Feb 20, 2011

کچھ کھٹی کچھ میٹھی باتیں

بتیس فلموں کے گانے لکھنے والے مشہور نعت خواں اور نعت گو شاعر مظفر وارثی اب ہم میں نہیں رہے ۔میں انہیں ایک نعت گو شاعر کی حیثیت سے ہی جانتا تھا ۔ مگر ٹی وی پر ان کی فلمی شاعری کے نمونہ کلام سننے پر احساس ہوا کہ اچھا ہے کہ انہوں نے آج کے دور میں فلمی گانے نہیں لکھے ۔
ورنہ آج ڈنڈا ، پنڈا ، آم ، منجی اور گڈی جیسے الفاظ استعمال میں زو معنی ہو جاتے یا پھر سارا شہر ہی بلو کی طرح کسی نیلی کے گھر کی طرف لائن میں کھڑے ہونے والوں کو کوستا ۔ جیسے ہندوستانی فلمیں سننے میں تو اعتراضات کی زد میں کم ہیں مگر دیکھنے میں اپنے بس سے باہر ہیں ۔ دوسری طرف ہماری فلمیں اور سٹیج ڈرامے دیکھنے میں اعتراضات کی زد میں کم ہیں ۔ مگر سننے میں اپنے بس سے باہر ہیں ۔ایسی ایسی شاعری کا نمونہ کلام اور مکالمہ بازی پیش کی جاتی ہے کہ کہنے کو دل چاہتا ہے کہ علموں بس کریں او یار !
گڈی وگوں آج مینوں سجنا اُڑائی جا کی بجائے فٹ بال وگوں مینوں سجنا میدان وچ پھجائی جا ہوتا مزا دوبالا ہونے کا چانس تھا ۔کیونکہ گڑی سے ہمارا پرانہ رشتہ ہے ۔ گڈی یعنی پتنگ اُڑانے کا شوق بچپن سے تھا ۔ سب سے پہلے خوبصورت رنگوں کا انتخاب ہوتا ۔پھر اس کی بناوٹ اور آخر میں کاریگر کے ہاتھ کی صفائی کے بعد صرف ہماری کاریگری کی محتاج رہ جاتی وہ گڈی ۔جس کے کندھوں اور کمر پر ڈور باندھنا یعنی تلاویں ڈالنا کسی فن سے کم نہیں ہوتا ۔
اچھا پتنگ باز ہوا کی رفتار کے مطابق گڑی کے اگے پیچھے گانٹھیں انتہائی مہارت سے لگاتا ۔ تیز ہوا میں اگلی گانٹھیں زیادہ باندھی جاتیں تاکہ ہوا کے زیادہ زور سے گڈی ٹوٹ یا پھٹ نہ جائے ۔اگلی اور پچھلی گانٹھوں میں کمی بیشی کا دارومدار ہوا کی رفتار سے بہت گہرا ہوتا ہے ۔
زندگی بھر یہ سنتے آئے ہیں کہ شوہر بیوی گاڑی کے دو پہیوں جیسے ہوتے ہیں ۔جن کا برابر میں رہنا ضروری ہوتا ہے ۔مگر مجھے یہ دونوں گڈی میں لگائی گئی گانٹھیں محسوس ہوتی ہیں ۔جہاں حالات کے مطابق کبھی گانٹھیں آگے زیادہ تو کبھی پیچھے زیادہ لگائی جاتی ہیں ۔ تاکہ زمانے کی رفتار اور حالات کی تیزی میں تبدیلی کے عمل سے اپنا توازن برقرار رکھ سکیں ۔
ہماری معاشرتی زندگیاں کچھ ایسے ہی ہوا کی مانند کبھی اونچی اڑان میں تو کبھی زمین پر چپکی رہتی ہیں ۔جہاں بوقت ضروت شوہر بیوی ایک دوسرے سے رویوں میں گانٹھیں لگانے سے ایڈجسٹ کرتے ہیں ۔ تاکہ مشکل حالات میں اپنا توازن برقرار رکھ سکیں ۔اونچی اُڑان میں پھٹ جانے اور زمین پر گرنے سے تو بہتر ہے کہ رویوں کی گانٹھیں لگنے سے کچھ دیر ہوا کے سنبھلنے کے انتظار میں نیچی اڑان ہی برقرار رکھ سکیں ۔کیونکہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی ضد خوشیوں سے دور لے جاتی ہے ۔
رہتے ہم اکیسویں صدی میں ہیں ۔ اصول معاشرت کی علمبرداری انیسویں صدی کے طبقاتی نظام پر کھڑی ہے ۔جہاں عمر کی قید ، گھر کی آرائش ، حسن کی زیبائش اور دولت کی نمائش خواہشوں کی فرمائش پر رہتی ہے ۔
پھولوں کے کھلنے اور مہکنے کا ایک مخصوص موسم اور وقت ہوتا ہے ۔ پھلوں کے لگنے اور پکنے کے بھی موسم طے شدہ ہیں ۔وہ بھی آب و ہوا سے جدا نہیں ہیں ۔مٹی سے مانوسیت درجہ اول پر ہے ۔ صرف ایک بارش کا نہ برسنا ہی ان کے ساتھ ساتھ پرند چرند کو بھی سوچوں میں متغرق کر دیتا ہے ۔جو آج بھی صدیوں پہلے گزرے انسانوں کی طرح صرف پانی اور موسم کی تبدیلی سے ہجرت کرتے ہیں ۔
بات کہاں سے شروع کی اور کہاں جا پہنچی ۔ پڑھنے والے کہیں یہ نہ سمجھیں کہ باتوں کا کھٹا کھاتا ہوں ۔یہاں کھٹے سے مراد ترش نہیں بلکہ منافع ہے ۔اور منافع خوری ہمیں آتی نہیں ۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ آج کے دور میں لفظوں کی تجارت اپنے عروج پر ہے ۔اگر تجارت لکھنا اچھا نہ ہو ۔ تو پھر خود ہی انصاف کریں کہ ڈھیروں کے حساب سے اخبارات اور ٹی وی چینل کیا ہیں ۔
چارلی چپلن کی گونگی فلموں کا دور تو رہا نہیں ۔جب کم کم سننا بہرہ پن کی شکائت نہیں رکھتا تھا ۔اب تو اونچی آواز میں ڈیک پر گانے اور ٹی وی پر شادیانے نماز کی خشوع و خضوع میں بھی رکاوٹ نہیں رہے ۔دیکھنے میں آتا ہے کہ اگر خاوند حاجی ہو تو بیوی ضرور نمازی ہوتی ہے ۔لیکن اگر بیوی یہ دعوی جگہ جگہ کرتی پھرے کہ دیکھو شوہر نامدار کیسا نمازی بنایا تو خشوع و خضوع کی گارنٹی خود اس کے پاس نہیں ۔
ایسے شوہر رات دیر سے تھیٹر یا فلم دیکھ کو گھر لوٹنے پرنا گہانی آفت سے بچنے کے لئے کسی صوفی بزرگ کے مزار کی حاضری اور خصوصی دعا کا بہانہ تراش لیتے ہیں ۔ ان کی روحیں تو شائد پہلے ہی بعض وراثتی گدی نشینوں کے اعمال صالح کی بدولت ہدف تنقید رہنے پر پریشان رہتی ہیں ۔
ایسے چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی ۔تعلیم کی نئی روشنی نہ ہونے سے علم پہلے ہی ضعیف الاعتقادی کی بیساکھی پر کھڑا ہے ۔اور کوئی ہٹ دھرمی کے ستون پر ۔
مصر اور تیونس کی طرح سنا ہے کہ اب ہمارا ملک بھی انقلاب کے دھانے پر کھڑا ہے ۔ لیکن تاریخ تو بتاتی ہے کہ ملک کئی بار معاشی اور سیاسی انقلابات سے بحسن رضا گزر چکا ہے ۔اگر یقین نہیں تو معاشی انقلاب کی بدولت معرض وجود میں آئی سٹیل مل اب وبال جان ہے ۔ جان تو پی آئی اے کی بھی خطرے میں ہے ۔
جان کنی کا عالم ہو یا نہ ہو مگر گورکن تیار ہیں ۔
ان کی حالت زار تو "میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑتا "جیسی ہے ۔

5 تبصرے:

Md said...

محترم آپکی ودیگر حضرت کی معلومات میں اضافہ کے حوالے عرض ہے کہ مظفروارثی صاحب کا سب سے زیادہ پاور فل حوالہ اُنکا حمدیہ کلام ہے ۔پاکستان کی تو واحد و اِکلوتی ہے شاید دُنیا بھر کی بھی واحد اکلوتی حمدیہ کیسٹ بنی ہے جسے سمع و بصر والوں نے بنائی تھی جو مکمل آپ کے حمدیہ کلام پر اور آپ ہی کی آواز پر مشتمل تھی ۔ دنیا کی واحد اور اکلوتی حمدیہ کیسٹ ۔ پاور فل حوا لہ ہے نہ؟ مشہور حمد کوئی تو ہے جو نظامِ ھستی چلا رہا ہے وہی خُدا ہے ۔ اسی کیسٹ سے لی گئی ہے ۔ تمام اخبارات نے بھی نعتیہ کلام اور فلمی گانوں کے حوالے دیئے ہیں ۔کسی نے بھی انکے حمدیہ کلام کا حوالہ نہیں دیا۔( خلوص کا طالب ۔ ایم ۔ڈی)۔

Md said...

تصحیح فرمالیں ۔ جملہ اسطرح پڑھا جائے۔ (پاور فُل حوالہ ہے نا ؟)۔

عین لام میم said...

السلام علیکم
واہ، کیا کیا سمو دیا ایک پوسٹ میں...... کھٹا بھی زیادہ ہے اور میٹھی بھی بہت ہے.

محمودالحق said...

السلام علیکم
محترم ایم ڈی صاحب آپ کا شکریہ کہ مظفر وارثی مرحوم و مغفور کے حمدیہ کلام کے پہلو کو یاد دلا یا جو میں نا دانستہ لکھنے سے چوک گیا . نصرت فتح علی خان مرحوم نے یہ حمد بہت خوبصورت انداز میں پڑھی ہے . میری کار اور سیل فون میں موجود یہ حمد سننے میں تسکین پہنچاتی ہے .

محمودالحق said...

السلام علیکم
عین لام میم شکریہ آپ نے پسند کیا . جب میں یہ مضمون لکھ چکا تو عنوان کی طرف متوجہ ہوا . پھر پڑھنے پر کچھ کھٹا میٹھا محسوس ہوا تو یہی عنوان بنا دیا .
خوش رہیں !

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک