Feb 28, 2017

تعلیم جمہوریت کا جھومر

ادب سے میرا رشتہ سیاستدانوں کے جمہوریت سے تعلق جیسانہیں ،  لیکن لکھنا اتنا ہی عزیز ہے جتنی انہیں سیاست ۔ اردو زبان کی ترقی و ترویج کا داعی تو نہیں مگر خیر خواہی میں کسی طور کم نہیں۔ فرق صرف اتنا سا ہے کہ  ادب دورِ حاضر میں نفع  بخش نہیں بلکہ بےقیمت ہوتا ہے ۔نئے دور میں صرف نئی سوچ  ہی انہیں قبولیت کی سند عطا کرتی ہے۔ادب ،سیاست میں نظریہ کی طرح نہیں بلکہ فکر کی صورت پروان چڑھتا ہے جو تالیوں کا محتاج نہیں ہوتا۔اخبارات و رسائل چھپنے کے ایک روز بعد ہی پرانے ہو کر پکوڑے کچوریوں سے لپٹ کر تیل آلود ہو جاتے ہیں۔ادب  تحسین و پزیرائی کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ وقت گزرنے کے انتطار میں ہوتا ہے اولڈ از گولڈ کی مانند چمکتا ہے۔اقبالیات و غالبیات  اشرافیہ سے مراعات کے سند یافتہ نہیں بلکہ ایک سوچ و نظریہ کے غماز ہیں۔
بچوں کو سکول حصول تعلیم سے زیادہ حسن تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے بھیجا جاتا ہےتاکہ وہ حسن پرستوں کے منظور نظر بن جائیں۔ معاشرے میں فردِ خاص کا مقام حاصل کر کے افرادِ عام پر قابلیت اور برتری کا سکہ جما سکیں۔نظام تعلیم ذہنی آزادی کی بجائے محرومی کے غلام پیدا کر رہا ہے۔ اردو بازار لاہور ایک ایسی "درسگاہ "ہے جہاں رٹے کے لئے پکے پکائے پکوان تیار ملتے ہیں اور گلی محلے کی بک شاپ  پر خلاصہ جات کے ساتھ گیس پیپرز کی تعداد  بھی مضامین  کی کتب سے کسی صورت کم نہیں ۔جن درسگاہوں میں  پانچ سو روپے سے پچاس ہزار تک ماہانہ فیس میں تعلیم بیچی جا رہی ہو ،ان میں قابلیت کے معیار کو جانچنے کے لئے  انگلش لب و لہجہ درجہ بندی میں اول مانا جاتا ہو۔ان حالات میں ردی کے کاغذوں پر اسائنمنٹس مکمل کرنے، مانگ کر کتابیں پڑھنے ، بسوں پر لٹک کر سفر کرنے ، سال سال بھر دوسرے جوتے کے لئے ترسنے  ، ڈرائنگ روم کے ایک کونے میں چٹائی پر پڑھنے اور  وہیں رات بھرسونے والا نوجوان چاہے جتنا بھی قابل اور اہل کیوں نہ ہو  ۔سفارش کی سیڑھی سے رشوت کی بیل تک بمشکل رسائی پا بھی لےمگر گوگل کا دو ارب سے زیادہ   سالانہ تنخواہ پانے والا چیف ایگزیکٹو نہیں بن سکے گا لیکن ایسا ہندی لہجے میں انگریزی بولنے والے سندر راجن پچائی  نے گوگل کا   سی ای او بن کرثابت کر دکھایا۔ 
ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے نکلنے میں قائد نے ہماری رہنمائی کی اقبال نے راہ دکھائی۔  سکول میں ایک لطیفہ سنا کرتے تھے کہ ایک دن جب استاد نے طالبعلم سے سکول دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو طالبعلم نے کہا کہ بارش کی وجہ سے کیچڑ بہت تھا دو قدم سکول کی طرف چلتا تو چار قدم پیچھے پھسل جاتا ۔ استاد نے حیران ہو کر پوچھا پھر سکول کیسے پہنچے تو طالبعلم نے جواب میں کہا کہ میں نے اپنا منہ گھر کی طرف کر لیا تھا۔ آج ہمارے نظام تعلیم کا حال بارش میں کیچڑ بھرے راستے جیسا ہے ، ہم آگے نہیں بڑھ پا رہے ہمیں اپنا منہ اقبال و قائد کی طرف کرنا ہو گا۔ سوچ کے نئے در کھولنے ہوں گے جہاں سچ اور حق کہنے اور ایمانداری کا علم اُٹھانے والوں کو بڑی حیرانی سے نہ دیکھا جا سکے۔پوش علاقوں میں رہنا کسی کے لئے مقامِ فخر نہ ہو۔ بیوروکریٹ اتنا گریٹ نہ ہو کہ عوام کی حیثیت کنکریٹ جیسی ہو۔ جہاں گھریلو خدمتگار کو تنخواہ کے عوض  باندی و غلام  نہ بنا کر رکھا جائے۔
 ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی شدید خواہش مقابلے کی بجائے حدود کو پھلانگنے تک چلی جاتی ہے جس کا سب سے پہلا شکار  رشتے اور تعلق ہوتے ہیں جنہیں غرض و مفاد کے ہاتھیوں کے پاؤں تلے روندا جاتا ہے۔جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے کے جنون میں کامیابی کے زینے چڑھے جاتے ہیں۔کھونے کا خوف اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ پانے کی لذت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ برتری کے نشہ میں سرشاری کا لطف اُٹھانے کے لئے مجبوری و لاچاری پر جملہ کسنا یا ہنسنا فیشن بن جاتا ہے۔
مسٹر بننے والے منسٹر کے خواب آنکھوں میں بسا لیتے ہیں جو چیف کی کرسی پر نظریں جما کر رکھتے ہیں اور چیف ،پرائم  کی حیثیت پانے میں سخت تگ و دو سے دوچار رہتے ہیں۔تاریخ شاہد ہےسکندر یونانی عالم شباب میں دنیا کی فتح کا خواب آنکھوں میں لے کر دنیا  سے  ہی چلا گیا۔قطب الدین ایبک سے ابراہیم لودھی اور بابر  سے بہادر شاہ ظفر تک عروج و زوال کی بیشمار داستانیں ہیں۔سکھوں مرہٹوں سے افغانیوں ،پرتگالیوں ،فرانسیسیوں اور انگریزوں تک اس خطے کی قسمت میں گھوڑوں کے ٹاپوں کی چاپ تھیں پھر ریل گاڑیوں کی چھک چھک ۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے پہلے  مغل شاہی ادوار میں تعلیم کےسواصرف باغات،محلات،مقبرے،قلعے ہی مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کی عظیم نشانیاں ہیں۔آج تک وہی مغلائی اندازِ حکمرانی اختیار کیا گیا ہے ۔ اس قوم کے مزاج میں رتی بھر تبدیلی نہیں آئی ، اسی لئے وہ آج صدیوں بعد بھی سڑکوں پلوں کی تعمیر شاہی پر حکمران چنتے ہیں بلکہ ان کی نا اہل اولادوں کے راستوں میں بھی پلکیں بچھاتے ہیں۔
تعلیم جمہوریت کا جھومر ہے بادشاہت کے لئے زہر ہے۔کون  ایسا عاقبت نا اندیش سیاستدان ہو گا جو اپنے وارثان کے لئے سیاسی غلامان کی بجائے آزاد   سوچ کے حامل بااختیارانسان سیاسی ورثے میں چھوڑےگا۔

تحریر : محمودالحق 
       

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک