Mar 26, 2010

جینے کے ڈھنگ

روزانہ ہی ہم زندگی گزارنے اور جینے کے ڈھنگ کے لئے طرح طرح سے خیالات کی کھیتی میں بیج ڈال کر سوچ سے آ بیاری کرتے ہیں ۔زمین کو ہموار کرنے کا عمل مستقبل کی اچھی فصل کی امید میں آنکھوں میں لہلاتے کھیت کا منظر بسا لیتے ہیں ۔اور ماضی بنجر اور سخت زمین کی طرح پہلی فصل کے بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا ہے ۔کوشش میں اگر کمی یا کوتاہی رہ گئی ہو ۔تو اسے پورا کرنے کی حتی الوسع سعی کی جاتی ہے ۔مگر قدرتی آفات یا نا گہانی آفت سے ہونے والے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا ۔
بیج سے پیدا ہونے والا پودا دو بار جینے کی جنگ لڑتا ہے ۔ پہلے بیج سے اور پھر زمین سے نکلتے وقت ۔ اس کے بعد وہ حالات کے رحم و کرم پر چلا جاتا ہے ۔بارش کی کمی بیشی اور دھوپ چھاؤں میں بڑھنے اور پھلنے پھولنے میں محتاج دعا ہو جاتا ہے ۔ وہاں وہ کسی کو بہت زیادہ خوشی دیتا ہے تو کسی کو مایوسی و اداسی ۔
اسی طرح انسان بھی دو طرح سے جینے کی جنگ
کرتا ہے ۔ پہلی بار ماں کی کوکھ تو دوسری بار زمین کی گود ۔ پھر حالات اور ماحول اس کی نشو نما میں تبدیلیوں کا باعث ہوتے ہیں ۔خوشیاں لہلاتے کھیتوں کی طرح پروان چڑھتی ہیں ۔دکھ تکلیفیں نا گہانی آفت سے تباہ حال فصل کا منظر پیش کرتی ہیں ۔
کوشش میں اگر کمی ہو تو حالات کی ذمہ داری قسمت پر ڈال دی جاتی ہے ۔جو رو دھو کر شکوہ پر ختم ہوتا ہے ۔محنت کی آبیاری سے صبر و شکر کی فصل تیار ہوتی ہے ۔خیالات کی کھیتی میں شکوہ کی فصل کاٹی جاتی ہے ۔ہر نئی فصل کے بونے اور کاٹنے میں جو نتائج سامنے آتے ہیں ۔ وہ کھیتی کے تیار کرنے کے مراحل میں اختیار کی جانے والی حکمت عملی پر منحصر ہوتے ہیں ۔پورا انسانی معاشرہ انہی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے ۔ جو اسے فراہم کی جاتی ہیں ۔محنت اور کوشش کے بغیر حاصل ہونے والے نتائج شکوہ و الزام پر منتج ہوتے ہیں ۔
کہنے والے تو یہاں تک بھی کہہ دیتے ہیں ۔قصور ہمارا نہیں ملک کی بنیاد ہی غلط رکھی گئی تھی ۔بنیاد رکھنے والے تو کوشش اور محنت سے گلشن کو مہکاتے ہیں ۔ اب پرانے پودوں پر انحصار کی بجائے نئی فصل کی آبیاری بھی ضروری ہوتی ہے ۔ مضبوط جڑیں وقت کے ساتھ ساتھ بوڑھی ہو کر کھوکھلی اور زمین سخت ہو جاتی ہے ۔ نئے پودوں کے لئے زمین ہر بار ہموار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تاکہ نئی جڑیں اپنے وجود کو سینچ سکیں ۔
جب نئے پودوں میں خود پبپنے کی صلاحیت نہ ہو تو شکوہ انہی پر رہ جاتا ہے ۔زندگی جینے اور گزارنے کے ڈھنگ میں محنت کے پھل سے صبر و شکر رہے تو شکوہ زبان پر نہیں آتا ۔ بلکہ فصل پروان چڑھتی ہے۔ کمزور پودے زندگی تو پالیتے ہیں ۔ مگر طوفانی حالات کے تھپیڑوں سے اپنے آپ کو نہیں بچا پاتے ۔
بالٹی بھر دودھ پینے سے دیسی گھی اور مکھن کی توانائی حاصل نہیں ہوتی ۔پانی اپنا رنگ دکھاتا ہے ۔اور انہیں بھی ساتھ بہا لے جاتا ہے ۔محنت توانائی کو پانی کی حجابت سے آزاد کر دیتی ہے ۔جب تک اپنی صلاحیتوں کو انہی اصولوں کا پابند نہ کیا جائے تو شکوے مسلسل کئے جاتے رہیں گے ۔اور ان کا نشانہ محسن بنیں گے ۔ جو انفرادیت میں والدین اور اجتماعیت میں قائدین ہوتے ہیں ۔ جو آزادی دلاتے ہیں ۔ایک کردار و گفتار میں تو ایک روح و افکار میں ۔
دوسروں کی اُٹھی انگلی کو بندوق کی نالی سمجھنےوالے صرف کوے ہو سکتے ہیں ۔کیونکہ راہزنی کرتے کرتے سب انہیں اپنے دشمن نظر آتے ہیں ۔حالانکہ وہ خود اپنے دشمن ہوتے ہیں ۔

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Mar 24, 2010

مچھلی کے جائے کو کون تیرنا سیکھائے

کسی بھی اچھی عادت کو اپنانے کے لئے یاد دہانی کا عمل بار بار دہرایا جائے۔ تو مکمل اختیار کرنے میں بھی ایک عرصہ درکار ہوتا ہے ۔کیونکہ اس میں فائدہ و نقصان کے اسباب کو پہلے مد نظر رکھا جاتا ہے ۔تا وقتکہ اس میں خوف و جزا کا عنصر بھی نہ شامل کر دیا جائے ۔مثال کے طور پر کسی گھر میں بڑے نماز و روزہ کے پابند ہوں ۔ تو بچے صرف سال ہا سال دیکھنے سے راغب نہیں ہوتے ۔ بلکہ انہیں باربار یاد دہانی کروائی جاتی ہے ۔اور بعض اوقات سزا و جزا کا مفہوم تفصیل سے سمجھایا جاتا ہے ۔یہی نہیں کسی بھی اچھی بات کو ذہن نشین کرانا مقصود ہو تو بار بار تلقین کی جاتی ہے ۔چاہے وہ سچ بولنا ہو ۔ایمانداری سے تولنا ہو ۔یا رشتوں کو محبت کی ڈوری سے کھولنا ہو ۔ہر کام کو پہلے بتایا پھر سمجھایا آخر میں ڈرایا جاتا ہے ۔تب جا کر وہ بات ذہن میں جگہ بنا پاتی ہے ۔
انسانی سوچ میں یہی رویہ جوسمجھنے سمجھانے میں ہی زندگی کا ایک حصہ
خرچ کر دیتا ہے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔اور اس کے مقابلے میں اگر کسی گھر میں باپ جوا شراب کارسیا ہو تو بیٹے کو کرنے کے لئے یاددہانی کی ضرورت ہی نہیں ۔نہ ہی سال ہا سال کے انتظار کی اذیت ۔ بچوں میں فوری قبولیت کا عنصر ایسے غالب آتا ہے کہ کہنے والے کہہ دیتے ہیں ۔ کہ مچھلی کے جائے کو کون تیرنا سیکھائے ۔ کیونکہ تیرنا اس کی فطرت میں ہے ۔
مگر انسانی سوچ کا سمندر ایسے بھاری پانی پر بہاتا ہے ۔ کہ ہر بری صحبت میں اختیار کی جانے والی عادت خود ہی تیراکی سیکھ لیتی ہے ۔مگر اس کے مقابل اچھائی غوطے پہ غوطہ کھاتی سیکھنے سیکھانے میں عمر کا ایک حصہ کھا جاتی ہے ۔اب اسی ایک بات کو لے لیں ۔کہ گھڑی کی سوئیاں ہر سال ایک گھنٹہ آگے پیچھے کرنے کا عمل کئی بار دہرانے کے بعد بھی قبولیت عام حاصل نہیں کر پایا ۔ جو آنکھوں سے دیکھائی نہ دے ایسے فائدے کو تسلیم کرنا بھی ایک کام رکھتا ہے ۔حالانکہ غور طلب بات یہ ہے ۔ کہ جن ملکوں میں یہ سسٹم رائج ہے یعنی سوئیاں ایک گھنٹہ آگے پیچھے کرنے کا ۔ وہاں بجلی کبھی نہیں جاتی ۔ مگر پھر بھی وہ دن کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کو فوقیت دیتے ہیں ۔اس کے مقابلے میں وہ ملک جہاں بجلی 12 سے 18 گھنٹے بند رہتی ہے ۔ وہ سال میں دو بار اس بحث میں الجھے رہتے ہیں کہ گھنٹہ کے آگے پیچھے کرنے سے زندگی کے تسلسل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر دوکانیں اور مارکیٹیں بجلی کی بچت کے لئے جلد بند کرنے کا کہا جائے ۔ تو جلوس نکل آتے ہیں ۔ کاروبار میں نفع و نقصان کا تخمینہ لگایا جاتا ہے ۔ اور اگر دیر تک کھولنے کی اجازت فراہم کی جائے تو لٹنے والے اور لوٹنے والے دونوں ہی خوش رہتے ہیں ۔
بنیادی طور پر اگر دیکھا جائے تو جو بھی عمل اجتماعیت کو فروغ دینے کے متعلق ہو ۔وہ پزیرائی حاصل نہیں کر پاتا ۔ اور جو انفرادیت میں فروغ پائے وہ سند قبولیت جلد پاتا ہے ۔ اگر غور کیا جائے تو ایک ہی فرق معلوم ہوتا ہےکہ جن قوموں میں اجتماعیت کا فقدان ہو جائے وہ انفرادی زندگی کے قبول اصول پر معاشرتی اقدار قائم کرتی ہیں ۔ پھر وہاں قیادت بھی انہی میں سے ابھرتی ہے ۔ جو انفرادی حیثیت میں بحیثیت قوم کے فرض منصبی سے عہدہ براء نہیں ہو پاتے ۔
در دستک >>

Mar 21, 2010

تحریر ختم نہ ہومفہوم ہضم نہ ہو

آج کچھ نیا لکھنے کا ارادہ کیا ہے دعا کریں کہ تحریر مکمل ہو اور مفہوم سادگی میں ایسے لپیٹ دیا جائے جیسا کہ آج کل ہمارا ملک دہشت گردی کی آگ میں لپٹا ہوا ہے ۔علم در دیوار سے جھانک رہا ہے ۔عالم دروازہ تھام رہا ہے ۔مکین چارپائیوں پر پاؤں لٹکائے ایسے بیٹھے ہیں ۔جیسے زمین پر رینگتے سانپوں سے ڈسنے کا خوف ہو ۔جو سیلاب کے پانی سے بہتے گھروں میں داخل ہو چکے ہوں ۔ مشاق نشانہ باز عقاب کی طرح شکار پر نشانہ باندھے بیٹھے ہیں ۔ زمانہ بدل چکا ہے نشانے چوک چکے ہیں ۔خوف اب آنکھوں میں نہیں رہا بلکہ دل سے بھی اتر چکا ہے ۔ روز ہی نت نئے پٹاخے پھٹنے سے کان پڑی آواز سنائی نہ دینے کی عادت ہو چکی ہے۔ ہر وقت کانوں میں بجتے نئی البم کے گانوں کی جھنکار
سے قوت سماعت اب اتنی طاقتور ہو چکی ہے ۔ کہ دل تک پہنچنے کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہیں ۔اب دل صرف مسرور ہونا جانتا ہے ۔ وہ دن بیت گئے جب دل کمزور اور جذبات برانگیختہ رہتے ۔
دیسی گھی کھانے والےمحنت مشقت کے عادی بدن کم حوصلگی کے باعث دوسروں کی تکلیف پر اشکبار ہو جاتے ۔اپنی روٹی روزی چھوڑ کر کندھے دوسروں کے آنسوؤں کا سہارابن جاتے۔ تکلیف کا احساس فصل کی بربادی سے لے کر موت کی منادی تک اپنائیت کے اظہار سے بھرپور ہوتی ۔ سادگی سادہ مفہوم کی چاشنی سے لبریز ہوتی ۔ گہری باتیں عقل سالم کو بزم ادب ہوتیں ۔ محنت و مشقت سے جھریاں پڑے شفاف دل کی مانند شفاف چہرے بناوٹ و تصنع سے پاک ہوتے ۔جھوٹ بولنا لمحے میں پکڑا جاتا ۔ آنکھیں اداس تو ہو جاتیں مگر مکاری نہ جھلکتی ۔
کم خرچ بالا نشین تو بہت سن چکے ہیں ۔ اب کم خرچ بالائے طاق کے فارمولہ پر عمل پیراہونے کا دور ہے ۔اگر یقین نہیں تو ہر بڑے شہر میں میکڈونلڈ ، سب وے، پیزا ہٹ،کے ایف سی اور اسی طرح کی بےشمار فرینچائزڈ جگہ جگہ ملیں گی۔جو محنت و مشقت سے تکلیف نہ اٹھانے والے بدن کو توانائی سے بھرپور مکمل ڈائیٹ پروگرام نہایت( ارزاں) قیمت پر دستیاب ہیں ۔اگر زمانہ ترقی پر ہے تو کیوں نہ اپنے منہ کا ذائقہ بھی بدل لیا جائے ۔دال مسور اور پالک آلو کھلا کھلا ماؤں نے بچے معمولی باتوں پر دوسروں کے درد کا احساس نہ جھیلنے والے بنا دیا تھا ۔جو بات بہ بات آنسو ایسے بہاتے جیسے ان کے گھر قیامت برپا ہو ۔ حالانکہ اہل دانش پہلے ہی کہہ چکے کہ تو اپنی دیکھ تجھے دوسروں کی کیا پڑی۔
مگر بیچ میں پڑنے کا ہمیشہ انتظار رہتا ۔اکثر محلے دار آپس میں لڑائی جھگڑے کاتبھی آغاز کرتے جب بیچ بچاؤ کرانے والے پہنچ جاتے ۔آج بیچ میں نہ آنا تو درکنار کانوں سے سنی ان سنی کر دیتے ہیں ۔گھروں میں ٹی وی کی آواز سے اپنے گھر میں آواز نہیں سنائی دیتی۔تو دوسروں کی آوازیں کہاں سے سنائی دیں گی ۔
پہلےسچ بولا بھی جاتا تھا اور سنا بھی ۔اب نہ تو بولا جاتا ہے اور نہ ہی سنا ۔سچ بولنا اب تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ جی وہ سچ جس کو بولنے سے اپنے مفاد کو زد نہ پہنچتی ہو ۔مفادات محفوظ ہوں ۔ بے دھڑک بول دیا جاتا ہے ۔ جہاں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہومصلحت پسندی آڑے آتی ہے ۔اب تو ہر طرف عَلم ہی عَلم ہیں عِلم کے ۔ آڑے ہاتھوں لینے والے کمر کسے تاک لگائے بیٹھے ہیں کہ جہاں نظریں چار ہوئیں نشانہ لگانے سے نہیں چوکتے ۔تعریف و تحسین سے پزیرائی کم ملنے کا اندیشہ رہتا ہے ۔مگر تنقید سے توانائی چاہے نہ ملے مگر تشنگی باقی نہیں رہتی ۔دل کی بھڑاس نکل بھی جاتی ہے اور نکالنے میں بھی آسانی رہتی ہے ۔حالانکہ آج پروگرام ایسا ہی تشکیل دیا تھا ۔ خوب تنقید کروں گا جی بھر بھڑاس نکالوں گا ۔ اچھے اور تعمیری کاموں کی ترغیبات میں کیڑے نکالوں گا ۔اپنے مشورہ جات سے چاندی ورق لگاؤں ۔مگر کیا کروں نام لے کر نقادوں کی محفلیں کیوں خراب کروں ۔
لیکن ایک راستہ ایسا ہے کہ ٹیپو سلطان سے لیکر عصر حاضر کے سیاسی شاہسواروں تک ایسی تاریخ خراب کروں کہ گھمسان کے رن سے محفلیں خود ہی پانی پت کے میدان کی طرح شکست خوردہ فوجوں کی مانند دھول چاٹتی رہ جائیں ۔اور سب اپنا بھول کر میرے ہاں گھمسان کا رن ڈالنے پہنچ جائیں ۔دھما چوکڑی کتابوں سے نکل کر بلاگزکی نئی تاریخ رقم کرنا شروع کردے ۔لکھنا مجھے مہنگا بھی پڑ سکتا ہے ۔ مگر آج طے کر لیا ہے کہ بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا ۔
مطلب آم کھانےسے ہے گھٹلیاں گننے سے نہیں ۔ اور اگر محاورہ کچھ یوں ہو جائے تو مزید رونق افروزی رہے گی کہ مطلب دام گننے سے ہے گٹھڑیاں باندھنےسے نہیں ۔ اب دام پورے نہ بھی ہوں گٹھڑیوں کی تعداد گننے سے اگر چہرے پہ رونق آ جائے تو لٹنے والے ضرور کہیں گے کہ مال سے اب حال اچھا ہے ۔مریض اب مال سے ہی اچھا ہو گا ۔حال اچھا ہونے سے ہال تالیوں سے نہیں گونجا کرتے ۔مال سے تالی بجتی ہے ۔ کیونکہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے کہاوت پرانی ہو چکی اب تو ہاتھ کو مال سے راہ ہوتی ہے کی کہاوت زبان زد عام ہے ۔ اگر یقین نہیں تو میری تقریر(تحریر) پڑھ کر تالی بجا کر دیکھیں ۔ ہاتھوں کی دھمک کان کے پردے سے دل کے کونے کدرے میں محسوس کریں گے۔
مگر ایک بات تو بھول ہی گیا جیب خالی ہو تو دو ہاتھوں سے تالی بجے گی ۔اور اگر ایک ہاتھ جیب پہ ہوتو ساتھ والے سے کہیں گے کہ دے تالی ۔اور اگر اس کا بھی ایک خالی ہوا تو بجے گی تالی ۔ کبھی غریب کو دو ہاتھوں سے شادی پہ مرغ مسلم کھاتے دیکھا ہے ۔ ہمیشہ ایک ہاتھ پلیٹ سے چپک جاتا ہے ۔اپنےایک ہاتھ ہی سے منہ بھرتا ہے اور کبھی کبھار تو اپنی مونچھ بھی خراب کر لیتا ہے ۔ جو تاؤ دیتے دیتے تنگ آ جاتی ہے ۔ مگر کھانا ملتے ہی ادب سے مصالحے میں بھیگ کر جھک جاتی ہے ۔بہت سی مونچھیں کھانا ملنے پر ادب سے جھکی ہوئی دیکھ چکے ہیں آپ ۔ اب مجھے نہ کہیں کہ دکھاؤ ۔ دیکھ دیکھ کر اس حالت کو پہنچ چکے ہیں ۔کہ اب تو آئینہ میں خود کو دیکھنے کی ہمت نہیں رہی ۔ خدانخواستہ ابھی ایسا وقت نہیں آیا کہ یار لوگ کہیں کہ یہ منہ اور مسور کی دال ۔
یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی پہلے وقتوں میں مسور کی دال شریف گھرانے منہ چھپا کر خریدتے اور منہ چھپا کر گھر لاتے تھے ۔ پھر اس محاورہ میں یہ منہ کسے کہا گیا ہے ۔ اگر آپ جانتے ہوں تو میرے علم میں اضافہ کر کے ثواب حاصل کریں ۔ کیونکہ یہ دال کئی دوسری دالوں سمیت ہمارے منہ سے اتر کر جہنم واصل ہو چکی ہیں ۔لیکن ہم نے کبھی منہ نہیں چھپایا ۔مگر فخر بھی کبھی نہیں کیا ۔کیونکہ فخر کرنے کے لئے بچا کچھ نہیں ۔ جو ایک زندگی میں نعمت فخر زندہ تھی بھائی لوگوں نے کوٹ کوٹ کر شر سے نشر کرا کر دفن کر دی ۔
اب تو میں ہوں اور میری تنہائیاں جواکثر مجھ سے ہی سوال کرتی ہیں ۔جو جواب مجھے یاد تھے زندگی کے امتحانوں میں سنا دئیے ۔جو نمبر عطا ہوئے وہ اب ایک ایک کر کےجمع کر رہا ہوں ۔ جب مکمل ہو جائیں گے تو شائدسرٹیفیکیٹ بھی مل جائیں ۔کہ فیل ہو ئے یا پاس ۔
پاس ہونے سے پاس آنا زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔پاس ہونے والے ہاتھوں میں سرٹیفیکیٹ لئے منہ لٹکائے بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں ۔ مگر پاس آنے والے پہلے دو ہاتھوں سے تالی بجاتے تو پھر دونوں ہاتھ سے جیبیں گرماتے ہیں ۔ خود تصویر کھنچواتے پھرتے اورپھر خود ہی اپنے منہ میاں مٹھو بن جاتے ۔اور پاس ہونے والے اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ۔ ایک سرد آہ بھر کر ضرور کہتے ہوں گے کہ کاش ہم نے مسور کی دال منہ بسور کرکھائی ہوتی ۔ ترقی کی سیڑھی میں پہلا پائیدان پاس ہونے کی بجائے پاس آنے کو رکھا ہوتا تو آج ہمارے دونوں ہاتھ ہماری بغلوں میں نہ ہوتے ۔اور دوست نما دشمن ڈگریاں ہاتھ میں لیے دیکھ کر بغلیں نہ بجا رہے ہوتے ۔

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Mar 19, 2010

تیری راہواں وچ اَپڑی میں دل ہار وے

تیری راہواں وچ اَپڑی میں دل ہار وے
تنگی مینوں عشق دی چنگا مرنا اک وار وے

خوشیاں دے پل وچ جیون دا نئیں اعتبار وے
اَ جا بہہ جا ماہی حیاتی دا کر لے دیدار وے

پھلاں دھرتی سجائی سجدہ نہ ہووے بار وے
ٹکراں جے ہون تینوں دِلاں اُتے بھار وے

عاشق کھڑے بوہے تے ہتھ لے کے ہار وے
جانجی لے کے ٹُرے لاشے بے مہار وے

سکھاں دے پل وچ سودےنئیں اُدھار وے
غماں دا سُوا جوڑا پایا حیاتی سدا بہار وے

ڈھولاں تے سہیلیاں گاون اُجڑیا کیوں دیار وے
شہنائیاں جنازے اُٹھدے وچ دھمالاں لاڑے یار وے

بابل دے آنگن کھیڈاں خوشیاں غماں انتظار وے
رُس جاندی سی تے لگدا کھڈونیاں دا بازار وے

عشقاں مینوں چڑھ گئیاں جوانی وچ منجدھار وے
اللہ اللہ پڑھ دی ،بچ دی نہ میں عشق بہار وے

مائیں ہتھ جوڑے دل سانبھی ظالم سنسار وے
عشق محمود رب دا ، لاشہ رکھ لے بیکار وے


پنج آب / محمودالحق
در دستک >>

بھر گیا میرا قلبِ قلب اَب تو

در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter