Feb 7, 2021

رانجھا رانجھا کر دی میں آپے رانجھا ہوئی

قرآن میرا مرشد اور قرآن ہی میری رہنمائی ۔ قرآن ہی میرا راستہ  اور قرآن ہی  بخشش کا ذریعہ۔ قرآن ہی میرا مقصد  اور قرآن ہی میرا مطلوب۔قرآن ہی میری نظر  اور قرآن ہی میری عنایت۔ قرآن ہی میری دنیا  اور قرآن ہی میری آخرت۔قرآن ہی میری رضا اور قرآن ہی میری جزا۔

جب آنکھیں بند کر کے سر جھکا دیا مالک کے حکم پر تو زندگی سے کیا اب بھیک مانگیں۔دنیا کے پاس دینے کے لئے  کیا،کتابوں سے اُٹھتا ہوا دُھواں جو خواہشات سے جلتا ہے۔ آنکھیں بند کر کے دل کی طرف رجوع کر کے اللہ کو پکاریں تودل ذکر سے منور ہو۔  جنہوں نے عمل سے رضا پائی ہو، وہ رجوع سے طالب دعائے مرشد رہتے ہیں۔تلوار کمر پہ باندھنے سے جنگ جیتی نہیں جا سکتی۔ جنگ کے بھی دستور و روایت اور کچھ اصول و ضوابط ہیں۔حیرانگی کی انتہا ہے جب فجر سے عشاء تک پانچ بار دنیا کے کونے کونے سے حی الصلاح حی الفلاح پکارا جاتا ہے۔ تو آٹے میں نمک کے برابر مسلمان اپنی صفیں درست رکھتے ہیں اورقیام کرتے ہیں۔معاشرے میں پائے جانے والے عیبوں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ  اللہ سے مدد کے طلبگار ہیں۔ اللہ سبحان و تعالی سیدھے راستہ پر چلنے کے لئے انعام و اکرام کی خوش خبری دیتا ہے۔ لیکن ایک شرط ہے کہ اپنے عمل  سےاس انعام کے لئے طالبِ سفر ہوں۔

اپنا راستہ سیدھا رکھنے کی بجائے  اپنی خواہشیں پوری کرتے ہیں۔ بے ایمانی اور دھوکہ سے رزق کے حصول کی کوشش میں اگر کوئی اللہ کے حکم سے روگردانی کرے۔ اسے ہنس کر بڑا سمارٹ ہے کہہ کر سزا و جزا سے بری الذمہ قرار دے دیا جاتا ہے۔قرآن میں کافر اور منافقین  سے مسلمانوں کو  خود  کومحفوظ رکھنے اور ایمان پر قائم رہنے پر زور دیا گیا ہے۔ نیند کی گہری آغوش میں جانے  اور بیدار ہونے کے درمیان بستر پر پڑے رہنے کے ہم مسلمان ہیں۔ کیونکہ جاگنے کے بعد صرف انسان رہ جاتے ہیں۔عدل و انصاف کے بغیر کوئی بھی معاشرہ مساوی حقوق کا علمبردار نہیں ہو سکتا۔ جس معاشرے میں طاقتور مافیا کہلائے ، پیسہ بٹورنا پیسہ کمانے سے زیادہ معتبر ہو جائے تو  وہاں انسان عمل سے نہیں اپنے علم سے جانے جاتے ہیں،  کردار سے نہیں گفتار سے پہچانے جاتے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں میں پیسہ بنانے والے قابل تقلید مانے جاتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں کروڑوں کو دھتکار کر اللہ کے حضور شرمندگی سے بچنے کے لئے ایک مثال بننے  کی بجائے بیوقوف و احمق ٹھہرائے جاتے ہیں۔ 

جب قرآن ہاتھوں میں کھلنے کی بجائے صرف چوم کر غلاف میں محفوظ رکھنے اور ثواب کی نیت مقصود ہو تو انسان کی تربیت کے عمل سے پہلو تہی کا جواز  فراہم کرنے کا سبب ہو جاتا ہے۔قرآن کو پاک غلاف میں لپیٹ کر رکھنا جنت میں اعلی مقام کے حصول کی گارنٹی نہیں دیتا۔ جنت کے دروازہ سے گزرنے کے لئے عمل کی کنجی سے  تالہ کو کھولنا پڑتا ہے اور اس کے لئے ایمان کو فرمان کے ترازو میں گناہوں کے پلڑے کے مقابلے میں بھاری کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔قرآن کی ابتدائی آیت میں اللہ فرماتے ہیں :

  ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ  فِيْهِ  هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ  ( یہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں، پرہیز گاروں کے لئے ہدایت ہے) 

جنہوں نے گناہوں کو زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنایا ،  ان کے لئے تو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ  اپنے کئے کے جواب دہ ہوں گے قیامت کے دن۔قرآن ہدایت ہے جو پرہیز گار ہیں اور اپنے عمل و کردار سے صراط مستقیم پر چلنے والے ہیں۔ وہ جو حکم رب ذوالجلال  پر اپنا سر خم تسلیم کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں  اے اللہ ہم حاضر ہیں۔ اللہ انہیں اپنی رحمت کے سائے میں گھیر لیتا ہے۔ پھر ان کی زبان سے نکلے حرفِ دعا کو قبولیت کے شرف سے سرفراز کر دیتا ہے۔ انسان گھاٹے کا سودا  کر کے نقصان اٹھانے والا ہے۔ اللہ کی رحمت  کو کسی ترازو میں تولا نہیں جا سکتا اور نہ ہی وہ کسی گنتی میں آتی ہے۔ اللہ سبحان و تعالی کی رحمتیں بخشش اور عنایات کے سمندر میں طلب کی کشتی پر سوار رہتی ہیں۔ اللہ سے مانگنے کا طریقہ اس کے حکم پر سر جھکانے سے سیکھا جا سکتا ہے۔ 

جب قرآن پر ہمارا یقین کامل ایسا ہو کہ اللہ ہے اور صرف اللہ ہی ہے ۔ زرہ کائنات سے لے کر سات آسمانوں تک ہر شے اسی کی تخلیق ہے اور اسی کی ثناء بیان کرتی ہے تو  یہ یقین کامل اس راستے پہ انسان کو ڈال دیتا ہے جہاں کن فیکون کے دائرے میں انسان داخل ہو جاتا ہے۔ اللہ کی رحمت میں پناہ پانے کے لئے عمل کارگر ہونا ضروری ہے اور عمل کی راست روی کے لئے قرآن کو ہدایت اور سیدھا راستہ دکھانے والا ماننا  ضروری ہے اور اس پر  علمدرآمد ایسے کرنا ضروری ہے کہ اللہ  ہر عمل سے ایسے آگاہ  ہو کہ وہ اپنے بندے کی نیت کو شرف قبولیت  بخشنے کے لئے فرشتوں کے پروں کا سایہ کر دے۔ 

اللہ سبحان  وتعالی اپنی تلاش میں آنے والوں کو ایسے خوش آمدید کہتا ہے کہ  عقل دنگ ہی نہیں رہ جاتی بلکہ غفور و رحیم کی اپنے بندے پر رحمت نزول کی کہکشاہوں کی برسات کا منظر دلکشا ہوتا ہے۔   اوکلوہاما امریکہ کے ایک چھوٹے سے شہر کویٹا میں ایک عیسائی نوجوان جب اللہ سبحان و تعالی کی سچی کتاب کی تلاش میں میرے  پاس آیا   تو  اس کی تلاش کے اس سفر میں میرا ایمان پہلے سے زیادہ مستحکم ہوا اور اللہ کے نام نے جس طرح اس گورے کو اپنی طرف رجوع کیا کسی طلسماتی کہانی   سے کم نہیں۔

 (سچے کلام کی شدتِ چاہ میں ایک منظر جو میری آنکھوں نے قلبِ کیفیت میں دیکھا دانستہ بیان کرنے سے رہ گیا تھا، نور ایمان کی گورے نوجوان کی قلبی کیفیت کو مزید جاننے کی خواہش پر اس تحریر میں قلمبند کر رہا ہوں) 

اللہ کی سچی ذات  اور اس کے سچے کلام کی تلاش میں مارا مارا پھرنے والا  عیسائی گورا  نوجوان پادریوں سے چرچ میں سوال کرتا کہ  خدا کا  سچا کلام کون سا ہے کیونکہ بقول اس کے بائبل بارہ کی تعداد میں ہیں اور ان میں سے اصل کون سی ہے۔ پادری اس نوجوان کو اس سوال کا جواب دینے سے قاصر تھے۔ قرآن کے بارے میں جب اس نے  مجھ سےجانا کہ وہ اپنی اصل حالت میں آج تک محفوظ ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ سبحان و تعالی نے خود اٹھا رکھی ہے۔ اس کے لئے اتنا معلوم ہو جانا کافی تھی۔  مجھے اس کی بے چینی اور بیتابی پر بہت ملال ہوا کہ جو اللہ کے اصل پیغام تک پہنچنا چاہتا ہے اور اسے کہیں سے جواب نہیں مل رہا۔ وہ بار بار اپنے سینے پر ہاتھ رکھتا تو مجھے اس کے قلب کے اندر بے چین روح کی تڑپ کا اندازہ ہوا۔میں نے دل ہی دل میں اپنے پاک پروردگار کو پکارا اور اللہ ۔۔۔اللہ۔۔۔ اللہ کہتے ہوئے اس کے دل پر ہاتھ رکھ دیا۔ بس یہ ہی وہ گھڑی تھی جس کا اسے انتظار تھا۔ وہ تڑپ اٹھا دونوں بازو میرے سامنے پھیلا کر کہنے لگا کہ میرے بدن میں خون کے ساتھ  رگوں میں کچھ دوڑ رہا ہے۔ مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے اور سکون محسوس ہو رہا ہے۔ وہ ایسا نشہ تھا کہ جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اسے اللہ کی پہچان مل رہی تھی اور مجھے ایمان کی طاقت۔ ایک ہی وقت اللہ سبحان و تعالی  اپنے دو بندوں کو جو دو طرح سے اللہ سبحان و تعالی تک پہنچنے کی تگ و دو میں مصروف عمل تھے، اپنی کرامت سے  مختار کل ہونے کے اپنے مقام رب العالمین کا مفہوم سمجھا رہا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب  ایک انسان اللہ کی ایک کتاب بائبل سے قرآن تک آنے کے سفر سے گزر رہا تھا اور دوسرا مسلمان سے ایمان کی طاقت سے نئے سفر پر روانہ ہوا۔ اس دن کے بعد زمین پر بسنے والے زورآور اور طاقتور نہایت حقیر اور خاک کے زرے محسوس ہونے لگے۔   اللہ کا کلام صرف ہدایت نہیں زندگیوں پر نافذ فرمان  ہے جس کو مضبوطی سے پکڑ لینے سے انسان دنیاوی خواہشات و آرزوؤں  کی گرفت سے آزادی پا لیتا ہے۔  اللہ سبحان و تعالی جب یہ جان لیتا ہے کہ میرا بندہ جھکنے کے لئے صرف میرا در چاہتا ہے اور عمل کے لئے میری ہدایت تو وہ ہدایت  دے دیتا ہے اور عمل کی توفیق بھی دیتا ہے۔ اللہ جنہیں محبوب بنا لیتا ہے انہیں مشعل راہ بنا دیتا ہے۔ 

تحریر: محمودالحق


در دستک >>

Dec 15, 2020

تصویر کائنات میں رنگ ( کائنات کے سر بستہ راز )

(یہ تحریر الفاظ سے زیادہ رنگوں کی زبان میں ہے جو کہ نیچے تصاویر کی شکل میں اپنا مدعا بیان کریں گی)
کائنات کی خوبصورتی میں  رنگوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ رنگوں کی ترتیب و تشکیل نے بنی آدم کے ارد گرد  ایک ایسا ہالہ تشکیل دے رکھا ہے کہ انسان ان کی جاذبیت سے سحرزدہ دکھائی دیتا ہے۔لباس کی تراش خراش میں رنگوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ڈریسنگ ٹیبل سے لے کر ڈرائنگ روم تک اور گھر کی کیاری سے باغات تک رنگوں کے خوبصورت امتزاج نے انسانوں کو اپنے سحر میں گرفتار کر رکھا ہے۔خوبصورت چیزیں اسی وقت خوبصورت دکھائی دیتی ہیں جب ان میں ترتیب کا خیال رکھا گیا ہو۔رنگ اسی وقت اپنا حسن ظاہر کرتے ہیں جب ان میں توازن موجود ہو۔ اعداد کے تواز ن کے ساتھ ساتھ حروف کے توازن میں رنگ کس خوبصورتی سے اپنا حسن ظاہر کرتے ہیں۔انہیں  یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔اعداد اور حروف کو اپنی سادہ شکل میں دیکھنے سے کوئی خاص تاثر پیدا نہیں ہو گا لیکن جیسے ہی ان میں رنگ بھر دئیے جائیں تو کہکشائیں ابھر کر نظروں میں سما جاتی ہیں۔
کائنات کے سربستہ راز کے نام سے جس سلسلے کو اس تحریر کے زریعے پیش کرنے جا رہا ہوں وہ تسلسل ہے میری اس جستجو و تلاش کا ، جہاں ایک کچھوے کی پشت پر بنے ڈاٹس کی منفرد ترتیب و تشکیل نے اپنے سحر میں ایسے گرفتار کیا کہ بڑے سے بڑے اعداد اور  حروف میرے ذہن کے کسی گمشدہ حصے سے باہر نکلنے کے لئے مچلتے رہتے ہیں۔
اعداد کے لئے یہاں تفصیل دینا ناممکن ہے اس لئے اس کے دو لنک نیچے پیش کر رہا ہوں جو پی ڈی ایف میں سکرپڈ میں اپلوڈ ہیں۔یہ 100x100  اور  300x300  کے  Math Magic  ہیں۔  میرے کمپیوٹر میں 1000x1000  کا جو  Math Magicہے اسے  پھر کبھی شئیر کروں گا۔درج بالا دونوں کو دیکھنے کے بعد اسے سمجھنا اتنا مشکل نہیں رہے گا۔ جس میں اعداد  ایک (1) تا دس لاکھ (1000000)  ایسے استعمال ہوئے ہیں کہ دس لاکھ خانوں میں ایک بھی نمبر دو بار استعمال نہیں ہوا۔ میرا یقین نہیں بلکہ دعوی ہے دنیا میں آج تک اتنا  بڑا مکمل اور جامع اعداد کا کھیل کبھی پیش نہیں کیا گیا  اور یہ صرف اور صرف اللہ سبحان تعالی کی خاص عنایت اور کرم نوازی کی وجہ سے ہے۔ اسے آئندہ کسی وقت کے لئے چھوڑ رکھتا ہوں۔
ہر بار کچھ نیا کرنے کی لگن مجھے نئے راستہ پر ڈال دیتی ہے جہاں پھر کچھ نیا تشکیل پا جاتا ہے۔جیسا کہ درج ذیل میں پیش کی گئی تصاویر میں میں نے انگلش حروف سے Magic Square  تشکیل دئیے ہیں۔جس کی ہر Row  میں حروف   A  سے  Z  تک موجود ہیں لیکن مختلف ترتیب میں۔ اسی طرح ہر  Column  میں حروف  A  سے  Z  تک موجود ہیں  جو چھبیس کی تعداد میں ہیں ۔  اس کے علاوہ Diagonal  میں بھی  A سے  Z  تک حروف  دو رنگوں میں دکھائے گئے ہیں۔
پہلی تصویر میں حروف کس طرح مکمل جامعیت اختیار کئے ہوئے ہیں انہیں دوسری تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔انہی حروف کو رنگوں سے ایسے مزین کیا گیا ہے کہ ایک ہی رنگ میں A  سے Z تک تمام حروف موجود ہیں۔ رنگوں کا یہ حسین امتزاج حروف کی جامع ترتیب کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ ہر رنگ میں پوری اے بی سی موجود ہے۔
صرف اتنا نہیں کہ ان میں صرف حروف کی ترتیب و تشکیل بہت شاندار اور جاندار ہے بلکہ اس میں  PUNJAB لکھا ہوا جگہ جگہ ملے گا اور اس کے علاوہ ROSE  اور SKY  کے الفاظ میں جگہ جگہ پائے جاتے ہیں۔ لیکن ان سب کے باجود تمام حروف کا توازن اور ترتیب بہت جامع ہے۔
 
 

نیچے دی گئی تصاویر میں   حروف   ایک مختلف روپ اختیار کئے ہوئے ہیں ۔اس میں بھی انہی حروف کو رنگوں سے ایسے مزین کیا گیا ہے کہ ایک ہی رنگ میں A  سے Z تک تمام حروف موجود ہیں۔یہاں بھی  رنگوں کا یہ حسین امتزاج حروف کی جامع ترتیب کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ ہر رنگ میں مکمل  ABC موجود ہے۔صرف اتنا نہیں کہ ان میں صرف حروف کی ترتیب و تشکیل بہت شاندار اور جاندار ہے بلکہ اس میں  LAHORE لکھا ہوا جگہ جگہ ملے گا اور اس کے علاوہ لاہور کی نسبت سے فضا میں موجود FOG  کے ساتھ ساتھ SKY اور COW کے الفاظ جگہ جگہ ملیں گے لیکن ان سب کے باجود تمام حروف کا توازن اور ترتیب بہت جامع ہے۔






در دستک >>

Nov 28, 2020

غبارِ عشق

زندگی جینے کے ڈھنگ نرالے ہیں کسی کو کہیں کہ آ لوٹ چلیں تو کہتے کہ بیٹھ جاؤ اتنی بھی کیا جلدی کچھ دیر تو ٹھہرو۔ اگر بیٹھ جائیں تو کہتے کہ جانے کا وقت نہیں ہوا ، وقت بھی کبھی کسی کا ہوا ہے۔ جو پوچھ لے اسے پتہ چل جاتا ہے جو نہ سمجھے تو گزر جاتا ہے۔قلب بس سے باہر ، دل میں ایک پیاس جو بہاؤ کی طالب ہے۔ایک جنگ میں مبتلا ہیں جہاں دشمن کوئی نہیں ۔ بس روح کے لئے بدن تنگ ہوجاتا ہے۔ جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے تو پرانے کپڑے اسے تنگ ہوتے جاتے ہیں۔ بڑھتے جسم نئے کپڑے میں سماتے ہیں۔ جسم کپڑوں کی مانند چھوٹا ہو جاتا ہے، روح پھیل جاتی ہے۔ قلب اسمیں ایک ایسے پمپ کا کام کر تاہے جو پریشر بڑھاتا ہے۔خود تو ایڈجسٹ کر تا ہے مگر بدن کو سہولت دینے پر راضی نہیں ہوتا۔ اس جنگ کا انجام کیا ہوتا ہے،نہیں جانتے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اس میں جسم ہارے گا،روح جیتے گی۔جسم ازل سے ہارتا آرہا ہے ابد تک ہارتا رہے گا۔ بہت سالوں تک جنگ لڑتے ہیں رشتوں کی قلبی یا ازلی۔ بہت انتظار کرتے ہیں کہ سفر لمبا ہے مسافت ہمسفروں کی ہمرکابی میں آسانی سے طے ہو گی لیکن آخر اس مقام تک آ پہنچتے ہیں کہ اکیلے چلنے کا وقت ہونے کا احساس پروان چڑھتا جا تا ہے۔ ذات کی نفی کا عمل شروع ہو چکا ہوتومیَں نظر نہیں آتی، انا شکست خوردہ ہو جاتی ہے۔بدن بنجر ایسا ہوتا ہے کہ سمندر بھی ایک بدن کی تشنگی ختم کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ قرآن بلا تا ہے تو اللہ اپنی محبت کو سمو دیتاہے۔ ایک ایک آیت اپنی طرف کھینچتی ہے۔ دنیا مجذوب مانگتی ہے ،اللہ مومن چاہتا ہے جو اس کےکلام کو جزب کر کے پھول کی طرح کھل کر ایک وقت کے لئے ہر سو پھیل جائے۔ زندگی سے محبت میں کمی پر شک میں نہیں پڑنا چاہیئے۔اپنی ذات میں جب نہ ہونے کا احساس بڑھ جائے تو ہونے سے کیا تعلق باقی رہ جاتا ہے۔زندگی پانے اور کھونے کے درمیان معلق رہتی ہے۔ خالی غبارے زمین پر پڑے پڑےبے کار ربڑ کی صورت رہتے ہیں۔اگر ان میں ہوا بھرتے جائیں تو وہ اپنے ہم جولیوں میں ایک معمولی اشارے پر اچھلتے کودتے پائے جاتے ہیں۔خالی اور ہوا بھرے غبارے میں صرف ایک ہی فرق ہے۔ خالی غبارے دھول میں ایسے رہتے ہیں کہ پاؤں سے مسلے جاتے ہیں اور پھونکوں سے اپنی جگہ سے ہلتے بھی نہیں ۔ اس کے مقابلے میں ہوا بھرے غبارے اپنی ہمجولی ہوا کے اشارے پر بھاگتے ناچتے نظر آتے ہیں۔بعض روحوں کے لئے وجود بس ایک غبارے کی مانند ہے، اس میں اتنی توانائی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ایک معمولی اشارے پر اپنی منزل کی طرف محو پرواز ہو جاتی ہے۔جب دنیا کی محبت کے غبارے بڑے ہو جاتے ہیں تو روح میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اس میں اتنی ہوا بھر سکے کہ وہ وجود ایک ہلکے اشارے یا حرکت سے روحوں کے اس گھیراؤ میں بلند ہونے لگے۔ غباروں سے آزادی کی جنگ میں روح ہوا کی مانند اتنی ہوا اپنے اندر بھر لیتی ہے ایمان کے پریشر سے کہ وہ اپنے اردگرد اپنے سے زیادہ طاقتور اور بڑی قوت کے مقابلے میں پرواز کر جاتی ہے۔ جو بچھڑ جاتے ہیں انہیں رک کر تلاش نہیں کیا جاتا اور نہ ہی انہیں ساتھ چلنے کا کہا جاتا ہے کیونکہ سورج کا کام ہے روشنی دینا ، فیصلہ زمین نے کرنا ہوتا ہے کہ کس کو کتنی روشنی درکار ہے اور کس کو اندھیرا۔انسان کتابوں سے گائیڈ لائن لینے کے پابند ہیں لیکن جنہوں نے جنگ سے زندگی کا آغاز کیا ہو وہ حرب و ضرب کے قائل ہوتے ہیں کتب کے نہیں۔جب جانے کا وقت ہوتا ہے تو نقارے پر بلاوہ نہیں آتا،پیغام رساں نہیں آتے،احساس آتے ہیں خیال آتے ہیں۔درخت جب پھیلنے پر آتا ہے تو اسے گھاس سے اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔کیونکہ اس نے پھیلنے پر انہیں سایہ دینا ہوتا ہے جو باہر کی دنیا کی تپش برداشت نہیں کر سکتے۔ قریب رہنے والے دور کب ہوتے ہیں، بس اس درخت کے سائے سے زرا پرے ہٹ جاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں روشنی اپنے قریب ہی رکھتی ہے ۔ مغز بھری عقل جب اپنی مرضی کر لیتی ہےتو اس کی چلنے کی معیاد پوری ہو جاتی ہے۔اس کے ہتھیار پھینکنے کا وقت ہو چکا ہو توسوچ فیصلہ کرنے کا اختیار کھو دیتی ہے۔ یہ چاہت میں کھونے پانے کی جنگ نہیں۔ جینا ہے تو جی جان سے جینا ہو گا۔پلٹنے، لوٹنے ، سوچنے اور سمجھنے کا پل نہیں جو کسی مشورے کا پابند ہو گا۔ پابندی نہیں رضامندی ہے جو رضا سے ہے ۔ کوئی پیر نہیں جو ہدایت کا مرشد ہو، کوئی مرید نہیں جو آستانہ کا مجاور ہو۔یہ عشق کی جنگ ہے جو قرآن کے لفظوں سے شروع ہوتی ہے اور اس کے مفہوم پر ختم ہوتی ہے۔جو قیام سے شروع ہو کر قیامت پر ختم ہو گی۔اب فیصلے کا اختیار کسی کے پاس نہیں۔ جس کو جانتے ہو وہ تمہیں جانتا ہے۔ جس کو پڑھتے ہو وہ تمہیں پڑھاتا ہے،سمجھنا چاہتے ہو تو سمجھاتا ہے۔ لفظ نہیں تلوار کی دھار ہیں،عرض نہیں حکم ہے۔کچھ دیکھ چکے باقی دیکھ لیا جائے گا۔ وہ دل نہیں جو خواب سجاتے رہے۔ ترازو ہاتھ میں دیا تو وزن پورا کرنے کے لئے۔حروف تول کر ملے تاکہ وہ گندم کے دانوں کی طرح چکی میں برابر پس سکیں۔ چکی کے دو پانسوں میں رکھنے کو نہیں تھا وہ دانے بن کر رہیں۔پسنے کا وقت دور نہیں ۔ دنیا کے لئے فقط لفظ ہیں جو سیاہی بن کر کاغذ پر چپک جاتے ہیں۔ لیکن لفظ بونے ، اُگانے ، کاٹنے اورسنبھالنے تک دانے ہیں لیکن چکی میں گزر کر اپنااصل ظاہر کرتے ہیں۔ دیکھنے والی اور پڑھنے والی آنکھیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ پڑھنے والی آنکھیں خود ہی آ جاتی ہیں اور دیکھنے والی آنکھیں ایک طرف سے نظر ہٹنے پر کسی اور طرف متوجہ ہو جاتی ہیں۔بتانے اور سمجھانے کی منزلیں تمام ہو جائیں توجسم کا روح کے سامنےسرنڈر کرنے کا منظر طلوع آفتاب جیسا ہوتاہے ۔ دن کی روشنی پھیلنے کا آغاز ، جس کی شام نہیں ہوتی۔وجود کہنے سننے کی مشقت سے آزاد ہو چکا ہو تونعمتیں لذت پر انحصار نہیں رکھتیں۔ مسافر منزل نہیں دیکھتے اور نہ سفر کی صعوبت، بس ارادہ کرتے ہیں قوت ارادی وہاں تک خود ہی چھوڑ آتے ہیں۔ بہت ایسے جو افسوس میں ہاتھ ملتے رہ گئے۔ کچھ ایسے جو سمجھنے سے قاصر رہے۔کئی ایسے جو راستوں میں انتظار کے دیپ جلائے بیٹھے رہے۔ہارن بجا بجا کر متوجہ کرنے کا سفر نہیں کہ مسافر سر پر بار اٹھائے کھڑے ہوں گے۔ خالی ہاتھ آئے ہیں تو خالی ہاتھ ہی جانا ہے۔ پھرسفر نعمت ہے لذت نہیں۔ کھلے سمندر میں تیراکی سیکھنے کے لئے نہیں اترا جاتا بلکہ تیراک بن کر اترا جاتا ہے۔جس کے لئے جو حکم ہے اسے پورا کرنا ہے۔نہ مرضی ہے اور نہ ہی اختیار کہ انکار ہو۔انکار صرف ان کا جن کی ڈور ڈھیلی ہو۔ جن کی ڈور پہلے سے کھینچی ہوئی ہوان کا بس ان کے بس میں نہیں،ان میں میَں نہیں۔ ضد انا کے دریا کی کشتی ہے، جسے ڈوبنا ہوتاہے۔سہارے چپوؤں کی آس پر نہیں رکھے جا سکتے۔ لہریں بادبانوں کو ہوا ؤں کی سمت سمجھاتی ہیں۔جلد سمجھ جائیں تو جنگ کا فیصلہ فوری ہو جاتا ہے اگر نہ سمجھیں تو لہریں کشتی کو اپنی مرضی نہیں کرنے دیتیں۔ کسی نے عقیدت میں آنا ہوتاہے اور کسی نے چاہت میں، کسی نے پانے کی لگن میں توکسی نے منزل کی تلاش میں، کسی نے حق کو پانے میں توکسی نے راز کو جاننے میں،کسی نے خوشبو پانے میں تو کسی نے مہکانے میں ،کسی نے دل کے اطمینان میں تو کسی نے سوچ کے غبار میں ۔ زندگی بھی امانت ہے ، بنانے میں نبھانے میں سمجھانے میں ، بس ایک خامی بے اختیاری کے ساتھ۔ یہ کوئی بارات نہیں جو دلہن لینے جائے ڈھول کی تھاپ پہ، یہ فوج ہے جو فتح کے لئے نکلتی ہے۔

 تحریر: محمودالحق
در دستک >>

Nov 14, 2020

کانٹے

کون کہتا ہے مجھے محبت نہیں ہوتی ۔۔۔۔ عشق تو رگ و جاں میں ہے میرے ۔۔۔۔ پھول سمجھتا ہے کہ اس کا حسن مجھے دیوانہ کئے جا رہا ہے ۔۔۔۔ پتے پھول کے کملانے پر اور پھیل جاتے ہیں۔ مگر! وہ نہیں جانتے کہ شاخ سے ٹوٹنے سے پہلے حسن اپنی انتہا تک پہنچتا ہے۔۔۔۔ کانٹے ! جو کسی نظر التفات کا شکار نہیں ہوتے اور انہیں نظر بھر دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوتا ۔۔۔۔ پھول اور پتے شاخ سے دور ہوتے ہوئے حسن ، رعنائی و دلربائی کی مثل لگتے ہیں۔۔۔۔ لیکن! شاخ سے بے وفائی میں کمزور پڑتے ہیں اور بالآخر جھڑتے ہیں۔
در دستک >>

Oct 7, 2020

ذکرالانفال

در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter