زندگی کے راستے فیصلوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ بلکہ اسباب کی پگڈنڈیاں راستوں کی نشاندہی میں بدل جاتی ہیں ۔ عقل ، فہم اور شعور کا ادراک تقدیر سے جدا نہیں ہوتا ۔آنکھ جس منظر کو دیکھتی ہے۔ اسی کا عکس پردے پر نمودار ہوتا ہے ۔ ہوائیں تیز ہو جائیں تو آندھیوں کی پشین گوئی کرتی ہیں ۔ بادل بھاگتے بھاگتے جمگھٹی گھٹائیں بن جائیں تو برسنے کی نوید بن جاتے ہیں ۔مگر بخارات بادل بننے سے قبل اپنا وجود پوشیدہ رکھتے ہیں ۔ پھول کھلنے سے پہلے اپنی مہک سے اعلان بہار نہیں کرتے ۔بلکہ پوشیدگی کے عمل تولیدگی میں چھپے رہتے ہیں ۔شمع جلنے سے پہلے بھی موم ہوتی ہے اور بعد میں بھی۔ مگر روشنی موم سے نہیں سبب سے ہو تی ہے ۔کوئی بھی کام مشکل تبھی ہوتا ہے جب وہ پوشیدہ رہتا ہے ۔ سبب ظاہر ہونے پر تو وہ قیاس بن جاتا ہے ۔اچھا یا برا ۔نظام کائنات سبب کی وجہ سے ہے ۔ مگر
در دستک >>
Mar 8, 2010
Mar 7, 2010
محبت نہ اتنی پاس ہوتی تو دل کو آس ہوتی
محبت نہ اتنی پاس ہوتی تو دل کو آس ہوتی
طولانی جب مسافت ہوتی تبھی تو پیاس ہوتی
زندگی کا سنا کر قصہء عشق مجھ کو بیمار کر دیا
ایسی بھی کیا مجبوری کیاری میں اب گھاس ہوتی
در دستک >>
طولانی جب مسافت ہوتی تبھی تو پیاس ہوتی
زندگی کا سنا کر قصہء عشق مجھ کو بیمار کر دیا
ایسی بھی کیا مجبوری کیاری میں اب گھاس ہوتی
Mar 3, 2010
ادب آداب سے
تحریر : محمودالحق
نام معاشرے میں بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔دنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد پہلا کام نام کا چناؤ ہوتا ہے ۔کہانیاں ہوں یا کتابیں ، ڈرامے ہوں یا فلم موضوع کے اعتبار سے نام رکھے جاتے ہیں ۔ ساتھ میں اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے ۔کہ پڑھنے والے یا دیکھنے والےٹائٹل سے کھنچے چلے آئیں ۔کبھی کبھار عنوان زندگی میں پائی جانے والی حقیقتوں سے اخذ کئے جاتے ہیں ۔ جیسے کبھی خوشی کبھی غم ۔
کہیں آپ یہ تو نہیں سمجھ رہے کہ میں نے کسی جانی پہچانی فلم کا نام لکھ دیا ہے ۔ لیکن یہاں تو بات صرف عنوان سے منسوب ہے ۔ اگر فلم کا ہی نام دینا ہوتا تو جیرا بلیڈ ، جیرا سائیں ، وحشی جٹ یا گجر سے کام چلا سکتا تھا ۔لیکن میں اپنے دئیے عنوان کی خود ہی نفی کر دیتا ۔اور ادب بے ادبی میں بدل جاتا ۔ ادب سے جن کا گہرا تعلق ہوتا ہے وہ ادیب کہلاتے ہیں ، مگر مولا جٹ فلم میں بھی ادیبوں نے اہم کردار دا کیا ۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسی گنڈاسہ فلموں سے ادیبوں کا دور نزدیک کا واسطہ نہیں
در دستک >>
نام معاشرے میں بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔دنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد پہلا کام نام کا چناؤ ہوتا ہے ۔کہانیاں ہوں یا کتابیں ، ڈرامے ہوں یا فلم موضوع کے اعتبار سے نام رکھے جاتے ہیں ۔ ساتھ میں اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے ۔کہ پڑھنے والے یا دیکھنے والےٹائٹل سے کھنچے چلے آئیں ۔کبھی کبھار عنوان زندگی میں پائی جانے والی حقیقتوں سے اخذ کئے جاتے ہیں ۔ جیسے کبھی خوشی کبھی غم ۔
کہیں آپ یہ تو نہیں سمجھ رہے کہ میں نے کسی جانی پہچانی فلم کا نام لکھ دیا ہے ۔ لیکن یہاں تو بات صرف عنوان سے منسوب ہے ۔ اگر فلم کا ہی نام دینا ہوتا تو جیرا بلیڈ ، جیرا سائیں ، وحشی جٹ یا گجر سے کام چلا سکتا تھا ۔لیکن میں اپنے دئیے عنوان کی خود ہی نفی کر دیتا ۔اور ادب بے ادبی میں بدل جاتا ۔ ادب سے جن کا گہرا تعلق ہوتا ہے وہ ادیب کہلاتے ہیں ، مگر مولا جٹ فلم میں بھی ادیبوں نے اہم کردار دا کیا ۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسی گنڈاسہ فلموں سے ادیبوں کا دور نزدیک کا واسطہ نہیں
کیوں نہ عید سہ ماہی ہوتے
اُمیدِ جگنو چمک کر اپنی ہی راہ کے راہی ہوتے
فیل کوکنکریاں وار تو پرندے بھی سپاہی ہوتے
لفظ کاغذ پہ رہتے دیکھنے میں قلمِ سیاہی ہوتے
دشتِ تنہائی میں اکیلے ہم سفر ہم راہی ہوتے
موتیوں کے بیوپار میں کیوں نہ اب ماہی ہوتے
خوشیاں جینےکوکم پڑیں کیوں نہ عید سہ ماہی ہوتے
بر عنبرین / محمودالحق
در دستک >>
فیل کوکنکریاں وار تو پرندے بھی سپاہی ہوتے
لفظ کاغذ پہ رہتے دیکھنے میں قلمِ سیاہی ہوتے
دشتِ تنہائی میں اکیلے ہم سفر ہم راہی ہوتے
موتیوں کے بیوپار میں کیوں نہ اب ماہی ہوتے
خوشیاں جینےکوکم پڑیں کیوں نہ عید سہ ماہی ہوتے
بر عنبرین / محمودالحق
Mar 1, 2010
پاک نیٹ - پاکیزہ جال
تحریر : محمودالحق
ایک زمانہ تھا شکاری نالوں اور خوڑوں میں کبھی مرغابیوں تو کبھی چھوٹی مچھلیوں کا شکار کرتے ۔ جن کی دسترس میں دریا ہوتے تو پھندہ وہیں لگایا جاتا ۔شکار کی اہمیت بھی کم تھی ۔ شکاری بھی کم تھے مگر شکار زیادہ تھا ۔ایک کے بعد ایک شکار ہوتا چلا گیا ۔شکاریوں میں شوق بڑھتا چلا گیا ۔نت نئے طریقے اپنائے جانے لگے ۔ کم وقت میں زیادہ کامیاب ایکشن کا رحجان تقویت پکڑتا گیا ۔ چرخی اوررسی سے ایک، ایک کی بجائے ایک سو ایک شکار اکٹھا ڈھیر کرنے کے لئے جال کا استعمال اہمیت اختیار کرتا گیا ۔
کھلے پانیوں میں بھاگ بھاگ کر بھاگتے شکار پر دھاوا بول دیا جاتا۔ کھیل کود میں مصروف تو آسانی سے قابو آ جاتے مگر نیت بھانپ جانے والے بچ جاتے ۔ ساتھ میں وہ بھی لقمہ بن جاتے
در دستک >>
ایک زمانہ تھا شکاری نالوں اور خوڑوں میں کبھی مرغابیوں تو کبھی چھوٹی مچھلیوں کا شکار کرتے ۔ جن کی دسترس میں دریا ہوتے تو پھندہ وہیں لگایا جاتا ۔شکار کی اہمیت بھی کم تھی ۔ شکاری بھی کم تھے مگر شکار زیادہ تھا ۔ایک کے بعد ایک شکار ہوتا چلا گیا ۔شکاریوں میں شوق بڑھتا چلا گیا ۔نت نئے طریقے اپنائے جانے لگے ۔ کم وقت میں زیادہ کامیاب ایکشن کا رحجان تقویت پکڑتا گیا ۔ چرخی اوررسی سے ایک، ایک کی بجائے ایک سو ایک شکار اکٹھا ڈھیر کرنے کے لئے جال کا استعمال اہمیت اختیار کرتا گیا ۔
کھلے پانیوں میں بھاگ بھاگ کر بھاگتے شکار پر دھاوا بول دیا جاتا۔ کھیل کود میں مصروف تو آسانی سے قابو آ جاتے مگر نیت بھانپ جانے والے بچ جاتے ۔ ساتھ میں وہ بھی لقمہ بن جاتے
Subscribe to:
Posts (Atom)