Jun 24, 2010

قدر ِ تخلیق میں محبتِ خالق

بچپن میں محلے کے لڑکے مل کر کینچے کھیلتے ،کٹی پتنگوں کےپیچھے بھاگتے، تو کبھی کبوتر اُڑاتے ۔ تو  بزرگ ایسے کھیلوں سے منع کرتے اور نصیحت بھی ۔ اپنا وقت فضول کاموں میں ضائع کرنے کی بجائے پڑھائی کی طرف توجہ دینے پر زور دیتے ۔ اور جو زبان سے کچھ نہ کہتے مگر ان کا رویہ اپنائیت کا احساس دلاتا ۔ دادا نانا کہلاتے بزرگ پاس سے گزرتے ہوئے آداب یا اسلام و علیکم کہتے ۔ جواب میں وعلیکم اسلام تو کہہ دیتے مگر شرمندگی سے ۔ان کا سمجھانا یا ڈانٹنا کبھی برا نہیں لگتا تھا ۔ مگر ان کے سامنے آنے سے کتراتے ضرور تھے ۔تاکہ کسی نصیحت کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے ۔جس پر عمل کرنے کی ان میں تاب نہ تھی ۔ باتیں ان کی غلط نہیں تھیں ۔سمجھانا بھلائی کے لئے ہوتا ۔ پھر بھی ان سے دور رہتے اور عمل بھی نہ کرتے ۔مگر ان کی عزت و احترام میں کبھی فرق نہیں آتا ۔ احترام ہمیشہ دل میں رہتا ۔ نہ سمجھنا کسی خاص وجہ سے نہیں تھا ۔ بلکہ تفریح کی لطف اندوزی کچھ سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتی تھی ۔کھیل کود اور ایسی تفریح کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں تھا ۔

جنہوں نے نصیحتوں پر عمل نہیں کیا ۔ استاد زمانہ نے حالات کی رسی میں اچھی طرح کس کر وہ باتیں سمجھائیں ۔ زندگی کو وہ جو معنی پہناتے رہے ہیں ۔دراصل وہ ایسی نہیں ہے ۔
آج نئی نسل کے ہمارے بچے کینچے کھیلنے اور کبوتر پالنے کے شوق تو نہیں رکھتے ۔ مگر آج ہماری نصیحتیں اپنے بزرگوں جیسی ہی ہیں ۔مگر سمجھنے کا انداز بدل چکا ہے ۔ٹی وی گیمز کھیلنا اور ٹی وی دیکھنے کو ان فرسودہ تفریح سے بہتر جانا جاتا ہے ۔ماضی کے تجربے سے ہم کبھی خود سے ہی پریشان ہو جاتے ہیں ۔کہ کہیں دوسروں کو ہماری باتیں ناگوار نہ گزرتی ہوں ۔ کچھ ایسا ہی حال ہماری تحریروں اور آزاد شاعری کا بھی ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اکثر ان کے پاس سے ایسے گزر جاتے ہیں جیسے بچپن میں ہم بزرگوں کو سامنے سے آتا دیکھ کر راستہ بدل لیتے یا چھپ جاتے ۔ تاکہ ہماری تفریح طبع کا تسلسل نہ ٹوٹ پائے ۔ مجھے اس بات کی کوئی پریشانی نہیں کیونکہ میں نہ تو شاعر ہوں اور نہ ہی ادیب ۔ بچپن سے ہی کتابوں کے علاوہ کھیل کود میں خاص دلچسپی رہی ۔لیکن اب لکھنا ایسی مجبوری میں ڈھل چکا ہے کہ خیالات میں جو ہنگامہ برپا ہوتا ہے لکھنے سے ختم ہوتا ہے ۔
حالات نے جو ہمیں سمجھایا بچپن سے جوانی تک ایسا کبھی کسی نے نہیں بتایا ۔کئی بار یہ خیال دل میں طوفان بن کر کھڑا ہو جاتا ہے کہ لکھنا کیا ضروری ہے ۔پڑھنے والے کہیں مجھے مولانا فصیحت ہی نہ سمجھنا شروع کر دیں ۔ مولوی بننے کے چانسسز بہت کم ہیں ۔بچپن میں قرآن پاک مسجد میں قاری صاحب سے پڑھا ۔ تب عربی متن پڑھایا اور یاد کرایا گیا ۔ ترجمہ گھر میں خود سے پڑھا ۔
ضروری نہیں کہ لکھنے کا سلسلہ بھی ہمیشہ چلتا رہے ۔زندگی میں ترجیحات بدلتی رہتی ہیں ۔ اور جو کام بچپن کے کسی شوق کا نتیجہ نہ ہو کسی وقت بھی اپنے اختتام کو پہنچ سکتا ہے ۔مختلف مصنفین کی تصانیف پڑھنے کے اثرات لکھنے پر ضرور اثر انداز ہوتے ہوں گے ۔ مجھے بادی النظر میں تو کوئی ناول نگار ہونا چاہئے کیونکہ نسیم حجازی کا کوئی ناول شائد ہی کبھی چھوڑا ہو ۔
شائدانسان تخلیق سے متاثر ہو کر اس کے زیر اثر لکھنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ کائنات کی تخلیق نے مجھے اپنے سحر میں گرفتار کر لیا ۔سمجھنے کی کوشش میں خالق ابھر کر عقل تصور میں سرایت کر گیا ۔ ہر تحریر کا مرکز خالق کائنات کی تخلیق سے متاثر صورت دکھائی دیتی ہے ۔ تحریر یں اتنا گہرا اثر نہیں چھوڑتی جتنا تخلیق گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہے ۔کائنات ِ پھیلاؤ میں انسانی سوچ دھنس جاتی ہے ۔جہاں خالق کی تخلیق مخلوق کی ایجاد پر بہت بھاری ہو جاتی ہے ۔جیسے چاند پر ڈسکوری کا پہنچنا کمال نہیں ہے ۔ کمال تو یہ ہے کی ایک ننھا کمزور پودا سنگلاخ چٹانوں کو چیر کر اپنا راستہ بناتا ہے ۔نظام حیات میں نظام کائنات جیسا تسلسل نہیں ۔ہنگامہ خیزی اور تجسس سے بھرا ایک عارضی پن پایا جاتا ہے ۔ اگر تخلیق کی قدر ہو گی تو خالق سے محبت ہو ہی جاتی ہے ۔


سب سے جدا رنگ نو اللہ ہو اللہ ہو
مراتب جہان میں خداۓ تو اللہ ہو اللہ ہو
مائل ہے پردہ خیال پَر تَو اللہ ہو اللہ ہو
پکار اٹھے خاک طور ہو اللہ ہو اللہ ہو


تیری رحمتوں کا یہ اظفر اللہ اکبر اللہ اکبر
تیری حکمت سےبھرےاحمر اللہ اکبر اللہ اکبر
نورہلال سےپھیلے پیکر ازہر اللہ اکبر اللہ اکبر
عرش پہ پیوست مجسم امبر اللہ اکبر اللہ اکبر

روشن عطار / محمودالحق
در دستک >>

Jun 23, 2010

الصَلواۃ خیر من النوم کا ہے پیغام بیدار ہو جا

الصَلواۃ خیر من النوم کا ہے پیغام بیدار ہو جا
نفس کو کاٹ شکمِ فقر سے صوم کی تلوار ہو جا

کھول دے بند در اونگھ تو ذرا آنے دے
کھلی آنکھوں سے دیدار نہ ہو تو اشکبار ہو جا

میرا درد تو ہے میرے جینے کی دعا
نہ پہنچے تجھ تک منزل کے نشان انتظار ہو جا

یونہی تو نہیں اک قطرہ کو سمو کر بنایا موتی
دے اپنے قلب کو حدتِ ایمان ہیرے کی دھار ہو جا

مت پلٹ کر دیکھ جب منزل ہو قریب
ہر رغبتِ کون و مکاں سے تْو انکار ہو جا

رات کی چاندنی اور سحرِ صبا ہیں صیادِ گردش ایام
بھڑکا اپنی آتشِ ایماں کو اور اْس پار ہو جا

موسل بار / محمودالحق
در دستک >>

Jun 22, 2010

سبھی مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ رکھ نیچی نظر اپنی

کل کی بات ہے" جب آتش جوان تھا" کا مصرعہ ہماری بھی زبان پہ رہا کرتا تھا ۔ آتش کی جوانی محاورۃ استعمال کی ہے ۔ وگرنہ یہ تو آگ تھی جو حیوانی رنگ رکھتی ہے ۔اور کل سے مراد بھی چند روز پہلے کا ذکر نہیں کر رہا ہوں ۔ کیونکہ اگر پچیس تیس سال لکھ دیتا تو کہا جاتا پرانی بات ہے ۔ رات گئی بات گئی ۔اگر دن پچیس سال پرانا ہو تو بات پھر بھی رہ جائے گی ۔باتوں باتوں میں یہ بتانا تو بھول گئے کہ عنوان میں ایک مصرعہ کا کیا کام دوسرے مصرعہ کے بنا تو تحریر نا مکمل رہے گی ۔چلیں پہلے اسے مکمل کرتے ہیں ۔
سبھی مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ رکھ نیچی نظر اپنی
کوئی ان سے نہیں کہتا نہ نکلو یوں عیاں ہو کر

بات مختصر اور قصہ شروع کرتے ہیں ۔قصہ سنانے والے داستان گو تو ہیں نہیں ۔جو ایک دفعہ کا ذکر ہے سے ایک کہانی بیان کریں ۔بات تو شروع ہوئی تھی آتش سے جو بات بے بات بھڑک اٹھتا ۔جب یہ ارادہ ہی کر لیا کہ پانی سر سے بھی گزر جائے غصہ میں ڈوبے گے نہیں ۔سو غوطے کھا کھا کر تیرنا سیکھ ہی لیا ۔
ایک بار جو ٹرین کا فسٹ کلاس کا ٹکٹ ہاتھ میں اور بیٹھے سیکنڈ کلاس میں اور وہ بھی کسی کی مہربانی سے اس کی برتھ پہ تو پسینہ ماتھے سے بہنے نہیں دیا ۔ٹکٹ چیکر نے جب ہمیں غلط جگہہ بیٹھے پایا تو قبضہ ختم کرنے کا حکم صادر فرما دیا ۔ جلے بھنے تو پہلے ہی بیٹھے تھے ۔ اس سے پہلے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ۔کمپارٹمنٹ کے ہمدرد بھڑک اٹھے ۔کہ پہلے ہی جناب سیکنڈ کلاس میں چھت پر لٹکے ہیں ۔ اب یہاں سے کہاں پہنچاؤ گے ۔اس دوران ہم مونگ پھلی اور چلغوزے بے دھڑک چھیلتے رہے ۔
بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی جب روزانہ ہی ملازمت میں ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر پلے پڑ جائے اور وہ بھی ویگن کا جہاں داخلہ تو انسانوں کا ہوتا ہے ۔مگر بیٹھنا بھیڑ بکریوں جیسا ۔اتنے کم پیسوں میں تو ایسی ٹرانسپورٹ ہی نعمت ہوتی ہے ۔
خواہشیں تو ایسی ایسی تھیں کہ یار لوگ کہہ دیتے"نہ نو من تیل ہو اور نہ رادھا ناچے "اگر تیل پورا بھی ہو جاتا تو ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا والی ضرب المثل رہ جاتی ۔ مگر بچنے کی امید پھر بھی کم ہی رہتی ہے ۔انگلیوں پر نچانے والے فنکارانہ صلاحیتیں بروئے کار لے آتے ہیں ۔ایک ہماری انگلیاں ہیں جہاں شعلہ سلگتا تو انگلیاں ناچتی ہیں ۔بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی ۔ذکر تو ویگن کے سفر کا ہو رہا تھا ۔شدید سردی ، بند شیشے ہوں اور انگلیوں میں سگریٹ ناچے تو دھوئیں کے بادل ای این ٹی یعنی آنکھ ناک گلا کو دعوت تکلیف دیتے ہیں ۔آتش کو ہلکی آنچ پہ رکھا اور شعلہ بجھانے کی ترغیب دے ڈالی ۔مگر ہماری تجویز ذاتی عنادقرار دے دی گئی ۔کہ پوری وین میں اکیلے ہم ہی ای این ٹی کی تکلیف میں مبتلا ہونے کی شکائت کر رہے ہیں ۔دوسرے مسافر" سفر خاموشی سے کریں "کے کلیہ پر عمل پیرا تھے ۔صبر کا دامن ہم نے ہاتھ سے پھر بھی نہ جانے دیا ۔اس سے پہلے کہ کہیں آتش بھڑک اٹھے ۔ ماچس جلا کر اپنا سگریٹ سلگا لیا اور اپنے روزانہ کے ہمسفر دوست کو بھی اس نیکی کے کام میں شریک کر لیا ۔دھوئیں کی مقدار بڑھنے سے بند وین کے تمام مسافر ای این ٹی کی تکلیف میں مبتلا ہو گئے ۔اور لگے کوسنے ۔اگر پہلے ہی ساتھ میں بول اٹھتے کہ " یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے " تو کھانسنے سے پہلے ہی معاملہ دب جاتا ۔لیکن پھر بھی" دیر آید درست آید"۔ اگلا سفر جناب ای این ٹی مریضوں کے زیر عتاب رہے ۔اور ہم ضمیر جگا کر یا غصہ دلا کر تیزی سے پاس گزرتے درختوں کے نظارہ کے مزے لوٹتے رہے ۔
مزے تو ہم پتنگیں لوٹنے میں بھی لیتے رہے ہیں ۔لیکن یہ تب کی بات ہے جب آتش نادان تھا ۔کٹی پتنگ اور خالی ویگن کے پیچھے بھاگنا کبھی بھی اچھا تجربہ نہیں رہا ۔تجربے تو اور بھی بہت سے ہیں ۔ ایک شعبہ سے آج کے لئے ایک ہی کافی ہے ۔
ہر سفر کا اپنا مزاج ہوتا ہے ۔سفر کاٹنے کا اپنا انداز ہوتا ہے ۔جیسا کہ ہوائی جہاز کے سفر میں کھڑکی سے باہر جھانکنے سے سفر نہیں کٹتا ۔ اس لئے تو ایک نشست ایک سکرین اور ایک ہیڈ فون سے منسلک سفر کی صعوبت گھٹاتی ہے ۔اب اگر ہیڈ فون کی ایک پن ٹوٹ کر ایسی پھنسے کہ نئے ہیڈ فون کے داخلہ کا راستہ روک لے ۔ تو ائیر لائن کے بارے میں بتانے کی ضرورت ہے کیا ۔ جی ہاں وہی تو اپنی پی آئی اے کا ہم سفر ہونے کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے ۔جانے ائیر ہوسٹس کون کون سےکچن کے اوزاروں سے پن نکالنے کی ناکام کوشش کر چکی تھی ۔ سارا جہاز ای این ٹی کے مزے لے رہا تھا یعنی کھاناپینا ائیر کنڈیشنر کی ٹھنڈی ہوائیں اور کانوں میں رس گھولتے گانے ۔یہاں ای سے مراد آنکھ نہیں کان لیا جائے ۔ اس بار بھی ایک نیا تجربہ کیا ۔ کیونکہ ویگنوں کے سفر میں گھٹنے درد کی شکایت سے روشناس ہوئے ۔ اب درد کے روگی تھے ۔ اکانومی کلاس پرانے زخم تازہ کرنے کا سبب ہوئی تو پی کلاس میں جا گھسے ۔بزنس کلاس نے ہمیں پہلے کبھی قریب نہ بھٹکنے دیا ۔ اب ہم خود قریب جانے سے کتراتے ہیں ۔یہ وقوعہ پی کلاس کا ہے جو اکانومی کلاس سے صرف اتنی بہتر رہی کہ کھانے سے پہلےگیلا گرم تولیہ استعمال کرنے کو دیا جاتا ہے ۔
"پلٹ تیرا دھیان کدھر" اگر آپ نہ بھی کہتے تو میں واپس وہیں آنے والا تھا ۔ جب پن نکالنے کی ہر کوشش ناکام ہو گئی تو پونے دن کے سفر میں مزید کوفت سے بچنے کے لئے سیٹ کی تبدیلی کا عندیہ دیا گیا ۔ارد گرد نظر دوڑائی تو اگے والی چار سیٹوں پر ایک خاتون پاؤں پھیلائے خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھیں ۔اور ہم سکرین پر نمودار ہونے والی تصویروں کی آواز سننے سے لاچار ۔بائیں جانب انہی خاتون کے شوہر نامدار ایک نشست پر خود اور ساتھ والی دو پر غیر ضروری سامان رکھ کر قبضہ ظاہر کر رہے تھے۔ جیسے بسوں میں اکثر سفر کرنے والے دیہاتی کھڑکی سے اپنا پرنا یعنی سافہ خالی نشست پر باہر سے ہی پھینک کر دھکم پیل سے بس کے اندر بعد میں داخل ہوتے اور قبضہ پہلے حاصل کر لیتے ۔وہاں لڑ جھگڑ کر قبضہ ختم ہوتے تو کئی بار دیکھ چکے تھے ۔ مگر یہاں واسطہ ایک پڑھے لکھے ریٹائرڈ افسر کے ساتھ پڑا جو سفید بالوں کے نیچے ٹائی کوٹ میں ملبوس اپنے دفتر میں ناک کے نچلے حصے سے فائلوں پر نظریں جمائے دستخط کرنے کا منظر پیش کر رہا تھا ۔
اب یہ کسی سرکاری افسر کا دفتر تو تھا نہیں ۔ سرکاری ائیر لائن ضرور تھی ۔ تو ہم بھی ایک عدد عینک کے ساتھ تیسری نشست پر جا براجمان ہوئے ۔ مگر ہیڈ فون کانوں میں لگانے سے پہلے ہی بھاری رعب دار آواز نے چونکا دیا ۔ کہ جناب آپ یہاں کیسے تشریف لائے ۔ اپنی نشست پر تشریف رکھیں ۔ دیکھتے نہیں ہم یہاں بیٹھے ہیں ۔
بڑی مشکل سے آتش کو سنبھالا دیا اور عرض پردازی میں آنے کی غرض بیان کی ۔مگر جناب نے ہمیں کھری کھری سنا کر اپنا قبضہ بحال کرا ہی لیا ۔اگر وہیں غصہ کا اظہار کرتے تو دیکھنے والے کہتے کہ بزرگ سے بات کرنے کا سلیقہ نہیں ان پڑھ اجڈ کہیں کا ۔ ہونٹوں کو دانتوں کے نیچے دبائے " بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے " گاتے ہوئے وہیں آ بیٹھے ۔پھر اس کے بعد آتش جو بڑھکا تو دیکھنے والوں نے ضرور کہا ہو گا ۔ کہ " گرا گدھے سے غصہ کمہار پر " والی بات ہے یہ تو ۔
پی آئی اے کے عملہ کو لائن حاضر کیا کہ جناب پہلی مرتبہ اکانومی سے پی کلاس سفر کا آغاز کر رہے ہیں جہاں ہم " ڈی گریڈ " ہو رہے ہیں ۔ہمیں تو اپنی نشست پر ہی ہیڈ فون لگانا ہے ۔ تو ایک کے بعد ایک اپنی تمام توانائیاں ضائع کر کے بھی ہماری ایک ادنی خواہش پوری نہ کر سکے ۔پوری ہوتی بھی کیسے ۔ دوسروں سے خوش اخلاقی سے پیش آنے والے اور خدمت سر انجام دینے والے نازک ہاتھ تو ملازمت کے حصول میں مشکل سے کامیاب ہوئے تھے ۔ اب مستری تو تھے نہیں کہ ٹھوک ٹھاک کر پن نکال دیتے ۔حالانکہ اتنا تردد کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ ایک نہتی پن کے پیچھے سارا عملہ ہاتھ دھو کر پڑ گیا ۔ایک بزرگ ریٹائرڈ افسر کو ہی آنکھیں دکھا دیتے تو بات بن جاتی ۔
ہم نے بھی سیدھی انگلی سے گھی نکلتا نہ دیکھ کر اپنے تیور ٹیڑھے کر لئے ۔کہ پی آئی اے کے اعلی افسران تک اپنا مدعا پہنچائیں گے ۔ انصاف کے حصول تک پی آئی اے میں سفر کے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دے ڈالی ۔جو کارگر ثابت ہوئی ۔اور ہمیں اپنی پسند کی نشست حاصل کرنے کا حق مل ہو گیا ۔ تو پھر کیا۔ ہاتھ آیا موقع کھو دیتے ۔ جہاں بزرگ کی بیگم لیٹ کر سہانے سپنے دیکھ رہی تھیں ۔ درمیان والی نشست پر انگلی رکھ دی ۔چار و نا چار بیگم خاوند کے پہلو میں بٹھا دی گئیں اور ہم چاروں نشستوں پر براجمان ہوئے ۔اس کے بعد میرے آتش کو ٹھنڈی پیپسی سے مسلسل ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ۔
اگر بات یہیں پر ختم ہوتی تو ہیپی اینڈ ہوتا ۔مگر کہانی چند گھنٹوں کے بعدنئے رنگ میں ڈھل گئی ۔ وہی خاتون اٹھ کر میرے پاس آئیں اور اپنی کمر درد کا واسطہ دے کر اپنے خاوند کے ناروا رویے پر ندامت کا اظہار کیا تاکہ میں ان کی آرام دہ بستر نما نشستوں سے دستبردار ہو جاؤں ۔
ہم نے تعلیم سے دولت نہیں کمائی صرف شعور پایا ہے ۔ اگر دولت کما لیتے تو ریٹائرڈ افسر کی طرح شعور سے ہاتھ دھو بیٹھتے ۔ آخر کار ہم ان کی تکلیف کا اندازہ کرتے ہوئے اپنے حق سے دستبردار ہو گئے ۔ اور اسی جگہہ جا بیٹھے جہاں سے کبھی اٹھائے گئے تھے ۔لیکن فرق صرف اتنا تھا کہ ساتھ بیٹھنے والا پہلے سانپ کی طرح پھنکار رہا تھا ۔ اب بھیگی بلی بنا بیٹھا تھا ۔تعلقات میں کشیدگی کم ہونے پر دوران گفتگو معلوم ہوا ۔کہ وہ اپنے ڈاکٹر بیٹے سے ملنے ودیش یاترا جا رہے تھے ۔جو کسی بڑے ہسپتال میں بڑا ڈاکٹر تھا ۔
اس سفر کا تجربہ بہت اچھا رہا ۔ اس لئے نہیں کہ دوران سفر کیا ہوا ۔ بلکہ جو وی آی پی پروٹوکول عملہ کی طرف سے حاصل ہوا ۔اتنی پزیرائی تو کبھی دیکھنے کو نہیں ملی ۔
کہانی کو یہیں ختم نہ سمجھیں یہ زندگی ہے جو چلتی رہتی ہے ۔دن اور رات کے درمیان میں اپنا سفر طے کرتی ہے ۔ یہاں بے شمار واقعات ایسے پیش آتے ہیں کہ انسان یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔
سبھی مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ رکھ نیچی نظر اپنی
کوئی ان سے نہیں کہتا نہ نکلو یوں عیاں ہو کر
در دستک >>

Jun 20, 2010

حیات مغرب میں رکھا کیسا یہ جنوں مفہوم ہے

حیات مغرب میں رکھا کیسا یہ جنوں مفہوم ہے
مشرق اپنے ہی گھر لٹکی تصویر مغموم ہے

تعبیر تعمیر میں تھا سرگرداں ایمان مسلمان تب بھی
بیتابی تب نہ تھی ہیجان خیز داستان فارس و روم ہے

امید گھر جلاتے اپنے ہی آتش شوق زماں میں
ہاتھوں میں رکھتے انگار خود تو مجسم موم ہے


باد اُمنگ  /  محمودالحق
در دستک >>

گر ہوتا کچھ یہاں بھی ایسا

سڑکوں پر دوڑتی گاڑیاں دھوئیں کے بغیر ، تیز چلتی ہوائیں دھول کی آمیزش کے بغیر ، عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر کسی آواز کے بغیر ، جگہہ جگہہ کھڑے لوگ نہیں کسی قطار کے بغیر حیران کئے جاتے ہیں ۔ آگے بڑھنے کی تگ و دو میں دھکم پیل کے بغیر انسان کم مشین زیادہ دیکھائی دیتے ہیں ۔ جلد بازی کہیں چھوڑ چکے ہیں ۔ وقت کا استعمال سورج کے طلوع و غروب کی بجائے گھڑی کی سوئیوں سے کرتے ہیں ۔ وقت کی قدر اس لئے نہیں کرتے کہ ٹائم از منی ہے بلکہ اپنی حدود کا تعین رکھتے ہیں ۔ اور دوسروں کے حق کا ۔ وقت پر پہنچنے کی عادت وقت سے پہلےنکلنے پر مجبور رکھتی ہے ۔ پہلے آئیے پہلے پائیے اور پہلے نکلیں پہلے جائیں کے فارمولہ پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ انسانی سوچ کی رفتار جتنی تیز ہے کام کی رفتار اس سے بھی زیادہ۔

تنخواہ کا تعلق کام سے ہے ۔ بغیر کام کے گزارا بھی مشکل کر دیتا ہے ۔آنکھیں جو دیکھتی ہیں سوچتی وہ نہیں ۔ مہنگی گاڑی عمارت کی نشانی نہیں ہو سکتی ۔ وقت پر واجبات لوٹانے کی قیمت میں اُدھار کی نعمت سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔سیلوں کے مواقع ہاتھ دھو کر پیچھے پڑنے سے بچی کچھی جمع پونجی بھی ہاتھ سے نکل جاتی ہے ۔ اچھے کریڈٹ کا ہونا گھر میں بیری کے درخت کی مانند پتھروں کو آنے سے نہیں روک سکتا ۔ترغیبات فائدہ کی کم، خرچ کہاں کریں، کے مشورے زیادہ ہوتے ہیں ۔ راڈو گھڑی ہو یا بی ایم ڈبلیو گاڑی اپنے ہاتھ میں ہی ہوتی ہے ۔ دوسروں کی نظر میں کم ۔
دل میں چاہے کتنی ہی کدورتیں کیوں نہ ہوں ہونٹ دانتوں کو دیکھائے بنا ہی مسکرا دیتے ہیں ۔اپنا گھر شاہی دستر خوان ہو یا درویشی پکوان ذائقہ خود ہی چکھا جاتا ہے ۔ چولہے کی تو ہوا بھی باہر پھیکی نکلتی ہے ۔ذائقہ بنانے کے لئے خوشبو جلا جلا کر باہر نہیں نکلنے دی جاتی ۔کہ گھر کی بات گھر میں ہی رہے ۔ دوسروں تک پہنچنے سے باتیں گھر گھر پہنچیں گی۔ گرمیوں میں کھڑکیاں کھلی رکھیں یا بند ۔ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ تاک جھانک کا خطرہ بالکل نہیں ۔ جھانکنے والا تو صرف چور ہی کہلا سکتا ہے ۔جو بند گھروں میں کھلی کھڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں ۔جو صرف شیشے کے آر پار سے روشنی کی طلبگار ہوتی ہیں ۔سریوں کی شکل میں باڈی گارڈ سے محروم رہتی ہیں ۔
گلی بازاروں سے گزرتے ہوئے لڑکیاں کھلی چلتی ہیں اور لڑکے ہاتھ بندھے ہوئے ۔ جہاں ہاتھ کھلے نہیں تو بندھے نہیں ۔آنکھیں اپنے راستے پر مرکوز رہیں تو ٹھیک ادھر اُدھر ٹکانے سے عقل بھی جلد ٹھکانے آ جاتی ہے ۔دن کا اُجالا ہو یا رات کا اندھیرا سفر غیر محفوظ نہیں ہوتا ۔محافظ کوؤں کی طرح شور مچاتے مدد کو پہنچ جاتے ہیں ۔کمیٹیاں ڈال کر بچے پڑھائے یا ڈولیاں اُٹھائی نہیں جاتی ۔دولت کی ریل پیل سے سونے کا چمچ تو منہ میں رکھا جا سکتا ہے مگر قابلیت اور ہونہاری کے مقام ارجمند پر فائز نہیں ۔ کاروبار کی وراثت تو ہے مگر وراثت میں سیاست نہیں ۔باپ کی فیکٹری میں بیٹا ملازم کے ساتھ ہو سکتا ہے مگر باپ کی کرسی پہ نہیں ۔
جانور پالنے کا شوق پورا کرنے کا پورا حق ہے ۔ مگر اسے سیر کرانے کی سزا بھی خود ہی پوری کرنی ہوتی ہے ۔ ایک ہاتھ میں کتا تو تو دوسرے ہاتھ میں ایک اخبار کا ٹکڑا اور پلاسٹک بیگ ۔صفائی نہ کرنے کی پاداش میں بھاری جرمانہ جیب پر بھاری ہو جاتا ہے ۔
پیدل چلنا صحت کے لئے اچھا خیال تو ہوتا ہے ۔ وہ بھی صرف مشینوں پر چاہے دوڑتے جائیں یا چلتے پھریں ۔سڑک پر چلنا ٹریفک کے لئے مشکل کا باعث بھی ہو جاتا ہے ۔ جب انسان تو انسان بڑی بطخ اپنے بچوں کوایک لائن میں اچھی گھاس کی تلاش میں سڑک پار کرا رہی ہو ۔ تو پہلا حق اس کا جو جتنا سست ہو ۔تیز چلنے والی پھر اپنی رفتار حاصل کر لے گی مگر پیدل وقت سے پیچھے رہ جائے گا ۔وقت کی قدر رفتار سے ہے کار سے نہیں ۔بے کار زیادہ تر گھروں کے اندر رہتے ہیں ۔ باہر نکلنے سے انہیں رفتار بڑھانی پڑے گی جو سست روی میں بڑی رکاوٹ ہوتی ہے ۔
ایمر جنسی نمبرز گھمانے کا انداز بیشتر جگہوں پر ایک جیسا ہی ہوتا ہے ۔ بھاگ دوڑ بھی ایک جیسی دیکھنے کو مل ہی جاتی ہے ۔مگر کہیں قانون کی عملداری ہے تو کہیں حاکم کی حکمداری ۔ تماشا دیکھنے والے اپنی راہ لیتے ہیں ۔ کیونکہ تماشا لگانے والے شام کے بعد تماشبین نہیں ہوتے ۔
شناختی کارڈ پر شناختی علامت کا خانہ گاڑی چلانے کی دلالت نہیں ہوتا ۔ پانچ سو کا جرمانہ سو میں نہیں ٹل سکتا ۔ جج کا نوجوان وکیل بیٹا کیس جیتنے میں دوسروں کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا ۔ معیار قابلیت ہے رشتہ کی اہلیت نہیں ۔ تھانیدار محلے کا پنچائتی نہیں ہوتا ۔ اعلی افسران کی طاقت بیرون دنیا میں بھی برابر نہیں ہوتی ۔ بلکہ گھر کی مرغی دال برابر تک ہے ۔
ووٹ قوم کی امانت سمجھا جاتا ہے ۔خاندانوں کی جاگیر نہیں ۔ جہاں نہ تو جانشنین ہیں اور نہ ہی گدی نشین ۔
در دستک >>

Jun 19, 2010

عشق نہیں محتاج کسی عہد و پیماں

عشق نہیں محتاج کسی عہد و پیماں
مشک کے پھیلنے کو نہیں پابندیء گلستاں

جب آفتاب و مہتاب ہی نہیں کرتے تفریق ِزیاں
نہیں ہے کوئی خدا اور بندے کے درمیاں

کبھی تو ہے باغباں اور کبھی بیاباں
آدمی کو میسر نہیں کہ وہ ہے کیا انساں

تیر تو چلتے ہیں اپنی ہی کماں
بے جا اسراف لے لیتے ہیں جاں

تکلف برطرف جنبشِ نیناں
نہیں یہ طوطا کی مینا جانِ جاناں

خونِ آنسو اور خوابِ حقیقت کا بیاں
کیسے بدل جاتا ہے کمیں کا عزتِ جہاں

اسی کے ہیں یہ سب ارض و سماں
وہی ہے یہاں اور وہی ہے وہاں

تڑپ دکھا چاہت کو پانے کی جاوداں
اتر آئے گا تیرے لیے فرشِ آسماں

نہیں ہے یہ کسی لیلی مجنوں کی داستاں
یہ تو ہے سچے عاشق کی تعظیمِ محبوبِ بیاں

پانے اور لوٹ جانے کا ہے تجھے گماں
یہ کچھ بھی نہیں بہت آگے ہیں وہ جہاں

الف اقرا ہی سے میرا علم وجود مہرباں
تیری رضا ہی سے رنگیں صحرا و ریگستاں


موسل بار / محمودالحق
در دستک >>

تفکرِ ایمان تنہائی شب میں بیتاب ہوا

تفکرِ ایمان تنہائی شب میں بیتاب ہوا
ہزاروں سال جل جل کر تو آفتاب ہوا

کہیں آگ کے دریا کہیں روشنی کے مینار
آنکھ مچولی کھیل کھیل کر ہی تو مہتاب ہوا

وارفتگی نم سے ہی ایک دانہ کو بہار آئی
حدتِ قطرہ سے ابر اور قطرہ ہی دمِ آب ہوا



در دستک / موسل بار
در دستک >>

Jun 9, 2010

زندگی ایک افسانہ



زندگی ایک افسانہ حقیقت کھوج میں نہ جا
شاید پلٹ نہ سکے تو موج میں نہ جا
آخری تیر کو کمان میں نہ رکھ
گر چوک جائے تو مخروج میں نہ جا

گرتا جہاں سے بھی ہو بعث ملال ہے
جھکے پھل میں رہ شاخ عروج میں نہ جا

اشراف انسانیت کی تغیر فطرت میں رہ
خندہ جبینوں میں رہ فوج مفلوج میں نہ جا






روشن عطار / محمودالحق
در دستک >>

بے خوابی کیفیت


زندگی میں بہت سی باتیں سمجھ آنے کے باوجود سمجھ سے بالا تر ہوتی ہیں ۔ارد گرد کے ماحول اور حالات ہمیں مستقبل  کی پیش بندی کی تحریک پیدا کرتے ہیں ۔ ایسا مستقبل جو سنہرے خواب کی مانند ہوتا ہے ۔ مگر تعبیر ضروری نہیں کہ سنہری ہو ۔ہر دن کا آغاز  ایسی ہی سوچوں کی بنیاد سے ہوتا ہے ۔جو سورج ڈھلنے کے ساتھ  اپنے منطقی انجام تک پہنچ جاتا ہے ۔اور ہررات کا آغاز ویسا ہی پر سکون ہوتا ہے ۔ جیسا نیند کی آغوش میں جانے سے پہلے بستر پر دن بھر کا کسا بدن ڈھیلا ہوتے ہی سوچوں کے سمندر  سے غوطے کھانے کے بعد تکیے کے سہارے پر ختم ہوتا ہے ۔
در دستک >>

Jun 5, 2010

ضیافت سے سیاست تک

ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر دعائیں دینے والے اب جھولی پھیلا کر کہیں بد دعائیں ہی نہ دینا شروع کر دیں ۔کراچی کے مکین تو دعائیں صرف دل سے مانگ رہے ہیں ۔ اللہ کرے ان کے سروں سے یہ بلا ٹل جائے ۔ تاکہ جن ہاتھوں سے دعائیں مانگنی تھی وہ زندگی کے جینے کےاسباب اکٹھے کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔ ملک کا قومی بجٹ بھی پیش کر دیا گیا جس کے لئے وزارت خزانہ کئی مہینوں سے سر گرم عمل تھی ۔ مگر اہم مسئلہ بجٹ پیش کرنے والے سے متعلق زیادہ اہم تھا ۔ جسے چند گھنٹے پہلے ہی اس کام کے لئے چنا گیا ۔ چلیں یہ تو کوئی بڑی بات نہیں تھی ۔ اگر ایک سال پہلے چنا جاتا تب بھی یہی کام کرنا تھا ۔یعنی پہلے سے لکھا عینک لگا کر پڑھنا ۔ ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس فیصد اضافہ تک تو بجٹ سمجھ میں آگیا ۔ اب تو اکنامکس والے ہی اسے قوم کے لئے اچھا یا برا کا سرٹیفیکٹ جاری کر سکتے ہیں ۔جب سے ہوش سنبھالی ہے بجٹ در بجٹ پیش در پیش آ چکے ہیں ۔ بجٹ کا معاملہ بھی اچانک لگنے والی چوٹ کی مثل ہے ۔
در دستک >>

Jun 4, 2010

پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ

درختوں کا زیادہ سے زیادہ لگانا انسانی زندگی کے لئے مفید سمجھا جاتا ہے ۔کیونکہ آکسیجن پیدا کرنے کا سب سے بڑا قدرتی ذریعہ درخت ہی ہیں ۔زندہ رہنے کے لئے صاف آب و ہوا کا ہونا ضروری ہے ۔ سائنس بہت پہلے ہی بتا چکی ہے ۔مگر اب حکومت پنجاب کی طرف سے محکمہ جنگلات نے بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔

ہمارےملک میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد نو جوان نسل کے لئے اہم مسئلہ زندہ رہنے کے لئے برسرروزگار ہونا ہے ۔آفت زدہ انتظام حکومت سے لے کر آلودہ آب وہوا تک انسان معاشی و معاشرتی ناہمواریوں کا شکار رہتا ہے ۔آفت زدگی ٹھیک کرنے کی طرف ابھی تک توجہ نہیں ہے ۔ البتہ آلودگی کے خاتمہ کے لئے ایک اچھا پروگرام تشکیل دیا گیا ہے ۔
در دستک >>

Jun 2, 2010

کھونے کا خوف یا پانے کی لذت

تحریر : محمودالحق

جب تک خواہشیں جنون نہ بن جائیں زندگی ادھورے پن کا شکار رہتی ہے ۔ارادے تبھی قابل عمل ہوتے ہیں جب شکار کے لئے حالات ساز گار ہوتے ہیں ۔نظر کا نشانہ شکار پہ ہو اور عمل کا تیر عقل دانش کی کمان سے نکلے تو پگڈنڈیوں کی چھپن چھپائی سے منزل گھائل ہونے سے نہیں بچ پاتیں ۔محبتِ مقصد سوچ کے ترازو کی بجائے قلب کے وزنِ باٹ پہ ہو تو انتظار میں ایک عمر بھی شائد بیت جائے مگر حصول کی ضمانت ہمیشہ رہتی ہے ۔
دولت کی خواہش میں محبت کی قربانی دینے سے آسائشیں آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہیں ۔ مگر پھر محبت کی صرف خواہش باقی رہ جاتی ہے ۔ جسے سہولت و آسائش سے بدلا جاتا ہے ۔لیکن وہ نعم البدل نہیں ہوتا ۔احساس ندامت پشیمان رکھتا ہے تا وقتکہ اس کا مداوا نہ کیا جائے ۔تخیل ارمان سے جو حاصل کیا جائے وہ مداوا کا محتاج ہوتا ہے مگر جو احساس کے جزبہ سے بےوفائی کا مرتکب ہو وہ لا علاج مرض کی طرح ناقابل علاج رہتا ہے ۔ایسی صورت میں مداوا کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے ۔
در دستک >>

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک