Feb 26, 2020

Top 100 Math Blogs for Students and Teachers

اکتوبر 2018 میں پہلی بار میں نمبرز کی دنیا سے روشناس ہوا۔  میرا علم سکول میں حساب کی کتاب تک تھا۔ آج میں ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوں کیونکہ Feedspot کی طرف سے مجھے موصول ہونے والی ای میل میں  میرے بلاگ  Math Magic Mystery کو اپنی ویب پر صرف شامل ہی نہیں کیا گیا بلکہ Top 100 Math Blogs  کی فہرست  میں 97 ویں نمبرپر رکھا۔ جو کہ میرے جیسے ریاضی سے نا بلد انسان کے لئے باعث فخر ہے۔ در دستک کی طرح    Math Magic Mystery بھی  صرف اور صرف عطائے رب العزت ہے ۔ 

Hi Rana,

My name is Anuj Agarwal, I'm the Founder of Feedspot.
Thanks for submitting your blog Math Magic Mystery on Feedspot.

I would like to personally congratulate you as your blog Math Magic Mystery has been selected by our panelist as one of the Top 100 Math Blogs on the web.


I personally give you a high-five and want to thank you for your contribution to this world. This is the most comprehensive list of Top 100 Math Blogs on the internet and I'm honored to have you as part of this!

Best,
Anuj





در دستک >>

Feb 19, 2020

سچے کلام کی شدتِ چاہ


بادلوں اور پرندوں کی دسترس سے باہر38 ہزار فٹ کی بلندی پر نیویارک سے لاہور جاتے ہوئے  مسافروں پر اُچٹکتی نگاہ ڈالی تو اپنوں سے ملنے کی خوشی اُن کے چہروں سے عیاں تھی۔ میں ہزاروں ڈالرز کا نقصان اُٹھانے کے بعد اپنی بچی کچھی جمع پونجی کو سمیٹے سرشاری سے بھرپور نشے کی حالت میں تھا۔
"وہ کون سی پاک کتاب ہے جسے خدائے زوالجلال نے جیسے اُتارا وہ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے" سوال کرنے والے کے چہرے پر بے چینی و اضطراری کھلی کتاب کے اوراق کی مانند  بے ترتیبی اور الجھن کا اظہار کر رہی تھی۔پیشانی پہ پڑیں گہری سلوٹیں دنیا سے اُس کی بیزاری کی چغلی کر رہی تھیں۔ میرےچہرے پر ایک لمحے کے لئے حیرانگی نے ایک تاثر ابھارا  ۔ اس کی بیوی کے بقول (جو میرے گیس سٹیشن و سٹور پر ملازم تھی) وہ  توایک نفسیاتی مریض تھا جسے ڈاکٹر کی تجویز کردہ میڈیسن نے شانت رکھا ہوا ہے ۔
سوال پوچھنے والے گورے نوجوان کو میں نے بتایا کہ وہ قرآن پاک ہےجو نازل ہونے کے بعد سے اب تک خالق کائنات کی عظمت کی گواہی دیتا ہے اور وہ حرف بہ حرف اپنی اصل حالت میں ہے۔ اتنا سن کر وہ خاموشی سے  سٹور سےباہر نکل گیا۔ ایک ہفتہ بعد وہی گورا نوجوان پٹرول ڈلوانے کے بعد ایک بار پھر اندر آیا اور  پھروہی سوال دہرایا !
اسے ایسی کتاب کی تلاش کیوں جس کے ایک ایک لفظ سے سچائی چھلکتی ہو۔ وہ اپنے باپ سے سوال کرتا کہ میں کون ہوں، کیا ہوں۔تو وہ دوسری بیوی اور اس کے پہلے بچوں کے معاملات میں الجھنے کی وجہ سے اسے اپنی پہلی غلطی کی سزا نظر آتا۔نوجوان گورے کی پہلی بیوی دوسرے شوہر کے ساتھ رہنے لگی تو پہلی بچی بھی ساتھ لے گئی اور اس کی دوسری بیوی اپنی بچی پر صرف اپنا حق سمجھتی۔ہمسائے اس سے نالاں ، دوست اس سے کنارہ کرتے۔پادریوں سے سوال کرتا تو وہ اسے ذہنی مریض سمجھ کر بے اعتناعی برتتے۔مذہب میں اسے پناہ نہ ملتی۔ وہ الجھتا چلا گیا۔نشہ کی بجائے وہ دوا کے سہارے کا محتاج ہو گیا۔ جس سے خیالات کچھ دیر کے لئے سستا لیتے۔جیسے ہی دوا کا اثر ختم ہوتا بے رحم سوال اسے اپنی گرفت سے نکلنے نہ دیتے۔
انسان جواز کا طالب ہے اور وجود اس کا مطلوب۔منزل پر اس کی نظر ہے ، کوشش پر یقین نہیں۔سچ جانتا ہے لیکن حق کا طالب نہیں۔قرآن کو  الہامی مانتا ہے ، سچ کو جانتا ہے  لیکن جزب سے محروم رہتا ہے۔اللہ تبارک تعالی اپنی چاہ رکھنے والے  کو ناقابل یقین کرامت دکھاتا ہے۔ جس پر گزری ہو اور جس کی آنکھوں نے وہ منظر دیکھا ہو وہ کیونکر رحمتوں سے انکاری ہوں۔  اللہ تبارک تعالی ان کے لئے راستے بنا دیتا ہے جو اُس کی راہ تکتے ہیں۔
گورے عیسائی نوجوان کو میں نے فطرت کا حسن کائنات کے جلوے سے سمجھایا کہ  اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اُس کی تخلیق  اور نشانیوں پر غور کیوں نہیں کرتے۔ سمجھ والے ، علم والے اور ایمان والے کہہ کر انہیں درجہ بندی میں شمار کرتا ہے۔ دنیا کی چاہ جتنا بڑھے گی محبت جاہ اتنی ہی شدت سے مٹی کے انسان سے تکبر کا نشان بنا دیتی ہے۔پھل پھول اشجار کے ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مٹی سے پنپ کر مہک خوشبو اور لذت سے لبریز حسن بے مثال ہوتے ہیں لیکن مٹی کا ذائقہ نہیں رکھتے۔
فطرت کا حسن الفاظ میں ڈھل کر اس  کی رگوں میں لہو بن کر دوڑنے لگا تھا۔ میں ایک لمحے کے لئے سہم گیا  جب  اُس نے کہا کہ رب زوالجلال کا ذکر سننے سے اُس کے اندر کچھ ایسا ہو رہا ہے جیسے خون کی گردش میں کچھ شامل ہو گیا ہو۔وہ مسرور تھا کیونکہ اسے اچھا محسوس ہو رہا تھا۔
اللہ اپنی طرف آنے والوں کی طرف ایسے رجوع کرتا ہے  ۔ میں خاموشی سے طالب چاہ کو دیکھ رہا تھا اور عالم جاہ وجلال تھا۔ اطمینان اور سکون کی ٹھنڈک اس کے جلتے وجود  پر قطرہ قطرہ خون میں شامل ہو کر پھولوں کی طرح نکھررہی تھی۔ وہ مہک رہا تھا۔آنکھوں کی چمک قلب کے حاوی ہونے کا سندیشہ دے رہی تھی۔دو  گھنٹے کی نشست میں عشق کی ایسی انتہا دیکھی جس کا میرا قلم احاطہ کرنے کے قابل نہیں۔ وہ میری زندگی کے ایسے لمحات تھے جب میرا وجود  مٹی کے ایک زرہ سے بھی کمتر حیثیت کا حامل تھا۔ شان زوالجلال عظمتوں کے میناروں پر کھڑی تھی اور میں لفظوں میں سجدہ ریز تھا۔ ایسا لمحہ جب پوسٹ مین عاشق کو محبوب کا خط سنا رہا تھا۔
آن لائن انگلش قرآن کے بارے میں اسے گائیڈ کرنے کے بعد میں کئی دن بھرپور نشے میں مبتلا رہا۔ مگر پندرہ روز بعد جو منظر میری آنکھوں نے دیکھا  اسے بیان کرنا میرے بس سے باہر ہے۔ شاعروں نے چودھویں کے چاند پر زمین و آسمان کے قلابے ملائے  لیکن دیکھنے میں جو نشہ ہے پڑھنے سے ممکن نہیں۔
میرا ہاتھ پکڑ کر تھینک یو کہہ کر اپنے چہرے کی طرف غور کرنے کا کہا۔ یہ تو وہ شخص ہی نہیں تھا جو پندرہ روز پہلے مجھے ملا تھا ۔ پریشان چہرہ، عجیب سی نظریں  اور پیشانی پر بے شمار سلوٹیں۔ چودھویں کے چاند کی مانند چمکتا دمکتا چہرہ  اور سلوٹوں سے پاک۔ میں کھلی آنکھوں سے بس اسے تک رہا تھا اور وہ بولے جا رہا تھا۔ قرآن کا مفہوم چند دنوں میں اس کی روح کو سیراب کر گیا۔اللہ تبارک تعالی سے قرب کی داستان تھی جو وہ سنا رہا تھا کہ بیس سال سے اس کی پیشانی پر سلوٹیں دو ہفتوں میں مکمل طور پر ختم ہو چکی تھیں جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ روشن چہرہ اطمینان قلب سے  بھرا ہشاش بشاش ایک عیسائی گورا نوجوان جو خدا کی سچی کتاب کی تلاش میں نکلا تو سچ حقیقت بن کر اس میں سما گیا۔ اس نئے انسان کے بدلے ہوئے رویئے اور کردار نے اس کی بیوی اور محلے داروں کو حیران و پریشان کر دیا۔اس کا ایک محلے دار جومیرے پاس کام کرتا تھا ، ایک دن کہنے لگا کہ اسے کوئی اچھا ڈاکٹر مل گیا ہے اور اس کی دوائی سے اسے بہت فرق پڑا ہے۔ بہت خوش اخلاقی اور خندہ پیشانی سے تمام لوگوں سے ملتا ہے۔ نسخہ تو اسے ایسا شاندار ملا تھا جس میں اس کے درد کی دوا تھی اور پریشانیوں کا مداوا۔
چند سال بعد میرے دوست کے بیٹے نے (جن کا گیس سٹیشن میرے قریب ہی تھا ) مجھے بتایا   کہ  آپ کے جانے کے بعد  وہ ہمارے پاس آیا اور  آپ کے بارے میں پوچھا تو میں نے اسے بتا یا کہ آپ پاکستان واپس چلے گئے ہیں اور اس کی خواہش پر قرآن پاک انگلش ٹرانسلیشن کے ساتھ منگوا کر اسے دے دیا تھا۔ اللہ تبارک تعالی کے سچے کلام کی شدت چاہ جتنی اس گورے نوجوان میں دیکھی، ابھی تک کسی اور میں نہیں دیکھی میں نے۔

محمودالحق


در دستک >>

Jan 25, 2020

پانی پر عکس چاند


زمین ہموار ہو، نظریں راستے پر  اور قدم برابر تو سفر کٹ جاتا ہے۔بس اتنا ہی بس میں ہے۔ جہاں اختیار  نہ ہو وہاں چاہت انتہا کر دیتی ہے۔جو پاس ہو وہ اپنا اختیار بھی چھین لیتا ہے۔زندگی نے جو چاہا وہ لے لیا اورہم نے جو مانگا وہ پانی پر عکس چاند ہو گیا ۔لہروں کی مستی نے وہ منظر بھی دھندلا کر دیا۔ بادل برس کر ہوا ہو جاتا ہے۔ تو قوس  وقزح آسمانوں پر پھیل جاتی ہے۔
جو ہمیں زندگی دیتا ہے وہی جینے کا ہنر دیتا ہے۔جنہیں خواہشیں مقدم ہوتی ہیں، انہیں زندگی محترم ہوتی ہے۔ آبادیوں میں انسان بستے ہیں جنگلوں میں جانور رہتے ہیں۔ جنہیں انسان بس میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کمزور پرندے اور جانور چڑیا گھروں میں جتنے بھی مزے میں اور محفوظ کیوں نہ  ہوں پھر بھی وہ قیدی ہیں۔آج ہر انسان آسائش و آرام کی ہر سہولت سے استفادہ حاصل کرتا ہے۔ ترقی ایک ایسا چڑیا گھر ہے جہاں ہر سہولت آسائش پانی پر چاند کے عکس کی مانند اسے حاصل ہے۔ پیکج ختم ہونے یا نیٹ بند ہونے پہ ہاتھوں پہ ہاتھ دھرے رہ جاتے ہیں۔ جو جب چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے کھڑکی کھولتا ہے اور جب چاہے گا اسے بند کر سکے گا۔بس میں تو کچھ بھی نہیں بس خریدار ہیں۔جب تک نوٹ دکھاتے رہیں گے تماشا ہوتا رہے گا۔انسانی معاشرے میں جگہ جگہ کڑکیاں لگی ہوئی ہیں نیٹ فون ٹی وی کی۔اسی میں انسانوں کی ایک بڑی تعداد بستی ہے۔ایسے ہی جیسے جنگلوں میں چڑیا گھروں کا جال پھیلا دیا جائے۔پرندے اور جانور خود قید ہونے کے لئے بیتاب ہو جائیں اور اپنے اپنے پنجرے پر فخر کریں۔کوئی جھولے پر فخر کرے تو کوئی خوراک پہ۔
پانے کی جلدی میں کھونے کے ڈر سے محروم ہو گئے۔ڈر ہے تو صرف رک جانے کا۔تیل ڈلتا رہے ، بجلی چلتی رہے تو گزر بسر بھی ہوتی رہتی ہے۔ایک ماہ کے لئے نیٹ فون ٹی وی بند کر دیں تو معلوم ہو گا کہ نشئیوں کی تعداد میں کتنا اضافہ ہو چکا ہے۔نشہ صرف ڈرگ کے استعمال کا نام نہیں بلکہ ہر وہ شے جو اپنے ارد گرد کے ماحول سے بے اعتنائی ، لاپرواہی اور لاتعلقی پیدا کرنے کا سبب بن جائے ،وہ معاشرہ ایک مہذب ترقی نامی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔ جہاں تعلق صرف غرض و مفاد کا رہ جاتا ہے۔متواز ن شخصیت رکھنے والے ہی ایک مثالی معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔جس معاشرے میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر، عوام کا ہجوم اورعوام کا جم غفیر جیسی ٹرم مقبول زبان زد عام ہوں۔ وہاں شائستگی ، تہذیب کی بجائے ہاسپٹل دوکانوں اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کا لائسنس گاڑیوں موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹس کے ساتھ لکھا ہوتا ہے۔جب نظام تعلیم شعور کی بجائے معاش کی فکر لاحق کرے تو عدم برداشت اور انتقام کا زہر شریانوں میں خون بن دوڑتا ہے۔ریوڑ پر امن ہوتے ہیں ہجوم بپھرے ہوئے۔

محمودالحق   
در دستک >>

Most Perfect Math Magic with ZERO Sum (کائنات کے سربستہ راز)


در دستک >>

Dec 30, 2019

ہم کون ہیں کیوں ہیں اور کیا ہیں ؟

سوال یہ ھے کہ ھم جب تنہا ھوتے ھیں ذات کو ٹٹولتے ھیں بہت اندھیرا ھے بہت زیادہ اندھیرا کچھ بھی تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ھم کون ھیں کیوں ھیں اور کیا ھیں لیکن کبھی کبھی یہ لگتا ھے کہ ھم ھی ھم ھیں اور کوئی بھی نہیں جو ھم سا ھو یہ الجھن ھے یاسوال ؟

سوال (مسلم آفتاب)



ہر انسان دنیا میں دو آنکھوں ، دو ہاتھوں ، دو پاؤں ، حتی کہ دماغ کے دو حصوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ہمارا وجود ایک اور دو کی مناسبت سے سفر زیست طے کرتا ہے۔انسان اپنے رویے میں بھی ہاں ناں ، خیر و شر، سچ و جھوٹ، حتی کہ جنت و جہنم کےدرمیان رسہ کسی میں مصروف عمل رہتا ہے۔انسان سب سے طاقتور اور مضبوط ظاہر و باطن کی کشمکش سے بر سر پیکار رہتا ہے۔اور یہ ایک فطری عمل ہے اس میں الجھن پیدا ہونا سوچ کی نا ہمواری کی غماز ہے۔ ہر زی روح کے اندر بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کا ہونا فطری ہے۔ وہ ہمارے وجود کے لئے لازم ہیں۔اس لئے ہم اس سے لاپرواہ رہتے ہیں ۔ لیکن جب ان کا بیلنس بگڑجائے تو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔یہی حال ہماری ذات کے اندر ہونے یا نا ہونے کی فطری کشمکش میں جاری و ساری رہتاہے۔ہم اس کا حل جواز سے تلاش کرتے ہیں جو ہمیں سوال کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔میں کون ہوں ، کیا ہوں، اور کیوں ہوںجیسے سوالات ایسی پنیری ہے جسے کھاد وجود سے حاصل ہوتی ہے ۔ اور وجود صبح و شام کے معمولات سے تھکن سے چور رہتا ہے۔بچا کھچا ذہنی دباؤ سے کھچاؤ میں چلا جاتا ہے۔ تناور درخت بننے سے پہلے نو خیز پودوں کی کیاریوں سے گھاس پھونس الگ کی جا تی ہے۔ جنگلی جڑی بوٹیوں کو تلف کیا جاتا ہے تب وہ نو خیز پودا پھل دار یا خوشبو دار درخت بنتا ہے۔ انسان صرف سوچ کے بل بوتے پر تناور درخت بننے کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔ حالانکہ ابتدائی نو خیزی میں شفافیت اور اکثیر کی طاقت حاصل کرنے کے لئے باہرسے اثر انداز ہونے والے باغی خیالات کا سدباب ضروری ہوتا ہے۔ زندگی کو کتاب کی طرح پڑھیں گے تو ابواب اور صفحات کی ترتیب ایک سے دو ، دس یا سو تک چلتی ہے۔مگر احسا س ایٹم کے زروں کی طرح وجود میں تباہی پھیلاتے ہیں۔جنہیں باہمی ربط سے ہی شانت رکھا جا سکتا ہے۔جب ضرورت پیش آئے تو استعمال میں لاؤ ورنہ خوداعتمادی کی طاقت بنا کر ذات کے کسی گوشےمیں محفوظ رکھو۔ جو بوقت ضرورت بیرونی حملہ آور سے بچاؤ کی تدبیر کرے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ باتیں تو بہت ہیں مگر بعض اوقات طوالت مفہوم کی وضاحت سے زیادہ الجھنیں پیدا کر دیتی ہے۔



جواب (محمودالحق)
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter