Dec 30, 2019

ہم کون ہیں کیوں ہیں اور کیا ہیں ؟

سوال یہ ھے کہ ھم جب تنہا ھوتے ھیں ذات کو ٹٹولتے ھیں بہت اندھیرا ھے بہت زیادہ اندھیرا کچھ بھی تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ھم کون ھیں کیوں ھیں اور کیا ھیں لیکن کبھی کبھی یہ لگتا ھے کہ ھم ھی ھم ھیں اور کوئی بھی نہیں جو ھم سا ھو یہ الجھن ھے یاسوال ؟

سوال (مسلم آفتاب)



ہر انسان دنیا میں دو آنکھوں ، دو ہاتھوں ، دو پاؤں ، حتی کہ دماغ کے دو حصوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ہمارا وجود ایک اور دو کی مناسبت سے سفر زیست طے کرتا ہے۔انسان اپنے رویے میں بھی ہاں ناں ، خیر و شر، سچ و جھوٹ، حتی کہ جنت و جہنم کےدرمیان رسہ کسی میں مصروف عمل رہتا ہے۔انسان سب سے طاقتور اور مضبوط ظاہر و باطن کی کشمکش سے بر سر پیکار رہتا ہے۔اور یہ ایک فطری عمل ہے اس میں الجھن پیدا ہونا سوچ کی نا ہمواری کی غماز ہے۔ ہر زی روح کے اندر بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کا ہونا فطری ہے۔ وہ ہمارے وجود کے لئے لازم ہیں۔اس لئے ہم اس سے لاپرواہ رہتے ہیں ۔ لیکن جب ان کا بیلنس بگڑجائے تو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔یہی حال ہماری ذات کے اندر ہونے یا نا ہونے کی فطری کشمکش میں جاری و ساری رہتاہے۔ہم اس کا حل جواز سے تلاش کرتے ہیں جو ہمیں سوال کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔میں کون ہوں ، کیا ہوں، اور کیوں ہوںجیسے سوالات ایسی پنیری ہے جسے کھاد وجود سے حاصل ہوتی ہے ۔ اور وجود صبح و شام کے معمولات سے تھکن سے چور رہتا ہے۔بچا کھچا ذہنی دباؤ سے کھچاؤ میں چلا جاتا ہے۔ تناور درخت بننے سے پہلے نو خیز پودوں کی کیاریوں سے گھاس پھونس الگ کی جا تی ہے۔ جنگلی جڑی بوٹیوں کو تلف کیا جاتا ہے تب وہ نو خیز پودا پھل دار یا خوشبو دار درخت بنتا ہے۔ انسان صرف سوچ کے بل بوتے پر تناور درخت بننے کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔ حالانکہ ابتدائی نو خیزی میں شفافیت اور اکثیر کی طاقت حاصل کرنے کے لئے باہرسے اثر انداز ہونے والے باغی خیالات کا سدباب ضروری ہوتا ہے۔ زندگی کو کتاب کی طرح پڑھیں گے تو ابواب اور صفحات کی ترتیب ایک سے دو ، دس یا سو تک چلتی ہے۔مگر احسا س ایٹم کے زروں کی طرح وجود میں تباہی پھیلاتے ہیں۔جنہیں باہمی ربط سے ہی شانت رکھا جا سکتا ہے۔جب ضرورت پیش آئے تو استعمال میں لاؤ ورنہ خوداعتمادی کی طاقت بنا کر ذات کے کسی گوشےمیں محفوظ رکھو۔ جو بوقت ضرورت بیرونی حملہ آور سے بچاؤ کی تدبیر کرے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ باتیں تو بہت ہیں مگر بعض اوقات طوالت مفہوم کی وضاحت سے زیادہ الجھنیں پیدا کر دیتی ہے۔



جواب (محمودالحق)
در دستک >>

Nov 1, 2019

جوہر افشانی عطائے رب العزت (کائنات کے سربستہ راز)

میرا عشق فطرت کا حسن ہے جو مجھے تلاش کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔نظام قدرت آکائی سے اجتماعی تک مکمل اور جامع منصوبہ بندی کی ایک ایسی شاہکار تخلیق ہے کہ جس میں زرہ برابر بھی فرق نہیں ہے۔ 4300 سال قبل ایک کچھوے کے خول پر بنے ڈاٹس کی ترتیب نے دنیا پر اپنے سحر کا جادو آج تک برقرار رکھا ہے اور اس ترتیب و تشکیل نے مجھے کیا دیکھایا ۔ خالق نے تخلیق سے مجھے کیا سمجھایا ۔ آج اسے ایسی صورت میں سامنے لا رہا ہوں جو دنیا بھر  کے ریاضی دانوں کے لئے ایک کھلا چیلنج ہے ، ایک ایسے انسان کی طرف سے جو ریاضی، الجبرا اور جیومیٹری کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔ صرف اتنا ہی جتنا اللہ تبارک تعالی نے اپنی رضا سے اسے عطا کیا ہے۔
1تا 256اعداد کا ایسا کھیل جو آکائی سےاجتماعی تک مکمل اور جامع منصوبہ بندی کا شاہکار ہے۔اسے سمجھنے کے لئے ریاضی میں ماہر ہونا ضروری نہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ نمبرز کا ایسا جادو آج سے پہلے دنیا میں کسی نے پیش نہیں کیا ہو گا۔
ریاضی کا نام سنتے ہی بعض لوگ سر کھجانے لگتے ہیں اور بدن میں بے چینی دوڑنے لگتی ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خشک ہونے کے ساتھ ساتھ بورنگ بھی ہوتا ہے۔ لیکن آج میں دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر میری اس تحریر کو عقل کے ترازو پہ تولنے کی بجائے دل سے پڑھیں گے تو کائنات کے سربستہ راز کے نام سے جس سلسلہ کا آغاز میں نے ایک خیال کے ذہن میں عود کر آنے سے کیا تھا   اس بات کو سمجھنا نہایت آسان ہو جاتا ہے کہ کیسےقانون فطرت اپنی کھوج میں جستجو کرنے والوں کے لئے راستہ بناتا چلا جاتا ہے۔
پہلی تصویر میں 16.16 خانوں پر مشتمل ایک باکس ہے۔ 16 اعداد کو جس رخ سے بھی جمع کریں ان کا حاصل ایک جیسا 2056 آتا ہے۔ انہیں 16Rows، 16 Columns اور 2Diagonals میں دیکھا جا سکتا ہے۔

انہی 256 نمبرز پر مشتمل باکس کو برابر 4 حصوں 8x8 کے خانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ 4 باکس میں 8,8 اعداد کو جس رخ پر بھی جمع کریں ان کا ٹوٹل 1028 ہی آتا ہے۔ 8,8 کے ہر باکس میں Rows  ، Columns  اور  Diagonals میں ایک ہی حاصل 1028 آتا ہے۔
اب ہم مزید تقسیم کرتے ہوئے 4 Boxes کو 16 Boxes میں ڈھال دیں گے۔ اس بات کو ذہن نشین رکھیے گا کہ نمبرز کی ترتیب کسی بھی مرحلے میں تبدیل نہیں ہوتی۔ نمبرز اپنی جگہ پر رہتے ہوئے اپنے مکمل اور جامع ہونے کا ثبوت فراہم کریں گے۔
وہی 256 نمبرز 16 حصوں میں 4x4 کے خانوں میں تقسیم کر دیئے گئے ہیں۔ان 16 باکس میں 4,4 نمبرز Rows, Columns اور Diagonals میں 514 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔
اگر تھکاوٹ محسوس ہو تو  کچھ دیر آرام کر لیں کیونکہ ہندسوں کا جادو ابھی جاری ہے۔عقل دنگ کرنے والے حقائق ابھی باقی ہیں۔
4x4 کے 16 باکس کو مزید 2x2 کے 64 باکس میں ڈھال دیا گیا ہے۔ہر باکس میں 4 نمبرز کا ٹوٹل 514 آتا ہے اور 2,2 کراس نمبرز بالترتیب 249 اور 265 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔یوں 249اور 265 نمبرز ہر باکس میں دیکھے جا سکتے ہیں جو کہ 64، 64 کی تعداد میں اس میں موجود ہیں۔
بات ابھی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ 1 تا 256 نمبرز ہر  Row میں ایک اور شکل میں بھی موجود ہیں۔ نیچے دی گئی تصویر میں نمبرز کے جمع اور تفریق سے ایک نئی شکل دیکھائی جائے گی۔
4,4 کے ہر باکس میں پہلے اور چوتھے نمبر کو جمع کرنے سے 257 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح دوسرے اور تیسرے نمبر کو جمع کریں تو وہ بھی 257 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔اس طرح 16Rows میں  اوپر بتائی گئی ترتیب کے مطابق دو نمبرز مل کر 257 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔جن کی کل تعداد 128 بنتی ہے۔
ابھی تک تو اس میں جمع کا طریقہ ہی اختیار کیا گیا ہے۔ اب میں آپ کے سامنے نمبرز کو منفی کرنے سے حاصل ٹوٹل دکھاؤں گا۔ جو ایک توازن میں نظر آئیں گے۔
4x4 کے اس باکس میں پہلی Row میں پہلے اور دوسرے نمبرز کو ایک دوسرے سے منفی کرنے پر 136 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح تیسرے اور چوتھے نمبرز کو ایک دوسرے سے منفی کرنے پر بھی 136 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے۔
اگر اسی ترتیب سے ہر دو نمبرز کو ایک دوسرے سے منفی کرتے جائیں تو ایک Row میں منفی کے عمل سے 136 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے ، تو دوسری Row میں 120 کا اور اس طرح 16 Rows میں سے 8 Rows میں منفی کا ٹوٹل 136 اور 8 Rows میں 120 آتا ہے۔
یہاں تک تو نمبرز ایک دوسرے کے قریب رہتے ہوئے ایک جیسا ٹوٹل دیتے ہیں۔اب انہی نمبرز کو گرافکس میں مختلف رنگوں کی مدد سے ایک مختلف شکل میں ایک جیسا ٹوٹل رکھتے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔
نیچے دی گئی تصویر میں 8,8 نمبرز کے 32 گروپس تشکیل دیئے گئے ہیں جو چار رنگوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ تمام 32 گروپس کے 8 نمبرز کا ٹوٹل ایک جیسا 1028 ہے۔
نیچے دی گئی تصاویرمیں رنگوں کے امتزاج سے ایک مختلف صورت دیکھی جا سکتی ہے۔ جس میں 4,4 نمبرز 514 کا ٹوٹل رکھتے ہیں ۔ 8,8 نمبرز 1028 کا ٹوٹل اور 16 نمبرز 2056 کے ٹوٹل کے ساتھ ایک خوبصورت گرافکس میں ڈھلے ہوئے نظر آتے ہیں۔


محمودالحق
در دستک >>

Sep 7, 2019

اعدادِ گل دستہ

 بعض لوگوں کی یہ رائے ہے کہ" انسانی ذہن اس پیٹرن کو تقریبا" ہر چیز میں ڈھونڈ لیتا ہے جو اس میں سما جائے –"
اور کچھ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ " حساب اور ریاضی میں یہ ممکن نہیں ہے - علم اعداد اور ریاضی میں فرق یہ ہے کہ علمی اعداد میں آپ مرضی کے نتائج اخذ کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں جبکہ ریاضی میں سر تسلیم خم کرکے اس کے پیچھے چلنا پڑتا ہے - علم ریاضی اکثر آپ کو ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے جہاں آپ خود کو بند گلی میں محسوس کرتے ہیں  اور پھر اگلی جنریشن کا کوئی ریاضی دان اس بند گلی سے نئے جہانوں کے در ڈھونڈ لیتا ہے - میتھ کو کوئین آف سائنسز کہا گیا ہے یعنی نیچرل سائنسز کی ملکہ جبکہ علم اعداد پراسرار اور سپر نیچرل سبجیکٹ ہے ۔"
میں نے کچھوے کے شیل پر بنے ڈاٹس میں ایک پیٹرن کو ڈھونڈا  اور پھر مختلف اعداد کی ترکیب و ترتیب میں انہیں ہر جگہ ڈھونڈ لیا۔  میرے لئے وہ پر اسرار تو نہیں ہے  مگر سپر نیچرل ضرور ہیں۔میں علم الاعداد کے بارے  میں بہت زیادہ تو نہیں جانتا  ۔لیکن جو حقیقت مجھ پر آشکار ہوتی رہی ، میں اسے  ساتھ ساتھ ضبط تحریر میں لاتا رہا۔اسرار و رموز اعداد کی  گزشتہ تحریر میں ایک نئی میتھ کیلکولیشن کو پیش کیا، جس میں مختلف گرافکس تشکیل پائے۔آج پھر ایک  نئی دریافت  کو ترتیب دینے جا رہا ہوں۔ یہ اعداد کی پر اسراریت سے ہٹ کر ان کے سپر نیچرل ہونے کی دلیل ہے۔ غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد اس میں پائی جانے والی حقیقتوں کی کھوج میں مصروف عمل ہے۔
ا سکا آغاز میں نے کائنات کے سربستہ راز کے نام سے تحاریر لکھ کر کیا تھا اور اس نسبت سے میری تمام تحاریر اسی ٹیگ میں ایک ساتھ موجود ہیں۔   اسرار و رموز اعداد کی ویڈیو میں   آج کے موضوع کی تفصیل کا ایک رخ بیان کر چکا ہوں۔آج اسی کے تسلسل میں ایک نیا انداز پیش کرنے جا رہا ہوں۔اس کی خاصیت یہ ہے کہ دو مثالوں میں Even  اور  Odd  نمبرز الگ الگ میجک سکوئر تشکیل دیتے ہیں اورایک مثال ایسی ہے کہ جس میں 16x16  میجک سکوئرسولہ 4x4 میجک سکوئر بناتا ہے تو 16مختلف ٹوٹل حاصل ہوتے ہیں۔ اعداد کا یہ کھیل آج تک کبھی کسی نے پیش نہیں کیا ہو گا۔ زیر نظر دو تصاویر خوبصورت رنگوں کے امتزاج سے گرافکس کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔اعداد کا جو کھیل پیش کرنے جا رہا ہوں وہ تمام بالآخر  انہی دو تصاویر میں ڈھل جائیں گی اور ان کے نتائج الگ الگ ہونے کے باوجود ایک ہی رنگ میں ڈھلے نظر آتے ہیں۔  پچھلی تحریر میں شامل کی گئی ویڈیو میں رنگین گرافکس کی تفصیل بیان کر چکا ہوں کہ نمبرز کیسے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت و مسابقت رکھتے ہیں۔ ابھی صرف تین مثالیں پیش کر رہا ہوں جبکہ  اللہ تبارک تعالی کے فضل و کرم سےمیرے پاس ایسی مختلف مثالیں دینے کے لئے سینکڑوں میتھ میجک بنانے کی اہلیت موجود ہے۔

زیر نظرپہلی تصویر میں 16x16 کا Magic Square بنتا ہے جس کے Rows, Columns اور Diagonals ایک جیسا ٹوٹل 2056 رکھتے ہیں ۔


اس میں نمبرز 1 تا 256 ایسے ترتیب پاتے ہیں کہ 4x4 کے سولہ Magic squares اس طرح تشکیل پاتے ہیں کہ 4x4 کے آٹھMagic Squares میں 516 کے ٹوٹل میں نمبرز Even کی ترتیب میں ہیں اور آٹھ 4x4 کے Magic Squares میں 512 کے ٹوٹل میں نمبرز Odd کی ترتیب میں ہیں ۔جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔



اوپر دئیے گئے خوبصورت گرافکس میں جب انہی نمبرز کو اسی ترتیب میں لکھا جائے تو وہ اسی پیٹرن میں ڈھل جاتے ہیں۔



16x16 کے اس دوسرے  Magic Square میں نمبرز کوئی خاص ترتیب میں نہیں بلکہ بعض نمبرز Repeat ہوئے ہیں۔ یہ ایسا Magic Square بنتا ہے جس کے Rows, Columns اور Diagonals ایک جیسا ٹوٹل 1462رکھتے ہیں ۔

اس میں نمبرز کی ترکیب مختلف ہے اور4x4 کے سولہ Magic squares اس طرح تشکیل پاتے ہیں کہ  یہ ایسے سولہ Magic squares بنتے ہیں جو ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہیں۔ اور چاروں اطراف میں سولہ Magic Squares کے سولہ  مختلف ٹوٹل  آتے ہیں۔ نیچے ان سب کے ٹوٹل کو اسی ترتیب میں ایک میجک سکوئر کی تصویری شکل میں دکھایا گیا ہے ۔

جب انہی نمبرز کو اسی رنگدار پیٹرن میں ڈھالا گیا تو نمبرز مختلف ہونے کے باوجود اسی رنگ میں رنگے گئے۔


تیسری تصویرمیں 16x16کے اس Magic Square میں نمبرز کی ترتیب مختلف ہے اور اس میں نمبرز Repeat نہیں ہوتے۔ یہ ایسا Magic Square بنتا ہے جس کے Rows, Columns اور Diagonals ایک جیسا ٹوٹل 2096رکھتے ہیں۔
اس میں نمبرز کی ترکیب مختلف ہے اور4x4 کے سولہ Magic squares اس طرح تشکیل پاتے ہیں کہ 4x4 کے آٹھMagic Squares میں نمبرز Even کی ترتیب میں ہیں اور آٹھ 4x4 کے Magic Squares میں نمبرز Odd کی ترتیب میں ہیں ۔جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ایسے سولہ Magic squares بنتے ہیں جو ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہیں اور تمام کا ٹوٹل ایک جیسا 524 آتا ہے۔

جب انہی نمبرز کو اسی رنگدار پیٹرن میں ڈھالا گیا تو نمبرز مختلف ہونے کے باوجود اسی رنگ میں رنگے گئے۔


در دستک >>

Aug 31, 2019

اسرار و رموز اعداد


قلم سے شناسائی میں دس برس گزر گئے  اور اعداد کی حقیقت ِ کھوج میں دس ماہ۔
4300 سال قبل کچھوے کے خول پہ بنے اعداد کی تشکیل و ترتیب نے  اپنے سحر میں ایسے جکڑا کہ اعداد ہی بولنے لگے۔آج جو دیکھنے جا رہے ہیں وہ لفظوں کی نہیں اعداد کی کہانی ہےجو اُن کی اپنی زبانی ہے۔اعداد کی ترتیب و تشکیل کا ایک منفرد، انوکھا اور دلچسپ انداز جو  دنیا میں آج تک کبھی کسی نے نہیں دیکھا ہو گااورعقل و دانش کے ترازو پر جواز تلاش کرنے والوں کے لئے کھلا چیلنج رکھتا ہے ۔  1 تا 256 اعداد کے توازن کی ایسی حقیقت جو اجتماعیت سے انفرادیت تک اپنا تواز ن  بگڑنے  نہیں دیتی۔   کوئی Mathematical equation  ایسا شاندار اور جاندار رزلٹ نہیں دے سکتی۔یقین کی جس قوت کو  بروئے کار لا  کر اسے بنایا گیاسمجھنے کے لئے بھی اسی یقین کی  ضرورت پڑے گی۔

تفصیل اس ویڈیو میں 


در دستک >>

Aug 4, 2019

قلم ٹوٹتے رہے سیاہی بدلتی رہی

لکھنے کے لئے کاغذقلم ہاتھ میں لئے دہائیاں گزر گئیں۔ قلم ٹوٹتے رہے سیاہی بدلتی رہی ، کاغذ ہاتھوں سے میلے ہوتے رہے۔ہم بڑے ہو گئے قلم کتابیں چھوٹ گئیں اور کاغذ پر چھپی ڈگریاں ہاتھ لگتی رہیں۔ہم خیال کی اونچائی سے حقیقت کی کھائی میں اترنے لگے۔ دوستوں نے تنہائی کے احساس پر ٹائم پاس کا مرہم رکھا۔جو چاہا وہ پاس نہ آیا ، جس سے  دور بھاگے وہ گلے پڑ گیا۔زندگی بعض اوقات انسان سے کھیلتی ہے۔ امتحان سے گزارتی ہے پھر نہ ہی وہ پاس ہوتا ہے اور نہ ہی فیل ، بس ورکشاپ میں ہتھوڑا  ،اوزار پکڑوانے والا چھوٹا یا ایک ہی جماعت میں جونئیر کو خوش آمدید اور اگلی جماعت میں ترقی کرنے والوں کو الوداع کہنے والا بن کر رہ جاتا ہے۔
ماضی انسان کا پیچھا کرتا ہے ،کبھی خوف بن کر، کبھی پچھتاوا کی صورت، کبھی ندامت تو کبھی سر کشی کا کوڑا بن کر جو بدکے ہوئے گھوڑے پر  چابک برسا کر غصہ کی حالت سے اسے تابعداری کی طرف مائل کرتا ہے۔
بچے اچھے برے کی بجائے قابل اور نالائق کی تقسیم سے جانے اور پہچانے جاتے تھے اور  جاتے ہیں اور جانے جاتے رہیں گے۔ ملازمت پیشہ تنخواہ  سے، کاروباری دولت سے ، طاقتور اختیا ر سے جانے جاتے ہیں اور مانے بھی۔پانچویں پاس امیر اور پڑھا لکھا کلرک لندن امریکہ میں بچوں کی  اعلی تعلیم کا خواب آنکھوں میں سجانے کی بجائے ذہن میں سما لیتا ہے۔نامکمل اور ادھورے خواب سے کچھ دیر کے لئے ماضی سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ، مستقبل روشن ہو جاتا ہے اور حال مطمئن۔
اپنی قابلیت کے بل بوتے پر دنیا میں شہرت و دولت کا مقام پانے کے بعدانسانیت کی بھلائی میں  انہوں نےان لوگوں سے زیادہ عملی طور پر حصہ لیا جنہیں اپنے بزرگوں سے صرف دولت کے مینار تعمیر کرنے کی تربیت ملی۔انہوں نے اپنے زیر اثر افراد ، معاشرے اور قوم کو بیوقوف بنا کر ایک ایسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جو دیگیں پکانے والے کسی پکوان خانے کی پک اپ وین میں ایک زندہ گدھا دیکھ کر زیر لب مسکرا کر اسے کھانے والوں کی قسمت پر ہنستے ہیں ۔  
کہیں دولت کا رونا ہے ، کہیں عزت کا، کہیں محبت کا، لیکن شرافت کا ذکر خیر سننے کو کان ترس گئے۔حرام کمائی سے محل کھڑے کرنے والے معتبر  و معزز کہلائے۔ ایک بریانی کی پلیٹ اور ایک ادھ بوٹی کے لئے کناتوں پراتوں پر ٹڈی دل کے حملہ جیسا نقشہ قوم کی غیرت و حمیت کی بجائے غربت کا مذاق بنایا جاتا ہے حالانکہ گھروں میں تین وقت کا بہترین کھانا سویٹ ڈش کے ساتھ نوش فرمانے والوں کی پلیٹ پر بڑا مینار کھانے والے کی نیت کی بجائے اس کی فنکاری پر داد وصول کرتا پایا جاتا ہے۔تعلیمی ادارے آخر کہاں جائیں ، جہاں گھر بار، تھڑے بازار سیاسی درسگاہیں نوکر شاہی کے طفیل پسند ، نا پسند اپنا اُلو سیدھا رکھنے سے غرض رکھتے ہوں۔جب معاشرہ لوٹ مار اور حرام کی دولت کو برا جاننا چھوڑ دے اورتھانہ کچہری میں وہی باعزت کہلائے جاتے ہوں۔تو معاشرہ کہاں جائے جہاں ہر فرد عزت کا بھوکا ہو۔
زخمیوں اور بیماروں کے لئے ایدھی اور چھیپا ایمبولینس کسی نعمت سے کم نہیں  ایسے معاشرہ میں جہاں جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے کے مصداق ہو۔ جو جتنا متنازعہ ہو گا وہ اتنا ہی مشہور اور قدآور ہو گا۔ ٹی وی ٹاک شوز ہوں وشل میڈیا ہو یا اخبارات، ان کی جیبیں بہت بھاری ہوں گی اور تجزیے پھیکے۔
حالات سمجھنے کے لئے کوئی گیدڑ سنگھی نہیں چاہیئے ہوتی ، تاریخ ہمیشہ اپنے اُپ کو دہراتی
23 جنوری 2010 کو میری تحریر " سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری" کسی پارٹی یا سیاستدان کی بجائے نظام کے متعلق ہمارےعمومی روئیے کی غماز تھی۔ 26 مئی 2013 کو لکھی میری تحریر" فلم کا ٹریلر 11 مئی کو چلے گا"  میں فلم کچھ عرصہ بعد چلنے کا عندیہ تھا جس کی آج سارے ملک میں دھوم ہے۔اس میں کچھ حقائق کی نشاندہی کی تھی کہ ہر سال لاکھوں پڑھے لکھے نوجوانوں کو لالی پاپ کے لالچ میں نہ ملک چلتے ہیں اور نہ ہی حکومت۔  بالآخر وہ تعداد میں اتنے ہو جائیں گے کہ کسی بھی ایماندار شخص کو اپنا لیڈر مان لیں گے۔
ہمارے سیاستدان احمقوں کی جنت سمجھتے رہے پاکستان کو۔عوام چاہے کتنی ہی بے حس ہو جائے  مگر نظام قدرت کا اپنا دستور ہے۔ پڑھے لکھے بے روزگارنوجوانوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ بوڑھے طوطے شائد جوانی کے نشہ میں ابھی بھی سرشار ہیں ( دوسری تیسری شادی  سے ہٹ کر) ۔ یہ 80 اور نوے کی دہائی نہیں ہے جب  ایک کمانے والا دس افراد کے کنبے کا کفیل تھا۔ ہر کمرے میں اے سی  کے لئے بجلی اور موٹر سائیکل، کار کے لئے پٹرول کی ضرورت ہر فرد کو ہے۔ جس کے لئے رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بجلی کی چوری سے لوڈ شیڈنگ نے ملک کا جو حال کیا تھا۔ بجلی کی زیادہ قیمت اور چوری رکنے پر لوڈ شیڈنگ پر تقریبا قابو پا لیا گیا ہے۔  بحریہ ٹاؤن لاہور کے قریب ایک گاؤں کا حال میں جانتا ہوں جنہوں نے ہمیشہ ڈائریکٹ بجلی چلائی گھر وں میں کئی ای سی دن رات بدن کو گرم ہونے سے بچائے رکھتے تھے۔ پرچوں کے اندراج پر جب تھانوں کا منہ دیکھنا پڑا تو ای سی بند اور میٹر کے زریعے بجلی کی آمدورفت شروع ہو گئی وہاں۔
آج کے  کالم نگار ،مفکریں ٹاک شو کے تجزیے  قوم کو حکمران اور اپوزیشن کے سیاستدانوں کے مستقبل کی پیش گوئیوں پر کمر بستہ ہے۔ نیا لیڈر کون بننے جا رہا ہے ، پارٹی کی کمان کس کے ہاتھ میں ہو گی۔اس نظام سیاست کو ماننے والے اور سہارا دینے والوں کی تعداد دن بدن کم ہو رہی ہے۔ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیئے آنے والے وقت میں قیادت کا فیصلہ پڑھی لکھی عوام کرے گی۔ آوے ای آوے اور جاوے ای جاوے والے جاہل سپوٹر اور ووٹر ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔جو قیادت کی بجائے باپ کے بعد بیٹی اور ماں کے بعد بیٹے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ جو انہیں دنیا میں ایک آزاد شہری کی بجائے اپنی رعایا بنا کر رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جو معاشرہ لچُا سب سے اُچا کی پالیسی پر گامزن ہو۔ وہاں فیصلے زمین پر نہیں ہوتے۔ لا الہ الااللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والا ملک کسی خاندان کی غلامی کے لئے دنیاکے نقشے پر معرض وجود میں نہیں آیا۔ ووٹر جتنی وفاداری پارٹی رہنما سے رکھتا ہے اگر اُتنی  عزت واحترام ، قدرو منزلت اور قربانی و ایثار اپنے گھر ، عزیز رشتےدار اور ہمسائیوں محلہ داروں سے بھی رکھ لے تو معاشرہ بے حسی کی تصویر نہ بنا پھرے جہاں لا تعلقی اور خود غرضی کی اجارہ داری ہے۔ مفاد پرست چند ایک چوہدریوں نے اپنے محلہ گاؤں کے نوجوانوں میں مخالفت نفرت کا ایسا بیج اپنے مخالفوں کے بارے میں بویا ہے کہ نوجوان نسل اچھے برے کی تمیز بھول گئی ہے۔  چائے بوتل ایک پلیٹ بریانی پر اپنے مستقبل سے بیگانے ہو چکے ہیں۔
دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نہیں چلتا بلکہ قانون کی حکمرانی میں تمام عوام اور ارباب اختیار قانون کے تابع ہوتے ہیں۔ لیکن جہاں فیصلے سنانے والے اور ان کی معاونت کرنے والے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوتے ہوں تو کیا ہر ادارے کو اپنی ساکھ کی بحالی کے لئے بار بار کوٹ پہن کر تحریک چلانی پڑے گی۔
کیا ہم اُس مقام تک آ پہنچے ہیں کہ " اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی"

تحریر : محمودالحق


  

در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter