May 3, 2012

طوطی اور سوداگر

سندر خانی انگور ذائقہ اور مٹھاس میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ انورٹول آم خوشبو اور ذائقہ میں کسی سے کم نہیں۔اگر آم پھلوں میں بادشاہ کہلاتا ہے تو انگور بھی کسی رانی سے کم نہیں۔
لیکن اعلان وفا سے پہلے دونوں ہی کسی دشمن سے کم نہیں ہوتے۔ایسے دانت کٹھے کرتے ہیں کہ کسی جلاد سے کم نہیں ہوتے۔ اعلان وفا چند دنوں سے زیادہ نہیں ہوتا مگر یہاں تک سفر طے کرنے میں سال بھر میدان جنگ کا منظر پیش کرتے ہیں اور بدلتے موسموں کی تغیرات سے بچتے بچاتے انجام صبر کی مثال بنتے ہیں۔
سال بھر انتظار کے بعد حسن کے چرچے ہفتہ بھر ہی سننے میں رہتے ہیں۔ جن کے مقدر میں مٹھاس نہیں ہوتی ، وہ کٹھے ہی مرتبانوں کی زینت بن جاتے ہیں۔وہاں وہ منصب بادشاہت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
رانی جب ڈھل جائے تو گلے سڑے ہوئے پانی سے نشہ کی لت کی شکار ہو جاتی ہے۔نرالا دستور ہے زمانہ کاایسی حالت میں رانی کی بیٹی بن کرتمکن چیرہ دست ہو جاتی ہے۔معاملہ کچھ بھی ہو۔ بات سمجھنے کے لئے کہانی ضروری ہوتی ہے۔
اگر بغداد کا سوداگر ہندوستان کی طوطیوں کو ایک قیدی طوطی کا پیغام پہنچاتا ہے تو اسے قید سے رہائی کی ترکیب سوداگر کے زریعے پہنچا دی گئی۔ جسے سوداگر کی قید میں روزانہ مرتی ہوئی طوطی نے خود کو مار کر قید سے رہائی کا پروانہ پا لیا۔ جسے بظاہر طائر کی عقلمندی سے رہائی کی حکایت بنا دیا گیا۔  مولانا رومی نے اپنی مثنوی میں تشبیہات اور استعارات میں ایسی کئی کہانیاں بیان کی ہیں۔
ان کے نزدیک طوطی تو دراصل ایک خوبصورت ، خوش گفتار اور دل کو چھو لینے والے حسن سے آراستہ روح تھی جو نفس کی سلاخوں سے بنے جسم کی قید میں تھی۔ جس نے نفس کی قید سے رہائی کا پروانہ تحسین و رغبت آدمیت کی نفی سے حاصل کیا۔ حسن جب نچھاور ہونے کے لئے حد سے بڑھ جائے تو رغبت انسانیت صیاد بے رحم بن کر دبوچ لیتا ہے۔پھر وہ نفس کی سلاخوں کے پیچھے قیدی بن کر رہ جاتا ہے۔
دوسروں سے آزادی کا نعرہ بلند کرنے سے قیدی سوداگروں سے رہائی نہیں پاتے بلکہ اس زندگی کو فنا کر دیتے ہیں جو صیاد کو دلربائی عطا کرتی ہے۔ خوبصورت اور خوش الہان پرندے قید و بند کی صعوبتوں سے گزرتے ہیں مگر ملکہ ترنم کوئل نہایت خوبصورت ، دلکش اور کانوں میں رس گھولنے والی آواز کے باوجود کھلے درختوں پر آزاد رہتی ہے۔ اس کی آزادی کا راز یہ ہے کہ وہ قید ہونے سے پہلے صیاد کے ہاتھوں میں ہائی بلڈ پریشر سے فنا ہو جاتی ہے۔ اس کا ایسے مر جانا آزاد زندگی کی علامت ہے۔
کھلے روشندان سے کمرے میں قید ہونے والی چڑیا آزادی کے لئے چھتوں ، پنکھوں سے جس طرح ٹکراتی ہے، وہ آزادی کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ پیدائشی قیدی طوطا پنجرے کا دروازہ کھلا ملنے پر طوطا چشم ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پیدائشی آزاد روح انسانی ، نفس بدن کی قید میں بھی خوشی کے ترانے گنگناتی ہے۔ اس کی آزادی اس کے
 تفکر میں ہے، صبر میں ہے ، شکر میں ہے۔
محبت میں ہے، قربت میں ہے، عبادت میں ہے۔
اقرار میں ہے، دلدار میں ہے، ابرار میں ہے۔
آسمان میں ہے، ایمان میں ہے، قرآن میں ہے۔
سبب میں ہے، طلب میں ہے، قلب میں ہے۔
احد میں ہے، حمد میں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے۔
کامیابی قدم چومے تو دولت و شہرت کا پہلا شکار وہ خود ہوتا ہے۔ زر زمین کی فرمائش پر پہلے خود قربان ہوتا ہے۔ پھراپنی روح کو نفس بدن کا قیدی بنا دیتا ہے۔ ظاہری تبدیلیوں سے ارواح انسان کو نفس کی غلامی کا درس دیتا ہے۔ اس کی نشانیوں میں ایک نشانی ضرورتوں کا بڑھ کر آسائش بن جانا ہے۔ معاشرے کے لئے وہ آلائش بن جاتی ہیں۔ پھر ہر ایک کی وہ فرمائش بن جاتی ہے۔
انسان کے لئے پیغام انسانیت ہے، پیغام آدمیت ہے۔آدمی نے مادیت کا پیغام  خود سے پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ جس کی اساس مادہ پرستی ہے۔ مادہ پرستی نفس کے درون قید خانہ کی بالکونی ہے۔ جہاں سے روح کی آمدورفت کی راہ میں دعوت گمراہی کا انتظام ہوتا ہے۔
وجود کو آلائشوں سے پاک رکھنے کے لئے آزادی کی جنگ لڑی جاتی ہے جس سے انقلاب برپا ہوتا ہے۔ طوطی کی طرح خود کو فنا کر کے بقاء پائی جاتی ہے اور اس کے لئے نفس کے سوداگر سے آزادی کا مفہوم حاصل کرنا ہوتا ہے۔
قیدیوں کو دیکھ کر خوش نہیں ہوا جاتا بلکہ انہیں قید سے رہائی کا راستہ دکھایا جاتا ہے نا کہ سوداگر کے ہاتھ میں اپنی ہی آزادی سونپ دی جائے۔
ملک آزاد ہوتے ہیں۔ جنگل آباد ہوتے ہیں۔ صرف طوطے قید ہوتے ہیں۔ ہاتھوں کی چوری جنہیں بادشاہ اور رانی سے بڑھ کر مٹھاس کا نشہ دیتی ہے اور دوسروں کو بھی اسی راستے کا مسافر بناتی ہے جس کی منزل قید ہو۔


تحریر : محمودالحق


در دستک >>

Apr 25, 2012

روشنیوں کا شہر



قمقموں سے بھرا ،چاروں اطراف روشنی پھیلاتا،قربتوں میں جگمگاتایہ شہر میرے پاک پروردگار کا بنایا ایک شاہکار ہے۔ روشنی کے سامنے رہوں تو میرا عکس مجھے روشن کر دے۔پلٹ جاؤں تو ایک جہاں روشن ہو جائے۔وہ ٹمٹماتے تاروں کے نظارے روشن کر دیتی ہے۔گھنٹوں انہیں دیکھنے سے جی نہ بھرے۔آنکھیں چکاچوند روشنیوں کے جلوے سے منور ہو جائیں۔بینائی کا سفر روشنی کی رفتار سے تیز ہے۔جو پلک جھپکنے میں کروڑوں میل کی مسافت طے کر لیتی ہے۔اگر جنت کا منظر آنکھوں میں بسا لے تو تسکین ایسی کہ نشہ ہونے لگتا ہے۔
ایک یہ بدن پل پل اکتاہٹ و بیزاری کی لت کا شکار رہتا ہے۔قدم اُٹھانے کی غلطی کریں تو گنتی پر اتر آتا ہے۔ہزار قدم کے سفر میں پڑاؤ کی تمنا رکھتا ہے۔دوزخ کے تصور سے ہی بدن آگ میں جلنے لگتا ہے۔ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اس کی جنت تو یہی دنیا ہے، مخملی بستر ، آرام دہ سفر، خوش رنگ لباس اور خوشبو بھری خوش ذائقہ خوراک ۔مٹی میں مل بھی جائے تو ایک آواز سے پھر بننے میں کوئی مشکل نہیں۔
انسان چکا چوند روشنیوں میں جینا چاہتا ہے۔مرکز کے قریب جہاں اسے عکس ویسا ہی نظر آئے جیسا وہ دیکھنا چاہتا ہے۔آئینے میں نفس کی آنکھ سے خوبصورتی کی منظر کشی کرتا ہے۔زمین پر بڑھتے گھٹتے سائے تو اسے نظر میں نہیں جچتے۔ جسے مبہم قرار دے کر کسی توجہ کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔مٹی اسی کا نشان بناتی ہے جس پر اسے گرفت کرنی ہوتی ہے۔
جب انسان کے بس میں کچھ نہیں پھر وہ اپنے بس میں کرنا ہی کیوں چاہتا ہے۔ آقا غلام کا دور جا چکا۔اب حاکم محکوم کا دور ہے۔ حاکم مراعات یافتہ ، با اختیار طبقہ بھی کہلاتا ہے اور محکوم ،محروم وبے اختیار بھی سمجھا جا سکتاہے۔ جو بڑا نسان بھلے نہ بن سکے مگر خواب آنکھوں میں سجا کر بیوقوف ضرور بنتا ہے۔ دھوکہ انہیں دیا جاتا ہے جنہوں نے اعتبار کی خلعت پہنی ہو۔جھوٹ تب بولا جاتا ہے جب بے اعتباری کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔
سورج کے مشرق سے طلوع ہونے اور مغرب میں غروب ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔پھر روشنی اور ہوا کوگھروں میں داخل ہونے کے لئے دستک کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ جس پر شک نہیں اس کے راستے مسدود کر دئیے گئے۔ جس پر اعتبار نہیں انہیں گھروں میں بٹھا کر قفل لگا دیئے گئے۔ نقب لگانے کا موقع خود سے فراہم کر دیا اور بدن کی چیخیں سن کر بلبلا اُٹھے۔کیونکہ وعدے ہمیشہ عوامی ہوتے ہیں قومی نہیں۔ جب قفل بندعوام آزاد قوم نہ رہے تو وعدہ کرنے والے قومی نہیں ہوتے۔جو عوام آئینے میں عکس دیکھ کر پھولے نہ سمائے وہ انسانیت کے اس درجے تک جا پہنچتا ہے جہاں جھوٹ بالکل سفید ہو جاتا ہے دن کے اجالے کی طرح۔
کتابیں کھول کر معنی و مفہوم تلاش کرنے سے مخلوق مخلوق سے بیگانی ہوتی ہے۔خالق سے پہچان ایمان کی بدولت ہوتی ہے۔کروڑوں میل کی مسافت طے کرنے والی آنکھیں چند میٹر سے آگے زندگی کا مفہوم جاننا نہیں چاہتیں۔گھر بار ، دولت کے انبار اور کار ہی نعمتوں میں شمار رہ جاتی ہیں۔ستاروں پر کمند ڈالنے کے دعویدار اپنا عکس دیکھنے سے فارغ نہیں ہو پاتے۔آسمان پر جگمگ جگمگ کرتے تارے انسانی آنکھ کی محبت سے محروم رہ گئے۔جن کے لئے یہ منظر سجایا گیا انہوں نے مہمان گھروں میں بٹھا کر قفل چڑھا رکھے ہیں۔ یہ شہر انوار ہے جہاں روشنی کا مکمل اعتبار ہے۔ بندشیں صرف نیند سے ہیں۔ مگر رہنا وہاں پسند کرتے ہیں جہاں بندشیں غفلت سے ہیں۔قفل کھول کر گھر سے باہر کھلے آسمان تلے بیسیوں تارے ٹمٹما کر اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر قفل کھولنے والے بیس ملنے بہت مشکل ہیں۔ اگر انسان نقصان اُٹھانے والا نہ ہوتا تو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھی نہ ہوتے۔جنہیں دین مکمل مل گیا دنیا ان کی آج بھی نا مکمل ہے۔جہاں وعدوں کا پاس نہیں سچ کا ساتھ نہیں، وہاں جھوٹے ،وعدہ خلاف بے ایمان بھی ہوں گے اور کرپٹ بھی۔
روشنیوں کے شہر میں واپس لوٹنا ہو گا جہاں دیدہ ور کو پیدا ہونے میں ہزاروں سال کے انتظار کی سولی پر نہ لٹکنا پڑے۔ نظر کے وہ جلوے قفل عقل کو توڑتے ہوئے قلب رب کے ذکر کے ورد میں روشن ہوتے جائیں۔


تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Apr 22, 2012

پھول کھلتے ہیں گلستان میں جلتا ہے بیاباں


پھول کھلتے ہیں گلستان میں جلتا ہے بیاباں
رحمتوں کی ہر دم نوازش شکرِ کلمہ پر ہے زباں

گلِ نام میں کیا رکھا ہے خوشبو تو خود نامہ بریں
آندھی کے آم چنتے جاؤ بے پرواہ ہے باغباں

آنکھ سے گر لہو ٹپکے گوہر فشاں بن بھڑکے
نظر کرم ہو اس کی آگ بھی ہو جائے روحِ پاسباں

گھر یہ گر میرا ہے مکیں نظر میں کیوں جچتے نہیں
تن پوشاکِ مالابار قلب کیفیت غریباں

جواب پڑھ کر بھی جو سوال سے ہٹتے نہیں
اندھیروں میں بھٹکتے ڈھونڈتے پھر کیوں نیاباں

آفتاب کو دھکایا کس نے مہتاب کو چمکایا کس نے
زروں سے جو پہاڑ گرا دے وہی تو ہے نگہباں

کچھ پڑھا ہوتا کچھ تم نے بھی سمجھا ہوتا
یہ نہ بھولا ہوتا ہجومِ بھیڑ ہیں حصار غلہ باں

علم کا کال ورقِ علم کالا تحریر ہے کہاں
نقطوں پہ تحریریں لفظوں میں زمانہ علم و ادباں

۔۔۔٭۔۔۔

 بر عنبرین / محمودالحق
در دستک >>

بہت مشکل میں ڈال دیا میرے کلامِ انتخاب کو


بہت مشکل میں ڈال دیا میرے کلامِ انتخاب کو
زمین کو ہے پردہ کھلا ہے سب آفتاب کو

چلو آج ایسے ہی میزان میں بات کرتے ہیں
روکو شاخِ شجر کو پھیلے جو گلِ بیتاب کو

جذباتِ قلب کو میری عقلِ گرہ سے نہ باندھو
قید میں رکھو ارمان جانے دو وصلِ سحاب کو

میرا گھر مجھے اچھا رہو اپنے محلِ پوشیدہ میں
چراغ تو جلتا نہیں روکو ہوا یا حباب کو

کھلی آنکھ سے جو دیکھتے وہ منظر میرا نہیں
قلب کو چیر دے قلم میرا انجمن احباب کو

ساز ردھم رنگ دھنک نہیں موم اشک بار میں
کاغذی پھولوں سے بھرتے کس خوشنما کتاب کو

۔۔۔٭۔۔۔

بر عنبرین / محمودالحق
در دستک >>

ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں




گندم کی کھڑی پکی فصل کے قریب چنگاریوں کو ہوا نہیں دی جاتی۔محنت کی محبت کا جنازہ سیاہ خاک سے اُٹھایا نہیں جاتا۔بچپن کا بھولپن جوانی کی دلنشینی سے تھپتھپایا نہیں جاتا۔بڑھاپا جوانی کے در پہ دستک سے رکوایا نہیں جاتا۔کہیں تو کچھ ایسا ہے جو مزے سے نیند نہیں دیتا۔چین سے جاگنے نہیں دیتا۔ادھوری خواہشوں سے جینا لولی لنگڑی زندگی جینے سے پھر بھی بڑھ کر رہتا ہے۔مگر شخصیت کا ادھورا پن کبھی پہلی سے چودھویں کے چاند تو کبھی پندرھویں سے تیسویں کے چاند جیسا ہوتا رہتا ہے۔جس کا مقصد صرف دن گننے رہ جاتے ہیں۔
خیالوں میں پھول کھلانا نہایت آسان ہے مگر خوشبو صرف سونگھنے سے موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔جو کلی سے مرجھانے تک وجودِ ناتواں سے عشق بہاراں کا جشن مناتی ہے اوربدنصیب کانٹے شاخوں میں رہیں تو رقابت سے ہاتھوں کو تختہ مشق بناتے ہیں۔ ٹوٹے پڑے زمین پر دھول سے اَٹے پاؤں پر بھی حملہ آور رہتے ہیں۔ریزہ ریزہ ہونے تک تکبر کے نشہ سے مستی میں رہتے ہیں۔رقابت میں جل جاتے ہیں مگر محبت میں جینا نہیں سیکھ پاتے۔
عورت زندگی میں چھت کی طلبگار رہتی ہے۔مرد گھروندوں میں اپنے گھرانہ کے لئے تین مرلہ سے تین کنال کے گھر کی جستجو میں پیٹ پر پتھر باندھنے پر بھی آمادہ دکھائی دیتا ہے۔کھلی زمین میں ایک جگہ کو مقامِ محمود کا نام دئیے ایک عرصہ بیت گیا۔ان دیواروں کو ترستے ترستے ایک عمر بیت گئی۔جن پر لکیریں کھینچ کر چڑیا ، طوطا جیسے نقش و نگار بنا پاتے بچے۔جن کا بچپن دیواروں کی محبت کے بغیر جوانی کی دہلیز تک جا پہنچا۔جہاں دروازوںسے گزرنے تو کھڑکیوں سے جھانکنے کی عادت تک زندگی محدود ہو جاتی ہے۔
پانے کا نشہ شیر کے اپنے شکار کی گردن میں دانت گاڈ کر خون بہانے جیسا ہے اور کھونے کا کھسیانی بلی کے کھمبا نوچنے جیسا۔کاش اور اگر جیسے الفاظ اپنی اہمیت کا احساس نقصان و ناکامی میں زیادہ دلاتے ہیں۔بنا چھت کے گھر بادوبارں کے طوفان سے بچائے نہیں جا تے اور دخول و خروج کے راستے اگر کھلے بھی ہوں تو تحفظ کا احساس مٹنے نہیں دیتے۔
آسمان سے کبھی کچھ گرتا نہیں ، زمین سے کچھ اُٹھتا نہیں۔ٹانگوں پہ کھڑی پاؤں پر چلتی وجود ہستی ء انسان زمین پر نخلستانی زرے سے زیادہ نہیںاور زمین اس کائنات میں ایک زرے سے زیادہ نہیں۔سائنس نے کائنات کے دوسرے حصے تک فاصلے کا وقت اندازے سے متعین کر دیا۔صرف پانچ بلین سال اور وہ بھی نوری۔ اب دیر کس بات کی چاند و مریخ کے پروگرام ہی موخر کر دئیے۔ جب اونچی دیوار کے ساتھ انگور کے گچھے لٹکے ہوں تو وہ ہمیشہ کھٹے ہوتے ہیں۔
راز جاننے کی جستجو اندھیرے میں کالے دھاگے کی نسبت سفید تک پہنچنے جیسی آسان ہوتی ہے۔جیسے کبھی کبھار نقصان اُٹھا کر بھی سکون کی نعمت سے انسان مالامال رہتا ہے۔ویسے اکثر توقع سے کم نفع ملنے پر پریشانی کی صلیب پر لٹکنا پسند کرتا ہے۔یہاں تک پہنچنے کے لئے ''کہ سکون کے لمحات پہاڑوں کی طرح کوفت وبے چینی کی زمین میں کیل کی طرح گڑ جائیں''فاصلے ایسے طے کئے جاتے ہیں جیسے آنکھوں کی روشنی لاکھوں نوری سالوں کے فاصلے پر تیرتے جہانوں کو ایک نظر سے شکار کر لیتی ہے۔
قرآن کے الفاظ کئی بلین سال کا فاصلہ ایک پل میں محبوب خدا تک پہنچنے میں طے کر لیتے ہیں۔اس کلام کا ایک ایک لفظ عبادت ہے۔کائنات کے کروڑوں سالوں پر پھیلے فا صلے وجودِانسانی کو آرائش و زیبائش سے بدگمان کر دیتے ہیں۔نماز فرض عبادت ہے،اگر یہ سوچ کر پڑھی جائے اللہ سبحان تعالی کو بندے کی زبان سے اپنا ذکر محبوب ہے تو یہ عشق کے نشہ میں ڈھل جاتی ہے۔اس کا ذکر ہر پریشانی سے مستقبل کے ان دیکھے خوف سے، عدم تحفظ کے احساس سے، زندگی کی محرومیوں کی ندامت سے، رشتوں کی جھوٹی انا کی رقابت سے، خودنمائی کے احساس کی حرص سے نجات دلا کر سچائی کی روشنیوں سے راہ دکھاتا ہے۔صبر کا دامن اتنا پھیل جاتا ہے کہ دعاؤں کی جھولیاں کم پڑ جاتی ہیں۔
ایک غیر مسلم اس حقیقت سے آشنائی پاگیا۔سچائی کی تلاش میں صراط مستقیم پر چلنے کی رضامندی سے ہی سکون کے گہرے سمندر سے خوشیوں کی موتی بھری سیپیاں سمیٹنے لگا۔مگر پیدائش کے فوری بعد جس کے کان میں اللہ اکبر اللہ اکبر کا پیغام پہنچا وہ کان آج بھی حقیقت پسندانہ سچائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔علم کے قلم سے سچائی کی کتاب پر سنہری حروف میں لکھنا مقدر سمجھتا ہے۔سچ کو عقل کے پیمانہ سے ماپنا چاہتا ہے۔تصدیق کے لئے تحقیق کا سہارا چاہتا ہے۔ہبل سے اُتاری گئی تصویریںخوش رنگ امتزاج سے آگے بحث کے قابل نہیں رہتیں۔وہ اپنی تعریف کے لئے لفظوں کے سہارے کی پابند نہیں۔مگر قرآن نے کسے مخاطب کیا اسے جاننا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
اس پیراگراف تک پڑھ کر جو پہنچے ہیں،ان میں ایک الفاظ کے بہاؤ میں بہتے چلے آئے ہیں۔جن کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس تحریر سے حاصل کیا مقصود ہے۔زندگی پہلے ہی مکمل اور خوبصورت ہے۔اب مزید سوچ کے بار سے ضرب افکار کی کیا ضرورت ہے۔
دوسرے وہ ہیں جنہیں مسائل اور پریشانیوں نے ستا رکھا ہے۔ہر طرف اُڑانیں بھرتے بھاری بھر کم مقابل حریف چتکرنے کے درپے ہیں۔بار بار میدان میںاُترنے کا چیلنج دیتے ہیں ۔ ایسے بہت سے چیلنجز گزر چکے۔کئی ایک اب بھی سامنے کھڑے ہیں۔مگر چیلنج کرنے والے سکونِ قلب کی نعمت کے نخلستان میں بکھرے ایک زرے سے زیادہ نہیں۔ وجود میںسکون کے احساس کا ایک سمندر صبر کی لہروں سے بے یقینی اور بد دلی کے ساحلوں سے ٹکراتا رہتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ دنیا کی آرائش و زیبائش لالچ و حسد کی حدیں پھلانگ لے تو ایک وقت کے بعد ندامت ملامت نہ بھی بنے تو کم از کم صداقت نہیں رہتی۔جو سچائی سے منہ چھپاتے ہیںوہ کلامِ پاک تک پہنچنے کا راستہ قلب سے نہیں طے کر پاتے بلکہ رگوں میں دوڑتے لہو سے لیفٹ رائٹ حصوں پر مشتمل دماغ کے خلیات سے جانچنے پرکھنے کے کیمیکل اثرات کے زیراثر اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔شاگرد جب خود استاد کے منصب تک پہنچ جاتے ہیں۔تو وہ اپنے پسندیدہ اساتذہ کے خود پر آزمائے فارمولوں کے ساتھ ساتھ تربیت میں کمی رہ جانے کیوجہ بننے والے نئے فارمولے بھی آزماتے ہیں۔پھر یہ سلسلہ نئی نئی جہتیں متعارف کرواتا ہے۔سیکھنے اور سکھانے کا عمل ایک کے بعد ایک چھ سات دہائیوں میں ختم ہوتا رہتا ہے۔مگر کسی بڑی نئی تبدیلی کا مظہر پانچ دہائیوں میں ایک بار ہی ہو پاتا ہے۔زیادہ تر پیروی ہوتی ہے۔رہنمائی کا علم صدی میں ایک دو کے ہاتھ ہی لگتا ہے۔جو شاگردی میں جنونی ہوتے ہیں وہ استادی میں انوکھے ہوتے ہیں۔بقول غالب!
مشکلیں اتنی مجھ پر پڑیں کہ آساں ہو گئیں
مگر اقبال  کا کہنا ہے کہ
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter