Jan 29, 2011

حقائق کی حقیقت کیا ہے

بہت سال پہلے جب میڈیا الیکٹرانک کی بجائے صرف پرنٹ پر انحصار رکھتا تھا ۔خبریں زیادہ تو جگہ کی کمی رہتی تھی ۔صفحہ اول پر صرف اہم خبریں جگہ بنا پاتیں ۔ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری یعنی فلم ٹی وی کی جگہ اندرونی صفحات تک محدود تھی ۔
جس رہنما کو عوامی پزیرائی کا طوق پہنانا مقصود ہوتا تو ایک آدھ بیان کسی غیر اہم موضوع پر چھاپ دیا جاتا ۔
دنیا گلوبل ویلج بننے سے خبریں اخبارات کی زینت بننے سے زیادہ میڈیا پر اشتہاری حیثیت میں پہنچ رکھتی ہیں ۔میڈیا کی بدولت بعض انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی غیر معروف ثخصیات اتنی قد آور بنا دی جاتی ہیں اور ٹی وی و اخبارات میں دکھا دکھا کر عوامی سروں پر بٹھا دیا جاتا ہے ۔انہیں یہ پزیرائی کسی فلاحی کام میں کارہائے نمایاں سرانجام دینے کی خوشی میں نہیں ہوتی ۔بلکہ فیشن ، حسن اور سکینڈل سے ناموری پانے کے اعزاز کی بدولت ہوتی ہے ۔
کئی سال پہلے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ایک صوبائی وزیر کی بیگم نے کامیاب چھاپہ کے بعد اچھی درگت بنائی تھی ۔اسی طرح دوسری بڑی پارٹی کے اعلی و ارفع رہنما عدالت میں نکاح نامہ پیش کر کے جان بخشی کروا چکے ہیں ۔
ثقافتی سفیر کے خطابات سے نوازنے میں میڈیا ایک اہم کردار ادا کرتا ہے ۔اور جب ان کا وہی بےباک پن اپنی حدو ں کے ساتھ ملکی سرحدوں سے باہر بھی نکل جائے تو وہی کردار میڈیا پر عزت کا جنازہ جا رہا ہے گاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ان پر لگائے جانے والے عوامی اعتراضات کو ایک بار پھر الیکٹرانک میڈیا سے بھرپور نمائندگی کے حق کی طرح پیش کیا جاتا ہے ۔اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انہیں وطن اسلام پاکستان کی نمائندگی کے حق سے دستبرادری پرمجبور نہیں کیا جاسکتا ۔
طوائف الملوکی کے شکار ملک میں سیاست وظائف سے ایسے ہی خوش ہوتی ہے جیسے طوائف تحائف سے راضی رہتی ہے ۔لاکھوں کی گاڑیاں ، کروڑوں کے بنگلے اور یورپ کے دورے کنگلوں کی حق حلال کی روزی سے بہت اوپر ہوتے ہیں ۔ان کے لئے الٹا سوال یہ رہ جاتا ہے کہ بچت نہ کر کے حج و عمرہ کی سعادت سے کیوں محروم ہیں ۔
حیرت ہوتی ہے کہ کیسی سوچ پنپ رہی ہے ۔دولت کا ہونا ہی عزت رہ گیا ہے ۔ زرائع چاہے کوئی بھی استعمال میں لائے گئے ہوں ۔اور نہ ہونا کسی گناہ سے کم درجہ نہیں رکھتا ۔
آبدوزوں کے کمیشن ہوں ، سٹیل مل کی نجکاری کا معاملہ یا بنکوں کی نجکاری میں بندر بانٹ ۔ ٹیکس نا دہندگان کے شمار کا کوئی تصور ہی نہیں ۔اربوں کھربوں کے مالک سالانہ ٹیکس دینے میں یورپ امریکہ کے ایک پرچون فروش سے بھی غریب دکھائی دیتے ہیں ۔
انتہا تو یہ ہے بیرون ملک اعلی تعلیم کے سکالرشپ کی بندر بانٹ میں معمولی ایم پی اے یا ایس پی اور ڈپٹی سیکرٹری کے درجہ تک درجہ چہارم میں آتے ہیں ۔ بڑے مگر مچھ شکار ہڑپ کرنے میں کوئی سستی کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ ثبوت کے طور پر نام لے بھی دوں تو کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔کیونکہ ہر کوشش کے بعد ہماری رائے یہ ہوتی ہے کہ انگور کھٹے ہیں ۔اگر ایک لسٹ اخبارات کے زینت بن بھی جائے تو ہم قہقہہ لگا کر دو گالیوں سے مطمعن ہو جاتے ہیں کہ سب چور ہیں ۔حالت تو ایسی ہے کہ
زہر مجھ کو ملتا نہیں وگرنہ کیا قسم ہےتیرے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
زمانہ کی چال بدلی ہے چلن نہیں ۔پہلے سیاسی مذہبی رہنما انسانی دماغ کی رفتار بڑھانے والے مشروب کی نسبت خطاب سے نوازے گئے اب گاڑیوں کی رفتار بڑھانے والی گیس سے عزت افزائی پاتے ہیں ۔
حکمرانی حج و عمرہ کی ادائیگی بھی اب ایسے ہی مال مفت دل بے رحم کے مصداق دعوت طعام کی طرح اڑائی جاتی ہے ۔اس کے گھر میں اپنی ترقی و منزلت کی مزید دعا پڑھواتے ہیں ۔
اقتدار کا حصول ایسے ہے جیسے جوتیوں میں دال بٹ رہی ہو ۔ کوئی ایسا لیڈر ہے جو کسی فتوی کی زد میں آئے بنا اس قوم کی کشتی کو کنارے لگا سکے ۔قومیں دہائیوں میں ظلمت کی جس گہرا ئی میں اترتی ہیں ۔ صدیوں میں اس بھنور سے نکلتی ہیں ۔مذہبی اور سیاسی تحریکیں طاقت ور پروں کی پرواز رکھتی ہیں ۔این جی اوز بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی ۔ مگر معاشرتی اصلاح کے لئے صرف انقلاب کا دروازہ کھلنے کا انتظار رہتا ہے ۔
سن تو یہ رکھا کہ جیسا دیس ویسا بھیس ۔ اب یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ جیسی ریاست ویسی سیاست ۔ اردو زبان کی خدمت کے دعوی دار تمام فورمز پر یہ ذمہ داری عائد کی جا سکتی ہے ۔ کہ آگے بڑھیں اور نوجوان نسل کو محبت کے اشعار ، گپ شپ موضوعات اور مذہبی اختلافات کو بھلا کر اس طرف بھی توجہ دلائیں کہ ہم ایک ہیں ۔کسی بھی فورم میں جھانکیں سب سے غیر اہم موضوع پاکستان نکلتا ہے ۔ جہاں لکھنا اندھے سے تختی لکھوانے کے مترادف ہے ۔ہمارے دعوے بڑے اور برداشت میں کمی ہے ۔ موقع ملنے پر اگر سننا اچھا نہ ملے تو تنقید چاہے مثبت کیوں نہ ہو برداشت کرنا زرا مشکل ہے ۔

دلوں کا حال اللہ سبحان تعالی بہتر جانتا ہے ۔

2 تبصرے:

جاویداقبال said...

واقعی میں آپ نےمحمودصاحب، بہت ہی اہم موضوع پرلکھاہےلیکن پتہ نہیں کیاہوچکاہےکہ دال روٹی نہیں جی گوشت روٹی کہہ سکتےہیں اس کےچکرمیں ہم نےپاکستان سےمنہ موڑلیاہےآزادی کی نعمت کوبھلاچکےہیں غیروں کےآگےجھک جھک کراپنےاللہ سےاتنےدورہوچکےہیں کہ اس کورضامندکرنےکےلئےبھی ٹائم نہیں ہے۔ روزاتنےمصروف ہوتےہیں کہ نمازکےلئےوقت نہیں نکال سکتےتوکسی کی مہمان نوازی وغیرہ توکیاکرنی ہے۔ہروقت منہ پرمہنگائی کاروناروتےہیں لیکن اپنےاخراجات پرکنٹرول نہیں کرتےہیں۔قول وفعل میں اتناتضادہےکہ الامان۔ پہلےپہل تویہ کسی کےخلاف کچھـ لکھاجاتاتھااس کی بےعزتی تصورکیاجاتاہےاب اس کوعزت کامعیاربنادیاگیاہے۔کیاکہیں۔ دعاہی کرسکتےہیں اوراپنی سی سعی کرسکتےہیں کہ اللہ تعالی میرےملک پراپنارحم وکرم کردے۔ آمین ثم آمین

محمودالحق said...

السلام و علیکم
جاویداقبال صاحب باتیں آپ کی سچی ہیں . صورتحال کچھ ایسی بھی مختلف نہیں . دعا تو ہم روز ہی کرتے ہیں . کہ اللہ تعالی وطن پاکستان پر اپنا خصوصی فضل وکرم فرمائے .. اور اپنے تئیں کچھ الٹ پلٹ لکھ کر غصہ ٹھنڈا نہیں کرتے بلکہ سمجھتے ہیں کہ شائد
کسی کے دل میں اتر جائے بات میری .
خوش رہیں

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک