Mar 16, 2012

سیاست میں ریاست ، الیکشن میں سلیکشن

ابھی حال ہی میں الیکشن کمیشن نے ایک خاتون پریزائیڈنگ آفیسر کے تھپڑ کی قیمت چکائی ہے ۔ اب ایک نیا ٹیسٹ پھر عدالت کے دروازے پر دستک دینے پہنچ چکا ہے ۔ سرگودھا کے ستر سالہ ٹیچر پر بد ترین تشدد کر کے دونوں ٹانگوں سے معزور کر دیا گیا ہے ۔ جسے اگر میڈیا ہائی لائٹ نہ کرتا تو شائد ایک دو احتجاجی جلسہ کے بعد سیای مفاہمت کی نظر ہو جاتا ۔ مگر آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے ۔ طاقت کا استعمال لاٹھی ، گولی کا وہی پرانا رنگ رکھتا ہے ۔ مگر دیکھنے والی آنکھ بدل چکی ہے ۔ کیمرے کی آنکھ سے وہ ان پڑھ لوگ بھی اسے دیکھ لیتے ہیں جو اس سے پہلے اپنی ناخواندگی کی وجہ سے اخبار میں خبر پڑھنے سے محروم رہ جاتے تھے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا  انتہائی چالاک سیاست سے واسطہ پڑا ہے ۔ انہیں عام لوگوں کے مسائل سے دور رکھنے کے لئے کبھی پریس کلب پر حملہ کیا جاتا ہے ۔ تو کبھی بیس بائس سال پرانا کھاتہ کھول لیا جاتا ہے ۔ کرپٹ کرپشن کے کھیل میں  دوسروں کو اپنے حمام میں لایا جاتا ہے ۔ مہران بینک سکینڈل ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا شاہکار ہے ۔ لینے کے دینے والا معاملہ ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ہو گا ۔ اور دوسرا تحریک انصاف کو ۔ جو اس سکینڈل کے برے اثرات سے محفوظ ہیں ۔ فیصلہ چاہے کچھ بھی ہو ۔ جس کی امید کچھ نہ ہونے کی ہے ۔ کیونکہ عدالتیں ایک کے بعد ایک ریاستی بد اعمالیوں کی دھلائی پر کمر بستہ ہیں ۔ مگر پوری قوم جانتی ہے کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک ہی خاندان کے افراد سیاسی گدی نشینی کے وارث نہ سمجھے جاتے ۔ وحیدہ شاہ مرحوم شوہر کی خالی نشست کے لئے پورے علاقہ کی واحد امید وار قرار پائی تھی ۔ جو وہ اپنی سیاسی  شعور کے فقدان کے سبب ہاتھ دھو بیٹھی۔
اخبارات عوامی مسائل پر جب قلم کشائی کرتے ہیں ۔ حکمران اس کی قبر کشائی پر ہمہ تن مصروف ہو جاتے ہیں ۔ عوام لب کشائی سے بھی محروم رہ جاتے ہیں ۔

سیاسی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں اس لئےمسلم لیگی قیادت نے جوابی حملہ کی پیش بندی کر لی ہے ۔ یونس حبیب کو اپنے کہے کی سزا ہرجانہ کی صورت میں ادا کرنا ہو گی ۔ ایسا مسلم لیگ نون سمجھتی ہے ۔عوام بیچارے سمجھنے سمجھانے سے کوسوں دور ہیں  کیونکہ بجلی کا خسارہ ۵ ہزار میگا واٹ تک برقرار ہے ۔ چھ سے آٹھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ مرکز اور صوبے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے انہیں ان کے اپنے مسائل ہی سے جکڑ دیتے ہیں ۔

اللہ رحم کرے الیکشن کے بخیر و عافیت گزرنے تک قوم نہ جانے کن کن مسائل سے دوچار کی جائی گی ۔ آج کی ساری اقبالی روحیں نا امید نہیں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔       
در دستک >>

Feb 25, 2012

دنیا کی زندگی اور اس کی زینت

ان دیکھے مستقبل کے بارے میں کبھی پختہ اور مکمل یقین رہتا ہے تو کبھی شکوک و شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ اکثر بچوں کے مستقبل کو ابتدائی ایام زندگانی میں ہی تابناک مستقبل کی صورت میں پروان چڑھایا جاتا ہے ۔ مگر فیصلہ حالات اور قابلیت کی بنا پر اپنے منطقی انجام تک پہنچتا ہے ۔ ذہین بچے 80 % سے اوپر نمبروں یا اے اور اے + کے ساتھ ایکدوسرے سے بڑھ چڑھ کر مقابلے میں جیتنے پر کمر بستہ رہتے ہیں ۔ اوسط طالبعلم سکولوں سے بھاگ کر ورکشاپوں میں کام کرنے والوں سے بدرجہا بہتر شمار میں رہتے ہیں ۔ ذہانت کی درجہ بندی بچوں میں بزرگوں کے اختیار کئےگئے قوم پرستی ، فرقہ پرستی اور ذات پرستی جیسے درجوں کی طرح منقسم رہتی ہے ۔جیسے درجہ چہارم کے ملازمین درجہ اول کے افسران سے مصافحہ سے آگے تعلقات کی استواری سے محروم رہتے ہیں ۔
کب ، کیسے ، کیوں اور کہاں جیسے اکثر سوالوں کے جوابات ساحل سمندر پر رہتی ریت سے لے کر اونچے اونچے پہاڑوں پر جمے پتھروں میں اُلجھ کر رہ جاتے ہیں ۔ پہاڑوں سے اُبلتے چشمے ریت کی محبت سے محروم کیوں رہتے ہیں ۔اور کنکریوں کا ساتھ ہمیشہ کیونکر رہتا ہے ۔
یہاں نظام تعلیم ، مادی وسائل یا معاشرتی مساوات کا پوسٹ مارٹم کرنا مقصود نہیں ۔جو کہنا چاہتا ہوں اسے ایک مختصر کہانی سے سمجھانا بھی چاہوں گا ۔ اگر دل نہ مانے تو اس پر عمل کرنا بالکل ضروری نہیں ۔
فلاسفی کا ایک پروفیسر کلاس روم میں اپنے سامنے مختلف اشیاء رکھے کھڑا تھا ۔جب کلاس شروع ہوئی تو اس نے خاموشی سے ایک خالی بڑے مرتبان کو دو انچ سائز کے پتھروں سے بھر دیا ۔
پھر اس نے طالب علموں سے پوچھا کہ کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ۔
وہ یک زبان بولے : ہاں
تب پروفیسر نے کنکریوں سے بھرا ایک بکس پتھر بھرے مرتبان میں ڈال دیا ۔ اور مرتبان کو ہلکا سا شیک کیا ۔کنکریاں پتھروں کے اندر جگہ بناتی ہوئی ٹھہر گئیں ۔
تب اس نے پھر سٹوڈنٹس سے پوچھا کہ کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ۔
انہوں نے جواب میں کہا : ہاں
اس کے بعد پروفیسر نے ریت سے بھرا بکس اُٹھایا اور اسے مرتبان میں انڈیل دیا ۔ جس میں پتھر اور کنکریاں پہلے سے موجود تھے ۔ ریت نے مرتبان میں موجود ہر خالی جگہ کو پر کر دیا ۔
تب پروفیسر نے پھر اپنا سوال دھرایا : کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ؟
سٹوڈنٹس یک زبان بولے: جی ہاں
پروفیسر نے کہنا شروع کیا کہ میں تمہیں یہ شناخت کرانا چاہتا ہوں کہ یہ مرتبان تمہاری زندگی کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اور پتھر تمہاری زندگی کی ضروری چیزیں ہیں جیسے تمہاری فیملی یعنی ماں باپ ، بیوی بچے ، عزیز رشتہ دار اور تمہاری صحت ۔ اگر تم ہر چیز کو کھو بھی دیتے ہو اور یہی باقی رہتے ہیں تو پھر بھی تمہاری زندگی بھرپور رہے گی ۔کنکریاں تمہاری زندگی کے دوسرے معاملات کی نمائندگی کرتی ہیں ۔جیسے ملازمت ، گھر ، سواری وغیرہ اور ریت ان سب کے علاوہ ہر چھوٹی بڑی زینت کی چیز ہے ۔
اگر تم مرتبان میں سب سے پہلے ریت بھر دو تو پتھروں اور کنکریوں کے لئے جگہ نہیں بچے گی ۔ تمہاری زندگیاں بھی اسی طرح ہیں "۔

اگر ہم اپنی زندگی میں تمام وقت اور طاقت غیر ضروری معاملات پر صرف کر دیں گے ۔ تو ہماری زندگی میں ان کے لئے جگہ نہیں بچے گی جو ہمارے لئے اہم ہیں ۔جو ہمیں خوشی دیں ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ پہلے ترجیحات کو طے کرنا ہے ۔ جو ہمارے لئے اہم اور ضروری ہیں انہیں زندگی میں پہلے بھرنا ہو گا ۔ حقوق و فرائض کی ادائیگی کے معاملات ، تجارت کے اصول وضوابط طے شدہ ہیں ۔ ان کے لئے بڑے واضح احکامات ہیں ۔لباس کے تراش خراش میں پردہ کا لحاظ رکھنا اشد ضروری ہے ۔ اور دوسرے معاملات میں اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی ترغیب ہے ۔ تحریص کی ممانعت ہے ،علم میں رغبت ہے ، افکار میں جہت ہے ، سوچ میں مفارقت ہے ، عقل میں شراکت ہے ، نظریہ نظر شرارت ہے ، نیکی میں بہشت ہے ، عبادت میں قربت ہے ۔
جو کوئی چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی زینت ، ہم ان کے لئے ان کے عمل اس (دنیا) میں پورے کر دیں گے ۔اور اس میں ان کی کمی نہ کی جائے گی۔  ۱۵   یہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آْگ کے سوا کچھ نہیں ، اور اکارت گیا جو اس (دنیا) میں انہوں نے کیا اور جو وہ کرتے تھے نابود ہوئے ۔
سورۃ ھود ۱۶
جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور زیبائش اور ایک دوسرے پر آپس میں فخر کرنا اور ایک دوسرے پر مال اور اولاد میں زیادتی چاہنا ہے جیسے بارش کی حالت کہ اس کی سبزی نے کسانوں کو خوش کر دیا پھر وہ خشک ہو جاتی ہے تو تُو اسے زرد شدہ دیکھتا ہے پھر وہ چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور الله کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے اور دنیاکی زندگی سوائے دھوکے کے اسباب کے اور کیا ہے
سورۃ الحدید۲۰

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Feb 17, 2012

MOTIVATE, EDUCATE and ACTIVATE



ہر جگہ ہر دھاگہ جہاں کسی نے کوئی حدیث یا آیت شئیر کی تو بحث کا آغاز کر دیا جاتا ہے ۔ معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا ۔ کہ کیا اردو فورم  ٹی وی چینل کی طرح ریٹنگ بڑھانے کے لئے ہر جگہ ہر موضوع میں اعتراضات و اختلافات کی کھلی چھٹی کے فارمولہ پر عمل پیرا ہے ۔
کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرآن وسنت ہے ۔ جس کے لئے "دانشور" توپیں لئے یہیں براجمان ہیں ۔
نوجوان نسل کے اخلاق و اطوار سدھارنے کی ضرورت ہے ۔ گالی یا گولی سے سکھایا نہیں جا سکتا ۔ ویلنٹائن ڈے کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا ضروری ہے ۔
مگر جو ممالک انہیں مناتے ہیں ان کا دوسرا رخ بھی پیش کرنا چاہوں گا ۔ کہ وہ اپنی قوم کی تربیت کہاں اور کیسے کرتے ہیں ۔ اور ہمارے ہاں شہروں سے گلی محلوں حتی کہ گھروں تک میں ایسا کوئی رواج نہیں ۔ اگر ہے تو صرف لڑائی جھگڑا ، الزامات ، نفرت ، فرقہ پرستی ۔
علامہ اقبال نے ٹھیک ہی کہا تھا ! کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک!
امریکہ میں ایک 17 سالہ لڑکی نے 1999 میں اپنی موت سے پہلے ایک مضمون لکھا تھا جسے آج بھی نیشنل پروگرام کے تحت سکولوں میں سمجھایا اور بتایا جا رہا ہے ۔ مختصرا" ایک نیوز لیٹر سے اقتباس پیش کر رہا ہوں ۔

This week Elementary Schools kicked off Rachel,s Challenge , a national program that our district adopted to promote kindness and compassion towards others. Rachel,s challenge is based on the life and writings of Rachel,s Scott , a 17 year old student well known for her friendliness and compassionate nature . She wanted to change the world through small acts of kindness .Rachel wrote an essay for school stating . " I have this theory that if one person can go out of their way to show compassion then it will start a chain reaction of the same .This program encourages the students to live their life with purpose, kindness , and compassion by accepting Rachel,s 5 Challenges.
  پانچ چیلنجز کیا ہیں یہاں دیکھ سکتے ہیں

میری سب ممبران سے گزارش ہے کہ اپنی سوچ ، علم اور توانائیاں مثبت رخ پہ استعمال کریں ۔ نئی نسل کو زبر پیش میں الجھا کر ناقدین کی صفوں میں اضافہ نہ کریں ۔ بلکہ انہیں اس ملک کا ایک ذمہ دار شہری بننے میں مدد کریں ۔
قرآن و سنت سے اختلافی مسائل کو نکال نکال کر علمیت کے مینار اونچے کرنے کی بجائے ان باتوں کو شئیر کریں جو ان کے اخلاق سدھارنے میں ممد و معاون ہوں ۔ اور ایسے موضوعات کو زندہ رکھیں ۔ نا کہ انہیں "اچھی شئیرنگ ہے " " اچھی تحریر ہے " " بہت شکریہ " کا لیبل لگا کر کسی پرانے صندوق میں پرانے خطوں کی طرح ڈال دیں ۔

نوٹ :۔
 ایک اردو فورم پر لکھی گئی میری تحریر
در دستک >>

شاہیں کا جہاں اور

حال سے ماضی اچھاہو تو پچھتاوا ، برا ہو تو ایک خواب سے بڑھ کر نہیں ہوتا ۔رہنا تو بحرحال حال میں ہوتا ہے ۔اگر جان پر بن آئے تو جینا محال ہوتا ہے ۔کامیابی قدم چومے تو سر فخر سے بلند رہتا ہے ۔ ناکامی میں پاؤں کے جوتے کی دھول سر کو آتی ہے ۔زندگی محنت کا تقاضا کرتی ہے ۔ خواب کے بغیر تو لگن بھی بنا بال وپر کی ہوتی ہے ۔
اقبال نے اپنے شاہین کو بلندیوں کا تاج پہنایا ۔ جس نے پہاڑوں کی چٹانوں کو اپنا مسکن بنایا ۔ قصر سلطانی کے گنبد تو مٹی پر پڑے پتھروں سے دھول میں اَٹے ہیں ۔شاہین اپنی فطرت ، عادت اور خصلت میں دوسروں سے ممتاز رہتا ہے ۔بھوک سے نڈھال بھی مردار سے زندگی کی بھیک نہیں مانگتا ۔جینا ان کا وقار ، زندگی ان کی شکار ، جھکنے کے نہیں روادار ۔ مگر دوستی میں ہاتھوں سے اُڑ کر شکار پر لپکتے ہیں ۔خوبصورتی میں ان سے بڑھ کر بہت ہیں مگر قیمت میں ان سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔کیونکہ ان کا وقار پرواز سے ہے ۔ جینے کے انداز سے ہے ۔ حالانکہ ان کے شکار میں پرندے اور خرگوش ہی رہتے ہیں ۔
انسان کی پہچان کے اسباب میں سر فہرست گمراہی اور راست روی ہے ۔ اللہ جنہیں مومن کہہ کر مخاطب کرتا ہے ۔ وہ قصر سلطانی کے گنبد پر بسیرا نہیں کرتے ۔ جو ایسی خواہش رکھیں وہ شہباز نہیں ۔ اونچی پرواز میں کرگس بھی کم نہیں ہوتا ۔مگر بقول اقبال
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک جہان میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
جو پرواز کی طاقت رکھتے ہیں پاؤں ان کے زمین کی طاقت بھی رکھتے ہیں ۔انسان ہاتھ اور پاؤں سے زیادہ علم کی طاقت سے سرفراز ہوا ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فرشتے اللہ کے حکم سے سر بسجود ہوئے ۔ اسی علم کی بدولت انسان پہلے خشکی پھر پانی اور آخر کار ہوا میں سواری کرنے کے قابل ہوا ۔اسی طرح نیزوں ، تلواروں سے لڑتا بھڑتا توپوں ٹینکوں سے ایٹمی ہتھیار لے جانے والے میزائلوں تک ایجادات سے سرخرو ہوا ۔علم کی بدولت تسخیر کی خوبیوں سے مالا مال ہوتا گیا اور روح انسانی کو پابند سلاسل کرتا چلا گیا ۔
قید میں ضمیر قفس کے ہے ہجوم تنہائی
پابۂ زنجیر ہے نفسِ طائر رہائی
اونچی اُڑان تو ہے مگر شاہین جیسی نہیں ۔جہان کرگس کا ہو تو اُڑان بھی اسی کی ہو گی ۔
بقول اقبال !
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
اس میں مٹی کی فطرت ہے تو تحریص بھی مٹی سے ہے ۔ جس کا منبع مادیت ہے ۔
خاکی کے اوڑھنے بچھونے کو زندگی ہے پرائی
خود ہی کھیتی اُگاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ اناج پر قبضہ بھی جماتا ہے ۔ مگر مٹی نے اناج کو اُُگانے کا ڈھنگ نہ بدلا ۔ انسان کے کھانے کا ڈھنگ ضرور بدل گیا ۔ بدل تو ہر انداز گیا ۔ میلوں دوری کا فاصلہ محبت بھرے خطوط سے ناپا جاتا تھا ۔ انٹر نیٹ نے قربت کی انتہا کر دی زیادہ تر دور کے رشتوں میں ۔ اپنے خلوص بھرے خطوط سے بھی محروم ہو کر رہ گئے ۔
بھاٹی گیٹ جرمن و لندن کے قریب ہو گیا مگر لوہاری گیٹ سے دور ہو گیا ۔

تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

Feb 4, 2012

احساس تشکّر ۔۔۔۔ تم کتنے خوش قسمت ہو

ہماری آنکھیں روزانہ سینکڑوں مناظر کو ذہن میں نقش کرتی ہیں ۔ان میں سے اکثر وبیشتر بے اثر رہتے ہیں ۔ گہرے نقوش چھوڑنے والے منظر چند لمحوں سے زیادہ اثر پزیر نہیں ہوتے ۔ کیونکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دوسروں میں کیا کمی ہے ۔ہمارے پاس کون کون سی نعمتیں ہیں ، ان کا شمار کم ہی کیا جاتا ہے ۔اس سے پہلے کہ کچھ اور لکھوں ایک ماخوذ کہانی پیش کرنا چاہوں گا ۔
بینائی سے محروم ایک لڑکا بلڈنگ کے باہر سیڑھیوں پر پاوّں میں ہیٹ رکھ کر بیٹھا ایک پلے کارڈ سے آنے جانے والوں سے مدد کا طلبگار تھا ۔جس پر لکھا تھا کہ
میں اندھا ہوں برائے مہربانی میری مدد کریں ۔
اس کے ہیٹ میں صرف چند سکے موجود تھے ۔ ایک شخص اس کے پاس سے گزرا ۔ جیب ٹٹول کر چند سکے نکالے اور ہیٹ میں ڈال دئَے۔ پھر اس نے پلے کارڈ کو اُٹھایا اسے پلٹایا اور چند الفاظ لکھ کر اسے واپس وہیں رکھ دیا تاکہ پاس سے گزرنے والے نئے الفاظ کو دیکھ سکیں ۔کچھ ہی دیر میں ہیٹ سکوں سے بھر گیا ۔اندھے لڑکے کی مدد میں کافی لوگوں نے پیسے دئیے ۔
اسی دوپہر وہ شخص جو پلے کارڈ پر نئے الفاظ لکھ کر گیا تھا وہاں یہ دیکھنے کے لئے آیا ۔ کہ اب حالات کیا ہیں ۔
لڑکے نے اس کے قدموں کی چاپ سے اسے پہچان لیا ۔اور پوچھا : کیا تم نے ہی آج صبح میرے کارڈ میں تبدیلی کی تھی ۔تم نے کیا لکھا تھا ؟
وہ شخص بولا میں نے صرف سچ لکھا تھا ۔میں نے وہ کہا جو تم نے کہا ۔ مگر ایک مختلف انداز میں ۔
میں نے لکھا : آج کا دن بہت خوبصورت ہے ۔ مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا ۔
دونوں تحریروں نے لوگوں کو یہی بتایا کہ لڑکا اندھا ہے ۔
پہلا کارڈ یہ بتا رہا تھا کہ لڑکا اندھا ہے ۔ دوسرے کارڈ نے لوگوں کو  بتایا کہ 
تم کتنے خوش قسمت ہو کہ تم اندھے نہیں ہو۔
--------------
یہ کہانی سبق دیتی ہے کہ ہمارے پاس جو ہے اس کے لئے ہمیشہ شکر گزار ہونا چاہیئے ۔ مثبت  اور مختلف سوچ کو پروان چڑھائیں ۔ اگر ہم اپنی نعمتوں کو شمار کریں  تو دوسروں کی محرومیوں کا احساس جا گزیں ہو گا ۔ جو قربانی اور مدد کے جزبے کو فروغ دے گا ۔ ہماری نعمتیں جسمانی اعضاء کی تندرستی سے لے کر  مال و متاع کی فراخی تک وسیع ہیں ۔ کائنات کی وسعت ہماری عقل و شعور اور اندازے سے بالا تر ہے ۔معاشرہ جب نعمتوں کی شکر گزاری سے محروم ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ تو بے حسی کے دور کا آغاز ہوتا ہے ۔میرا کیا اور تیرا کیوں ، کی تکرار سے اجنبیت کا رحجان پرورش پاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم حکمرانی میں بھی ہر مذہب کے افراد امن وسکون سے زندہ رہتے ہیں ۔ اور مسلم حکمرانی کے باوجود ایک مذہب کے ماننے والے اپنی حفاظت کا حصار ٹوٹنے نہیں دیتے ۔
دوسروں پر سبقت لے جانے کا جنون خون کی طرح سر پر سوار رہتا ہے ۔کامیابیوں کے جھنڈے میدان میں گاڈ کر لوگوں کے دلوں میں دھاک بٹھانے سے زیادہ نشہ پاتے ہیں ۔
آئیے دیکھتے ہیں آیات قرآنی میں ہمارے لئے کیا احکام ہیں ۔ اور ان پر ہم کہاں تک عمل پیرا ہیں ۔
  ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ ایک دانہ کی مانند ہے جس سے سات بالیں اُگیں ہر بال میں سو دانے ہوں اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے بڑھاتا ہے اور اللہ وسعت والا جاننے والا ہے ۔ البقرہ ۲۶۱

 جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں پھر نہیں رکھتے خرچ کرنے کے بعد کوئی احسان ، نہ کوئی تکلیف [ پہنچاتے ہیں] ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہے ، نہ کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ البقرہ ۲۶۲
  
اچھی بات کرنا اور درگزر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے جس کے بعد ایذاء دینا ہو اور اللہ بے نیاز برد بار ہے ۔ البقرہ ۲۶۳

اے ایمان والوں ، خرچ کرو اس میں سے پاکیزہ چیزیں جو تم کماوّ اور اس میں سے جو ہم نے نکالا تمہارے لئے زمین سے اور اس میں سے گندی چیز خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو جبکہ تم خود اس کو لینے والے نہیں  مگر یہ کہ تم چشم پوشی کر جاوّ اب جان لو کہ اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے ۔ البقرہ ۲۶۷

آج کل تو والدین بھی محنت سے پال پوس کر جوان  اولاد  سے شکایات کے انبار رکھتے ہیں ۔ اولاد کے لئے والدین معاشرے میں داخل ہونے کا پہلا دروازہ ہیں ۔ جہاں سے گزر کر پلٹنے کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ حالانکہ ہماری کمائی پر پہلا حق ان کا ہے ۔جنہیں دروازہ کی پرانی چوکھٹ سمجھ کر اپنے نئے گھروں میں فٹ نہیں کیا جاتا ۔رشتہ دار ، یتیم ، مسکین کا حق تو اس کے بعد رکھا گیا ہے ۔کہنے سننے میں یہ بات عام ہے کہ معاشرہ بے حسی کا شکار ہے ۔
معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے اور انسان ہی غرض ، مفاد اور بے حسی کا شکار ہے ۔خیالات کے خزانے پہلے اپنی خواہشوں سے بھرتا ہے ۔ اوردوسرےکو  جزبات کے پیالے میں مکرو فریب بھر بھر دیتا ہے ۔
اور تمہارے پاس جو کوئی نعمت ہے سو اللہ کی طرف سے ہے ،پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف تم روتے چلاتے ہو ۔ النحل ۵۳
 

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Feb 1, 2012

ٹرپل فلٹر ٹیسٹ

قدیم یونان کے عظیم فلاسفر سقراط کے پاس اس کا ایک جاننے والا آیا ۔ اس نے سقراط سے کہا  کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے  ایک  سٹوڈنٹ کے بارے میں میں نے کیا سنا ۔
سقراط نے کہا ایک لمحے کے لئے رکو ۔ اس سے پہلے کہ تم مجھے کچھ بتاوّ۔ میں چاہتا ہوں کہ تم ایک ٹیسٹ پاس کرو ۔جس کا نام ٹرپل  فلٹر ٹیسٹ ہے ۔
سقراط نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے تم مجحے میرے سٹوڈنٹ کے متعلق بتاو۔ جو تم کہنا چاہتے ہو اس کو فلٹر کر لیتے ہیں ۔
پہلا فلٹر سچائی ہے ۔ کیا تمھیں کامل یقین ہے کہ جو تم مجھے بتانا چاہتے ہو  وہ سچ ہے ۔
نہیں : وہ شخص بولا حقیقت میں میں نے صرف سنا ہے ۔ 
ٹھیک : سقراط نے کہا کہ تم حقیقت میں یہ نہیں جانتے کہ وہ بات سچ ہے یا نہیں ۔
سقراط  نے کہا کہ اب ہم دوسرا فلٹر استعمال کرتے ہیں ۔ اچھائی کا فلٹر ۔
جو تم مجھے میرے سٹوڈنٹ کے بارے میں بتانا چاہتے ہو ۔ کیا وہ اچھی بات ہے ۔
نہیں: اس شخص نے جواب دیا ۔
سقراط نے کہا ۔ اس کا مطلب ہے کہ تم مجھے کوئی بری خبر سنانا چاہتے ہو ۔ حالانکہ تم اس کی سچائی کے بارے میں بھی یقین نہیں رکھتے ۔
سقراط نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تم اب بھی ٹیسٹ پاس کر سکتے ہو ۔کیونکہ ابھی  تیسرا فلٹر باقی ہے ۔ جو تم مجھے بتانا چاہتے ہو کیا وہ میرے لئے فائدہ مند ہے ۔
نہیں : وہ شخص گویا ہوا ۔
سقراط نے کہا کہ کیا تم مجھے وہ بات بتانا چاہتے ہو جو سچ نہیں ، اچھی  بھی نہیں اور میرے لئے فائدہ مند بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ معمولات زندگی میں کتنی ہی باتیں ا دھر سے اُدھر بغیر تحقیق کئے پھیلا دیتے ہیں ۔  مگر کبھی یہ خیال نہیں کرتے کہ جنہیں بتایا جا رہا ہے ان کے لئے اس کی افادیت کیا ہے ۔ کہیں گپ شپ اور وقت گزاری کے لئے سنی سنائی باتوں میں قیمتی وقت ضائع تو نہیں کر رہے ۔جس کا فائدہ نہ تو سننے والے کو ہوتا ہے اور نہ ہی سنانے والے کو ۔
  فتنہ پرور لوگ نفرت کا بیج بونے کے لئے محبت کے رشتوں میں سنی سنائی اور جھوٹی باتوں سے رخنہ ڈالتے ہیں ۔جنہیں سننے والے بغیر کسی حیل و حجت کے قبولیت کی سند عطا کر دیتے ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کانوں تک پہنچنے والی بات کو فلٹر ٹیسٹ سے کشیدہ کر لیں۔ تاکہ بات کی حقیقت سے زیادہ بات پہنچانے کی نیت واضح ہو سکے ۔ جو کہ اتنا مشکل اور دشوار ہر گز نہیں ہے ۔ لیکن سچائی جاننے سے زیادہ فکر اس بات کی ہوتی ہے کہ کس نے کیا کہا ۔چاہے ہمیں اس کا کوئی فائدہ نہ ہو ۔
یہ ایک عمومی رویہ ہے جو ہم اپنی دانست میں بہتری کی نیت سے پروان چڑھاتے ہیں ۔سنانے والے الفاظ کا سہارا لیتے ہیں ، سننے والے کانوں کا۔ مگر تحقیق کے چند بول بولنے سے کمزور پڑ جاتے ہیں ۔
سقراط  جس دور کا فلاسفر تھا وہاں جہالت کی تاریکی زیادہ تھی ۔وہ قرآنی تعلیمات کے روشن باب کا دور نہیں تھا ۔مگر معاشرتی و اخلاقی اقدار پر اس کا تجزیہ عملی فضیلت  سے زیادہ حقیقت اشنائی کا سبق دیتا ہے ۔
آج ہمیں کسی سقراط کے حاصل کئے گئے نتائج سے اپنی زندگی کے معاملات کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ ہمارے پاس وہ پاک کتاب ہے کہ جس کے ایک ایک حرف سے انسانیت  کی بھلائی ، محبت کی پزیرائی اور حقیقت کی سچائی ٹپکتی ہے ۔جسے پانے کی چاہت ہو اسے ہر آیت میں حکم خداوندی نظر آتا ہے ۔ جن پر عمل پیرا ہونا فرض کی ادائیگی کا فرمان ثبت ہوتا ہے ۔
قرآن پاک کی آیات مخلوق خدا کے لئے ہیں ۔ مگر ان کی تلاش بعض مواقع پر ثابت کرنے کے لئے کی جاتی ہیں ۔ان میں ہر بری 
بات سے منع کیا گیا ہے اور اچھائی کی ترغیب دی گئی ہے ۔

وہ جسے چاہتا ہے حکمت( دانائی )عطا کرتا ہے ۔اور جسے حکمت دی گئی اسے بہت بھلائی ملی  ۔ " سورۃ البقرہ ۲۶۹ 
آج کل مختلف فورمز  پر مذہبی مباحث میں قرآن و سنت پر علمیت کے علم اٹھائے حکمت و دانائی سے محروم تفرقہ بازی  میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ نئی نسل کو بحث و مباحث  کے ذریعے  قرآنی تعلیمات  کا اصل مفہوم  پہنچانے کے فرض منصبی کے دعوی دار نظر آتے ہیں ۔
 اللہ تبارک تعالی فرماتا ہے
وہی تو ہے جس نے آپ ﷺ پر کتاب نازل کی ۔ اس میں محکم ( پختہ ) آیتیں ہیں ۔ وہ کتاب کی اصل ہیں ۔اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ  ہے  پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے ۔ وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں  ۔ فساد ( گمراہی) کی غرض سے اور اس کا ( غلط ) مطلب ڈھونڈنے کی غرض سے اور اس کا مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔
سورۃ آل عمران ۷


تحریر :محمودالحق
در دستک >>

Jan 6, 2012

گوگل سرچ میں وہ الفاظ ( کی ورڈ ) جن کی تلاش میں پاکستان نمبر ون ہے

 ڈیڈھ دو سال پہلے فاکس نیوز پر  غیر اخلاقی  ویب تلاش میں پاکستان کو اول ترین ملک قرارد دے دیا گیا تھا ۔  اس کے بعد سے آج تک مختلف حیلے بہانوں سے مخالفین کے ساتھ ساتھ اپنے بھی بوقت ضرورت پاکستانی قوم پر اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے نہیں چوکتے ۔
ٹی وی ڈرامے ہوں ، فحش فلمیں ، اخلاق سے گرے ہوئے گانے ہوں یا کلچرل شو کے نام پر ڈانس ۔ میڈیا کے ساتھ ساتھ قوم کو بھی دونوں ہاتھوں سے لیا جاتا ہے ۔ طعنے دینے کے لئے کسی خاص وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بلا وجہ ہی اس کام کو سرانجام دیا جاتا ہے ۔
آج کل ٹی وی پر سیاسی مباحثہ کے نام پر جو کھیل کھیلا جاتا ہے ۔ یعنی دوسروں پر الزام تراشی اور خود کو ہر آلودگی سے پاک مسیحا بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ اس کے اثرات پورے معاشرے میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔
سیکس لفظ لکھ کر تلاش کرنے سے کوئی قوم بحیثیت مجموعی اخلاقی لحاظ سے پستی میں نہیں چلی جاتی ۔ ایسی قوم جس کے پاس کروڑوں سیل فون تو ہیں ۔ مگر کروڑوں کی تعداد میں کمپیوٹر نہیں ۔ جہاں پنکھا چلانے کے لئے بجلی نہیں ، چولہا جلانے کے لئے گیس نہیں ، مہنگائی کے ہاتھوں کھانے کے لئے لوہے کے دانت نہیں ۔ وہاں چند ہزار افراد کے اس بد اخلاقی پر مبنی فعل کو جو وہ دن رات اسے جاری رکھے ہوئے ہیں کو پوری پاکستانی قوم کے سر تھوپ دینا زیادتی کے علاوہ کچھ نہیں ۔
یہاں مجھے ایک لطیفہ یاد آ رہا ہے کہ کسی نے ایک شخص سے کہا کہ کتا تمہارا کان لے گیا ہے ۔ تو اس شخص نے کان دیکھنے کی بجائے کتے کا پیچھا شروع کر دیا ۔ ہماری صورتحال بھی آج کچھ ایسی ہی ہے ۔ کسی بھی ملک کے کسی اخبار رسالے میں کوئی خبر چھپ جائے تو اس کا پیچھا شروع کر دیا جاتا ہے ۔  مضامین لکھ لکھ کر سب کو اطلاع پہنچائی جاتی ہے حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں سے ہمارے خلاف مواد فراہم کیا جاتا ہے وہیں ہمارے لئے جو باتیں باعث فخر ہیں ان کا ذکر خیر بھی کرتے چلیں ۔
جو ہمارے لئے باعث عزت ہیں  ٹھیک اسی طرح انہی کی تحقیق سے میں یہاں ان کے لنک فراہم کروں گا ۔ یقینا" ہمارے لئے آسودگی کا سبب ہوں گے ۔
کسی بھی ملک کا میڈیا ملک میں رائج رسم و رواج اور روایات کا مکمل عکس نہیں ہوتا ۔ مصالحے ضرور شامل کئے جاتے ہیں ۔ پھیکے پروگرام پھیکے پکوان سے بھی زیادہ بد مزا ہوتے ہیں ۔ یہ ہی انسانی نفسیات ہے ۔ ہیجانی کیفیت کو بریکنگ نیوز سے افاقہ ہوتا ہے ۔ نئی خبر بنیادی طور پر چسکا ہوتی ہے ۔ اتنی بار اسے دھرایا جاتا ہے کہ چسکا لے لے کر  سنانے کا حال کہیں سنا ہو تو یاد آ جاتا ہے ۔
ایک عام رواج یہ بھی ہے کہ  نصیحت اور نیک عمل کی طرف متوجہ کرنے والا مولوی یا مذہبی خانے میں رکھ لئے جاتے ہیں ۔ جیسے میری کتاب در دستک پڑھ کر مجھے اکثر نے دیکھے بنا ہی اسی خانے میں رکھ لیا کہ معرفت اور مذہب پر بے دھڑک لکھتا ہے ۔ اچھائی کی بات کیا صرف ظاہر تبدیل کرنے کے بعد ہی کی جانی چاہئے ۔ ہمیں اپنی سوچ کو مثبت انداز میں ڈھالنا ہو گا ۔  جسم کا کوئی حصہ اگر ٹھیک طرح سے کام نہ کرتا ہو تو اسے وجود سے الگ نہیں کیا جاتا ۔ بلکہ دوسرے اعضا ء مل کر اس خامی پر قابو پا لیتے ہیں ۔ ابھی پچھلے دنوں ایک ویڈیو دیکھ کر دل خوش ہو گیا ۔ دونوں بازوؤں  سے محروم انسان لکھنے ، وضو کرنے اور کھانے کا کام پاؤں سے کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں بھی وہ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے ۔ اور مطمعن زندگی گزار رہا ہے ۔ دوسری طرف بے شمار ایسے ہیں جو روزانہ شکوے کی مالا پروتے ہیں ۔
بات  تو شروع  ہوئی تھی پاکستان کو پہلا اعزاز دینے پر تو آئیے دیکھتے ہیں پاکستانی قوم کن کن الفاظ کی سرچ میں گوگل کا وزٹ کرتی ہے ۔ جس میں دشمنوں کو صرف سکس کا لفظ ہی مل سکا ۔
اللہ allah
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیںhttp://www.google.com/trends?q=allah&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  MOHAMMAD
۔۔۔۔اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=mohammad&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0

قرآن QURAN
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=quran&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0

مذہب  RELEGION
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=RELEGION&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0

مدینہ MADINA
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=MADINA&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0]

مکہ  MAKKAH
۔۔اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=MAKKAH&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0

مسلم MUSLIM
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=MUSLIM&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0

نیوز  NEWS
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیںhttp://www.google.com/trends?q=NEWS&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0

مومن MOMIN
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=MOMIN&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0

 اسلام ISLAM
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=ISLAM&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0
اب ان نتائج کو دیکھنے کے بعد پاکستان کو کس کیٹیگری میں رکھا جانا چاہیئے ۔ یہ نتائج اسے اسلامستان کہنے پر بضد ہیں ۔

محمودالحق
در دستک >>

Jan 5, 2012

ذرا سا خمیر اُٹھے

متزلزل ایمان ،بچھڑا معبود تو کبھی تحریف کتاب
پالنا گروہی تو اب دکھائی دیتے ہیں استعجاب

کرنوں کی برسات ہے یہ مہتاب و آفتاب
رحمتوں کی سوغات ہے یہ جہانِ آب و تاب

نہیں رکھتا شہباز شوقِ ہما سرخاب
جینے کی جان نکال لیتی ہے اذیتِ خواب

دیتا ہے وہ چھپر پھاڑ کر بے حساب
شعور زمان سے اونچا ہے علم الکتاب

یقین محکم ہو تو ریگستان بھی ہو آب الباب
عقلِ خرد کو تو بہتی برستی دنیا بھی ہے سراب

عشقِ جنوں میں ہے دل بیقرار و بیتاب
ذرا سا خمیر اُٹھے تو ہے مے بھی آب

محمودالحق
در دستک >>

Jan 2, 2012

شبِ سیاہ پر پڑتی کرنوں سے


شبِ سیاہ پر پڑتی کرنوں سے بنتے جاتے سائے ہیں
محبوب پر حقِ احسان کہ ہم تو اسکے ہمسائے ہیں

تمازتِ آفتاب بھی رکھتا باری رحمت کا اجمال ہے
ایک شاخِ پتے میں جذب اس کی قوتِ عطائے ہیں

مدفن خزینوں سے مہرباں حسنِ زن و زمین آراستہ
محبت میں ہیں سب مہمان نہیں کوئی بن بلائے ہیں

گرتے پانیوں سے پھیلتی روشنیوں تک کے فاصلے
شمعِ جہاں کے سب پروانے کچھ اپنے کچھ پرائے ہیں

بہت مشکل میں ہے انسان عالمِ جاودانی کے محور میں
بندھے ہوئے یہ سب جہاں روشنیوں کے سدھائے ہیں

کھینچی کاغذ کی لکیروں پر زائچہ بازیچہ، اطفال ہے
قوس و قزح کے رنگوں میں ذرّے سے ذرّے جمائے ہیں

خشکی ہوا پانی پر ہماری اختراعِ ایجاد ہیں
چلنے کے واسطے ایندھن بھی تو اسی کے بنائے ہیں



روشن عطار / محمودالحق
در دستک >>

Dec 28, 2011

پیار سے ڈر لگتا ہے

سننے میں اچھا لگتا ہے یا شائد کسی کو برا لگتا ہے ۔ معصومیت بھرا لفظ ہے پھر اس سے کیوں ڈر لگتا ہے ۔ ڈھو نڈنے پیار کو یہاں آ گئے ۔ الفاظ کڑوی گولی کی طرح مفہوم مسیحائی میں سما گئے ۔
بیماری پنپتی جزبات میں گھائل روح تمازت سے ہے ۔ کھلی آنکھوں سے نظر میں سمائے تو بند آنکھوں سے دل میں اتر جائے ۔ پھر ڈرنے کی وجہ سمجھ سے باہر ہے ۔ اگر سمجھنا یہ ہے تو ایک جملے کو اتنی پزیرائی کیوں ۔ تپھڑ سے ڈر نہیں لگتا پیار سے لگتا ہے ۔ تپھڑ سے آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتا ہے تو پیار سے عقل پہ پردہ ۔
نفرت آگ کی حدت ہے جو جلا نہ پائے تو پھگلا ضرور دیتی ہے ۔ مگر پیار ڈوری کی مانند دوسِروں کو باہم باندھ دیتا ہے ۔
ایک ایسی روشنی جو آفتاب کی مہتاب پر پڑیں تو چاہے پہلی کا چاند بنا دیں یا چودھویں رات کی چاندنی ۔ مہتاب کرنوں کی محبت سے محروم ایک پل کے لئے بھی نہیں رہتا ۔
مگر دل ایسی زمین ہے جو حالات و موسمی اثرات کے زیر اثر سچی روشنی کی نعمت سے بھی کبھی کبھار محروم رہ جاتا ہے ۔ نفرت ، ہوس و حرص کے بادل تہہ آب سے جزبات کی بلندی کو چھو کر برس جاتے ہیں ۔ آسمان سے برسیں تو گرد و غبار کی کثافت چھٹ جاتی ہیں ۔ آنکھوں سے برس کر دل کے غبار کو نکال باہر کرتی ہیں ۔
ان باتوں سے تو پیار سے ڈر کا تعلق واضح نہیں ہوتا ۔کیا ایسا سوچتے ہیں ہم ۔
زمین کی محبت میں گرفتاری کا خوف کبھی پاس سے بھی نہیں گزرتا ۔ مگر یہی زمین زلزلہ ، سونامی ، ہریکین سے اپنا وجود سمجھائے تو خوف میں جکڑے جاتے ہیں ۔ ہماری سوچ ، ہماری زندگی حالات کے رحم و کرم پر بند بادبان کی کشتی جیسی ہے جو ہوا کے دباؤ کو برداشت کرنے سے قاصر ہے ۔
جو زندگی سے پیار کرتے ہیں وہ فنا ہونے سے ڈرتے ہیں ۔ مگر فنائی صفت پر جان نچھاور کرتے ہیں ۔ دن رات ہوس و حرص کی روشنی سمیٹتے ہیں ۔ جو پیدا اس پانی سے ہوتی ہے جس کی قدر نخلستان میں بھٹکے مسافر سے زیادہ کس کو ہو گی ۔
اللہ تبارک تعالی کی نعمتیں ہزارہا ہیں ۔ انسان گنتا وہی ہے جو مادیت پر ہوں ۔ بدن میں حرارت 98.6 سینٹی گریڈ تک کسی شمار میں نہیں ۔ حلق کے نوالے گنتی میں ہیں مگر سانس کی آمدورفت صرف علامت ہے ۔ تیز رفتاری میں قابل توجہ ہوتی ہے ۔
محبت کی تاریخ کو افکار کے آئنے میں تلاش کریں تو عکس لگن سے ملن ، قربت سے محبت تک بنتا ہے ۔ اگر نظریات سے کھوج کریں تو شکوہ سے شکایت ، حقیقت میں روایت کا عکس بنتا ہے ۔ حال کی جوانی کو ماضی کے بچپن سے کشیدہ نہیں کیا جاتا ۔ محبت کو نفرت سے رنجیدہ نہیں کیا جاتا ۔ خوشی کو غم سے بینا و دیدہ نہیں کیا جاتا ۔ اوصاف کو وصف سے حمیدہ نہیں کیا جاتا ۔ جسے بھول جانے کا خوف ہو وہ عشق نہیں جسے سنبھال نہ سکو وہ بھی عشق نہیں ۔ جو خود میں سمو لے ۔ جو خود کو کھو دے وہ عشق ہے ۔
جو  فریاد سے نہ ہو اعتماد سے ہو ۔ارمان سے نہ ہو ایمان سے ہو ۔ طلب سے نہ ہو قلب سے ہو ۔ چھپ کر نہ ہو مگر چپ سے ہو ۔ انگاروں جیسا نہ ہو مگر ستاروں جیسا ہو ۔
ڈھونڈو ایسی محبت کو جو روٹھتی نہیں ۔ جس کی چاہ سے چاشنی نہیں جو عقیدت کے جنون سے لبریز ہے ۔ جو افتراء سے نہیں اقراء سے ہے ۔ جو زنگار سے نہیں ابرار سے ہے ۔ جو اسرار سے نہیں اقرار سے ہے ۔ جو عبد سے نہیں عابد سے ہے ۔ جو ابد سے نہیں احد سے ہے ۔ واحد کی محبت زاہد کا مقام ہے ۔ بیان میں جو نہ آئے وہی انعام ہے ۔


 تحریر !  محمودالحق
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter