Jul 19, 2016

لفظ کہانی سفر زندگانی

زندگی کے اوراق پلٹتے جائیں تو جدوجہد کی طویل فہرست  دکھائی دیتی ہے۔ انتھک سفر کے بعد کامیابی کا ایک پڑاؤ پھر نیا سفر لیکن منزل سے کوسوں دور، صبر کی چوٹیوں کے پار ،طغیانی بھرے دریا گنگناتی آبشاروں کے گیت کو شور میں دباتے ڈھلوانوں کی طرف گامزن پہلے ہوش اُڑاتے پھر ہوش ٹھکانے لگاتے مایوسیوں کی ناؤ بہاتے گزرتے جاتے ہیں۔انسان خودغرضی کی دولت سمیٹتا عنایات کی بھرمار سے بےنیاز حاصل کو منزل مان کر ٹھہر جاتا ہے۔جانبِ بہاؤ ناؤ کے چپُو چلانے میں نشہ کی سرشاری میں مبتلا رہتا ہے۔
کہاں چل دئیے پلٹ کر کیوں نہ بلندیوں کے تھکا دینے والے سفر پر چلیں جہاں منظر دلکش ہیں وادیاں حسین ، گرم پہاڑ برف پگھلاتے جھیلیں ٹھنڈی ہیں۔
جلد سے اوپر  کی ڈیلنگ کی دنیا سے دور، جلد کی نیچے کی فیلنگ کی دنیا کے قریب۔ جہاں ایک انسان کسی دوسرے ہمدرد دوست سے ملی خوشبو کو ساتھ لئے پھرتا ہے۔ احساس اظہار کا مرہون منت نہیں ہوتا۔ لاکھوں لائبریریوں میں سجی کروڑوں کتب انسانوں سے ہمکلام نہیں ہوتیں۔ احساس احساس سے شناسا رہتا ہے۔ ڈیلنگ سےکیفیت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔کانوں کو جو بھلا لگتا ہےوہی رس گھولتا ہے۔نگاہوں کو جو خیرہ کرتا ہے وہی پینٹ ہو جاتا ہے۔ آگے بڑھنا شہرت ناموری امارت کی خواہش پر ہو تو مہنگی سستی کرنی پڑتی ہےتاکہ زیادہ تک رسائی ممکن ہو۔بیچنے کے لئے سر بازار آواز لگانی پڑتی ہےسامان قرینے سے سجایا جاتا ہے۔
سچ کی طاقت جو جان لیتے ہیں، مدد سے مددگار کو پہچان لیتے ہیں۔آزمائشوں کے پودوں پر عنایات کے پھل پا لیتے ہیں تو وہ مہک کو ہر وقت اپنے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔کوئلے کی کان میں ایک ہیرا اتنا بیش قیمت ہو سکتا ہے کہ وہ کان زرہ برابر قیمت کی رہ جائے۔
دنیا  ایک ایسی دوکان ہے جہاں ضرورت کے مطابق داخل ہوا جاتا ہےاور پسند کی شے لے کر نکل جانا ہوتا ہے۔ اگر دربند ہو تو دستک سے کھلوایا نہیں جاتا بلکہ ازخود کھلنے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ 
جب منزل تک پہنچنے کے راستے جدا جدا ہوں تو آسان راستوں پر رک کر پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ سفر کو جاری رکھا جاتا ہے۔ کہیں ہاتھ دے کر بٹھا نہ دیئے جاؤ۔ قدم گن کر فاصلے طے نہیں کئے جا سکتے اور نہ ہی لہریں گن کر سمندر پہ سفر  کئے جا سکتےہیں۔ جو انا  و خودداری کی بھٹی میں صرف جلنے کا ایندھن بنے رہنے کو ترجیح دیتے ہوں وہ وقت سے پہلے سوکھ کر دھوئیں میں ڈھلنا نصیب سمجھتے ہیں۔
لفظ جب شناخت بن جاتے ہیں تو لفظ کہانی ختم ہو جاتی ہے ایک سوچ زندہ ہو جاتی ہے۔ پھر آنے والے بنا دستک کے اندر داخل ہو جاتے ہیں اور باہر نکلنے والوں کے پیچھے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔

 محمودالحق        
در دستک >>

Jul 6, 2016

خوشیوں کے پل

زندگی میں خوبصورت پل آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ جن جن پر گزرتے ہیں وہ یادوں کی صورت کینوس پر منتقل ہو جاتے ہیں۔ مگر عید سعید ایسا خوبصورت تہوار ہے جو ابا کے ساتھ عید گاہ جاتے ہوئے جو مزا دیتا تھا اب بچوں کے ساتھ جاتے ہوئے بھی وہی احساس طبیعت پر حاوی رہتا ہے۔ اماں کو گھر پہنچتے ہی عید مبارک کہنا اور عیدی وصول کرنا بہت بھلا لگتا تھا۔ آج عید کی نماز پڑھ کر گھر پہنچتے بچوں کی اماں سے عید مبارک سننا اور بچوں کو عیدی دینا اتنا ہی بھلا لگتا ہے۔ رمضان میں ناپ تول کر کھانے پینے کے بعد کھلی چھٹی پا کر عید کا دن دستر خوان پر انواع و اقسام کے لذیز کھانوں کی خوشبو سے معدہ کو دعوت بد پرہیزی پر آمادہ کر لیتا یے۔ عید کی خوشیاں دائمی ہیں جو کبھی ماند نہیں پڑتیں بلکہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ تازہ دم اور جوان رہتی ہیں۔ تمام اختلافات کو بھلا کر ملنے والے ہر شخص کو گلے لگایا جاتا ہے۔ جن سے سال میں 363 دن پاس سے گزر جایا جاتا ہے انہیں اس پر مسرت موقع پر ڈھونڈا جاتا ہے۔ 
میرے اللہ نے جس اجتماع کو ہمارے لئے خوشیوں اور رحمتوں کا وسیلہ بنا دیا وہ ہماری ہر رسم رواج و روایت سے مقدم ہیں۔ ایسی خوشی ہمیں کسی اور اجتماع سے حاصل نہیں ہوتی جو بچپن سے بڑھاپے تک دیر پا بھی ہو۔ یہ ایسا دن ہے جب تک مہمان آتے رہیں مہمان نوازی ہوتی رہے انہیں بار بار کھانے کی دعوت دی جاتی رہے۔ میزبانی سے جی نہیں بھرتا۔ وگرنہ تو سارا سال صاحب کی دفتری مصروفیت،بچوں کی ٹیوشن مغز ماری پھر امتحانات ، بیگم صاحبہ کا سر درد مہمانوں کی آمدورفت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ گھر میں روز کی تکرار آج کیا پکا لیں صاحب کا کہنا جو جی میں آئے تو بیگم کا کریلوں سے کڑوا پانی نچوڑنا مزاج کی گرمی ظاہر کرتا ہے۔ 
یہ دن بھی خوب ہے کوئی نہیں پوچھتا کیا پکائیں،کوئی نہیں بتاتا کہاں جائیں۔ بس خودکار مشین کی طرح ہر کام خود بخود مکمل ہو کر پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ اللہ تبارک تعالی ہماری زندگیوں میں عید جیسی خوشیوں کی بھرمار کر دے جو یکے بعد دیگرے ہمیں خوشیوں کے پل سے جوڑ کر رکھتی رہے۔ ہم جدا ہونا بھی چاہیئں تو نہ ہو پائیں۔ جس طرح آج ایک مسلمان قوم کی حیثیت سے عید سعید کے تہوار کو مذہبی رواداری سے منایا جا رہا ہے ہمارے روزمرہ کے معمولات زندگی بھی ایسے ہی فرقہ بندی اور منافرت سے پاک خوشیوں سے بھرپور ہوں تو ہم بجا طور پر قرآن و سنت پر عمل کرنے والے ایمان والے کہلانے کے حقدار ہوں گے۔ 
جہاں جہاں نماز عید کے روح پرور اجتماعات ہو چکے انہیں عید مبارک۔ سب ایک دوسرے سے پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ آج کی پکا؟
ہماری عید کی نماز چار گھنٹے بعد ہے تو ہم یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ کی پکا؟ کیونکہ ڈھکن اٹھانے سے مرغن غذائیں برا منائیں گی۔ صبح خوشبو کے بغیر کھانے کی پزیرائی نہیں ہو پائے گی۔

محمودالحق
در دستک >>

Jul 2, 2016

کچھ باتیں ان کہی

مصروفیت نے ایسے باندھ رکھا ہے زندگانی کو جیسے بھینس بندھی  ہوکھونٹے سے۔ اگر  کہیں کہ اطمینان کے جھولے جھلاتے ،خوشیوں کے کھلونے سجاتے،ہنسی میں مسکراتے،غم میں دل جلاتے ،محفلوں میں جگمگاتے، تنہاہیوں میں ٹمٹماتے،نہ دنیا مکمل نہ ہی دین مکمل، عذاب سے ڈریں مصیبت کو ٹالیں، روزے دن میں سستائیں راتیں عبادت میں جگائیں ،جو چاہیں پہنیں جو چاہیں کھلائیں  ،سفر میں آسائش زندگی میں ستائش ،جسے چاہیں منائیں جسے چاہیں ستائیں، من بھی اپنا مرضی بھی اپنی ،پھر شکر کریں یا شکوہ۔جو صداکار تھے تصویر آنے پر فنکار ہو گئے ،کاروبار تجارت بیوپار سیاست ہو گئی ،روزگار تعلیم ہو گئی بےروزگاری جہالت رہ گئی ،وراثت معتبر ہو گئی جب وہ قائد  ہو گئی ،بچے بزرگ ہوگئے بوڑھے جی فور ہاتھ میں لئے جوان بن گئے۔ 
در دستک >>

Jul 1, 2016

تنہائیوں کے دیپ


چند شاخوں سے جڑا نوخیز درخت تمازت آفتاب کو روکنے میں ناکام ہوا جا رہا ہے۔ بھلا ہو آسمان پر ٹہلتے چند بادل کی ٹکڑیوں کا جو وقفے وقفے سے سر پر دست شفقت رکھ رہے ہیں۔ ہوائیں بھی پیچھے رہنے والی کب ہیں جھیل کے ٹھہرے ٹھنڈے پانی سے ہم آغوش ہوتی بدن کو سہلاتی چند جھونکے تو دباتے ہوئے پاس سے گزر رہے ہیں۔ ایک نیا پرندہ بلبل کی طرح دکھائی دینے والا مجھے گھورے جا رہا ہے۔ کیسے بتاؤں اسے کہ میں روزے سے ہوں افطاری میں ابھی پانچ گھنٹے ہیں۔ جمعۃالوداع ادا کرنے کے بعد تنہائی کے کچھ لمحات فطرت کے حسن کی نذر کرنے آیا ہوں۔ سیر و تفریح کے لئے جم غفیر زمین پر پھیلتے اندھیروں کے انتظار میں ہوں گے۔ کسی کو تنہائیوں کی نوکیں اعصاب میں پیوست ہوتی محسوس ہوتی ہوں گی۔ مگر یہ تنہائیاں تو ایک ماں کی طرح آغوش محبت میں پیار سے تھپتھپاتی اور گالوں کو سہلاتی ہیں۔ انسانوں کے بیچ رہ کر بھی تنہائی کے کانٹے چبھ سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کے اخلاص،خلوص،دیانت اورصداقت پر سوالیہ نشان بھی لگ سکتا ہے اور انگلی بھی اٹھائی جا سکتی ہے۔ خوبصورتی سے بھرے یہ منظر مسلسل دہکتے انگاروں پر گڑگڑانے والے بادل برسنے والی بارش کی مسیحائی رکھتے ہیں۔ بادلوں کی اوٹ میں سورج کا چھپ جانا اور ٹھنڈی مسحور کر دینے والی ہوائیں دوستی کا پیغام نہیں لے کر آئیں بلکہ دوستی کا حق ادا کرنے آئی ہیں۔ کیونکہ انہوں نے چاروں اطراف سے دھوپ کو گھیر لیا ہے۔ بدن پر گرمی کے ہر احساس کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ اب تو بارش برس کر اظہار محبت میں اپنائیت کا پیغام دے رہی ہے۔کاش جس دنیا کامیں باسی ہوں وہ زندگی میں کبھی ایک بار ہی اس احساس پر بازی لے جاتے۔

محمودالحق




در دستک >>

Jun 30, 2016

احساس کا سفر

سفر چاہے کتنا ہی آرام دہ کیوں نہ ہو بدن تھکن سے چور بے آرامی کی سولی پر لٹک جاتا
ہے۔ساتھ چلنے والے ساتھ ہونے کا احساس جتاتے رہیں تو بدن احساس کے ایک لطیف جھونکے کی بدولت اذیت کے بیت ے پل سے چھٹکارا پانے کی اہلیت پا لیتا ہے۔جسم و جاں ساتھ ساتھ رہتی ہے ریل کی پٹڑی کی مثل آغاز سے انجام سفر تک ہمسفر،قریب رہتی ہے بغلگیر نہیں۔تبھی تو منزل مقصود پر پہنچ کر اپنی چاہ پا کر تھکن کی زمین پر سکون کے قالین بچھ جاتے ہیں۔ تھکن کے اُکھڑے فرش نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
بلندی کی انتہاؤں سے منظر پھیل جاتے ہیں،ہدف سکڑ جاتے ہیں۔ساحل آڑھی ترچھی لکیریریں بن کررہ جاتی ہیں۔ موجوں کی مستی، لہروں کی اٹھکیلیاں، ساحلوں کی خاموش محبت اتنی اونچائی سے محسوس نہیں کی جا سکتیں۔ انہیں دیکھنے کے لئے انتہائی قریب سے احساس کے دیپ جلانے پڑتے ہیں۔
جوں جوں ہم کسی ہدف سے دور ہوتے ہیں چاہے فاصلے زمینی ہوں یا آسمانی،نظر پھیل جاتی ہےمنظر سکڑ جاتے ہیں۔
در دستک >>

Apr 6, 2016

خوش رنگ زندگانی


پھل میں رنگ ہوتے ہیں تو خوشبو بھی ہوتی ہے ذائقہ ہوتا ہے تو توانائی سے بھرپور تاثیر بھی ہوتی ہے۔ درختوں پر لٹکے ہوں یا دوکانوں میں سجے ہوں پاس سے گزرنے والے بے اعتنائی نہیں برت سکتے۔ درخت موسم کا انتظار کرتے ہیں پھول کھلنے سے پھلوں کے پکنے تک۔ پتے خزاں میں جھڑنے لگتے ہیں نئے پتے پھول سے پھل بننے کے عمل کو مکمل کرتے ہیں۔ سالہا سال آنکھیں ان مناظر کو پلکوں سے احساسات پر گراتی ہیں جو کیفیت کو سر شاری کے نشہ میں مبتلا رکھتی ہیں۔
انسان بیت ے دنوں کی یادداشتوں سے مستبقل کے سہانے خوابوں کی بستیاں کیسے آباد کر سکتا ہے۔آرزوئیں گر دم توڑ کر ماضی میں دفن ہو جائیں تو نئی خواہشیں جنم لے کر امنگوں کے پھول سے مرادوں کے پھل سے جھولی بھرنے کو بیتاب ہو جاتی ہیں۔ 
زندہ رہنے کے لئے جان ہی کافی ہوتی ہے مگر جینے کے لئے بعض اوقات جان جوکھوں میں بھی پڑ جاتی ہے۔ دل ایک کھلونا سمجھ کر سوچ و افکار کی چابی سے جو چلانے کی کوشش کرتے ہیں وہ تدبر اور فلسفہ میں فرق نہیں کر پاتے۔تدبر انفرادی سوچ کی عکاس ہوتی ہے جو اجتماعی حیثیت میں نافذ ہوتی ہے اور فلاسفی اجتماعی حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے انفرادی طور پر قابل عمل ہوتی ہے۔

محمودالحق


در دستک >>

Feb 13, 2016

علم ایک سمندر

سمندر جتنا گہرا ہوتا ہیں اتنا تاریک اور پر سکون ہوتا ہے جوں جوں زمین کے برابر آتا ہے روشنی پا کر ساحلوں سے ٹکراتا ہے جہاں ذرے ذرے سے جڑی ریت  حفاظتی حصار بن کر  بپھری طلاطلمی موجوں کو مٹی تک پہنچنے کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے تو وہ بادل کی صورت زمین کو سیراب کرتا آبشاروں ندی نالوں اور دریاوں سے گزرتا مٹی کا لمس اپنے وجود میں سمو لیتا ہے۔
ویسے ہی علم ایک ایسا سمندر ہےجو جہالت کی زمین کو سیراب کرتا افکار و خیالات کا لمس اپنے اندر سمو لیتا ہے۔
در دستک >>

تازہ تحاریر

سوشل نیٹ ورک

تبصرے

Google+ Followers