Jun 15, 2020

اب اگر راستہ چھوٹ جائے تو شکوہ کیا

اب اگر راستہ چھوٹ جائے تو شکوہ کیا
دنیا سے گر رشتہ ٹوٹ جائے تو شکوہ کیا

آستین میں چھپے ہاتھ کی آگہی بھی بیزاری ہے
دوچار قدم چل کے لوٹ جائے تو شکوہ کیا

جالے بنتی مکڑی کا ہے فریبِ مکاں
قلبِ نور سے نظر عقل مٹ جائے تو شکوہ کیا

شمع خود بھی ہے بجھتی پروانہ بھی جلاتی
مہک گل سے خود لپٹ جائے تو شکوہ کیا

دامنِ آرزو میں رہتی ہوا تو گرد و غبار ہے
حسرتوں سے غمِ بادل چھٹ جائے تو شکوہ کیا

بے بس دست و پا بے راہ مشکل التجا
احسان سے گر مقامِ اَنا مٹ جائے تو شکوہ کیا

تلاش میں ہے جن کی رزقِ اجرِ حنا
جسم روح سے الگ الگ بٹ جائے تو شکوہ کیا

ولی صوفی قلندر کیا نہیں ہیں انساں
متاعِ دنیا راستے سے خود ہٹ جائے تو شکوہ کیا

راستے جدا جدا پہنچے منزل ایک مقام
راستہ ہی میں سارا سفر کٹ جائے تو شکوہ کیا

آسان جن کو نظر آئیں منزلیں دشوار گزار
قدم پڑتے ہی گر نہ پلٹ جائے تو شکوہ کیا

بیتابیء قلب میں سماتی جسم و جان جائے
تہہء عملِ جہاں سے جو سلوٹ جائے تو شکوہ کیا

اب بھی ہے کوئی شکوہ ذاتِ منان سے
غفلت شب میں نیند سے کروٹ جائے تو شکوہ کیا

کلمہء تشکر میں گر ہو مقامِ اولیٰ محمود
پہاڑ کیا چاہے زمین پھٹ جائے تو شکوہ کیا

محمودالحق

در دستک >>

Jun 3, 2020

راہِ ہدایت

پہلے انسانیت سسک رہی تھی اب انسان بلک رہا ہے۔ ایک مذاق تھا جو  سر چڑھ کر بولتا رہا۔ معاشرہ محبت  سے عاری  تو معاشرت میں سیاسی داد گیری ۔ جھوٹ اتنا کہ  دم نکل جائے مگر سچ زبان پر نہ آ سکے۔شہرت کے متلاشی ، دولت کے بھوکے،عزت کے طلبگار صرف خواہشوں کے دم پر۔ نہ کردار کے غازی اور نہ ہی  عہد کے پکے۔پاؤں سر پر رکھ کر بھاگنے سے پاؤں زمین سے تکبر سے اٹھنے تک کے مراحل میں عاجزی اور نہ ہی صبر ، شائستگی سے  محروم  آئینے جو حقیقت کیا دکھاتے جن کا  عکس بھی دھندلا ۔
نظام کائنات میں زرہ برابر بھی فرق نہیں روشنی کا پیچھا کرتے اندھیرے کے غالب آنے تک۔ پیغمبروں کو جھٹلانے والی قومیں کبھی بجلی کی کڑک سے ہلاک ہوئیں تو کبھی آسمان سے برستی آگ سے۔کسی پر پانی چڑھ دوڑا تو کوئی پانی میں خود جا کودا۔راہ ہدایت کو اتنا مقدس جان لیا کہ کھوجنا تو دور کی بات کھولنے سے ہی ہاتھ کھینچ لیا۔ صرف اتنا جاننا چاہتے ہیں جسے سنایا جا سکے، جو عمل کا متقاضی ہے اسے ذاتی اختیار سمجھ کر فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔
کسی نے شملہ اونچا کر لیا تو کسی نے دستار کے پھیلاؤ بڑھا لئے۔اپنے راستے سیدھے نہ کئے ، دوسروں کے سامنے گڑھے ڈھونڈنے میں توانائیاں صرف کرنے میں دن رات ایک کر دئیے۔ دوسروں کے نقائص سے اپنی نجات کا راستہ تلاش کرنے والےطبیب مسیحا ئی  کے دعویدار زمانے کی ہمراہی میں خود ہی عالم روزگار بن گئے۔
اخلاق و اطوار ، کردار و گفتار  کے بغیر ایسی کشتی کی مانند ہے جو چپوؤں کے بغیر کھلے پانیوںمیں اپنی سمت کا تعین کرنے سے قاصر ہوتی ہے ، منزل تک پہنچنا تو بہت دور بات ہے۔یقین کرنے کے لئے ہمیشہ معجزات کے طلبگار، ہدایت یافتہ ہونے کے لئے آسمان سے فرشتے اترنے کے منتظر  ۔
بچے کے ہاتھ میں مغرب سے مشرق  تک پہنچنے والےمعمولی سے تحفہ کی دھوم اور دھاک کئی گھروں کے در ہلا کر رکھ دیتی ہے۔اپنا منہ لال کرنے کے لئے اپنے ہاتھوں سے اپنے منہ کا ماتم کیا جاتا ہے۔قلب پر اترنے والے تحفے  انمول ان کے لئے جنہیں خالص اور نایاب کی قدردانی کا فن جو ہر شناسی حاصل ہوا۔جسے دیکھنے والے زیادہ ہوں وہاں دکھانے والے اپنا اپنا مال بیش قیمت بنانے کے لئے بڑھ بڑھ کر قیمت لگاتے ہیں۔ ذرائع آمدن بڑھانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگ جاتی ہےاورخرچ کے راستے روک لئے جاتے ہیں جو معاشرے میں مسابقت اور حکم سے مطابقت رکھتے ہوں۔
زخم بھر جاتا ہے ، تکلیف جاتی رہتی ہے، تکمیل کا عمل کبھی نہیں رکتا۔چھوٹ جانے کا خوف دنیا میں بے صبری اور ہیجان و بے چینی میں مبتلا رکھتا ہے۔اچھے دنوں کی آس کے سامنے برے دنوں کا خوف اتنا ہیبت ناک ہوتا ہے کہ  عارضی زندگی کے مقابلے میں دائمی زندگی  کے انجن کو پٹڑی سے اتار دیتا ہے۔  جس کے پیچھے اعمال کی بے شمار بوگیاں  منزل تک پہنچنے سے پہلے تباہ حالی کا شکار ہو جاتی ہیں۔اندھوں کے لئے روشنی کا ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہوتا ہے۔ قلب میں جن کے ہوس و حرص ، غرض و مفاد  کا زنگ بھرا ہو وہاں چھینٹوں سے داغ دھلنے زرا مشکل ہوتے ہیں۔فیصلے کی گھڑی ہو یا قیامت کے قرب کی نشانیاں  تیاری کے بغیر امتحان میں بیٹھنے کے لئے مچلنا  کچلنے کے مترادف ہے۔
اوراق مقدس تبھی ہوتے ہیں جب ان پر حروف مقدس لکھے ہوں۔ حروف وہی مقدس ہوتے ہیں جو اس کتاب کے ہوں جس میں کسی قسم  کاکوئی شک نہ ہو،  جس کے حرف حرف پہ سچائی لکھی ہو اور ایمان والوں کے  لئے راہ ہدایت  صرف وہی ہے۔

تحریر : محمودالحق



در دستک >>

Apr 6, 2020

اے خدا تیری رحمتوں کے بندے طلبگار ہیں

در دستک >>

قید میں ضمیر قفس کے ہے ہجوم تنہائی

در دستک >>

Apr 5, 2020

عمرانیات پر کرونا اثرات

تعمیرات کے شعبے کو کھولنے کا فیصلہ کرونا کے اثرات سے نپٹنے کے لئے کیا گیا ہے تاکہ غریب عوام کو روزگار کے حصول میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ کوئی بھی حکومتی اقدام اس وقت تک اچھے نتائج کا حامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ پالیسی بنانے والے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کی بجائے قومی معیشت  کو مستقل بنیادوں پر استوار نہیں کرتے۔ 2016 سے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ کو برے طریقے سے سبوتاژ کیا گیا۔ بڑے چور تو عدالتوں سے ریلیف پا گئے۔ اور عام لوگ پیچھے بچ گئے جوگہیوں میں گھن کی طرح پس گئے۔ عجیب مارشلائی صورتحال ہے جب چاہا مال کا حساب مانگ لیا جب چاہا آنکھیں بند کر لی۔ دنیا کے کسی ملک میں 12/2 فیصد بینکوں میں شرح سود نہیں ہے ماسوائے پاکستان کے ۔ جو ملک مضبوط معیشت کے حامل ہیں وہاں سسٹم مضبوط ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں صرف مافیا ہیں ۔ آٹا مافیا ،چینی مافیا ،پراپرٹی مافیا ،میڈیا مافیا ، ذخیرہ اندوز مافیا، ملاوٹ خور مافیا  اور سیاستدان مافیا کے ساتھ ساتھ ہر طاقتور ادارہ بھی مافیا ہے اور پیچھے بچی صرف عوام جو  اب کرونا کے زیر عتاب ہے۔ حکومت اس خوف سے حرام کو حلال ماننے پر آمادہ دیکھائی دیتی ہے کہ کہیں غریب عوام امیروں کی دوکانوں ، گھروں اور گوداموں پر حملہ آور نہ ہو جائیں۔ سننے میں آتا ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں بعض ریاستوں کے شہریوں نے اپنی حفاظت کے پیش نظر اسلحہ خریدنا شروع کر دیا ہے کہ کہیں کرونا کی وجہ سے بھوک سے تنگ عوام چوریاں اور ڈکیتیاں نہ شروع کر دیں۔ حالانکہ حکومت نے بڑے کاروباری اداروں اور عوام کے ریلیف کے لئے دو ہزار ارب ڈالر کی ایک خطیر رقم مختص کی ہے اور پاکستان میں صرف آٹھ ارب ڈالر کی رقم مختص کی گئی جو شائد قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کے لئے آئی ایم ایف سے بطور قرض لی گئی ہے۔ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
گنجی نہائے کیا نچوڑے کیا


در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter