Feb 7, 2010

شعلہ بیان یا سلگتا بیان

ایک زمانہ تھا جب بھی کسی قوم کے اندر کسی تحریک کا آغاز ہوتا تو قائدین اپنی تحریروں اور تقریروں سے انقلاب برپا کر دیتے ۔ قوم میں ایک نیا جوش و ولولہ انگڑائیاں لیتا ۔منزل کی نشاندہی اس انداز میں کی جاتی کہ آغاز میں ہی کوشش سےکامیابی قدم چومنے لگتی۔ لیڈر صرف تقریریں نہیں کرتے تھے حقیقت میں اس پر عمل پیرا ہوتے ۔ قوم انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھتی ۔ان کی ایک آواز پر لبیک کہتی ۔ڈنڈا گولی سے ڈرنے کی بجائے سینہ تان کر سینہ سپر ہو جاتی۔ چاہے مسجد شہید گنج کا معاملہ ہو یا سانحہ جلیانوالہ باغ ہو ۔ آزادی کے بنیادی حقوق کے لئے آواز بلند کی جاتی ۔انفرادی کوشش سے نہ تو تحریکیں چلیں اور نہ ہی حقوق کا حصول ممکن ہوا ہے ۔ قوموں کے اندر ہی سے ان کے رہنما پیدا ہوتے ۔ جو صحیح معنوں میں صرف حقوق کی آزادی کے لئے نہیں لڑتے بلکہ رہنمائی بھی کرتے ۔
صحیح خطوط پر سیاسی وابستگی کا استعمال کیا جاتا ۔ ذاتی مفادات و کاروبار کا قریب سے بھی گزر نہیں ہوتا ۔عوام سے کئے گئے وعدے وفا ہوتے ۔ جن کے بل بوتے پر اسمبلی میں جاتے ۔ انہی کے لئے بے چین رہتے ۔جلسہ میں ہوتے یا اسمبلی میں اپنی شعلہ بیانی سے مجلس گرما دیتے ۔ ایسے شعلہ بیان مقرر جلسوں میں تقریر سے ، اخبارات میں اپنے کالموں سے نئی روح پھونک دیتے ۔تاریخ شاہد ہے کہ نئی نسل کو شعلہ بیان رہنماؤں نے ایک اچھے مستقبل کی نوید دلائی ۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں ۔لیڈر بہک چکے ہیں ۔قوم سہم چکی ہے ۔کیونکہ جب سے دنیا گلوبل ولیج بنی ہے ۔ انٹر نیٹ پر کاروبار ، اشتہارات ، اخبارات ، غرض میرے جیسے مضمون نگار بھی انٹر نیٹ پر پائے جاتے ہیں ۔ جنہیں کوئی بھی اپنے دو کالمی خبر کے قابل نہ سمجھے۔مگر کیا کریں ہمیں تو کام لینا نہیں آتا ۔کسی بڑے تعلق کا بھی مان نہیں ۔ صرف نماز میں ہی ہاتھ باندھنے سے خوشی ملتی ہے ۔جھکنا صرف سجدہ میں جانے کے لئے ہی اچھا لگتا ہے ۔ہمیں کوئی خواہش نہیں کہ بڑے لیڈر سے ربط بڑھے ۔ ٹی وی پر انٹرویو ان کا ہو اور گردن اُٹھا اُُٹھاکر کیمرے کو منہ چڑاتے پھریں ۔ان کی فائلیں ، موبائل فون ، ڈائری کسی اور کے ہاتھ میں ہو اور وہ دونوں ہاتھ صرف سمیٹنے کےلئے خالی رکھیں ۔بھلا ہو لنڈے میں سستے داموں ملنے والے ٹو پیس سوٹ کا امیر غریب کا فرق مٹا دیا ۔صرف خالی ہاتھ دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ لیڈر یہی ہے ڈائری و فائلیں ٖفون ہاتھ میں رکھنے والا اسسٹنٹ ہے ۔ حکومتیں جب بھی کوئی نیا نظام متعارف کرواتی ہیں تو مقصد عوامی بھلائی نہیں ہوتا بلکہ اسسٹنٹ بنانے میں چھانٹی کا عمل ہے ۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ فائلیں اُٹھانے والے میسر ہوں ۔ قوم سمجھتی ہے کہ فائلوں میں وہ پراجیکٹ ہیں جو ان کی بھلائی واسطے شروع کئے جانے والے ہیں ۔ مگر وہ تو مہنگے پلاٹوں کی اوپن فائلیں ہوتیں جن کو بیچ کر پیسے کھرے کئے جاتے ہیں ۔مگر میں یہ کیا کر رہا ہوں کوئی نئی بات ہو تو یہاں ذکر کروں بھلا ان باتوں کا یہاں کیا تعلق ۔ سب ہی تو جانتے ہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی جانتے ہیں ۔ ایک آدھ واقعہ بیان کرنا وقت کا ضیا ع ہے قاری کا ۔پہلے کیا کم مسائل سے دوچار ہیں کہ اب پڑھنے کا بھی بوجھ ڈال دوں ان پر ۔ روزانہ ہی نت نئے تازہ حالات پر لب کشائی کی جاتی ہے اور میں ہوں کہ وہی پرانی باتوں کو لیکر بیٹھ جاتا ہوں ۔اب کیا کیا جائے نیا مصالحہ ملتا نہیں ورنہ ہم بھی سیاسی بریانی کی نئی دیگ تیار کر ہی دیں ۔پہلے خبریں گھروں تک پہنچانے والے سینہ گزٹ سے پیراستہ تھے ۔ اب خبریں گھروں سے باہر لائی جاتی ہیں ۔ میڈیا بہت آگے جاچکاہے ۔ ہم پیچھے پیچھے چل تو پڑے ہیں ۔ اب کہیں گر نہ پڑیں تیزی میں چلنے کی دوڑ میں ۔
بہت عرصہ ہوا کسی جلسہ میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا ۔ٹی وی پر تقاریر سننے کو مل جاتی ہیں ۔تقریریں بھی ایسی کہ آگ لگانے کی ضرورت ہی نہیں بھڑکی بھڑکائی ۔ ایک دن تقریر دوسرے دن تابڑ توڑ جوابی حملے ۔ کبھی صفائیاں تو کبھی تاویلیں ۔
ایک زمانہ تھا رہنما شعلہ بیان تھا ۔ آج کیا زمانہ ہے سلگتا بیان ہے ۔ چھپتے ہی آگ بھڑکا دیتا ہے ۔

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Feb 6, 2010

یادداشت کھو جانے والی بیماری الزائیمر کی علامات

آج سے چند سال پیشتر پاکستان میں بہت کم لوگ الزائیمر کے متعلق جانتے تھے۔سیمینار منعقد کئے جاتے رہے تاکہ عوام میں بیماری کے بارے شعور بیدار ہو ۔ یادداشت کھونے والی بیماری جو رفتہ رفتہ انسان کو اپنے بس سے باہر کر دیتی ہے ۔
غیر محسوس طریقے سے دماغ کے خلئے آہستہ آہستہ جسم کے اعضاء کو آزاد ی کے پروانے تھماتے چلے جاتے ہیں ۔اورصرف وہی اعضاء کام سرانجام دیتے رہتے ہیں ۔ جو دماغ کے تابع نہیں ہوتے ۔ورنہ تو ایک کے بعد ایک بغاوت کرتا چلا جاتا ہے ۔خودمختاری کے اعلان کے بعد وجود کو زندہ جسم کی بجائے گوشت کا لوتھڑا بنا دیتا ہے ۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یاداشت کی کمی اور یاداشت کے خاتمے کی بیماری ”الزائیمر“ میں دماغ کی گہرائی میں حصہ لینے والے خلیوں الیکٹرانک الیکڑوڈ کے ذریعے متحرک کر کے دماغ میں”نیورون گروتھ“ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔امریکہ کے سابق صدر رونالڈ ریگن 1994میں اسی بیماری کا شکار ہوئے اور 2004 میں دس سال اس بیماری سے لڑتے لڑتے دنیا سے چلے گئے ۔مگر اس بیماری سے نجات نہیں پا سکے ۔تحقیق سے یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے نیند میں خلل سے اس بیماری کی علامات یادداشت میں کمی سے شروع ہو جاتا ہے ۔
لیکن اس وقت میں اس بیماری کے علاج یا تحقیق کے متعلق سیمیناروں کا احوال بیان نہیں کرنے جارہا ۔ بلکہ یہ بتانے جارہا ہوں کہ یہ بیماری اپنی ابتدائی حالت میں کون کون سی علامات ظاہر کرتی ہے ۔ اور اس کا آغاز کس طرح ہوتا ہے ۔ غیر محسوس انداز میں کہ ساتھ رہنے والے بھی اس بات سے بے خبر رہتے ہیں کہ ایک انسان اپنی زندگی بھول رہا ہے ۔ مرکزی حکومت (دماغ) سے ایک کے بعد ایک ریاست (اعضاء) آزادی کا اعلان بغاوت کر رہے ہیں ۔ انسان سمجھ ہی نہیں پاتا کہ وہ زندگی کے ان تنگ و تاریک راستوں میں داخل ہو رہا ہے ۔ جہاں وہ خود اور اس کے ساتھ رہنے والے ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔الزائیمر کا آغاز جیسا کہ ابتدائی تحقیق سے سامنے آئی ہے کہ ذہنی دباؤ اس کا بنیادی سبب ہے ۔ شروع میں مریض کی یادداشت ایک مختصر وقت کے لئے ختم ہو جاتی ہے جیسے وہ اپنے گھر کے افراد میں سے چند ایک کو پہچان نہیں پاتا اور کبھی کبھار جوانی کے ایام دور کے واقعات اور تعلق والے اسے یاد آتے بلکہ سامنے بیٹھے محسوس ہوتے ہیں ۔گھر سے باہر سیر کے لئے جائیں تو اچانک وہ اپنے گھر کی شناخت بھول جاتے ہیں ۔ گھر کے سامنے کھڑے اپنا گھر تلاش کرتے ہیں ۔ پھر اسی تلاش میں ایک گلی سے دوسری میں جاتے جاتے گھر سے دور نکل جاتے ہیں ۔ اور جب انہیں یادداشت واپس آتی ہے تو اس وقت تک اپنے گھر سے بہت دور نکل چکے ہوتے ہیں ۔ گھر کی پہچان تو واپس آ جاتی ہے مگر اب گھر سامنے نہیں رہتا ۔ کھانا کھا چکنے کے بعد بھی انہیں اس بات کا خیال ہوتا ہے کہ انہوں نے ابھی کھانا نہیں کھایا ۔انہیں یاد دلانا پڑتا ہے کہ وہ کھانا کھا چکے ہیں ۔دن و رات کا فرق ختم ہو جاتا ہے آدھی رات کو سالوں پہلے چھوڑا گیا دفتر اچانک یاد آجاتا ہے اور تیار ہو کر اندھیرے میں دفتر جانے کی تیاری میں گھر سے باہر جانے کی ضد کرتے ہیں ۔آہستہ آہستہ یادداشت کھونے کا دورانیہ بڑھتا جاتا ہے ۔اور دیر تک اپنے حال سے جدا ہو جاتے ہیں ۔ماضی پرانے ریکارڈ کی طرح نکل کر سامنے آ جاتا ہے ۔اردو انگلش لکھنے پڑھنے والی آنکھیں لفظوں سے شناسائی کھو دیتی ہیں ۔ مریض سمجھتا ہے کہ اس کی نظر کمزور ہو چکی ہے مگر دراصل دماغ کے وہ خلئے جس میں الفاظ کا ڈیٹا سٹور رہتا ہے صاف ہو جاتا ہے ۔پاخانہ پیشاب کے لئے باتھ روم تک پہنچ نہیں پاتے اور راستے میں ہی کپڑے خراب ہو جاتے ہیں کبھی بستر پر تو کبھی کسی فرش پر ۔ مریض سمجھ نہیں پاتا کہ کیا ہو رہا ہے ۔ ہاتھ میں پانی کا گلاس پکڑنے کا فن بھول جاتے ہیں ۔ روٹی کا نوالہ بنانے کی ترکیب یاد نہیں رہتی ۔ چمچ کو ہاتھ سے پکڑنا بھول جاتے ہیں ۔ بنیادی طور پر انگلیاں دماغ سے آزادی کا بغل بجا دیتی ہیں ۔اور لکڑی کے سہارے سے بھی لا تعلق ہو جاتی ہیں ۔کئی سال یہی معمولات زندگی رہتی ہے ۔ اگر کبھی دست کی شکایت سے کمزوری یا نقاہت ہو جائے تو ایک دو دن بستر پر رہ جائیں تو پھر پاؤں پر کھڑا ہونا ممکن نہیں رہتا ۔ بچے کی طرح لڑکھڑا کر گر جاتے ہیں ۔ زیادہ تر وقت اپنے حوش وحواس میں نہیں رہتے ۔ چند لمحوں کے لئے یادداشت لوٹ کر آتی ہے ۔ اور مریض صرف بستر تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے ۔ کھلی آنکھیں اور سانس لیتی ہوا صرف زندگی کی علامت رہ جاتی ہے۔ یہ زندگی مہینوں نہیں سالوں پر محیط ہے ۔ ایک ایک پل مریض جس تکلیف سے گزرتا ہے بیان سے باہر ہے ۔اس بیماری کا دورانیہ آغاز کے بعد15 سے 20 سال تک بھی رہ سکتا ہے ۔
یہ بیماری زیادہ تر بوڑھے لوگوں میں دیکھنے میں آئی ہے مگر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ 50 کی عمر کے افراد جو شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہے وہ بھی اس بیماری کا شکار ہوئے ۔ترقی یافتہ ممالک میں تو الزائیمر کا مرض کافی پرانا ہے ۔ اور وہ سال و سال سے اس کا علاج دریافت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ مگر فی الحال کوئی خاص کامیابی نہیں ملی مگر اس سے بچاؤ ممکن ہے کہ ڈپریشن اور سٹریس سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کی جائے ۔ مگر اب ہمارے معاشرے میں یہ بیماری وبا کی طرح پھیل رہی ہے ۔جوں جوں معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ رشتوں میں محبت اور ہمدردی کے جزبات کم ہوتے جارہے ہیں ۔ خاص طور پر معاشی ، خاندانی اور معاشرتی مسائل سے پریشانیاں بڑھی ہیں ۔کہیں دولت کی تقسیم سے تو کہیں رشتوں کے لین دین سے آپس میں ناچاتیاں پیدا ہوتی ہیں ۔زیادہ تر وہی لوگ اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں جو گھل گھل کر جیتے ہیں ۔دل کی بات کسی سے نہیں کہتے ۔ غم دکھ کسی ہمدرد سے بانٹتے نہیں بلکہ خود سے برداشت کرنے اور کڑھتے رہنے سے دماغ میں شریانیں سکڑتی چلی جاتی ہیں ۔ جب یہ بیماری سامنے آتی ہے تو وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے ۔ اپنے ارد گرد ماحول کا جائزہ لیں کہیں ہمارا اپنا کوئی پیارا تو برداشت کی قوت کو آزماتے آزماتے زندگی تو نہیں بھول رہا ۔
اللہ تعالی ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور صحت و تندرستی سے زندگی گزارنے کےڈھنگ پرعمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


محمودالحق
در دستک >>

Feb 3, 2010

کیا کھویا کیا پایا

تحریر : محمودالحق
خدا خدا کر کے زندگی کا ایک سال اور گزر گیا ۔ امید و آس کے ساتھ جس کا آغاز ہوا تھا ۔ نا امیدی و مایوسی کے ساتھ انجام پزیر ہوا ۔ دنیا کے نقشے میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی ۔جیسا ہے جہاں ہے کی بنیاد پر ہر ملک اپنی حدوں کے اندر ہی پناہ گزیں رہا۔ جگمگاتی روشنیوں کا فائر ورکس نئی امیدوں کا چراغ بن کر پھر آنکھوں کو چندھیاگیا ۔ ہر سال ہی ہم خوشیوں کے ساتھ نئے سال کا استقبال کرتے ہیں ۔ اور گزشتہ برس پر افسوس کا اظہار کر کے پھر ایک نئی منزل کی امید میں نظریں باندھ لیتے ہیں ۔جیسے ریگستان میں بھٹکا قافلہ ہر پڑاؤ پر نیا سراب دیکھتا ہے ۔ مگر جونہی
قریب پہنچتا ہے تو خواب بکھر جاتے ہیں ۔ ہر بار وہی پشیمانی ، وہی درد افسوس سے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں ۔جن سے امید باندھ لیتے ہیں وہی نا امیدی کے دھکتے انگاروں پر چلنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔مجھے اب نئے سال کی خوشی نہیں ہوتی اگر کوئی یہ سمجھے کہ ہونی چاہیئے تو پھر احمقوں کی جنت میں رہنے کا اب شوق نہیں رہا۔ ایک کے بعد ایک جزباتی انداز میں فلسفہء زندگی کو ایسے تاک تاک کر نشانے پر بٹھاتے ہیں کہ اب تختہ مشق بننے پر دل آمادہ نہیں ۔حلق سے نیچے تو اب کسی بات کی اثر انگیزی نہیں رہی ۔تر نوالہ کی طرح لعاب دہن ہی اب لفظوں کو گولی میں ڈھال کر حلق سے اتارنے کی کوشش میں ہیں ۔آج سائنس کا یہ کہنا کہ قلب تو بس ایک خون کے بہاؤ کے لئے پمپ کا کام کرتا ہے ، ان کی زبان سے نکلتے الفاظ اور دعوے اس کی دلالت کے غماز ہیں ۔کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کے قلب ہر کیفیت سے عاری ہیں اور واقعی انہیں وہ صرف پمپ کاکام ہی دیتے ہیں۔ مگر درد دل رکھنے والا ہر انسان اس مفروضے پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے سے قاصر ہے۔جس عقل کی بنیاد پر لوٹ مار کا بازار گرم رکھا جاتا ہے ۔وہ اگر سو بھی جائے تو وہی قلب اس کی حفاظت کا حصار بنا رہتا ہے۔اگر وہ بھی غافل ہو جائے تو منوں مٹی کے نیچے دفن ہونے سے کوئی کیا بچا پائے گا۔ مگر ان کے نزدیک ہر منزل کا راستہ عقل کی راہوں سے گزرتا ہے۔ اور اسی راستے پر چلنے والے تو بہک سکتے ہیں مگر دل کی بات سننے والے ہمیشہ ہی شش و پنج کا شکار رہتے ہیں۔شیطان کا بہکاوہ کمزور عقل مالک پر گہری چوٹ رکھتا ہے۔وگرنہ مٹی سے بنا انسان اسی زمین پر تکبر نہ کرتا ۔کامیابی کا حصول ، دوسروں سے معتبر کرنے میں اپنی تمام کوششیں بروئے کار لائی جاتی ہیں۔برداشت ، صبر ، عجز و انکساری کی جگہ اب لالچ خود غرضی نے لے لی ہیں ۔ فلسفہ حیات و ممات اب صرف کتابوں کی زینت رہ گیا ہے۔دوسروں سے بڑھ جانے کی تگ و دو میں روندنے کا عمل اپنی دانست میں عقل کی معراج سمجھا جانے لگا ہے۔ بیوقوف انسان تصور کیا جاتا ہے جو اپنا مستقبل ، بڑھاپا اور اولاد کی جوانی محفوظ نہیں رکھتا ۔کامیابی کی سیڑھی جزبات کے کھیل سے تیار کی جاتی ہے۔مفاد پرستی میں کینہ و بغض کو جھوٹ کی تراوٹ سے تازگی کے دھوکہ میں بہلایا جاتا ہے۔ سیاست سے لیکر کاروبار تک اور حکومت سے لیکر گھریلو انتظامات تک فرد فرد سے شکوہ و شکایت کے دربار شاہی کا طلبگار ہے۔ہر شخص اپنے مسائل و مشکلات کا شکار ہے ۔جسے جو مسئلہ درپیش ہو ۔ اسی کا مداوا چاہتا ہے ۔مردوں کو نوکریوں کے لالے پڑے ہیں تو خواتین کو مردوں سے برابری کی جنگ جیتنے کی جستجو ہے۔والدین اولادوں سے نالاں ہیں ، تو اولادیں والدین کو اپنی ناکامی کی وجہ قرار دیتے ہیں کہ سفارش یا رشوت کی سیڑھی سے انہیں منزل مراد تک پہنچنے میں مددگار نہیں ہوئے۔احسان ہی بھول چکے ہیں کہ تابعداری میں حکم کیا ہے۔بس صرف شکوہ میں زبان ذکر کرتی ہے۔دولت کا حصول ہی مقصدحیات ٹھہر چکا۔ رشتوں میں بناوٹ و تصنع نے اصل چہرے چھپا لئے ۔ پردہ اٹھنے پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اگر ملک میں انصاف نہیں تو خود میں بھی برداشت نہیں۔جلوس ریلیاں نکال نکال کر نوجوانوں کو توڑ پھوڑ کا ڈھنگ سکھا دیتے ۔ پھر شکوہ دوسروں سے کہ اپنی حدوں سے آگے گزر گئے ہیں۔ہر عروج کو زوال سے ہمکنار کرنے میں سب کا ایک ہی ڈھنگ اور کام ہونے کے بعد پھر وہی رنگ۔قوم تتلیوں کی مانند کبھی ایک ڈالی پہ تو کبھی دوسری ڈالی پہ۔ظالموں نے قوم کے خوبصورت رنگوں کو ہی بکھیر دیا ۔ روز ہی ٹی وی مناظروں میں لوٹا لفافہ کریسی سے بات اب آگے بڑھ کر کردار کشی تک جا پہنچی۔لفظوں کی نورا کشتی سے اب آگے تھپڑوں گھونسوں کی باری ہے جو پارلیمنٹ کی بجائے قوم کو گھروں میں دیکھنے کو ملے گی۔کوئی ستر ہزار ووٹ سے جیتنے کے دعوی سے ہر الزام سے بری الزمہ ہو گیا ۔ تو کوئی ان کے کندھوں پر ہی پوری قوم کا نا خدا بن جا تا ہے ۔نہ الیکشن صفاف اور نہ ہی ریفرنڈم ۔ بس بھیڑوں کا ایک باڑا ہے جو چاروں اطراف سے گھرا ہوا ہے۔ ایک ہانکتا ہے تو باقی ارد گرد سے گھیرا ڈال کربکھرنے سے بچاتے ہیں۔بھوک سے لاچار بھی ہوں قدم ڈگمگانے کی اجازت نہیں ۔بچا کر رکھتے ہیں کیونکہ دولت کے انبار انہی کی کھالوں سےتو لئے جاتے ہیں۔جس کو ہاتھ لگاؤ ڈنک بھرے تیار بیٹھےہے۔ ہر بار اس سال کی امید بہار میں ہمارے بالوں میں بھی چاندنی پوری طرح سے پھیل چکی ہے۔ ہم تو بچپن سے لاٹھی جلوس کی تزکیہ نفسی کے شکار رہے اور اب ہمارے بچے بھی دھکم پیل کے اس کھیل میں کہیں عمر نہ گنوا دیں۔اور دوسروں کو اپنے ماموں کے پودینہ کے باغات کے قصے سنا کر مرعوب کرنے کی ناکام کوشش میں اپنی شناخت ہی بھول جائیں ۔ اور جو غریب ہیں ان پر ظلم ڈھانے کے لئے امارت کا رعب ہی کافی ہے۔غریب وکمزور کو اوئے ،تو کہ کر بلانا اور امیر طاقتور کو آپ جناب کی گردان سےعزت افزائی سے طاقت بڑھائی جاتی ہے۔تو غریب بچہ کوئی ایسا ہی فعل انجام دے گا جس کی ایک مثال نیلا گنبد میں پارکنگ سٹینڈ پر گاڑی صاف کرنے والا ایک بچے نے کالی بڑی گاڑی کے شیشےکو اچھی طرح آئینہ کی طرح صاف کیا ۔ اور خود کا چہرہ دیکھا پھر اسی شیشے پر تھوک کر چلا گیا ۔مگر دوسری طرف وی آئی پی کلچر کے دلدادہ وطن میں ہوں تو ملازموں کی فوج ظفر موج انتظار میں پسند فرماتے ہیں۔ اور اگر باہر سے آئیں توامیگریشن سے پہلے اپنے نام کے ساتھ استقبال پر مامور سرکاری ملازم کا پروٹوکول چاہتے ہیں ۔آج بھی یہ سوچتا ہوں کہ دو سو سال بعدبھی کس کی حکومت ہے یہاں مغل بادشاہ کی ، ریاست کے راجہ مہاراجہ کی یا پھر ایسٹ انڈیا کمپنی کی۔ کیونکہ جمہوریت عوام سے ہے مگر عوام کہاں ہیں؟
مگر ان تمام کے باوجود میرے لئے یہ ایک اہم سال تھا ۔ میں زندگی میں مرحوم و مغفوربوڑھے والدین کے ساتھ اس لئے جڑا رہا کہ دنیا تو شائد مجھے کچھ نہ دے سکے ۔مگر ان کی خدمت سےجو اطمینان قلب آج مجھے نصیب ہے ۔ وہ دولت سے بڑھ کر بیش بہا خزانہ تسکین ہے ۔ خاص طور پر اس سال آٹھ جنوری کو شروع ہونے والا میرا یہ سفر در دستک ہے۔ موسل بار ، برگ بار، روشن عطار، خندہ جبین ، بادِ امنگ، بر عنبرین اور خیال رست جیسی تخلیق قلم نے آسودہ کیا۔
در دستک >>

Feb 2, 2010

زندگی گناہ دلدل رقص زمانہ آ گیا

زندگی گناہ دلدل رقص زمانہ آ گیا
در توبہ جو کھلا مقام آشیانہ آ گیا

خوف سزا سےگرنہ مائل بہ کرم ہو
لزت جزا ہی سے خواب سہانہ آ گیا


ایک اکیلا راستہ انجان تو آباد گنجان
روح فقیری میں مزاج شاہانہ آ گیا

ترغیب ثروت میں عشرت ہوتی بیتاب
بچ گیا جب اٹھا شور دیکھو دیوانہ آ گیا

نفس مجہول سے زخم خوردہ قوم
محکومی نہ رہی جب انقلاب ترانہ آ گیا

شریک وصل امتنان ہیں باہم رحجان
مفارقت عدم میں رہنے کو بیگانہ آ گیا

قلب اشتیاق جنوں میں جو نغمہ سرا ہوا
زبان پہ میرے کلام عارفانہ آ گیا

ہر روپ الگ روپ میں رنگ جدا
آفتاب و مہتاب میں بھی موازانہ آ گیا

سب کو تو غائب ہے خود میں حضور
علم الف سے ہی حال میں رندانہ آ گیا

شکوہ کو نہیں ملتی تحسین پزیرائی
آنکھوں کو درد میں بھی مُسَخرانَہ آ گیا

وصف عشق میں رنگ ایک تو روپ جدا
ایک ہے آستانہ تو ایک کا افسانہ آ گیا


خندہ جبین / محمودالحق
در دستک >>

اے پاک وطن میری پاک زمین

اے پاک وطن میری پاک زمین
تو ہی میرا درماں تو ہی یقین

تیری آغوش میری اسلاف امین
تو میرا مکاں میں ہوں تیرا مکین

تیرے چمن میں ہیں ہم گوشہ نشین
میں دلبر تیرا تو میری نازنین

بے کسوں کو بھی ہےتو مکاں ومکین
جہان چمن میں ہے تو گل حسین



خندہ جبین / محمودالحق
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter