Apr 28, 2013

خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

قانون ساز ادارے عوام کی بہتری اور بھلائی کے لئے قانون سازی کے بل پیش کرتے ہیں۔جنہیں باری باری دونوں ایوانوں میں پیش کیا جاتا ہے ۔ جہاں بحث و تمحیص کے بعد دو تہائی اکثریت سے منظوری کی آزمائش سے گزرنا ہوتاہے۔ اخبارات الگ سے ان  کے قابل عمل ہونے یا نہ ہونے پر مناظرے کراتے ہیں۔جہاں علم و دانش رکھنے والے اپنی اپنی عقل کے مطابق اس کے حق یا مخالفت میں رائے زنی کرتے ہیں۔۱۹۷۳ کے آئین پاکستان میں کی گئی  ترامیم کا عوام کو کیا فائدہ پہنچا ۔ یہ عوام کی بگڑتی معاشی و اقتصادی اور معاشرتی و سماجی  صورتحال سے عیاں ہے۔قانون ساز ادارے حکومتی اختیارات میں کبھی اضافہ تو کبھی کمی  سے بغلیں بجاتے رہے۔مگر عوام بچوں کی طرح منہ میں خالی چوسنی لئے دودھ بھرے فیڈر کے انتظار میں کبھی ایک کا منہ دیکھتے تو کبھی دوسرے کا۔آخر میں لالی پوپ ہی سے گزارا کرنے کی عادت نے انہیں صبر و شکر کی بجائے برداشت کرنے کا خوگر بنا دیا۔جس کی زندہ جاوید اور تازہ مثال ماضی قریب کی پارلیمنٹ کے اجلت میں پاس کئے گئے قوانین کی مثال ہیں۔جس میں سرفہرست  سپیکر صاحبہ کا اپنے لئے حاصل کی گئی تاحیات مراعات ہیں جو عوام کے خون پسینہ سے کمائی گئی کمائی سے ہمیشہ ادا کی جاتی رہیں گی۔۷۷ کروڑ کے قرضہ  کی معافی تو کسی کھاتے میں ہی نہیں۔اپنے ہاتھوں سے اپنی دولت لٹانے والی ایسی زندہ دل قوم شائد کسی اور ملک کے نصیب میں نہیں۔ جس نے لوٹنے والوں کو بار بار دعوت یلغار دی ہو۔
کابل کے حکمران ظہیرالدین بابر نے ۱۵۲۶ میں جب ابراہیم لودھی کو شکست دی تو ہندوستان کے خزانے سے کابل کے ہر فرد کو ایک ایک اشرفی  بانٹی گئی تھی۔ مگر آج کا حکمران کتنا خودغرض ہے کہ وہ لوٹے گئے مال سے ایک روپیہ بانٹنا بھی گناہ سمجھتا ہےیا وہ پاکستان کے عوام کو کابل کے عوام سے زیادہ خوددار جانتا ہے کہ وہ ورلڈ بینک سے خیرات تو لے لیں گے مگرلوٹے ہوئے مال کو اپنے لئے حرام سمجھتے ہیں۔اسی لئے وہ لوٹا ہوا ایک ایک روپیہ بحفاظت اپنے کاروبار اور وارثوں میں بانٹ دیتے ہیں۔جن پر قوم بری نظر اُٹھا کر نہیں دیکھتی۔
سیاسی ہمدردوں کی دل آزاری میرا مقصود نہیں بلکہ الیکشن کی آمد آمد ہے تو ایک مضمون جو میری نظر سے گزرا  اس کے چند اقتباس سب کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔ 
یہ  ۸ نومبر ۱۸۶۴ کے امریکی انتخابات میں ابرہام لنکن کی کامیابی کا  احوال ہے ۔ جب سیاسی پنڈتوں نے لنکن کی شکست پر مہر ثبت کر دی تھی۔ انتخابات میں حیران کن کامیابی کے بعد صدر لنکن نے ایوان نمائندگان سے 13ویں ترمیم منظور کرانا اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔امریکہ کی تاریخ کا سنگین ترین بحران مسئلہ غلامی کے باعث پیدا ہوا تھا۔ اب وہ اپنے تمام تر سیاسی تدبر اور تجربے سے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے تھے۔ تاہم ایوان نمائندگان میں ترمیم منظور کرانا بڑا مشکل تھا کیونکہ حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل نہ تھی۔ صدر لنکن نے بڑی عرق ریزی سے اپنی حکمت عملی تیار کی کیونکہ وہ غلامی کے بل کو پالیمنٹ سے منظور کروا کر ملک کو  ریاستوں کی باہمی جنگ اور سول وار کا خاتمہ کر کے ملک ٹوٹنے سے بچا سکتے تھے۔ انہیں قدرت نے موقع فراہم کیا اور اس نے جیت کر امریکہ کی تاریخ کا  تیرویں ترمیم کا بل پاس کروا لیا جس میں غلامی کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا گیا۔
ملک بچانے کے لئے اور خانہ جنگی کے خاتمہ کے لئے لنکن کے لئے تیرویں ترمیم کا بل پاس کرانا نہایت ضروری تھاجس کے لئے پہلے اسے مطلوبہ تعداد میں ریاستیں چاہیئے تھیں۔ ریاست نیودا کی یونین میں شمولیت سے آئینی طور پر ریاستوں کی وہ تعداد پوری ہوجاتی جو ترمیم کی منظوری کے لیے درکار تھی۔ جس کے تین ارکان سے اس نے رابطہ کیا ۔دو نے انٹرول ریونیو کلکٹر بننے کی خواہش ظاہر کی۔ تیسرا نیویارک کسٹم ہاؤس میں تقرری چاہتا تھا۔ لنکن نے تینوں کی مانگیں پوری کرکے ان کی حمایت حاصل کرلی۔ جنوری ۱۸۶۵ میں انہیں مزید چودہ ووٹوں کی ضرورت تھی۔چنانچہ لنکن نے غلامی ختم کرنے کی خاطر اپنے ایک مخالف ریاست میسوری کے رکن کے سامنے جھکنے کا فیصلہ کرلیا جو سو غلاموں کا مالک تھا۔ اور غلامی کا مخالف تھا۔ لنکن اس سے ملے اور  بتایا کہ اگر تیرہویں ترمیم منظور نہ ہوئی، تو امریکہ ٹوٹ جائے گا۔ اس نے جذبہ حب الوطنی کے باعث ترمیم کی حمایت کر دی۔ انھیں ترغیب دینے کی خاطر میسوری سے وفاقی جج کی نشست خالی رکھی گئی جو ترمیم کو ووٹ دیتے،انہی کی پسند کا (موزوں) جج تعینات کیا جاتا۔ 13ویں ترمیم منظور کرانے کے لیے صدر لنکن نے سیاسی عنایات و نوازشات کا سلسلہ جاری رکھا ۔ مخالف جماعت ڈیمو کریٹک رکن، موسز اوڈیل نے ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالنے کا اعلان کیا،تو لنکن نے اسے ریاست الینائے میں نیول ایجنٹ (سرکاری افسر) بنا دیا۔ ریاست کنکٹکی کا رکن، جارج یمین غلامی کا زبردست حامی تھا۔  لیکن وہ جب 13ویں ترمیم کا حمایتی بنا، اسے ڈنمارک میں امریکی سفیر بنا دیا گیا۔ یوں لنکن نے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر تیرویں ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے دو ووٹ زیادہ  حاصل کر کے منظور کروا لیا جو امریکہ کی تاریخ کا ایک بڑا کارنامہ تھا ۔ جس نے ابرہام لنکن  کو  ہیرو بنا دیا۔  اگلے دو ماہ میں امریکی خانہ جنگی  کا خاتمہ ہوا۔
 تفصیل دینے کا مقصد یہ تھا کہ لنکن نے بھی مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے نوازشات کا راستہ اختیار کیا۔ مگر ان نواشات کا براہ راست تعلق مفاد عامہ اور ملکی دفاع تھا۔ ذاتی عناد ، مخالفت ، خودغرضی ، اقربا پروری کا شائبہ نہیں پایا جاتا وہاں۔ خلوص نیت سے کئے گئے تمام اقدامات عوامی تحسین و پزیرائی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔
تقریبا ڈیڑھ سو سال پہلے انہوں نے ملک بچانے کا ایک بہترین راستہ چنا۔ جس کی بدولت وہ آج بھی یونائیٹڈ ہیں۔ہمارا ملک روزانہ ایسی دھمکیوں سے گزرتا ہے کہ اب گئے کہ گئے۔مگر آزمائے ہوئے تمام  لیڈر ،حکمران تو کئی بار بنے مگر رہنما نہ بن سکے۔ جو ملک و قوم کو اس دلدل سے نکال سکتے۔ ملک ٹوٹنے کی تلوار آئے روز اخبارات کی شہ سرخیوں پر لٹکی رہتی ہے۔
اتنا لکھنے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ  تمام پارٹیاں اسمبلی میں بیٹھ کر ہر ایرے غیرے قانون کو بلا چوں چراں جو پاس کرتی ہیں جن کا براہ راست تعلق عوام کی بھلائی سے نہیں ہوتا انہیں ایک نہ ایک دن تو سوجھ بوجھ رکھنے والے محب وطن اکثریتی عوام کے ووٹوں سے  واسطہ پڑے گا جو انہیں  چھٹی کا دودھ یاد دلا دیں گے اور انہیں یہ سبق کبھی نہیں بھولنے دیں گے کہ پارلیمنٹ کا کام عوام اور ملک کی بھلائی کے لئے قانون سازی کرنا ہے نہ کہ سپیکریا ارکان کی گھریلو ملازمین کی تنخواہوں اور گھریلو عیاشیوں کے لئے ہزاروں لٹر پٹرول کی فراہمی  کا بندوبست کرنا۔جہاں کبھی صدر بے اختیار کیا جاتا ہے تو کبھی وزیراعظم۔ اختیارات کبھی ایک محل میں ہوتے ہیں تو کبھی دوسرے محل میں۔جہاں بلدیاتی نظام کبھی ہوتا ہے تو کبھی نہیں ہوتا۔۶۲، ۶۳ پہلے آئین میں تھی اب اخباروں میں ہے۔پہلے کام چھ دن تھا بجلی سارا دن ، اب کام پانچ دن ہے تو بجلی آدھا دن سے بھی کم۔حالانکہ  دو اڈھائی دن سے زیادہ کام کی گنجائش نکلتی نہیں۔ ڈاکٹر اصلی ہیں تو دوائیاں جعلی۔اسمبلی اصلی تھی تو ممبر جعلی ڈگری والے۔کوئلوں میں دلالی ہے تو جہازوں آبدوزوں میں کمیشن۔ بھوکےغریب کے لئے لفظ رشوت  سےذلت ، امیر کے لئے تحفہ تحائف سے عزت۔
پاکستان کی سیاست میں جھوٹ چلتا ہے مگر ملک میں رہنما جھوٹا نہیں چل سکتا۔ کیونکہ ملک جھوٹے  وعدوں کی بیساکھی پر  زیادہ دیرنہیں کھڑا ہو سکتا۔
قیام پاکستان سے قبل قائداعظم کی تقریر پر ایک بوڑھا تالیاں بجا رہا تھا ، قریب کھڑے شخص نے اس سے پوچھا بابا جی آپ کو قائداعظم کی انگریزی تقریر کی سمجھ آتی ہے؟بوڑھے نے کہا نہیں! مجھے انگریزی نہیں آتی مگرمجھےیقین ہےکہ یہ شخص سچ بول رہا ہے۔ایسے ہوتے ہیں سچے لیڈر۔
سب سے پہلے ملک کے رہنماؤں کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ سچ بولتے ہیں۔ اگر نہیں تو پھر ان کے وعدے  پر صرف اتنا ہی کہوں گا۔
خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
در دستک >>

Apr 26, 2013

فلم کا ٹریلر 11 مئی کو چلے گا

گیارہ مئی کے انتظار میں عوام سانسیں روکے بیٹھی ہے۔ حساب کتاب لگائے جارہے ہیں پہلے شخصیت پھر پارٹی کو تولا جا رہا ہے ۔ کون ہو گا وہ خوش قسمت جس کے سر پر جیت کا ہما بیٹھے گا۔ جو اکیلا وزیراعظم ہو گا پارٹی اس کی وزیر مشیر ، خاندان کے لوگ بھی بہتی گنگا میں کشتی ڈالے ساتھ ہوں گے۔ مال مفت دل بے رحم کا نعرہٗ مستانہ ہو گا۔ الیکشن کسی سیاسی جماعت کے لئے امتحان سے کم نہیں ہوتے۔ مگر کیا کہیئے اس امتحان کے ۔نہ قلم نہ کاغذ ۔ کاروائی صرف وائٹ پیپر۔
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں 
سکول میں ایک کلاس میں فیل اور کم از کم نمبر لے کر پاس ہونے والے  اگلی جماعت میں ڈاکٹر انجینیئر یا سی ایس پی  افسر بننے کا خواب نہیں دیکھتے۔ مگر سیاست نام ہی خواب دیکھنے کا ہے۔ ایسی پارٹیاں  جن کے کامیاب امیدوار ہر الیکشن میں چنگ چی میں پورے سما جائیں۔ 18 کروڑ عوام کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ان کےبلند و بانگ دعوے کم از کم میرے جیسے تاریخ کے ایک کمزور طالبعلم کی سوچ سے بہت اونچے رہتے ہیں۔
کیا ایسا ممکن نہیں کہ قوم کا ایک فرد ہونے کے ناطے وطن کے لئے درد دل رکھ کر فیصلہ کریں کہ 65 سال میں جو کھویا اسے آئندہ پانچ سال میں حاصل کر لیں۔ مگر کیسے یہاں جیتنے کے لئے سر دھڑ  کی بازی ہے۔  ایک باری لینے پر بضد ہے تو دوسرا بار بار باری لینے کی دھمکی دیتا ہے۔ عوام 8 گھنٹے پنکھے کی ہوا لیتے ہیں سولہ گھنٹے کوسنے دیتے ہیں۔ جن کے گھروں میں جنریٹرز کھٹ کھٹ چلتے ہیں وہ ابھی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچے کہ ملک کے عوام کا کوئی جائز مسئلہ بھی ہے یا اس قوم کو خوامخواہ رونے پیٹنے کی وہی پرانی عادت  جو پچھلے 65 سال سے ساتھ چپکی ہوئی ہے۔
الیکشن کے نتائج کئی لوگوں کے لئے اتنے اہم نہیں ہوں گے کیونکہ ان کےگھروں میں کوئی بھی بھوکا نہیں سوتا۔ کوئی بے روز گار نہیں ہے۔ تعلیمی ادارے کی کوئی شکائت نہیں البتہ ذہانت کو الزام دیا جا سکتا ہے۔ لوڈ شیڈنگ میں اضافہ نا گزیر ہو گیا تو ٹھنڈے ملک  جانے میں کوئی امر مانع نہیں۔ مگر کیا کریں وطن کی گرم ہواؤں نے ہمیں کبھی جلایا نہیں۔ درجن بھر گلاس پانی جسم کے اندر اور بالٹی بھر پانی جسم کو باہر سے تمام بیماریوں سے پاک کرتا رہا۔ ٹھنڈے مشروبات الگ سے توانائی بحال رکھتے رہے۔
سیاست کی گرمی مئی کے مہینہ میں جوبن پر ہو گی۔ تجزیوں تبصروں سے شدت میں اضافہ تو ہو سکتا ہے مگر تسلی و تشفی اور راحت نہیں۔ قوم کو فیصلہ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے ملک کا وزیراعظم منتخب کرنا ہے یا ملک کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے یا پھر وہی روائتی مخاصمت ، مخالفت جس کا پاکستان اور اس کے چاہنے والوں کو کبھی بھی فائدہ نہیں ہوا۔
اگر سابقہ حکومت ناکام ریاست کا وجود چھوڑ جائے تو اسے ٹھیک اور بحال کرنے کے لئے اگر امریکہ کے گورے ، سیاہ فام مسلمان کے سیاہ فام بیٹے کو اپنا صدر دوسری بار بھی چن سکتے ہیں تو پھر پاکستان میں بلند مرتبی کا ٹھیکیداری نظام کیوں۔ جہاں سیاسی وراثتی سپوت اور سپوتری بندر بانٹ کے لئے تماشا کرتے ہیں۔
 ہمیں دوسروں کے نظریات یا پارٹی وابستگی جاننے کی بجائے نوشتہ دیوار پڑھنا چاہیئے کیونکہ  ہر پانچ سال بعد لاکھوں نوجوان بے روزگاری اور غربت کا ایندھن بنیں گے۔ جو جھوٹے وعدوں اور دلاسوں سے بہلائے نہیں جا سکیں گے۔ ایک شہر کی فوٹو دکھا دکھا کر ان پر احسان عظیم جتایا نہیں جا سکتا ۔ شخصیت پرست جماعتیں اور نظریات ہمیشہ غالب نہیں رہتیں۔ اکیسویں صدی کا نوجوان کئی صدیوں پہلے نازل فرمان پر تو آنکھیں بند کر کے چل سکتا ہے مگر 65 سال میں ہر پل بدلتی شخصیتوں پر اعتبار کرنا اس کے لئےمشکل ہوتا جا رہا ہے اور وہ بالآخرتعداد میں اتنے ہو جائیں گے کہ تبدیلی کے لئے کسی بھی سچے ایماندار انسان کو اپنا مرکز بنا لیں گے۔ آج کم تر برا جیتے گا تو اس وقت کم تر اچھا ہارے گا۔ فلم شائد دیر میں چلے مگر قوم اس فلم کا ٹریلر 11 مئی کو دیکھ لے گی۔
در دستک >>

Mar 27, 2013

ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار

بڑے بڑے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جبتک کہ اس میں اللہ تبارک تعالی کی رضا شامل نہ ہو۔ تاریخ شاہد ہے کہ مٹھی بھر لوگوں کی جماعت ایک کثیر فوج کے مد مقابل کھڑی ہو گئی۔اس امید کے ساتھ کہ انہیں کامیابی نصیب ہواگر ان کا اللہ چاہے تو۔ تو اللہ تبارک تعالی نے ان کے بھروسہ اور اعتماد کو پزیرائی بخشی اور وہ کامیابی سے سرخرو ہوئے۔ کہانیاں کامیابیوں کی زبان زدعام رہتی ہیں۔ قیاس وہم و افسوس کا شکار ہوتے ہیں۔
باطن کو ظاہر سے کمزور سمجھنے والے باطن کی طاقت سے آگاہ نہیں ہوتے۔ ظاہر نمود و نمائش سے مزین ہوتا ہےاورباطن مخفی قوتوں سے آراستہ۔ آنکھوں کو وہی دکھایا جاتا ہے جو وہ دیکھناچاہتی ہیں۔ کانوں کو وہی سنایا جاتا ہے جو وہ سننا چاہتی ہیں۔ بہلانے پھسلانے کے نت نئے انداز ترنم آبشار کی لگن دھن رکھتے ہیں۔ جمہوریت میں انسانوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں۔ مگر جو قوم تبدیلی کے لئے اُٹھتی ہے وہ گنی نہیں جاتی بلکہ جزبہ و جنوں سے جانی جاتی ہے۔ جہازوں ، گاڑیوں، مکانوں کو گنا جاتا ہے پھر ان میں انسانوں کو گنا جاتا ہے۔
سورج کے گرد طواف کرتی زمین فاصلوں کے ماپنے سے حقیقت شناسی کا سبق دھراتی ہے۔ جس کی حدوں سے باہر نکل کر ہر شے بے وزن ہو جاتی ہے۔ ہوا میں اُڑتے پرندے رائٹ برادرز کو زمین سے اُٹھنے میں تحریک کا سبب ہیں تو نیوٹن کو سیب زمین پر گرنے سے۔ بادل اپنے وقت پر گرج چمک کر برس جاتے ہیں۔ نفع و نقصان کا تخمینہ لگانا انسان کے جمع وتفریق کے فارمولہ کےتحت ہوتا ہے۔ زیر زمین رہنے والے کیڑے مکوڑے جڑی بوٹیوں کی افزائش سے تقویت پاتے ہیں اور ان سے پرندے زندگی۔ ہریالی سے چوپائے صحت و تندرستی پاتے ہیں تو درندے ان کے خون سے۔ انسانوں میں بے حسی ، بے مروتی، خیر وشر کی تمیز کا نہ ہونا، سچ  و جھوٹ میں فرق نہ کرنا، حرام و حلال میں تمیز نہ کرنا، تحریص و ترغیب کی تحریک کا موجب ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک گناہ زندگی بھر کے پچھتاوے سے بھی دھونے میں ناکام رہتا ہے۔
لینے اور دینے والے عہد وپیماں کی بجائے ضابطہ اخلاق کے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں۔ قربانی دینے والے ، ایثار کرنے والے ہمیشہ دوسروں کی نظر میں سر بلند نہیں ہوتے۔ جب تک کہ اللہ تبارک تعالی کی رحمتیں ان پر نفع کی صورت میں آشکار نہ ہوں جو دن کی روشنی کی طرح عیاں ہوتے ہیں۔ حادثہ کا شکار ہونے والے جہاز یا گاڑی میں منزل تک پہنچنے کا ارادہ کرنے والےکسی مجبوری سے سفر نہ کرنے والے حادثہ کی روح فرسا خبر کو  بد قسمتی  اور خوش قسمتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ تیز ہواوں کے نتیجے میں گرنے والے پتے بد قسمت نہیں ہوتے اور نہ ہی درختوں پر رہنے والے خوش قسمت ۔ یہ ایک خود کار سسٹم کے تابع ہیں۔ پانی روشنی اور ہوا لے کر پروان چڑھنے والےپتے ٹہنیوں اور تنوں کی عمر نہیں پاتے۔ بار بار جنم لیتے ہیں بار بار ختم ہوتے ہیں۔ جس دن مٹی جڑ سے رشتہ توڑ لیتی ہے پھر جنم جنم کے سلسلے رک جاتے ہیں۔ جب تک زمین ہے جنم ہوتےرہیں گے۔ جب کائنات نے زمین کو چھوڑ دیا نئے جنم کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔
روشی پانی ہوا سے زندگی پانے والا ایک پتہ روشنی پانی ہوا سے زندہ رہنے والے ایک انسان سے کیونکر عظیم ہو سکتا ہے۔ جبکہ دونوں جنم لینے اور ختم ہونے کی فطرت پر ہیں۔عظیم وہ ہے جوعظمت پر کامل یقین رکھتا ہے۔ وہ عظمت جو اسے وسیلہ سے ملی۔ جس میں مرتبہ حسن اخلاق کو حاصل تھا۔ احترام صداقت اور ایمانداری سے تھا۔ قدرومنزلت نام و نسب کی بجائےشرافت ودیانتداری سے تھی۔ بشر تو سبھی تھے مگر عظمت کے مینار کوئی کوئی تھے۔
پیدائش و اموات کے درمیان افزائش کے مراحل تعلیم و تربیت کے پھلوں سے ذائقہ و خوشبو سے مزین ہوتے ہیں۔ تہذہبی اور ترتیبی معاشروں میں حسن اخلاق اور اخلاص کی کیاریاں پھولوں کوسینچتی ہیں۔ جن معاشروں میں یہ اقدار نہیں ہوتیں وہ جنگل کی مانند بے رنگ و بے ترتیب ہوتے ہیں۔ جو کٹنے سے پہلے گنے جاتے ہیں پھر کٹ کر تولے جاتے ہیں۔ کیاریوں میں اُگے پھول کثیر تعدادی سے آنکھوں کو ٹھنڈک نہیں پہنچاتے بلکہ خوبصورت رنگوں کے امتزاج کثیر سے روح کو تسکین دیتے ہیں۔
 
تحریر : محمودالحق    
در دستک >>

May 3, 2012

طوطی اور سوداگر

سندر خانی انگور ذائقہ اور مٹھاس میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ انورٹول آم خوشبو اور ذائقہ میں کسی سے کم نہیں۔اگر آم پھلوں میں بادشاہ کہلاتا ہے تو انگور بھی کسی رانی سے کم نہیں۔
لیکن اعلان وفا سے پہلے دونوں ہی کسی دشمن سے کم نہیں ہوتے۔ایسے دانت کٹھے کرتے ہیں کہ کسی جلاد سے کم نہیں ہوتے۔ اعلان وفا چند دنوں سے زیادہ نہیں ہوتا مگر یہاں تک سفر طے کرنے میں سال بھر میدان جنگ کا منظر پیش کرتے ہیں اور بدلتے موسموں کی تغیرات سے بچتے بچاتے انجام صبر کی مثال بنتے ہیں۔
سال بھر انتظار کے بعد حسن کے چرچے ہفتہ بھر ہی سننے میں رہتے ہیں۔ جن کے مقدر میں مٹھاس نہیں ہوتی ، وہ کٹھے ہی مرتبانوں کی زینت بن جاتے ہیں۔وہاں وہ منصب بادشاہت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
رانی جب ڈھل جائے تو گلے سڑے ہوئے پانی سے نشہ کی لت کی شکار ہو جاتی ہے۔نرالا دستور ہے زمانہ کاایسی حالت میں رانی کی بیٹی بن کرتمکن چیرہ دست ہو جاتی ہے۔معاملہ کچھ بھی ہو۔ بات سمجھنے کے لئے کہانی ضروری ہوتی ہے۔
اگر بغداد کا سوداگر ہندوستان کی طوطیوں کو ایک قیدی طوطی کا پیغام پہنچاتا ہے تو اسے قید سے رہائی کی ترکیب سوداگر کے زریعے پہنچا دی گئی۔ جسے سوداگر کی قید میں روزانہ مرتی ہوئی طوطی نے خود کو مار کر قید سے رہائی کا پروانہ پا لیا۔ جسے بظاہر طائر کی عقلمندی سے رہائی کی حکایت بنا دیا گیا۔  مولانا رومی نے اپنی مثنوی میں تشبیہات اور استعارات میں ایسی کئی کہانیاں بیان کی ہیں۔
ان کے نزدیک طوطی تو دراصل ایک خوبصورت ، خوش گفتار اور دل کو چھو لینے والے حسن سے آراستہ روح تھی جو نفس کی سلاخوں سے بنے جسم کی قید میں تھی۔ جس نے نفس کی قید سے رہائی کا پروانہ تحسین و رغبت آدمیت کی نفی سے حاصل کیا۔ حسن جب نچھاور ہونے کے لئے حد سے بڑھ جائے تو رغبت انسانیت صیاد بے رحم بن کر دبوچ لیتا ہے۔پھر وہ نفس کی سلاخوں کے پیچھے قیدی بن کر رہ جاتا ہے۔
دوسروں سے آزادی کا نعرہ بلند کرنے سے قیدی سوداگروں سے رہائی نہیں پاتے بلکہ اس زندگی کو فنا کر دیتے ہیں جو صیاد کو دلربائی عطا کرتی ہے۔ خوبصورت اور خوش الہان پرندے قید و بند کی صعوبتوں سے گزرتے ہیں مگر ملکہ ترنم کوئل نہایت خوبصورت ، دلکش اور کانوں میں رس گھولنے والی آواز کے باوجود کھلے درختوں پر آزاد رہتی ہے۔ اس کی آزادی کا راز یہ ہے کہ وہ قید ہونے سے پہلے صیاد کے ہاتھوں میں ہائی بلڈ پریشر سے فنا ہو جاتی ہے۔ اس کا ایسے مر جانا آزاد زندگی کی علامت ہے۔
کھلے روشندان سے کمرے میں قید ہونے والی چڑیا آزادی کے لئے چھتوں ، پنکھوں سے جس طرح ٹکراتی ہے، وہ آزادی کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ پیدائشی قیدی طوطا پنجرے کا دروازہ کھلا ملنے پر طوطا چشم ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پیدائشی آزاد روح انسانی ، نفس بدن کی قید میں بھی خوشی کے ترانے گنگناتی ہے۔ اس کی آزادی اس کے
 تفکر میں ہے، صبر میں ہے ، شکر میں ہے۔
محبت میں ہے، قربت میں ہے، عبادت میں ہے۔
اقرار میں ہے، دلدار میں ہے، ابرار میں ہے۔
آسمان میں ہے، ایمان میں ہے، قرآن میں ہے۔
سبب میں ہے، طلب میں ہے، قلب میں ہے۔
احد میں ہے، حمد میں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے۔
کامیابی قدم چومے تو دولت و شہرت کا پہلا شکار وہ خود ہوتا ہے۔ زر زمین کی فرمائش پر پہلے خود قربان ہوتا ہے۔ پھراپنی روح کو نفس بدن کا قیدی بنا دیتا ہے۔ ظاہری تبدیلیوں سے ارواح انسان کو نفس کی غلامی کا درس دیتا ہے۔ اس کی نشانیوں میں ایک نشانی ضرورتوں کا بڑھ کر آسائش بن جانا ہے۔ معاشرے کے لئے وہ آلائش بن جاتی ہیں۔ پھر ہر ایک کی وہ فرمائش بن جاتی ہے۔
انسان کے لئے پیغام انسانیت ہے، پیغام آدمیت ہے۔آدمی نے مادیت کا پیغام  خود سے پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ جس کی اساس مادہ پرستی ہے۔ مادہ پرستی نفس کے درون قید خانہ کی بالکونی ہے۔ جہاں سے روح کی آمدورفت کی راہ میں دعوت گمراہی کا انتظام ہوتا ہے۔
وجود کو آلائشوں سے پاک رکھنے کے لئے آزادی کی جنگ لڑی جاتی ہے جس سے انقلاب برپا ہوتا ہے۔ طوطی کی طرح خود کو فنا کر کے بقاء پائی جاتی ہے اور اس کے لئے نفس کے سوداگر سے آزادی کا مفہوم حاصل کرنا ہوتا ہے۔
قیدیوں کو دیکھ کر خوش نہیں ہوا جاتا بلکہ انہیں قید سے رہائی کا راستہ دکھایا جاتا ہے نا کہ سوداگر کے ہاتھ میں اپنی ہی آزادی سونپ دی جائے۔
ملک آزاد ہوتے ہیں۔ جنگل آباد ہوتے ہیں۔ صرف طوطے قید ہوتے ہیں۔ ہاتھوں کی چوری جنہیں بادشاہ اور رانی سے بڑھ کر مٹھاس کا نشہ دیتی ہے اور دوسروں کو بھی اسی راستے کا مسافر بناتی ہے جس کی منزل قید ہو۔


تحریر : محمودالحق


در دستک >>

Apr 25, 2012

روشنیوں کا شہر



قمقموں سے بھرا ،چاروں اطراف روشنی پھیلاتا،قربتوں میں جگمگاتایہ شہر میرے پاک پروردگار کا بنایا ایک شاہکار ہے۔ روشنی کے سامنے رہوں تو میرا عکس مجھے روشن کر دے۔پلٹ جاؤں تو ایک جہاں روشن ہو جائے۔وہ ٹمٹماتے تاروں کے نظارے روشن کر دیتی ہے۔گھنٹوں انہیں دیکھنے سے جی نہ بھرے۔آنکھیں چکاچوند روشنیوں کے جلوے سے منور ہو جائیں۔بینائی کا سفر روشنی کی رفتار سے تیز ہے۔جو پلک جھپکنے میں کروڑوں میل کی مسافت طے کر لیتی ہے۔اگر جنت کا منظر آنکھوں میں بسا لے تو تسکین ایسی کہ نشہ ہونے لگتا ہے۔
ایک یہ بدن پل پل اکتاہٹ و بیزاری کی لت کا شکار رہتا ہے۔قدم اُٹھانے کی غلطی کریں تو گنتی پر اتر آتا ہے۔ہزار قدم کے سفر میں پڑاؤ کی تمنا رکھتا ہے۔دوزخ کے تصور سے ہی بدن آگ میں جلنے لگتا ہے۔ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اس کی جنت تو یہی دنیا ہے، مخملی بستر ، آرام دہ سفر، خوش رنگ لباس اور خوشبو بھری خوش ذائقہ خوراک ۔مٹی میں مل بھی جائے تو ایک آواز سے پھر بننے میں کوئی مشکل نہیں۔
انسان چکا چوند روشنیوں میں جینا چاہتا ہے۔مرکز کے قریب جہاں اسے عکس ویسا ہی نظر آئے جیسا وہ دیکھنا چاہتا ہے۔آئینے میں نفس کی آنکھ سے خوبصورتی کی منظر کشی کرتا ہے۔زمین پر بڑھتے گھٹتے سائے تو اسے نظر میں نہیں جچتے۔ جسے مبہم قرار دے کر کسی توجہ کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔مٹی اسی کا نشان بناتی ہے جس پر اسے گرفت کرنی ہوتی ہے۔
جب انسان کے بس میں کچھ نہیں پھر وہ اپنے بس میں کرنا ہی کیوں چاہتا ہے۔ آقا غلام کا دور جا چکا۔اب حاکم محکوم کا دور ہے۔ حاکم مراعات یافتہ ، با اختیار طبقہ بھی کہلاتا ہے اور محکوم ،محروم وبے اختیار بھی سمجھا جا سکتاہے۔ جو بڑا نسان بھلے نہ بن سکے مگر خواب آنکھوں میں سجا کر بیوقوف ضرور بنتا ہے۔ دھوکہ انہیں دیا جاتا ہے جنہوں نے اعتبار کی خلعت پہنی ہو۔جھوٹ تب بولا جاتا ہے جب بے اعتباری کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔
سورج کے مشرق سے طلوع ہونے اور مغرب میں غروب ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔پھر روشنی اور ہوا کوگھروں میں داخل ہونے کے لئے دستک کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ جس پر شک نہیں اس کے راستے مسدود کر دئیے گئے۔ جس پر اعتبار نہیں انہیں گھروں میں بٹھا کر قفل لگا دیئے گئے۔ نقب لگانے کا موقع خود سے فراہم کر دیا اور بدن کی چیخیں سن کر بلبلا اُٹھے۔کیونکہ وعدے ہمیشہ عوامی ہوتے ہیں قومی نہیں۔ جب قفل بندعوام آزاد قوم نہ رہے تو وعدہ کرنے والے قومی نہیں ہوتے۔جو عوام آئینے میں عکس دیکھ کر پھولے نہ سمائے وہ انسانیت کے اس درجے تک جا پہنچتا ہے جہاں جھوٹ بالکل سفید ہو جاتا ہے دن کے اجالے کی طرح۔
کتابیں کھول کر معنی و مفہوم تلاش کرنے سے مخلوق مخلوق سے بیگانی ہوتی ہے۔خالق سے پہچان ایمان کی بدولت ہوتی ہے۔کروڑوں میل کی مسافت طے کرنے والی آنکھیں چند میٹر سے آگے زندگی کا مفہوم جاننا نہیں چاہتیں۔گھر بار ، دولت کے انبار اور کار ہی نعمتوں میں شمار رہ جاتی ہیں۔ستاروں پر کمند ڈالنے کے دعویدار اپنا عکس دیکھنے سے فارغ نہیں ہو پاتے۔آسمان پر جگمگ جگمگ کرتے تارے انسانی آنکھ کی محبت سے محروم رہ گئے۔جن کے لئے یہ منظر سجایا گیا انہوں نے مہمان گھروں میں بٹھا کر قفل چڑھا رکھے ہیں۔ یہ شہر انوار ہے جہاں روشنی کا مکمل اعتبار ہے۔ بندشیں صرف نیند سے ہیں۔ مگر رہنا وہاں پسند کرتے ہیں جہاں بندشیں غفلت سے ہیں۔قفل کھول کر گھر سے باہر کھلے آسمان تلے بیسیوں تارے ٹمٹما کر اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر قفل کھولنے والے بیس ملنے بہت مشکل ہیں۔ اگر انسان نقصان اُٹھانے والا نہ ہوتا تو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھی نہ ہوتے۔جنہیں دین مکمل مل گیا دنیا ان کی آج بھی نا مکمل ہے۔جہاں وعدوں کا پاس نہیں سچ کا ساتھ نہیں، وہاں جھوٹے ،وعدہ خلاف بے ایمان بھی ہوں گے اور کرپٹ بھی۔
روشنیوں کے شہر میں واپس لوٹنا ہو گا جہاں دیدہ ور کو پیدا ہونے میں ہزاروں سال کے انتظار کی سولی پر نہ لٹکنا پڑے۔ نظر کے وہ جلوے قفل عقل کو توڑتے ہوئے قلب رب کے ذکر کے ورد میں روشن ہوتے جائیں۔


تحریر : محمودالحق
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter