Jun 30, 2016

احساس کا سفر

سفر چاہے کتنا ہی آرام دہ کیوں نہ ہو بدن تھکن سے چور بے آرامی کی سولی پر لٹک جاتا
ہے۔ساتھ چلنے والے ساتھ ہونے کا احساس جتاتے رہیں تو بدن احساس کے ایک لطیف جھونکے کی بدولت اذیت کے بیت ے پل سے چھٹکارا پانے کی اہلیت پا لیتا ہے۔جسم و جاں ساتھ ساتھ رہتی ہے ریل کی پٹڑی کی مثل آغاز سے انجام سفر تک ہمسفر،قریب رہتی ہے بغلگیر نہیں۔تبھی تو منزل مقصود پر پہنچ کر اپنی چاہ پا کر تھکن کی زمین پر سکون کے قالین بچھ جاتے ہیں۔ تھکن کے اُکھڑے فرش نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
بلندی کی انتہاؤں سے منظر پھیل جاتے ہیں،ہدف سکڑ جاتے ہیں۔ساحل آڑھی ترچھی لکیریریں بن کررہ جاتی ہیں۔ موجوں کی مستی، لہروں کی اٹھکیلیاں، ساحلوں کی خاموش محبت اتنی اونچائی سے محسوس نہیں کی جا سکتیں۔ انہیں دیکھنے کے لئے انتہائی قریب سے احساس کے دیپ جلانے پڑتے ہیں۔
جوں جوں ہم کسی ہدف سے دور ہوتے ہیں چاہے فاصلے زمینی ہوں یا آسمانی،نظر پھیل جاتی ہےمنظر سکڑ جاتے ہیں۔
در دستک >>

Apr 6, 2016

خوش رنگ زندگانی


پھل میں رنگ ہوتے ہیں تو خوشبو بھی ہوتی ہے ذائقہ ہوتا ہے تو توانائی سے بھرپور تاثیر بھی ہوتی ہے۔ درختوں پر لٹکے ہوں یا دوکانوں میں سجے ہوں پاس سے گزرنے والے بے اعتنائی نہیں برت سکتے۔ درخت موسم کا انتظار کرتے ہیں پھول کھلنے سے پھلوں کے پکنے تک۔ پتے خزاں میں جھڑنے لگتے ہیں نئے پتے پھول سے پھل بننے کے عمل کو مکمل کرتے ہیں۔ سالہا سال آنکھیں ان مناظر کو پلکوں سے احساسات پر گراتی ہیں جو کیفیت کو سر شاری کے نشہ میں مبتلا رکھتی ہیں۔
انسان بیت ے دنوں کی یادداشتوں سے مستبقل کے سہانے خوابوں کی بستیاں کیسے آباد کر سکتا ہے۔آرزوئیں گر دم توڑ کر ماضی میں دفن ہو جائیں تو نئی خواہشیں جنم لے کر امنگوں کے پھول سے مرادوں کے پھل سے جھولی بھرنے کو بیتاب ہو جاتی ہیں۔ 
زندہ رہنے کے لئے جان ہی کافی ہوتی ہے مگر جینے کے لئے بعض اوقات جان جوکھوں میں بھی پڑ جاتی ہے۔ دل ایک کھلونا سمجھ کر سوچ و افکار کی چابی سے جو چلانے کی کوشش کرتے ہیں وہ تدبر اور فلسفہ میں فرق نہیں کر پاتے۔تدبر انفرادی سوچ کی عکاس ہوتی ہے جو اجتماعی حیثیت میں نافذ ہوتی ہے اور فلاسفی اجتماعی حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے انفرادی طور پر قابل عمل ہوتی ہے۔

محمودالحق


در دستک >>

Feb 13, 2016

علم ایک سمندر

سمندر جتنا گہرا ہوتا ہیں اتنا تاریک اور پر سکون ہوتا ہے جوں جوں زمین کے برابر آتا ہے روشنی پا کر ساحلوں سے ٹکراتا ہے جہاں ذرے ذرے سے جڑی ریت  حفاظتی حصار بن کر  بپھری طلاطلمی موجوں کو مٹی تک پہنچنے کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے تو وہ بادل کی صورت زمین کو سیراب کرتا آبشاروں ندی نالوں اور دریاوں سے گزرتا مٹی کا لمس اپنے وجود میں سمو لیتا ہے۔
ویسے ہی علم ایک ایسا سمندر ہےجو جہالت کی زمین کو سیراب کرتا افکار و خیالات کا لمس اپنے اندر سمو لیتا ہے۔
در دستک >>

Feb 9, 2016

پہاڑ

پہاڑ جتنے اونچے ہوتے ہیں اتنے ہی بے بس اور مجبور ہوتے ہیں۔ لڑھکنا چاہیں تو لڑھک نہیں سکتے۔ ریزہ ریزہ ہونا چاہیں تو قد و قامت اجازت نہیں دیتے۔ کبھی کبھار چشمہ کے زریعے اپنے آنسو وادیوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ میٹھے اس لئے ہوتے ہیں کہ صبر کی چوٹی سے قطرہ قطرہ درد سمیٹ کر کھلا بہا دیتے ہیں۔ کوئی نہیں جان پاتا کہ پہاڑ بھی رو پڑتے ہیں۔
در دستک >>

Sep 15, 2015

عشقِ بیکراں

اللہ کی محبت کا دم بھریں تو دو گھونٹ پانی حلق سے نیچے نہ اترے۔ قلب سنبھالے نہ سنبھلے۔سجدہ میں سر اترے تو عرش سے رحمتوں کی سوغات برسے۔ دروازے  وکھڑکی پہ متوالے دستک سے  محبت پانے کو محفل میں جھکتے عشقِ ہوا بن کر بے خود ہو جائیں۔دستکِ ہاتھ کا وہ جنون کبھی دستکِ ہوا  کی ہمسری نہیں کر سکا۔نظروں کے سامنے رہنے والوں میں وہ احساس اتنا کمزور تھا کہ دروازے سے نکلنے والی  ایک دھمک طوفانِ انتظار کی عکاس تھی۔ انہونی باتوں کے لئے انجانی کہانیاں نادانی کی تصویر دکھائی دیتی ہیں۔جس کو ہاتھ چھو سکیں اسی کا دم بھرتے ہیں۔
زندگی کے راستے جنوں کے طلبگار نہیں ہوتے۔بہتے پانی اور ہوا کے رخ چلنا آسان بھی ہوتا ہے اور فائدہ مند بھی۔ تقلید اور پیروی سب سے آسان راستہ ہوتا ہے جہاں راستوں کی نشاندہی پچھلی رو سے آگے والے کر چکے ہوتے ہیں۔صرف قدموں کی جگہ پر قدم رکھنے ہوتے ہیں جو ان کی حفاظت کے ضامن ہوتے ہیں۔ نئے راستوں کی تلاش و جستجو ان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔وہ آسان راستہ اختیار کرتے ہیں جس کی نشاندہی پہلے ان راستوں پر جانے والے کر چکے ہوتے ہیں۔پہاڑوں کے ایک طرف رہنے والے دوسری طرف بسنے والوں سے بے خبر رہتے ہیں مگر بلندیوں پر بسنے والے نیچے وادیوں میں ہر حرکت کرتی شے سے با خبر رہتے ہیں۔زمین پر رینگنے اور چلنے سے زندہ رہنے والوں سے عقل و شعور سے بسنے والے محترم اور معزز  ہو کر اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہیں۔ 
جنگلوں میں شکار ہونے والے لاکھوں چند شکار کرنے والوں کی دھاک سے کبھی شمال کی طرف بھاگتے ہیں تو کبھی جنوب کی طرف۔جو بچھڑ جاتے ہیں وہ خوف سے بے حال ہو جاتے ہیں۔ریوڑ میں واپس پہنچنے سے ان کی سانس میں   سانس واپس آتی ہے۔ چند ایک ٹولیوں میں رہنے والوں کے لئے ایسے بھولے بھٹکے مالِ غنیمت سے کم نہیں ہوتے۔ نہ ہی وہ خشکی پر محفوظ ہوتے ہیں اور نہ ہی پانی میں۔ خطرہ چاروں طرف سے انہیں گھیرے رکھتا ہے۔ زمین سے پیدا ہونے والی  ہریالی جب خون بن کر رگوں میں دوڑنے لگتی ہے تو خون پینے والے پنجوں سے انگڑائیاں لے کر  دانتوں سے حملہ آور ہونے سے پہلے آنکھوں سے گردوپیش کے حالات سے موافقت پیدا کر لیتے ہیں۔ ریوڑ میں رہنے والے چاہے کروڑوں کی تعداد میں ہوں وہ تنکے تنکے سے بوند بوند خون بناتے ہیں۔اور ٹولیوں میں رہنے والے چند ایک ان کا خون چوس کر ہڈیوں تک پہنچ جاتے ہیں جہاں ان سے کم طاقتور اپنا اپنا حصہ پانے کے لئے قریب ہی جھاڑیوں پہاڑیوں پر بچے کھچے پر نظریں گاڑیں براجمان ہوتے ہیں۔
حقیقت اور فریب میں وہی امتیاز ہے جو سیراب اور سراب میں ہے۔ بیرونی دنیا سے ملک میں ، شہر سے محلے میں،وہاں سے گھر میں داخل ہوں تو یہ جاننا اتنا مشکل نہیں ہوتا کہ وجود کی حدود کیا ہیں۔چلنے سے لے کر اونگھنے تک کھانے سے لے کر ہضم کرنے تک بچے سے بوڑھے تک اپنی حدود پہچانتے ہیں۔ اجسام انسانی میں سٹوریج کی گنجائش نہیں ہوتی۔ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو کے فارمولہ پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ وجود کا ایک حصہ دوسرے کو قرض حسنہ عطا کرتا ہے۔ قانون کی لاٹھی سے ہانکے جانے والے رنگ و نسل، زبان و بیان  سے قدر مشترک نہ  رکھ کر بھی  وحدت میں پروئے رہتے ہیں۔ مگر قانون فطرت پر عمل پیرا رہنے والے ہم نسل و نسب ہونے کے باوجود کروڑوں کی بھیڑ میں چکاچوند روشنیوں میں رہنے والوں سے الگ اپنے جلتے دیئے سے حاصل روشنی کو زندگی کے منور ہونے کے لئے کافی سمجھتے ہیں۔ 
ایک ہی سائز رکھنے والے کروڑوں افراد رنگ و ڈیزائین میں الگ الگ پسند رکھتے ہیں مگر ماپ یعنی سائز انہیں اپنے گروپ سے الگ ہونے کی تحریک پیدا نہیں ہونے دیتے۔ ایک ملک کے باسی لکڑی کے گھروں میں رہنے سے قاصر ہیں تو کسی دوسرے ملک  کے لوگ اینٹوں سے بنے گھر میں رہائش اختیار کرنے سے۔ جو جہاں جس نظام اور قانون کی پاسداری کا پابند ہے وہ وہیں ویسی ہی زندگی گزارنے کا اختیار رکھتا ہے۔ جس میں تبدیلی اس کے اختیار سے باہر ہوتی ہے۔ جس سفر کے طے کرنے میں گھنٹے درکار ہوں وہ منٹوں میں نہیں ہو سکتا، جو کام منٹوں میں ہو سکتا ہو وہ سیکنڈز میں ممکن نہیں اور جو سوچ سیکنڈ تک محدود ہو وہ ملی سیکنڈز میں خیالات کو گرفت نہیں کر سکتی۔ چولہے پر ہانڈی چڑھانا  اورتندور پر روٹی لگانا،پانی میں اترنا اور پہاڑ پر چڑھنا ہر دو صورت فن کی محتاجی رکھتا ہے۔ لیکن زندگی کی چکی میں گہیوں پیسنے سے جو آٹا حاصل ہوتا ہے وہ بہت خالص اور مقوی ہوتا ہے۔اربوں روپوں کی لاگت سے بنائی گئی شوگر ملز میں تیار کی گئی چینی ،ایک شہد کی مکھی کی پنتالیس دن کی زندگی میں  چائے کے چمچ کےبارہویں حصہ کے برابر بنائے گئے شہد جیسا ذائقہ ،لذت اور شفاء نہیں رکھتی۔ شہد کی مکھیوں کی ایک کالونی کا بیس لاکھ پھولوں سے کشید کیے گئے رس سےبنایا گیاصرف ایک پاؤنڈ شہد دنیا کی تمام شوگر ملز سے زیادہ افادیت اور تاثیر رکھتا ہے۔
خیالات کی کشید کاری سے لفظوں کا شہد بنانے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں اور الفاظ کے سمندر میں ناؤ  بہانے والے شوگر ملز میں تیار کی جانی والی چینی کی مانند ہزاروں لاکھوں اپنے اپنے لیبل سے پہچان رکھتے ہیں ۔
مولانا جلال الدین بلخی رومی،اسداللہ خاں غالب اور علامہ  ڈاکٹرمحمد اقبال  جیسے لوگوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
تحریر : محمودالحق          
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter