Oct 7, 2017

بندگی کا سفر

آنکھیں بدن کا ایسا حصہ ہیں جو فطرت کا عین عکاس وغماز ہیں۔جو کچھ نہیں چھپاتیں دوسروں پر اصل صورت میں عیاں ہوتی ہیں۔خوشی اور غم کے الگ الگ آنسو ہر کوئی پہچان لیتا ہے ۔ غصے اور ہمدردی کے جذبات بھی بھانپ لئے جاتے ہیں۔ مگر آنکھوں کی گہرائی میں چھپی کیفیت  جو سوچ کی غماز ہوتی ہے ہمیشہ نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔زبان الفاظ کی ادائیگی سے پیشتر انہیں کانوں سے یادداشت کی سی ڈی پر ریکارڈ کرتے ہیں پھر چاہے الف ب پ ہو یا اے بی سی، جیسے سنا گیا ہو ویسے ہی لوٹا دئیے جاتے ہیں۔ میٹھے کڑوے،  سچے جھوٹے،زہر آلود نشتر بھرے دوسروں پر اچھال دئیے جاتے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس سے دل ٹوٹے یا روح زخمی ہوتی ہو۔ یہ ایک ایسا فن ہے جسے افراد کی اکثریت بروئے کار لانے میں کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جی بھر کر روزانہ جھوٹ بولنے والوں کو سچ ماننے والے بھی اتنی ہی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔جن کے لئے جھوٹ ناقابل برداشت ہو وہ تلملاتے رہتے ہیں۔ سچ ماننے والوں کو برا بھلا کہتے اور کوستے رہتے ہیں۔
آنکھیں اپنا راز صرف انہی پر کھولتی ہیں جو انہیں پڑھ سکتی ہیں۔ علم نجوم، دست شناسی اور علم الاعداد کی حقیقت ماننے والوں سے اتنی ہی دور رہتی ہے جتنی مشرق سے مغرب۔
پہلی نگاہ میں محبت کی کہانیاں ہر معاشرے ہر ثقافت میں عام ہیں۔جس میں نام، چہرے  اور کردار بدلتے رہتے ہیں مگرمرکزی خیال ایک ہی رہتا ہے۔ آنکھوں سے محبت کے پیغام ارسال اور وصول کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔ حالانکہ آنکھیں حال دل سنانا چاہتی ہیں  کہ جن کے ساتھ بچپن کھیل کود میں گزرا ،جوانی جن کے سنگ بتائی  ۔کسی کو حالات نے سست کیا کسی کو سخت ۔ کوئی نیک ہوا کوئی بد۔کسی نے سچ کی چادر اوڑھ لی کسی نے جھوٹ کا کفن پہن لیا۔کوئی ایمانداری پر کاربند رہا کسی نے بے ایمانی کو اوڑھنا بچھونا بنایا۔ان کے درمیان  رہ کر اجنبیت کا احساس  بار بار زنجیروں سے چھٹکارا کے لئے زور لگاتا ہے۔ مگر  وہ نہیں جانتے کہ بہت فرق ہے کانوں سے الفاظ کی پہچان سیکھ کر اتار چڑھاؤ سے زبان سے ادائیگی کرنے والے  اور  ان آنکھوں میں جو حسن فطرت کو اپنے اندر سمیٹے ہوئی ہیں  جو کسی کتاب کسی استاد کی محتاج نہیں ہوتیں، فطرت کے حسن کو کشید کر کے جذب کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتی ہیں۔
  مگر انہیں پھر بھی یہ احساس رہتا ہے کہ ایک جیسے  دیکھائی دینے والے ایک جیسا کیوں نہیں سوچتے لیکن وہ نہیں جانتے کہ کوئلے کی کانوں میں ہی ان کے اندر بیش قیمت ہیرے موجود ہوتے ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ  ہیرے کوجوہری کی نگاہ میں قدر پانے سے پہلے کوئلے پتھر میں  رہتے ہوئے الگ پہچان حاصل کرنی پڑتی ہے۔ تب اسے ڈھونڈنے والے ملین ٹریلن ٹن پتھر کوئلے کے نیچے سے نکال لیتے ہیں۔ 
جو اپنے ظاہر اور باطن میں توازن قائم کر لیتے ہیں، دوسرے لفظوں میں اپنے اندر کو   آلائن کر لیتے ہیں ، اتنے طاقت ور ہو جاتے ہیں کہ انہیں ہیرے کی مانند چمکتی ہوئی آنکھیں جو اپنی حیثیت سے بے خبر ارد گرد بسنے والوں کی بے اعتناعی پر غمگسار دیکھائی دیتی ہیں نظر آنے لگتی ہیں۔ بالآخروہ بھی خودشناسی کے سفر پر چل دیتی ہیں جس سے آگے چمکتی آنکھیں کہیں کسی جگہ ان کی منتظر ہوتی ہیں۔ کبھی نہ ختم ہونے والا  آنکھوں سے قلب  تک محدود تعلق  کا سفر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ رنگ و نسل  اورعلاقائی جغرافیائی حدود سے بالا تر مثبت ،شفاف ،عشق و محبت، بندگی  کا سفر۔

 تحریر:محمودالحق     

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک