراتے ہیں کیونکہ سیاہی ہر شے کو سیاہی میں ڈبو دیتی ہے ۔ روشنی کے مینار بہت دور دکھائی دیتے ہیں ۔ لیکن جب اندھیرے سے روشنی کے دائرے میں داخل ہو جائیں تو روشنی کے منبع کی طرف دیکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔


نوٹ ! ایک بار مغرب کی ایک شاہراہ پر سرخ بتی کو بلنک کرتے ہوئے چاروں اطراف دور دور تک پھیلی لمبی ٹریفک کو انسانی ہجوم سے بہتر انداز میں ایثار و رواداری ، نظم و ضبط کی پابندی میں دیکھا تو حیرانی ہوئی جو گاڑی اپنی حدود سے اگے چوک تک پہنچتی تو تمام گاڑیاں اس کے انتظار میں ایسے مودب کھڑے رہتے جیسے ہماری سڑکوں پر حکمرانوں کے قافلے گزرنے پر قوم کو انتظار کی سولی پر مودب کھڑا کیا جاتا ہے ۔
قومیں صرف کھوکھلے نعروں اور دعوؤں سے عظیم نہیں ہوتی بلکہ اپنے عمل و کردار سے اس مقام تک پہنچتی ہیں ۔

تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

Aug 14, 2011

جشن آزادی مبارک تمہیں ۔۔۔ دیا سے دیا جلاؤ

پاکستان کی آزادی کو آج چونسٹھ سال ہو چکے ۔ ایک قوم نے ایک وطن کی بنیاد رکھی ۔ ایک رہنما نے رہنمائی کی شمع جلائی ۔ قوم کے ہاتھوں میں ایک امید کا دیا تھما دیا ۔ جو دئیے سے دیا جلانے کی کوشش کے انتظار میں خود دیا ٹمٹماتا رہا ۔ بجھانے کی نیت رکھنے والے منہ کی کھاتے رہے ۔ آس ٹوٹی نہ امید ۔ جشن آزادی کی نعمت سے جگمگاتے منور ہو گئے ۔ حقیقی خوشی سے محروم طبقہ عارضی پن سے نعمتوں کا شکر بجا لانے میں کسر نفسی کا شکار رہا ۔ قوم چھتوں پر جھنڈیاں پھیلائے جشن کو آزادی کے ترانوں سے گنگناتی رہی ۔
بہت کچھ کھونے کے بعد بہت کچھ پایا تھا ۔ جو اسلام کا گہوارہ بننے میں بیتاب تھا ۔ اصول سیاست میں رہنما تو اصول معاش میں مساوات کے ترازو کے ہر پلڑے میں انصاف برابر یقین محکم تھا ۔
لیکن آج صبح عجب تھی ایس ایم ایس جو ملا شکایت سے بھرا شکوؤں سے تلا بے بسی سے تلملاتا پیغام آزادی کے رنگ سے ہرا تھا ۔ یہ جھنڈا سفید و سبز رنگ سے لہراتا خون آشوب شام کا سویرا تھا ۔ جو نئے چاند کو پہلو میں دبائے چمکتے ستارے سے روشنی پھیلانے کو بیتابی کا مظہر ہے ۔
اٹھاون کا مارشل لاء، پینسٹھ کی جنگ ۔ 71 کی آدھے وجود سے جدائی کے بعد پے در پے صدمات کا بوجھ کندھوں پر ایسے اٹھاتا چلا گیا جیسے باپ کے کندھوں پر نادان معصوم بچپن سوار ہو کر گہرے پانی سے گزر جاتا ہے ۔
آج ان کندھوں کو توانا اور طاقتور بازوؤں کے سہارے کی ضرورت ہے ۔ تو بازو بغلگیر ہونے سے گھبراہٹ کا شکار ہیں کہیں تنگدستی نے تو کہیں تنگیء داماں نے ہاتھ روک رکھا ہے ۔ خون بہانے سے نئی زندگی کو جلا نہیں ملتی ۔ اور جلانے سے جفا نہیں ملتی ۔ وفا کی سیڑھی محبت کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔ اور محبت آسمان پر پھیلے قوس و قزح کے رنگوں تک ۔محبت تو وسیلہ ہے وفا کو منزل تک پہنچانے کی ۔
وطن ہر وقت دینے کا متمنی رہتا ہے ۔ قوم لینے میں بیتاب ۔ لیکن آج وقت نے آنکھوں سے پٹی کھول رکھی ہے ۔ لینے والے آج دینے میں تاءمل کیوں کریں ۔رگوں میں دوڑتے سرخ گرم لہو میں جو جوش زیادہ دیتے ہیں ۔ ان نوجوانوں کے عزم و حوصلہ کو ایک دھاگہ میں پرونے کی ضرورت آن پڑی ہے ۔ جہاں دانہ دانہ سے چپکا دانائی کی لڑی سے جڑا ہے ۔ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت نہیں جوش کی گانٹھوں کو وفا کے دھاگوں کی مزید ضرورت ہے ۔
جو کامیاب دکھائی دیتے ہیں وہ دراصل ناکام ہیں ۔ ہوس حرص کی محبت وفا کی چاشنی سے لبریز نہیں ۔
گاڑیوں کی رفتار ہارن کی آواز سونے کی جھنکار زندگی کے ساز نہیں ۔ سازندے ہاتھوں کے جادو سے آنکھوں کو چندھیا نے میں شعبدہ باز تو ہوں گے مگر پاکباز نہیں ۔
کیوں نہ آج یہ عہد کریں محلہ محلہ گلی گلی دھواں پھیلاتی موٹر سائیکل سے موٹر اتار کر دودھ دہی ، برگر ، پیپسی لانے میں دو پیڈل کا سہارا لیں ۔ جو بچت بھی ہے ۔ صحت بھی رکھے اچھی فارغ وقت کا بہترین مصرف بھی ۔ ٹریفک کے شور سے پاک ، انتظار کی کوفت سے دور فاصلوں کے قریب ہونے میں مددگار بھی ہوتی ہے ۔ دئیے سے دیا جلاؤ ۔ دوسروں کے محل دیکھ کر اپنی جھونپڑی مت گراؤ ۔ منزل تک پہنچنے کے لئے رفتار بڑھانے کی بجائے قدم بڑھاؤ ۔ جو قدم سے قدم ملائے گا ۔ ایک مقصد کو پہلےاپنا نصب العین بناؤ ۔ ایک کے بعد ایک رسم ضیاع کو تختہ مشق بناؤ ۔ رئیسی کی طفلانہ حرکت بچگانہ پر صرف مسکراؤ ۔
نہ گھیراؤ نہ ہی کچھ جلاؤ ۔ صرف دیا سے دیا جلاؤ

محمودالحق
در دستک >>

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک