Aug 31, 2019

اسرار و رموز اعداد


قلم سے شناسائی میں دس برس گزر گئے  اور اعداد کی حقیقت ِ کھوج میں دس ماہ۔
4300 سال قبل کچھوے کے خول پہ بنے اعداد کی تشکیل و ترتیب نے  اپنے سحر میں ایسے جکڑا کہ اعداد ہی بولنے لگے۔آج جو دیکھنے جا رہے ہیں وہ لفظوں کی نہیں اعداد کی کہانی ہےجو اُن کی اپنی زبانی ہے۔اعداد کی ترتیب و تشکیل کا ایک منفرد، انوکھا اور دلچسپ انداز جو  دنیا میں آج تک کبھی کسی نے نہیں دیکھا ہو گااورعقل و دانش کے ترازو پر جواز تلاش کرنے والوں کے لئے کھلا چیلنج رکھتا ہے ۔  1 تا 256 اعداد کے توازن کی ایسی حقیقت جو اجتماعیت سے انفرادیت تک اپنا تواز ن  بگڑنے  نہیں دیتی۔   کوئی Mathematical equation  ایسا شاندار اور جاندار رزلٹ نہیں دے سکتی۔یقین کی جس قوت کو  بروئے کار لا  کر اسے بنایا گیاسمجھنے کے لئے بھی اسی یقین کی  ضرورت پڑے گی۔

تفصیل اس ویڈیو میں 


در دستک >>

Aug 4, 2019

قلم ٹوٹتے رہے سیاہی بدلتی رہی

لکھنے کے لئے کاغذقلم ہاتھ میں لئے دہائیاں گزر گئیں۔ قلم ٹوٹتے رہے سیاہی بدلتی رہی ، کاغذ ہاتھوں سے میلے ہوتے رہے۔ہم بڑے ہو گئے قلم کتابیں چھوٹ گئیں اور کاغذ پر چھپی ڈگریاں ہاتھ لگتی رہیں۔ہم خیال کی اونچائی سے حقیقت کی کھائی میں اترنے لگے۔ دوستوں نے تنہائی کے احساس پر ٹائم پاس کا مرہم رکھا۔جو چاہا وہ پاس نہ آیا ، جس سے  دور بھاگے وہ گلے پڑ گیا۔زندگی بعض اوقات انسان سے کھیلتی ہے۔ امتحان سے گزارتی ہے پھر نہ ہی وہ پاس ہوتا ہے اور نہ ہی فیل ، بس ورکشاپ میں ہتھوڑا  ،اوزار پکڑوانے والا چھوٹا یا ایک ہی جماعت میں جونئیر کو خوش آمدید اور اگلی جماعت میں ترقی کرنے والوں کو الوداع کہنے والا بن کر رہ جاتا ہے۔
ماضی انسان کا پیچھا کرتا ہے ،کبھی خوف بن کر، کبھی پچھتاوا کی صورت، کبھی ندامت تو کبھی سر کشی کا کوڑا بن کر جو بدکے ہوئے گھوڑے پر  چابک برسا کر غصہ کی حالت سے اسے تابعداری کی طرف مائل کرتا ہے۔
بچے اچھے برے کی بجائے قابل اور نالائق کی تقسیم سے جانے اور پہچانے جاتے تھے اور  جاتے ہیں اور جانے جاتے رہیں گے۔ ملازمت پیشہ تنخواہ  سے، کاروباری دولت سے ، طاقتور اختیا ر سے جانے جاتے ہیں اور مانے بھی۔پانچویں پاس امیر اور پڑھا لکھا کلرک لندن امریکہ میں بچوں کی  اعلی تعلیم کا خواب آنکھوں میں سجانے کی بجائے ذہن میں سما لیتا ہے۔نامکمل اور ادھورے خواب سے کچھ دیر کے لئے ماضی سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ، مستقبل روشن ہو جاتا ہے اور حال مطمئن۔
اپنی قابلیت کے بل بوتے پر دنیا میں شہرت و دولت کا مقام پانے کے بعدانسانیت کی بھلائی میں  انہوں نےان لوگوں سے زیادہ عملی طور پر حصہ لیا جنہیں اپنے بزرگوں سے صرف دولت کے مینار تعمیر کرنے کی تربیت ملی۔انہوں نے اپنے زیر اثر افراد ، معاشرے اور قوم کو بیوقوف بنا کر ایک ایسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جو دیگیں پکانے والے کسی پکوان خانے کی پک اپ وین میں ایک زندہ گدھا دیکھ کر زیر لب مسکرا کر اسے کھانے والوں کی قسمت پر ہنستے ہیں ۔  
کہیں دولت کا رونا ہے ، کہیں عزت کا، کہیں محبت کا، لیکن شرافت کا ذکر خیر سننے کو کان ترس گئے۔حرام کمائی سے محل کھڑے کرنے والے معتبر  و معزز کہلائے۔ ایک بریانی کی پلیٹ اور ایک ادھ بوٹی کے لئے کناتوں پراتوں پر ٹڈی دل کے حملہ جیسا نقشہ قوم کی غیرت و حمیت کی بجائے غربت کا مذاق بنایا جاتا ہے حالانکہ گھروں میں تین وقت کا بہترین کھانا سویٹ ڈش کے ساتھ نوش فرمانے والوں کی پلیٹ پر بڑا مینار کھانے والے کی نیت کی بجائے اس کی فنکاری پر داد وصول کرتا پایا جاتا ہے۔تعلیمی ادارے آخر کہاں جائیں ، جہاں گھر بار، تھڑے بازار سیاسی درسگاہیں نوکر شاہی کے طفیل پسند ، نا پسند اپنا اُلو سیدھا رکھنے سے غرض رکھتے ہوں۔جب معاشرہ لوٹ مار اور حرام کی دولت کو برا جاننا چھوڑ دے اورتھانہ کچہری میں وہی باعزت کہلائے جاتے ہوں۔تو معاشرہ کہاں جائے جہاں ہر فرد عزت کا بھوکا ہو۔
زخمیوں اور بیماروں کے لئے ایدھی اور چھیپا ایمبولینس کسی نعمت سے کم نہیں  ایسے معاشرہ میں جہاں جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے کے مصداق ہو۔ جو جتنا متنازعہ ہو گا وہ اتنا ہی مشہور اور قدآور ہو گا۔ ٹی وی ٹاک شوز ہوں وشل میڈیا ہو یا اخبارات، ان کی جیبیں بہت بھاری ہوں گی اور تجزیے پھیکے۔
حالات سمجھنے کے لئے کوئی گیدڑ سنگھی نہیں چاہیئے ہوتی ، تاریخ ہمیشہ اپنے اُپ کو دہراتی
23 جنوری 2010 کو میری تحریر " سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری" کسی پارٹی یا سیاستدان کی بجائے نظام کے متعلق ہمارےعمومی روئیے کی غماز تھی۔ 26 مئی 2013 کو لکھی میری تحریر" فلم کا ٹریلر 11 مئی کو چلے گا"  میں فلم کچھ عرصہ بعد چلنے کا عندیہ تھا جس کی آج سارے ملک میں دھوم ہے۔اس میں کچھ حقائق کی نشاندہی کی تھی کہ ہر سال لاکھوں پڑھے لکھے نوجوانوں کو لالی پاپ کے لالچ میں نہ ملک چلتے ہیں اور نہ ہی حکومت۔  بالآخر وہ تعداد میں اتنے ہو جائیں گے کہ کسی بھی ایماندار شخص کو اپنا لیڈر مان لیں گے۔
ہمارے سیاستدان احمقوں کی جنت سمجھتے رہے پاکستان کو۔عوام چاہے کتنی ہی بے حس ہو جائے  مگر نظام قدرت کا اپنا دستور ہے۔ پڑھے لکھے بے روزگارنوجوانوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ بوڑھے طوطے شائد جوانی کے نشہ میں ابھی بھی سرشار ہیں ( دوسری تیسری شادی  سے ہٹ کر) ۔ یہ 80 اور نوے کی دہائی نہیں ہے جب  ایک کمانے والا دس افراد کے کنبے کا کفیل تھا۔ ہر کمرے میں اے سی  کے لئے بجلی اور موٹر سائیکل، کار کے لئے پٹرول کی ضرورت ہر فرد کو ہے۔ جس کے لئے رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بجلی کی چوری سے لوڈ شیڈنگ نے ملک کا جو حال کیا تھا۔ بجلی کی زیادہ قیمت اور چوری رکنے پر لوڈ شیڈنگ پر تقریبا قابو پا لیا گیا ہے۔  بحریہ ٹاؤن لاہور کے قریب ایک گاؤں کا حال میں جانتا ہوں جنہوں نے ہمیشہ ڈائریکٹ بجلی چلائی گھر وں میں کئی ای سی دن رات بدن کو گرم ہونے سے بچائے رکھتے تھے۔ پرچوں کے اندراج پر جب تھانوں کا منہ دیکھنا پڑا تو ای سی بند اور میٹر کے زریعے بجلی کی آمدورفت شروع ہو گئی وہاں۔
آج کے  کالم نگار ،مفکریں ٹاک شو کے تجزیے  قوم کو حکمران اور اپوزیشن کے سیاستدانوں کے مستقبل کی پیش گوئیوں پر کمر بستہ ہے۔ نیا لیڈر کون بننے جا رہا ہے ، پارٹی کی کمان کس کے ہاتھ میں ہو گی۔اس نظام سیاست کو ماننے والے اور سہارا دینے والوں کی تعداد دن بدن کم ہو رہی ہے۔ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیئے آنے والے وقت میں قیادت کا فیصلہ پڑھی لکھی عوام کرے گی۔ آوے ای آوے اور جاوے ای جاوے والے جاہل سپوٹر اور ووٹر ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔جو قیادت کی بجائے باپ کے بعد بیٹی اور ماں کے بعد بیٹے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ جو انہیں دنیا میں ایک آزاد شہری کی بجائے اپنی رعایا بنا کر رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جو معاشرہ لچُا سب سے اُچا کی پالیسی پر گامزن ہو۔ وہاں فیصلے زمین پر نہیں ہوتے۔ لا الہ الااللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والا ملک کسی خاندان کی غلامی کے لئے دنیاکے نقشے پر معرض وجود میں نہیں آیا۔ ووٹر جتنی وفاداری پارٹی رہنما سے رکھتا ہے اگر اُتنی  عزت واحترام ، قدرو منزلت اور قربانی و ایثار اپنے گھر ، عزیز رشتےدار اور ہمسائیوں محلہ داروں سے بھی رکھ لے تو معاشرہ بے حسی کی تصویر نہ بنا پھرے جہاں لا تعلقی اور خود غرضی کی اجارہ داری ہے۔ مفاد پرست چند ایک چوہدریوں نے اپنے محلہ گاؤں کے نوجوانوں میں مخالفت نفرت کا ایسا بیج اپنے مخالفوں کے بارے میں بویا ہے کہ نوجوان نسل اچھے برے کی تمیز بھول گئی ہے۔  چائے بوتل ایک پلیٹ بریانی پر اپنے مستقبل سے بیگانے ہو چکے ہیں۔
دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نہیں چلتا بلکہ قانون کی حکمرانی میں تمام عوام اور ارباب اختیار قانون کے تابع ہوتے ہیں۔ لیکن جہاں فیصلے سنانے والے اور ان کی معاونت کرنے والے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوتے ہوں تو کیا ہر ادارے کو اپنی ساکھ کی بحالی کے لئے بار بار کوٹ پہن کر تحریک چلانی پڑے گی۔
کیا ہم اُس مقام تک آ پہنچے ہیں کہ " اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی"

تحریر : محمودالحق


  

در دستک >>

Jul 23, 2019

خود کے آلاؤ خود کی جھونپڑی


پھولوں کی طرف بڑھنے پر کانٹے آستینوں کی طرف لپکے،زرا سنبھل  کر پلٹے تو پھول مسکرا کر ہوا کے رخ جھوم اٹھے۔ہر بار جانے سے پہلے آنے کا قصد کر تے تو  ارادہ ہوا کی لہر پر آواز بن کر مخبری کر دیتا۔  ایک مہک جاتا ، ایک اُداس لوٹ جاتا۔  گلستان میں پھر کسی نے جھانک کر آنے کی خبر دی  ۔  خوشبو تو ہوا سے لپٹ کر احساس کو معطر کر دے گی مگر  جذب کرب کی سولی پر لٹکا رہے گا۔
جب شہروں کی پابندی راس نہ آئے  تو جنگل کی طرف بھاگتے ہیں۔   جہاں ہوا، پانی اور گھاس پر سینکڑوں ہزاروں لاکھوں  ٹکر سے محفوظ رہنے کے لیے سرخ سبز اشارے کے پابند نہیں ہوتے کیونکہ اُن کے ارادے پکے ہوتے ہیں اور مقصد واضح ۔   نام ان کے کہیں فخر و غرور اور کہیں گالم گلوچ میں  تشبیہ و استعارہ   ہو جاتے ہیں، پھر بھی شکوے ان کے آسمان سے نہیں ہوتے۔
جب اکیلا آنا لکھا ہو اور جانا تنہا،تو پلٹ کر اٹھکھیلیاں کیسی۔زندگی کا سفر سمندر کی لہر نہیں جو ساحل تک چھوڑ جائے ، نہ ہی شہر کی سڑک ہے جہاں جب چاہا پلٹ لیا۔یہ تو جنگل ہے گہرائیوں کا تنہائیوں کاکھائیوں کاپھولوں کا پھلوں کا اندھیرے کا خوف کا ، جہاں دوست بھی ہیں دشمن بھی۔ جینے کے ڈھنگ نرالے  موت کے سنگ  ۔
خود  کے آلاؤ   خود کی جھونپڑی، مسافر کی دوستی  سفر تک۔منزل تو  رہتی بچھڑنے کے آغاز کا نشان  بن کر۔ جو سفر پر نہیں وہ مسافر نہیں۔ جو پڑاؤ پر رک گئے وہ سفر پر نہیں۔ جو کھو چکے اُنہیں پانے کی اُمید کیسی۔جو رُک چکے اُنہیں  ساتھ چلانے کی  ضرورت کیسی۔  جب شام ڈھل جائے تو کھڑکیاں ہی صرف کھلتی ہیں۔ دروازے دستک سے آواز پیدا نہیں کرتے جس سے آنے والوں کی اطلاع پہنچ پائے۔
زندگی ایک گھورکھ دھندہ ہے لفظوں کی بناوٹ کا، پلکوں کی جنبش کا، زبان کی حلاوٹ کا، آنکھوں کے انتظار کا،سوچ کے غبار کا، بھوک و پیاس کے اوقات کا اور سانس سے گردش خون کی روانی کا۔
کسی کے لئے بند آنکھوں  کے بعد  دنیا ختم ہوتی ہے اور کسی کے لئے کھلی آنکھوں میں۔ جہاں چاہت کا دربار ہے وہاں محبت سرکار ہے۔ جو مالک و مختار ہے چاہت اس کی طلبگار ہے  ۔بندہ ہی لاچار ہے ۔
سامان کی طرح اس سفر میں اپنے اعمال کی خود حفاظت کرنا پڑتی ہے۔خاموشی اختیار کی جاتی ہے ۔
جب زبان رک جاتی ہے تب قلب جاری  ہو جاتا ہے۔

محمودالحق

در دستک >>

Jul 6, 2019

روشن سیڑھی


انسانوں سےبھرےمعاشرےسےجب اکتاہٹ ہونےلگےیادل بھرجائےتوقدرت کےحسین نظارےبانہیں کھولےخوش آمدیدکہنےکےلئےبیتاب ہوجاتےہیں۔ لہلاتےدرخت ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں روح تک اپنی تاثیرمسیحائی پہنچاتی ہیں۔بدن کی گرمائش پتوں کی سرسراہٹ سےآلام وآرائش سےاتنی دورچلی جاتی ہےکہ واپس جانےکوجی نہیں چاہتا۔ مگررہناتوبستیوں میں ہی ہوتاہےکیونکہ آبادیوں میں جسم محفوظ ہوتےہیں اور نقصان سےمحفوظ انہیں قانون کی عملداری رکھتی ہے۔ درخت جب روشنی سےفاصلہ کرلیتےہیں توحشرات اورجانوروں کےقوانین کی عملداری شروع ہوجاتی ہے۔ جوننگےبدن پرخوراک کی تلاش میں حملہ آورہوتےہیں۔ چھوٹےپرندےچونچ میں چھوٹےکیڑےدبائےاپنےگھونسلوں کی طرف بچوں کےلئےمحوپروازہوتےہیںلیکن آبادیوں میں انسان ہوس وحرص،لالچ ومفاداورحسدونفرت کی ٹوکریاں بھرکراپنےبچوں کوعمربھرکاراشن مہیاکرنےکےلئےاحساسات وجذبات کی لاشوں کوبےدردی سےروندتےآگےبڑھتے ہیں۔ 
 انسان علم سےقداونچاکرتاہےاوردولت سےمعیار۔ رویےسےدباؤاورمقابلےسےتناؤکاماحول پیداکرتاہے۔ 
حواس خمسہ کاپانچ ہونا،بدن میں دل جگرپھیپھڑےمعدہ اورگردےکاپانچ ہونا،ہاتھ پاؤں کی انگلیاں پانچ ہونا،دوٹانگوں دوبازؤوں اورایک گردن کاپانچ ہوناایمان رکھنےوالوں کےلئےبہت اہمیت اختیارکرلیتےہیں جونمازپنجگانہ اوردین اسلام کےپانچ ارکان کواختیارکرلیتےہیں۔ 
ذہن میں خیالات اترآئےتوتخیل بن جاتاہےاگرخون اپنےراستےسےاترجائےتوزندگی راستہ بھٹک جاتی ہے۔ سجدوں میں دعائیں رہ جاتی ہیں۔ عجب تماشاہےجوچارسوپھیلاہے۔ فرعون کی ممی عجائبات جہاں بن کررہ گئی۔ فرعون سوچ بن کرجہاں میں دندناتےپھررہےہیں۔ 
قرآن نےآسمان سےزمین تک روشن سیڑھی کھڑی کردی اورانسان نےزمین پرپہیہ بناکرلڑھکناشروع کردیا۔ 

تحریر: محمودالحق




در دستک >>

May 12, 2019

ادھورے سفر


بچپن گزر جاتا ہے ، کھلونے ٹوٹ جاتے ہیں اور لوگ بڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن ماضی سے جدا نہیں ہو پاتے۔ مگربعض لوگ زندگی میں طوفان کی طرح آتے ہیں اور ایک جھونکے کی طرح گزر جاتے ہیں۔ نہ تو راہ و رسم رہتی ہے ، نہ ہی تعلق قائم رہتا ہے اور نہ اپنائیت و وابستگی۔ بس یادداشت کے کینوس پر گرد و غبار کی مانند بس اتنی سی جیسے عینک پر پڑی دھول جو آنکھوں پر کوئی اثر نہیں رکھتی۔ وہ سوچتے ہیں کہ دنیا کو بہت کچھ دینے جا رہے ہیں۔ جبکہ وہ لینے والوں کی لائن میں لگے ہوتے ہیں ۔غذائی ضرورتیں انسان کی صحت و توانائی کا لیبل سجائے رکھتی ہیں اور بھوک بدن کو زندہ رکھنے کی تڑپ میں مبتلا رکھتی ہے۔ 
ایک بات تو طے ہے راستے جدا جدا ہیں منزلیں الگ الگ۔ الفاظ ترازو نہیں ہو سکتے جن پر انسان تولے جا سکتے ہیں۔ انسانی بستیوں میں بھیڑ ہوتی ہے یا تنہائیاں ، جنگلی حیات میں ریوڑ ہوتے ہیں یا غول۔ 
عجب لوگ ہیں خالق کائنات کی تخلیق پر غور نہیں کرتے لیکن جب اس کا نام بادلوں، پھلوں میں نظر آئے تو اس کی شان و بڑائی سے تعبیر کرتے ہیں۔ کسی نے روٹی پر دکھا دیا تو ٹی وی پر چلا دیا۔ عجب زمانہ ہے دولت و طاقت سے عزت و وقار کا بھرم ہے۔ کردارواعتبار ، اخلاق و اطوار تو بس وہ اجزائےترکیبی ہیں جو ہر شے پہ لکھے ہوتے ہیں مگرپڑھتا کوئی نہیں۔ مال و اسباب ترازو پر رکھتے ہیں۔ لیکن آنسوؤں اور ہنسی کا کسی کے پاس حساب نہیں۔ ایک ہنسی میں کتنے آنسو پڑتے ہیں۔ بس یاد ہے تو صرف مسکرانا یا رونا۔ 
جو لفظوں میں معنی تلاش کرتے ہیں ان کے سفر ادھورے ہیں۔ جو احساس تلاش کرتے ہیں وہ منزل کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔ 
محبت انسان اس لئے کرتا ہے کیونکہ اس میں کوئی دوسرا اچھا لگتا ہے یا اپنا آپ اچھا لگتا ہے۔ حالانکہ چاہت احساس مانگتی ہے اوراحساس ایثار مانگتا ہے۔ ایثار قربانی مانگتا ہے تو قربانی قبولیت مانگتی ہے۔ قبولیت تعلق مانگتی ہے اور تعلق تقدس مانگتا ہے۔ تقدس وفا مانگتا ہے اور وفا عشق مانگتا ہے۔ 
عشق رضا مانگتا ہے اور رضا خدا مانگتا ہے۔ 


تحریر: محمودالحق


در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter