Jan 6, 2025

2025 _نمبرز کی جادونگری

پیشتر اس کے کہ 2025 کے متعلق کچھ لکھا جائے ہم 1 تا  9 نمبرز کی حقیقت سمجھنے کی کوشش کریں گے جو کہ چین کے ایک دریا سے باہر نکلنے والے ایک کچھوے کے خول پر ڈاٹس کی صورت میں پائے گئے۔ ٹرٹل میجک سکوائر، جسے لو شو سکوائر بھی کہا جاتا ہے، ایک قدیم چینی جادوئی مربع ہے جو ہان خاندان (206 قبل مسیح - 220 عیسوی) سے 3,000 سال پرانا ہے۔ اسے کچھوے سے منسوب کیا جاتا ہے، جو چینی ثقافت میں اپنی لمبی عمر اور حکمت کی وجہ سے قابل احترام تھا۔ لیجنڈ کے مطابق، ٹرٹل میجک اسکوائر خدا نے انسانوں کو کائنات کی ہم آہنگی اور توازن کو سمجھنے میں مدد کے لیے بنایا تھا۔ مربع 3x3 گرڈ میں ترتیب دیئے گئے نمبر 1تا9 پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں ہر قطار، کالم، اور اخترن 15 تک کا خلاصہ ہوتا ہے، جو اسے ایک منفرد اور دلچسپ ریاضیاتی پہیلی بناتا ہے۔

آیت الکرسی میں الفاظ کا جو بہت خوبصورت توازن اور تناسب ہے ، اس کا پس پردہ تعلق اللہ تعالی کی طرف سے دنیا میں دکھائی جانے والی اسی ایک نشانی سے ہے جسے نعمان علی خان نے آیت میں ربط کلام کوخوبصورت انداز میں پیش کیا ہے 

 سورۂ المدثر کی آیت 3 ربک فکبر (اپنے رب کی بڑائی بیان کرو) کا توازن اور تناسب بھی عین کچھوے پر بنے اعداد کے میجک سکوئر سے مطابقت رکھتا ہے۔

2025 نمبرز کے جادو کاایسا رنگ دکھاتا ہے جو نہ اس سے پہلے دیکھا گیا اور نہ ہی شائد ہزاروں صدیوں میں دیکھا جا سکے گا۔ اس کا ٹوٹل 9 بنتا ہے۔
9=5+2+0+2
اگر 1 تا 9 نمبرز کو جمع کیا جائے تو ان کا ٹوٹل 45 بنتا ہے۔
9+8+7+6+5+4+3+2+1= 45
حاصل شدہ نمبر 45 کو جمع کریں تو 9 آتا ہے۔
اب اس حاصل کردہ 45 نمبر سے 2025 کو تقسیم کرتے ہیں تو ایک بار پھر سے حاصل 45 آتا ہے جو کہ 9 ہی بنتا ہے۔
45=45/2025
2025 = 45x45
یہ نمبر 2025 دراصل 45 کا سکوئر روٹ ہے جو کہ 1 تا 9 کی بنیادی اکائیوں کا ٹوٹل ہے اور خود بھی 9 بنتا ہے۔
2025 کو درج ذیل صرف 15 ہندسوں سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
1,3,5,9,15,25,27,45,75,81,135,225,405,675,2025
یہ تمام نمبرز طاق ہیں جن سے یہ تقسیم ہو سکتا ہے۔
آسٹرالوجسٹ 9 نمبر کے متعلق کیا روشنی ڈالتے ہے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
نمبر 9 انسان دوستی، انسانیت کی خدمت، الہی حکمت، روحانی روشن خیالی، عالمگیر محبت، سخاوت، اور ایک مثبت مثال قائم کرنے کی علامت ہے۔ یہ تعداد انتہائی روحانی ہے اور عالمگیر روحانی قوانین اور کرما کے روحانی قانون کا نمبر ہے۔
شماریات میں، نمبر 9 کا تعلق اکثر انسان دوستی، ہمدردی اور بے لوثی سے ہوتا ہے۔ یہ مثالیت پسندی اور دوسروں کی خدمت کرنے کی خواہش جیسی خصوصیات کو مجسم کرتا ہے۔ نمبر 9 سے متاثر ہونے والوں کو عام طور پر ہمدرد، فنکارانہ اور روادار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو اکثر انسانی تجربے کی گہری سمجھ سے متاثر ہوتے ہیں۔ مزید برآں، نمبر 9 اختتام اور نتائج کی علامت ہے، زندگی کے تجربات سے حاصل ہونے والی حکمت کی نمائندگی کرتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ ذاتی اور روحانی ترقی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، افراد کو اپنے آپ سے آگے دیکھنے اور دنیا میں مثبت کردار ادا کرنے کی تاکید کرتا ہے۔
میرا یہ ماننا ہے کہ چونکہ 9 نمبر کا روحانیت سے بہت گہرا تعلق ہے۔ تو یقینی طور پر یہ پورا سال روح کو کائنات کی انرجی سے قوت حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اپنی ذات کو کھوج اور ٹٹول کر دنیاوی مصروفیات سے روزانہ ایک گھنٹہ نکال کر اپنے وجود کو کائنات میں پھیلی انرجی سے جوڑنے کے لئے وقت نکالنا چاہئیے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اللہ کی رحمتیں ہمیں اپنی آغوش میں لینے کے لئے بانہیں کھولے انتظار کر رہی ہے تاکہ ہم اپنے نفس کی صفائی سے شفافیت پا سکیں اور خالق دو جہاں کی بندگی میں عاجز و طالب رہ کر اپنی زندگیوں کو بدل سکیں۔ ظاہری نمود و نمائش کی جس دلدل میں دنیا دھنس رہی ہے آئیں اپنی روح کو ان سے پاک کر کے قلبی اطمینان اور سکون کے لافانی سفر پر گامزن ہو جائیں۔ اپنی روح کو مادیت کی دنیا سے روزانہ ایک گھنٹے کے لیے نکال کر اللہ کے ذکر ، شکراور گہرےسانسوں کے مراقبہ سے آغاز کرنے سے چند روز میں مکڑی کی طرح جالے بنتے خیالات کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونے کی قوت محسوس کریں۔ روحانیت کی دنیا دین اور عبادت سے جدا نہیں۔ اپنے تن من کو آزمائشوں کی بھٹی میں ڈالنے سے پہلے خود کو خالق کائنات اور مالک ارض و سماں کے سپرد کرنا ہو گا پھر کائنات میں پھیلی انرجی روح و قلب کو ایسے منور کر دے گی کہ انسان لطیف ہوا میں معطر خوشبو کی طرح محو پرواز ہو جائے گا۔
یہ اپنی روح کو کائنات کی قوت سے آلائن کرنے کا ایک بہترین نسخہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نفسانفسی کے اس دور میں بے چینی، ہیجان، خوف، سٹریس، ڈپریشن اور بے سکونی سے نجات کا ایک نہایت موثر اور کارآمد علاج بھی۔ دنیاوی کامیابیوں کے پیچھے اندھادھند بھاگنے کی بجائے شکرگزاری کی بندگی میں سپرد رضا کرنا دونوں جہانوں میں سرخرو کرنے کا سبب و اسباب کا خزینہ ہے۔

رانا محمودالحق

https://mahmoodmathmagic.blogspot.com/?m=0

در دستک >>

Nov 5, 2024

درد کم نہیں ہوتا

 خزاں کی تیز ہواؤں میں سوکھے پتے زمین پر تلملاتے اُڑتے گرتے کبھی اِدھر تو کبھی اُدھر گھسٹتے ٹوٹتے بے بسی کے عالم تنہا میں بظاہر موسم کی تبدیلی کی نوید سمجھے جاتے ہیں لیکن درحقیقت بھرپور زندگی کی توانائیوں کے اختتام پر اپنے اختتام کے سفر میں روندے و رگڑے جاتے ہیں۔آکسیجن دینے والے اور کاربن ڈائی اکسائیڈ لینے والےانسانی بستیوں میں توانائی کھونے پرشاخ کی بے اعتنائی سے بے پرواہ احسان جتانے سے لاپرواہ  مٹی سے بغلگیر ہونے کی تمنا میں ریزہ ریزہ ہو کر اپنے وجود تحلیل کرنے کے عمل جراحی سے ایک دردناک انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔
زندگی کا سفر صعوبت سے خالی نہیں ہوتا۔ بچپن لڑکپن کی طرف بڑھتا ہے تو ماضی ایسے کیڑے کی مانند ساتھ جڑ جاتا ہے  جو کسی کونے کھدرے میں چھپ کر حال کی انرجی سے قوت حاصل کرتا ہے اور کیڑوں کی ایک ایسی فوج تیار کرتا رہتا ہے جو نوجوانی سے ادھیڑ عمری تک پوری طرح فتح یاب ہو کر شریانوں کے راستے برین کے کونوں کھدروں سے نکل کر سسٹم پر غلبہ پا لیتا ہے۔ جس سے چھٹکارا پانا شعور کے بس کی بات نہیں رہتا۔ یہ ایک ایسی خفیہ ایجنسی کی طرح کام کرتا ہے جس کا اس ملک کے باسیوں کو بھی علم نہیں ہوتا۔
بڑھاپے میں سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت اپنی کم ترین سطح پر ہوتی ہے۔ بچپن افزائش نسل انسانی کے گھروندے میں خوف و سراسیمگی کے زیراثرایسی سرنگیں کھودتا رہتا ہے جو بظاہر پہاڑ دکھنے والے برین کے اندر سالہا سال کی محنت سے اپنے لئے طویل راستے بناتا رہتا ہے۔ جیسے ہی سوچ چوٹیوں سے ڈھلوانوں میں اترتی ہے تو سرنگیں اس سے پہلے وہاں پہنچ چکی ہوتی ہیں۔
بچپن کم علمی کی شناخت رکھتا ہے لیکن خوف کے سائے گھمبیر ہوتے ہیں جو خاموشی سے اپنے کام میں جتے رہتے ہیں۔ یہ کام کرنے سے رکتے نہیں ہیں بلکہ وسوسے اور خوف کی دیواریں تعمیر کرتے آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ انسان سمجھتا ہے کہ میں نے سفر طے کر کےمنزل پالی لیکن سرنگیں اور خندقیں کھودنے والا یہ کیڑا انتہائی مہارت اور چالاکی سے اپنی فوج میں نئی بھرتی کرتا رہتا ہے۔ یہ اپنی آخری جنگ تب لڑتا ہے جب اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اس کا مدمقابل لاغر و کمزور ہو چکا ہے۔ یہ آخری جنگ وہ ہمیشہ جیت جاتا ہے۔ پہلی شکست اس پہاڑ کو دیتا ہے جس کے اندر سرنگیں بناتا ہے۔ پھر ارد گرد مضبوط حصاروں کو توڑنے کے لئے اپنی پوری توانائیاں خرچ کر کے قریب ترین سہارا بننے والے مضبوط پتھروں کے نیچے سے زمین کھینچ کر اپنے سے دور کر دیتا ہے۔
ظلم ،زیادتی ،حسد ،رقابت ،نفرت اور خوف کے لامتناہی سلسلوں کے نشیب و فراز میں خندقیں کھود کر وہاں بسیرا کر لیتا ہے۔ نوجوان والدین کے معصوم بچے سخت رویوں اور دنیاوی کامیابیوں کے عشق میں مبتلا اپنے ہم عصروں کے مقابلے کی اُڑان میں پَر باندھ کر چھوڑ دئیے جاتے ہیں۔
بچے دنیاوی کامیابیوں اور کامرانیوں کی بھٹی میں جھونک دئیے جاتے ہیں۔ جہاں کیڑے اپنا ٹھکانہ بنا لیتے ہیں اور برین میں رفتہ رفتہ کیڑوں کی ایک فوج بنا لیتے ہیں۔ بوڑھا ہوتا ہوا انسان اپنے پیچھے ایسا نوجوان چھوڑ جاتا ہے جو حالات کی سختیوں کو کچلتا آگے بڑھتا منزل پانے کی جستجو میں کمر بستہ رہتا ہے۔لیکن کوئی نہیں جانتا کہ انسان کیڑوں سے شکست کھا جاتا ہے۔  جنہیں وہ جانتا تک نہیں لیکن تعلیم و تربیت کے نام پر خوف کے سائے میں پروان چڑھاتا رہتا ہے۔ مائیں بچوں کے سروں سے جوئیں نکالنے پر اکتفا کر لیتی ہیں۔ یہ نہیں جان پاتی کہ نظر نہ آنے والے کیڑے بظاہر کھجلی نہیں کرتے لیکن وجود میں ایسا ڈائنامائیٹ لگا دیتے ہیں جو آتش فشاں کی طرح جب اٹھتا ہے تو وجود کو زیر کر لیتا ہے۔
بچوں کے بالوں پر بہت زیادہ توجہ دینے سے زیادہ بالوں کے نیچے ان سرنگوں میں پائے جانے والے کیڑوں کے قلع قمع کرنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگانےکی ضرورت ہوتی ہے۔  انہیں خوراک رویوں اور حالات سے حاصل ہوتی ہے۔ اچھی خوراک، اچھا لباس اور اچھی تعلیم و تدریس سے الگ بچوں کا محافظ بن کر کیڑوں کی پیدائش کے عمل کو روکا جا سکتا ہے۔
بچے حکم کے پابند اور ہدایت کے تابع بنائے جاتے ہیں جبکہ ان کے اندر سوچ کی ایسی سرنگیں بنانے کی ضرورت ہوتی ہے جو کیڑوں  کو آگے بڑھنے اور ان کی فوج میں اضافہ کے عمل کو روک سکے۔ آتشیں اسلحہ سے لیس ممالک انسانی بستیوں کے لئے تباہی کے سبب سمجھے جاتے ہیں جبکہ اپنے گھروں میں بارود بھرے رویے اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ نسلوں کو تباہی کے دھانے پر کھڑا کر دیتے ہیں۔
اطمینان پانے کے لئے مطمئن ہونا ضروری ہے۔ مطمئن ہونا تبھی ممکن ہے جب سکون میسر ہو۔ سکون ملنا تبھی ممکن ہے جب خیالات برانگیختہ نہ ہوں۔  خیالات تبھی شانت رہتے ہیں جب ان میں ہیجان پیدا کرنے والے کیڑے نہ ہوں۔ کیڑے تبھی پیدا ہوتے ہیں جب انہیں بچپن سے جوؤں کی طرح نکال باہر  نہیں کیا جاتا۔


تحریر: محمودالحق

در دستک >>

Mar 14, 2024

جستجوئے مقام

موسم کی سختیوں سے بچتے بچاتے دنوں کو پھلانگتے سوچوں کے بستر بچھاتے  زندگی کی تلخیوں سے نبردآزماہوتے دھیرے دھیرے آگے سرکتے ہیں ۔ذمہ داریاں آڑے ہاتھوں لیتی ہیں ارمان تجوریوں میں بند جواہرات کی طرح قید بےبسی میں اندھیروں سے اُلجھتے ہیں ۔زندگی مصور کی تخلیق ہوتی یا شاعر کی معشوق ،قلم سے رنگ بھر دیتے ۔بھیانک خواب کی تعبیر خوبصورت خیال میں نہیں ڈھل پاتی ۔
سالوں بعد بھی درخت چند فٹ اونچائی اختیار کرتے ہیں اور خیال صدیوں کی مسافت طے کر کے بھی حقیقت نہیں بن پاتا۔آسمان نے تو زمین کو آزادی نہ دینے کی قسم کھا رکھی ہے ،انسان اس قید میں کتنا سرشار ہے کہ آسمان پر توجہ نہیں کرتا جو رات میں خواب دکھاتا ہے اور دن میں پریشان حقیقت کے تارے ۔زمین کی سختی سزا سے منسوب ہے جہاں پڑاؤ تفریح و طبع کے لئے نہیں بلکہ حکم عدولی کی سزا ہے۔
پیدائش آدمیت کے لئے پیدائش انسانی نے نقل مکانی کی ،دانش و حکمت کے لئے ظہور عقل کا امتحان لیا ۔جن کے پاس جواب نہیں تھے وہ جھک گئے جس نے عبادت کو علم سے جدا جانا ،تکبر نے اسے نافرمانی کی سولی پرچڑھایا ۔حروف آسان ہوتے تو حروف تہجی امر ہو جاتے، علم ماخذ ہے تو حروف مقدس ۔علم وہ سمندر ہے جو شور میں آگے نہیں بڑھتا بلکہ خاموش رہ کر زمین کی تہہ میں اُبلتے آتش فشاں ٹھنڈے رکھتا ہے۔ جب جینا راستے میں آ جائے تو جان ہلکان ہو جاتی ہے، یہ زندگی ہے جس کا منصب ٹیڑھا ترچھا نہیں صراط مستقیم ہے۔ راستے گر کھلتے نہیں ،تو کیا حالات کا تقاضا ہیں یا سیدھے راستہ پر چلانے کی مشق۔
آج سوال کیے تھے آج ہی جواب دے دئیے ،بچپن سے کہانی شروع کرنی تھی ،انجام کی اطلاع کر دی ۔انسان نے روبوٹ میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا قصہ شروع کیا جو خود کی کاپی ہے۔ نیا تو وہ تھا جس نے ممنوعہ شجر تک پہنچنے کی سعی کی ۔معافی سزا سے مشروط ہے  ،دوسروں کی دنیا اور اپنی زندگی کا مقابلہ اختیار آدمیت کا محتاج ہے ۔بنانے والے نے کیا کوئی کسر چھوڑی جو نئے رنگوں کی آرائش میں سلیقہ بھول بیٹھے۔ آگے بڑھنے کا حکم ہو تو بیٹھ رہنے میں کیا مصلحت ہے ۔خاموش رہنے میں عافیت ہے اگر آواز ارتعاش میں زرہ برابر اضافہ کر لے تو کانوں کے پردے اس فریکوئنسی کو برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ ایک دنیا میں الگ الگ باسی اور تمام جہانوں کا صرف ایک جو آگے بڑھنے پر تھام لیتا ہے اور پیچھے ہٹنے پر جھنجھوڑ دیتا ہے ،چھوڑتا اسے ہے جسے بناتا نہیں جو ڈھل گیا وہ شکنجے میں کس گیا۔
چلنا دستور سے ہے، ملنا مقام سے ہے ،رہنا جواز سے ہے ،جانا حکم سے ہے، آنا مقدر سے ہے ،جینا رضا سے ہے ۔جب اپنا کچھ نہیں تو حساب کیسا ۔ لوٹنا خالی ہاتھ ہو تو چلنے میں سر پر بھاری  گٹھڑی کیسی۔
امانت دار جن کی زمین ہے اسے اوپر لے جانا کیسا !انعامات کی دنیا کرامات کی دنیا سے الگ ہےجو نہ مانگے سے ملتی ہے نہ دینے سے ختم ہوتی ہے ۔شروع ہونے میں تاخیر کہاں ،دیکھنے والی نظر چاہئیے جو ایک پل میں یہاں سے وہاں پہنچا دے۔آنے والے سنبھل کر آتے ہیں ،پانے میں  پھر  بھی مشکل ہے ۔وقت طے کرنے سےمنزل تک مسافت پہنچاتی ہے ،پانے کی جستجو مقام کو سامنے لا کھڑا کرتی ہے ۔پہلادن کوئی نہیں ہوتا ،ہر دن نیا دن ہوتا ہے کیونکہ ایک پیچھے رہ جاتا ہے۔

تحریر!  محمودالحق 
 
در دستک >>

Oct 23, 2023

اجنبی خیال

راتوں کی طوالت نے دن کے اجالوں کو گھٹا دیا ہے۔ غموں نے خوشیوں کو جا لیا ہے۔ زندگی چلتی کم ہے سستاتی زیادہ ہے۔خوشیوں بھرا بچپن مست جوانی میں ڈھل جاتا ہے۔آنکھ میں نشہ بھر جائے تو قدموں میں اُٹھان اور گردن میں اکڑاؤ آ جاتا ہے۔
ایک عمر پانے کی آرزو میں گزر جاتی ہے۔ملنے پر پلکیں گر جاتی ہیں۔ تلاش کے سفر میں ہم سفر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ منزل سامنے پا کر بھی پہنچ نہیں پاتے کیونکہ گمان یہ رہتا ہے کہ منزل ہمیں پانے کے لئے آگے بڑھے گی۔ طوفان میں گھری ہچکولے کھاتی ناؤ لہروں سے پوچھے تباہی تو ہمارے اوپر آئی آپ کیوں ہم سے لپٹ لپٹ کر روئے۔
زندگی کو جاننا جتنا آسان ہے اسے پرکھنا اتنا ہی مشکل۔ پتھروں سے جمے پہاڑ صرف زلزلوں سے تھرکتے ہیں، بارش کے قطروں سے گرتے پڑتے مٹی کے تودوں جیسے نہیں۔ ماں کی محبت کا انداز الگ، باپ کی شفقت کا احساس سایہ جیسا۔
کامیابیوں اور خوشیوں کے حصول کے لئے دعاؤں پر انحصار کیا جاتا ہے۔ جب اپنی دعا پر یقین کم پڑ جائے تو نیک انسانوں سے دعاؤں کے لئے التجا ءو التماس کی جاتی ہے۔ دعاؤں کی قبولیت کا ایک وقت مقرر ہے۔ کامیابی محنت کا ثمر ہے تو ناکامی غلطیوں کا خمیازہ۔
 حالانکہ اچھی یا بری حکمت عملی اور اس کے نتائج احساس و تخیل سے بہت دور ہوتے ہیں۔ جسے جو حاصل ہو جاتا ہے وہ فوری طور پر مارکیٹ میں آنے کے لئے بیتاب ہو جاتا ہے۔خزانوں کے متلاشی دکھاوے اور شہرتِ تمنا سے بچ نہیں پاتے۔ تسکین انا کے لئے جام تحسین و تعریف ساقی سے بھر بھر لیتے ہیں۔طوفان جتنی تیزی سے اُٹھتے ہیں ویسے ہی گزر جاتے ہیں۔جو سنبھال لیتے ہیں وہ پا لیتے ہیں۔ جو خوشبو محسوس کر لیتے ہیں وہ رنگ چھوڑ دیتے ہیں۔
 جو لفظ تراشے جاتے ہیں وہ احساس سے کٹ جاتے ہیں۔اندر کی کیفیت ظاہری خدو خال سے آشنائی پیدا کر لیتی ہے۔لفظ آنکھوں میں جگہ پا لیتے ہیں۔ دل میں اُترنے سے پہلے اجنبی ہو جاتے ہیں۔
 گل گلستان میں دیر تک کھلتا اور مہکتا رہتا ہے۔ گلدستہ میں ڈھل کر رسم بن کر جلد مرجھا جاتا ہے۔

تحریر: محمودالحق

در دستک >>

Aug 20, 2023

دانش کی روشنی، علم کا سمندر

حکمت و دانائی ایک ایسی روشنی ہے جس کا پھیلاؤ وسیع ہے اور رکاوٹ ہونے سے وہیں جمع نہیں ہوتی بلکہ منعکس ہو کر راستہ بدل لیتی ہے جبکہ  علم سیکھنا پڑھنے لکھنے سننے سے جڑا ہے جو پانی کے بہاؤ کی مانند ایک محدود راستہ میں سفر پر گامزن رہتا ہے جہاں رکاوٹ ہو تو اپنی طاقت کو وہیں پر جمع کر کے زور میں اسی مقام کو تختہ مشق بناتا ہے۔ 
آج کا موضوع بہت خاص ہے کیونکہ یہ کتابوں سے حاصل مواد پر مبنی نہیں بلکہ حقیقت شناسی کے علم لا محدود سے اخذ خزینہ نور ایمان  میں یقین پختہ پر انحصار کا نتیجہ ہے۔ سیاہی میں ڈھل کر کاغذ پر ڈھلنے والے الفاظ پانی کی فطرت میں بہتے ہیں جو لہروں کی مانند زورو شور سے ریت کے زروں پر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ پانی اپنی  منزل کی سمت کاتعین رکھتے ہیں اور اپنی حدود بھی  پہچانتے ہیں۔ اونچائی سے کنارہ کرتے ڈھلوانوں میں راستہ بناتے ، تباہی مچاتے آگے بڑھتے ،بخارات کی صورت زمین میں جزب ہوتے ہوئے کہیں ختم ہو جاتے ہیں۔
روشنی اپنی راہ میں آنے والوں پر زور زبردستی نہیں کرتی بلکہ منعکس ہو کر اپنا راستہ بدل لیتی ہے اور اپنے سفر کو آگے بڑھانے کے عمل کی راہ میں رکاوٹ نہیں آنے دیتی۔بند کواڑ کے پیچھے دروازوں کھڑکیوں کے معمولی سوراخوں سے اندر جھانک لیتی ہے لیکن طاقت کے استعمال سے اجتناب برتتی ہے دروازہ کھلنے پر اودھم نہیں مچاتی بلکہ اتنی ہی روشنی پھیلاتی ہے جتنی اردگرد کھلی جگہوں کو دیتی ہے۔
علم سمندر ہے جو لفظوں کی سیاہی میں لکھا جاتا ہے پڑھنے والے کے اندر بھی پانی کی مانند سیاہی بن اترتا ہے۔کبھی ہیجان پیدا کرتا ہے کبھی اضطراب کبھی سراسیمگی تو کبھی اکتاہٹ۔ لہروں کی مانند پانی کی فطرت سے استفادہ کرتا ہے۔ الفاظ کا زخیرہ بڑھ جائے تو تکبر کا مادہ پیدا کرتا ہے۔ بند کواڑوں پر زور زور سے دستک دے کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ دروازہ کھلنے پر باہر جمع طوفان کو اندر دھکیل دیتا ہے چاہے اندر والوں کا سانس ہی کیوں نہ رک جائے۔ الفاظ کا چناؤ ابتدائیہ میں بلند لہروں کی مانند دھکیلتا   ریت کے زروں تک اختتام پزیر ہو جاتا ہے۔ 
حکمت و دانائی حسنِ فطرت ہے جو روشنی کی محتاج ہے۔ ایسی روشنی جو اپنی طاقت کو یکجا نہیں کرتی ۔ آگے بڑھتے راستہ کٹنے پر پانی کی طرح زور زبردستی نہیں کرتی بلکہ خاموشی سے ادھر ادھر سمٹ جاتی ہے جتنا کھلا راستہ ملتا جاتا ہے اتنا ہی آگے بڑھ جاتی ہے۔ اپنی حدود کو پھیلاتی آگے بڑھنے کے عمل میں ہر رکاوٹ سے نبردآزما نہیں ہوتی بلکہ برابر بانٹنے کے عمل سے راستے ہموار کرتی ہے اور روشنی پھیلاتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف اس قدر طاقتور ہے کہ ایک محدب عدسے میں سے اسی روشنی کو گزارا جائے تو آگ لگا کر جلا دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔  
دنیاوی علوم پانی سے بنی سیاہی کی تاثیر سے بھرپور علمیت کی معراج رکھتے ہیں۔ جہاں جس نے جتنا چاہا اتنا اپنے کلر میں رنگ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ کتابیں اپنے اندر طرز تحریر کے بہاؤ میں جگہ جگہ رکاوٹیں عبور کرتی نظر آتی ہیں۔ کتابوں کا حجم اتنا ہوتا ہے کہ بوجھ بن جاتا ہے۔ چونکہ لکھنے والے بھی لفظوں کا زخیرہ حروف تہجی کی پہچان کے ساتھ اپنے وجود میں سموئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس لئے تحاریر اپنے مالک کی ملکیت کا پردہ چاک کرتی دکھائی دیتی ہیں۔  
جبکہ حکمت و دانائی کا علم سیاہی سے کوئی واسطہ نہیں۔ یہ روشنی کی مانند اترتی ہے نور کی مانند پھیلتی ہے۔ یہ علم نہیں جو وسیلہ کا محتاج ہو ، یہ قلم نہیں جو سیاہی کا محتاج ہو، یہ کاغذ نہیں جو حروف تہجی سے آراستہ ہو۔یہ ایسی روشنی ہے جو چاند پر پڑتی ہے تو اسے چاندنی بنا دیتی ہے۔زمین پر پڑتی ہے تو اسے سرسبز بنا دیتی ہے اور خوشبو سے مہکا دیتی ہے۔ یہ   پانی کی طرح راستہ بناتی نہیں روشنی کی مانند راستہ دکھاتی ہے۔ جہاں ہونے کا احساس نہیں ہوتا ، نہ ہونے کا احساس  جاگزیں ہوتا ہے۔ جہاں علم سے بہرہ مند ہونے کی بجائے بےعلم  ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ بہت کچھ جاننے کے علم تکبر کی بجائے کچھ نہ جاننے کا احساس بڑھ جاتا ہے۔
انسان سینکڑوں ہزاروں کتابیں پڑھ کر اپنی ذات کو پہچاننے کے عمل سے علمی استعداد بڑھاتا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے، وہ کھونے کے سفر پر گامزن ہو جاتا ہے۔ جاننا یہ نہیں کہ میرے اندر کیا ہے، کتنا علم ہے، کتنی طاقت ہے، کتنا حسن ہے بلکہ یہ ماننا ہے کہ   یادداشت کے بھروسے پر  لفظوں کی پہچان نے کتنا سفر طے کروایا جو لحد پر پہنچا تو ختم ہو گیا۔
جب تک علمی برتری کا بھوت سر پر سوار رہتا ہے، حکمت و دانائی کی رنگین خوبصورت تتلیاں قریب نہیں آتیں۔ مَیں کی پوشاک پہنی رہے تو روشنی کی کرنیں انتظار میں ٹھہر جاتی ہیں۔ ذات کے اندر مَیں کی تلاش میں غوطہ زن ہوتے ہیں۔ جو علم کی سیاہی سے الفاظ کے ترازو میں تولی جاتی ہے۔
کتابوں میں فاصلے ماپ کر لکھے جاتے ہیں درحقیقت انہیں پہلے پاؤں سے تراشا گیا ہوتا ہے پھر نقطوں کو ملا کر  ایک نقشہ ترتیب پاتا ہے۔جنہیں یہاں تک پہنچ کر ہونے یا نہ ہونے کے فرق کو تلاش کرنے میں کچھ دقت ہے تو انہیں ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں اور ایک مثال سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ انسانی دماغ بھی کمپیوٹر اور مختلف اپلیکیشن کی طرح ہی ایک مشین کی مانند کام کرتا ہے۔ جتنا اسے دیا گیا وہ سب فولڈر بن کر اپنی اپنی جگہ پر محفوظ ہے۔
گلاب کے  سرخ پھول کا تصور کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنکھیں بند کر لیں
اپنے پسندیدہ کھلاڑی کا تصور کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں بند کر لیں
اپنے پسندیدہ فلمی ہیرو کا تصور کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنکھیں بند کر لیں
کسی اداکار کو ذہن میں لائیں جو ولن کا کردار نبھاتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں بند کر لیں
کسی ایک سیاستدان کا خاکہ ذہن میں لائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں بند کر لیں
یہ رہا انسانی دماغ کا  حساب و شمار  Algorithm
جب پھول کو سوچا تو کئی طرح کے پھول ذہن میں ابھر کر آئے ہوں گے۔
کھلاڑی کا تصور کرتے ہی دماغ نے بے شمار کھلاڑیوں کا خاکہ سا بنا دیا ہو گا۔
اسی طرح ہیرو کے ساتھ کئی دوسرے ہیروز اور ولن کے تصور کے ساتھ کئی اور ولن بھی دماغ نے روشن کر دئیے اور آخر میں سیاستدانوں کا ڈھیر دماغ میں گھوم گیا ہو گا۔دماغ نے کہیں بھی دو متضاد کو اکٹھا نہیں کیا ہو گا۔ ہیرو کے ساتھ ولن اور پھول کے ساتھ کانٹے نہیں دکھائے ہوں گے۔انسانی برین نے کچھ نیا نہیں دکھایا جو اس میں محفوظ ہے اس نے اسی فولڈر کو کھول دیا۔
جو برین میں نہیں ہوتا اس پر وہ خاموش ہو جاتا ہے۔   دنیا بھر میں لاکھوں لائیبریریاں کتابوں سے بھری پڑی ہیں۔ جن کے لکھنے میں قلم کاغذ کا استعمال کثیرہ ہوا ہے۔
اور ایک کتاب ہم سب کے گھروں میں ہے جو قلب پہ اتری ہے جو علمیت پر انحصار نہیں کرتی بلکہ روح پر نور کی صورت روشنی بن اتری اور جن پر نازل ہوئی وہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ وہ مقدس کتاب قرآن مجید ہے جو پاک پروردگار کے  خاص محبوب نبی محمد مصطفے ﷺ   (جن پر ہماری جان و مال قربان  )پر وحی کی صورت نازل ہوئی۔   قرآن ہمارے لئے راہ ہدایت ہے ،مشعل راہ ہے،تکریم سبز گنبد کے محبت کے متوالوں کے لئے ایک انعام ہے۔ 


تحریر! محمودالحق


در دستک >>

Mar 14, 2023

سفر در سفر کہانی

آج پھر ایک سفر پر گامزن ہوں۔ زندگی کبھی رکتی تو کبھی چلتی ہے،خیالات سستانے کے لئے بے اعتنائی کی دوا چاہتے ہیں۔حالات جستجو و تمنا کی تحریک میں مبتلائے عشق ہوتے ہیں۔زندگی ایک عجب تماشا ہے جنہیں ڈھونڈتے ہیں انہیں دیکھتے نہیں ،جنہیں ملتےہیں انہیں جانتے نہیں۔
امرود کے باغات زیادہ توجہ مانگتے ہیں۔عدم توجہ سے کیڑے اپنا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔قلب احساس کی جگہ ہے،آنکھیں تلاش گمشدہ کےپیچھے لگی رہتی ہے۔باڑیں لگا دینے سے فصل محفوظ ہو جاتی ہےلیکن پھل پانے کے لئے جڑوں میں پانی دینا ہوتا ہے۔پودوں کے قریب رہ کرپھول سے پھل بننے تک کے عمل کی نگرانی کی جاتی ہے، تب کہیں جا کرذائقہ و رنگ حاصل ہوتا ہے۔
جب دستک دے دی جاتی ہے تو قفل لگے دروازے کھل جاتے ہیں۔اندر داخل نہ بھی ہوں ملاقات سے شرف یاب ہو جاتے ہیں۔مشکل باتیں سمجھناآسان نہیں ہو سکتا۔زندگی مٹی کی مانند تو نہیں جسے گوندھ کربھٹی میں اینٹ بنا لیا جائے، یہ پہاڑ کا پتھر ہے جسے تراشا جاتا ہےپھر کہیں مورت بنتی ہے۔قدم جب آگے بڑھتے ہیں تو نئی زمین پر پاؤںرکھتے ہیں،پیچھے رہ جانے والی زمین آگے نہیں بڑھتی۔
کھونٹے پہ بندھے جانور چارہ شوق سے کھاتے ہیں لیکن انسان قید      میں بہترین کھانے کے شوق سے محروم رہتا ہے۔
درخت کا سایہ کتنا ہی گھنا کیوں نہ ہو بانسوں پر چھپر ڈال کر ہی بارش سےبچا جا سکتا ہے۔پکی سڑک پر تیز رفتار سوار جلد منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔پگڈنڈیوں سے راہ پانے والے قدموں کے بل پر گھر سےکھیتوں تک ہی پہنچ پاتے ہیں۔
درخت اپنی نظر نہیں اتارتے پھر بھی پھل دیتے ہیں کیونکہ نگران کی نظر نہیں چوکتی۔پھل دار نئے پودے اپنے چاروں اطراف مخصوص فاصلے اور ترتیب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔
آج کا بیان  پیچیدگی سے بھرا ہے لیکن معنوی لحاظ سے ہدف آسان ہے۔کہنے سننے کا دور گزر جائے عمل پیرا ہونے کا وقت دامان ہے۔
جنہوں نے چلنا ہے وہ کمر کس لیں، سوچنے کا وقت نہیں،سنبھل کررہنے کا مقام ہے۔ڈاکٹر جب دل کا آپریشن  شروع کر دے تو مکمل کئے بنانہیں چھوڑتا۔
 
 تحریر! محمودالحق

در دستک >>

Oct 31, 2021

ادھوری عشق کہانی

دل تو ہمیشہ چاہا کہ وہ بات کروں جو دل پہ اثر رکھے ، دل سے نکلے لفظ روح تک پہنچیں۔ آج صرف اپنے لئے لکھ رہا ہوں  کیونکہ جو سفر اکیلے طے کیا ہو اس کی داستان سناتے سناتے ایک دہائی سے اوپر ہو گیا   اور مسافر کی عمر پانچ دہائیوں سے اوپر۔سولہ سائز کے کالر میں تیرہ سائز پہن کر بدن و گردن پر ایک مضبوط گرفت کے احساس سے نکلنے میں ایک لمحہ درکار ہوتا ہے۔ کہنے سننے کا وقت گزر جائے تو  تلاش رک جاتی ہے ۔ جاننے کی جستجو نہ رہے تو منزل رک جاتی ہے۔
جنہیں زندگی سے عشق  ہوتا ہے وہ آسائش و آرام کی گنتی کرتے ہیں ۔ آزمائشوں کے ذکر  صبر و تحمل سے بیگانہ ہوتے ہیں۔  چھوٹی گاڑیوں میں اپناسر چھت سے لگےتو پچھلی سواری کے گھٹنے کے لئے جگہ تنگ ہو جاتی ہے۔ کیونکہ  آگے پھیلتے ہیں اور پیچھے سکڑتے ہیں۔ زندگی اپنے چاہنے والوں کو مایوس نہیں کرتی، گنجائش پیدا کر دیتی ہے۔ انسان جب پھیلتا ہے تو دوسروں کو سکڑنے اور پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ چاہ کر بھی سیکھنے والے نہیں ملتے، صرف وہ ملتے ہیں جو صرف پانے کی چاہت رکھتے ہیں اور وہ  بھی اتنا کہ چند لمحات میں وہ اپنا اثر زائل کر دے ۔ زندگی جتنی مختصر ہے خواہشات کی زندگی بھی اتنی ہی محدود۔
گردش خون کی نالیاں جلد پر ابھر جاتی ہیں ،سخت زمین پر سونے سے بھی دل تک خون پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں کیونکہ قلب صرف اپنا خیال نہیں  رکھتا بلکہ پورے وجود کو فعال رکھنے کے لئے  متحرک رہتا ہے۔ جس کا کہا مانا جاتا ہے وہ دو تہائی مشقت سے چور ہو جاتا ہے اور  ایک تہائی وقت زندگی بھر استعمال کرتا ہے۔ پھر بھی تکبر کا مادہ پیدا کرنے سے باز نہیں رہتا۔  انسان اس کے زیر اثر اپنے زندگی بھر کے تجربات کی روشنی میں اندھیروں کی گہرائیوں میں جا اترتا ہے۔
فن پارہ ہو یا بت عاشق نامراد اپنے تخیل سے کینوس پر رنگ بکھیر دیتا ہے  لیکن اس میں احساس کی خوشبو سے محروم رکھتا ہے۔ خالق اپنی مخلوق کو تخلیق کے حسن سے احساس کی دعوت دیتا ہے۔لیکن انسان چولہے پر جلے  اور مشین پر ڈھلے لباس سے اپنی بقائے حیات کی جنگ لڑتا ہے۔ وہیں رہ کر دستارِ وفا کی منزلت و کبریائی چاہتا ہے۔
بوڑھے کی لاٹھی مضبوط ہو تو بڑھاپے سنبھل جاتے ہیں۔ کمر پر بوجھ بڑھ بھی جائے تو کمزور رگوں سے قلب خون کھینچ لیتا ہے ۔ بڑھاپے سپردِ لحد ہونے پر لاٹھی ٹوٹ نہیں جاتی بلکہ زمین پر ڈال دینے سے ہر مشکل اور کڑی آزمائش میں رکنے، ٹوٹنے، جھکنے اور گرنے سے بچائے رکھتی ہے۔ اپنے اپنے سفر کی کہانی ہے ، اپنی اپنی منزل کی راہ ہے، اپنے اپنے عمل کی جزاہے، جسے جو جاننا ہے وہ خود کو کریدے ، جسے جو پانا ہے وہ خود سے چاہے۔ جب سفر ایک نہیں تو نتیجہ ایک کیسے ہو گا۔ اپنی اپنی راہ ہے اپنا اپنا سفر۔ سوچ کے دھارے میں نفع و نقصان تولے جاتے ہیں۔ قلب کے استعارے خالق و مخلوق کے درمیان جزا  و رضا سے جڑے ہیں۔ راہوں سے راہیں جدا ہیں، سوچ سے سوچ بیگانہ ہے، خواہش  کے انتخاب سے آزمائش کی برداشت  حاصل اور لا حاصل کی  جنگ ِافکار ہے۔
پانے کے لئے بھاگ دوڑ ہے جینے کے لئے عیش و آرام ہے۔ کمپیوٹر کی یاد داشت کروڑوں اربوں انسانوں سے بڑھ کر ہے لیکن ایک مچھر کے پر کے برابر اس میں احساس  نہیں ہے۔ ایک سبق ہے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کا جب دوسرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کامیابی و کامرانی کے لئے ایک نسل دوسری نسل سے بہتر پلاننگ کر کے آگے بڑھ جاتی ہے۔ کامیابی و ترقی کا یہ سفر زمین کے لپیٹ دئیے جانے تک جاری رہے گا۔ اور انسان کفن میں لپٹے خالی ہاتھوں کو سپردِ لحد کرتے رہیں گے کیونکہ زندگی کی اصل حقیقت یہی ہے۔
تخلیق اپنے راستے خود اختیار کرتی ہے مخلوق سے اجازت کی طالب نہیں ہوتی۔ خشکی، تری اور ہوا میں رہنے والے اپنی جنس کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ رہتے ہیں ملتے ہیں پالتے ہیں پھر رخت سفر باندھ کر آنے والوں کو یہی موقع فراہم کرتے ہیں۔  انسان اپنے ہاں اولاد پیدا کرنے ، لڑکا یا لڑکی کی صورت بنانے کی اہلیت و اختیار سے محروم ہے۔ پھر دعوی ترقی و عروج کا کیا رہ جاتا ہے۔  پیچھے بچ جانے والے کس نئے نظام کی اصلاح و فلاح کے لئے کمربستہ رہتے ہیں؟
نیا نظام کچھ نہیں ، صرف ایک نظام ہے خالق کا تخلیق کردہ ، جس کی حقانیت قرآن سے ثابت ہے، جو سچ ہے، حقیقتِ عالم ہےجو وجود کائنات کے دائرہ اختیار پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ یقین کے ساتھ جینے میں  صبر و تحمل اور سیر و شکر کی جو رضا ہے  وہ  مٹی سے پیدا ہوئی ہر شے کو خون میں ڈھالنے جیسی ہے۔ کیونکہ زمین میں خون نہیں بنتا اور بدن میں خوشبو نہیں پیدا ہوتی۔ جس ہستی کے بدن کے بہتے پسینے میں خوشبو و مہک کا جلوہ تھا وہ خالقِ کائنات ربِ زوالجلال مالکِ دو جہان نے اپنے محبوب رسول مقبول محمد مصطفی ؑ رحمتہ للعالین کی صورت میں اس زمین پر پھیلایا۔ جن کی بدولت آج ہم اللہ سبحان و تعالی کے فرمان کی  حکم عدولی اور نافرمانی کے باوجود  اس امید کے ساتھ زندہ رہتے ہیں کہ ہم امت محمد صلی اللہ علیہ والیہ وسلم ہیں جو ہماری بخشش کے لیے ایک زریعہ ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے
ترجمہ:
"آسمانوں اور زمین  اور ان کے درمیان سلطنت اللہ کی ہے"۔ سورۃ المائدہ ۔آیت 18
"اور اس سے بہتر کس کا قول جو بلائے اللہ کی طرف اور اچھے عمل کرے اور وہ کہے بیشک میں مسلمانوں میں سے ہوں"۔ سورۃ فصلت ۔آیت 33
 
تحریر: محمودالحق

در دستک >>

Apr 30, 2021

ذات کا بلیک ہول

 روح روحانیت کے زیر اثر بدنی ضرورتوں سے بے خبری کی کیفیت میں ایک سسٹم کے تابع ہوتی چلی جاتی ہے۔ جسے سمجھنا انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار کر دیتا ہے۔ انسان حالات کی گتھیاں سلجھانے کی فکر میں اپنی ذات کے اندر گھٹا گھوپ اندھیروں میں روشنی کی تلاش میں ایسی گہرائیوں میں جا اترتا ہے جہاں سے نکلنے میں زندگی بھر کی جمع توانائی صرف ہو جاتی ہے لیکن دلدل سےنکلنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ ٹوٹے وجود میں ایک ایسا بلیک ہول تشکیل پا جاتا ہے جو ادھوری خواہشات ، ناکام محبت، احساس محرومی اور وقت سے پہلے ہاتھوں سے پھسلتے رشتوں کے درد سے اتنا بڑا ہو جاتا ہے کہ بڑی سے بڑی خوشی اور کامیابی حاصل ہونے کے بعد چند لمحوں میں وجود میں بلیک ہول کے اندر غرق ہو جاتی ہے۔ انسان چند لمحوں کی تسکین کے بعد پھر اسی درد میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ جان ہی نہیں پاتا کہ زندگی بھر کی خواہشیں اور کامیابیاں لمحوں میں اپنا اثر کیوں کھو دیتی ہیں۔ کیونکہ بلیک ہول کے بننے کا عمل سوچ، غور و فکر کی ارتقائی صورت انتہائی پوشیدہ اور سست رو ہوتی ہے۔ یہ ایک سفر کی داستان ہے جہاں منزل نہیں ہوتی راستہ ہوتا ہے ،مسافر ہوتے ہیں اورایک قطب ستارہ ہوتا ہے جو اس راستے کی نشاندہی کرنے کے لئے اسی سمت میں موجود ہوتا ہے۔ انسان حالات کی ستم ظریفی کی شکایات سے خوشیوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے لیکن وہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے جن راستوں پر چلنے کو منزل سمجھ بیٹھا ہے وہ تو ان راستوں کا مسافر ہی نہیں ہوتا۔اللہ سبحان و تعالی کے نزدیک وہ خاص ہوتے ہیں اور  جو اللہ کی محبت کا رس رکھنے والےانسانوں تک پہنچ کر محبت سے محبت کا غلاف عشق بناتے ہیں۔جنہوں نے اللہ کےعشق کی چوٹ نہ سہی ہو ، آزمائشوں کی چکی میں پسنے کے عمل سے نہ گزرے ہوں، ان کے لئے زندگی تندرستی اور بیماری سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ کامیابی عقل و سمجھ کی معراج مانتے ہیں وہ اور ناکامی قسمت و تقدیر کا کھیل۔ لیکن یہ سفر ہے ،روح کا سفر ،روحانیت کا سفر اور انسان کے مقصد حیات کا سفر جس کے لئے اللہ سبحان و تعالی بار بار قرآن مجید میں فرماتے کہ تم غور کیوں نہیں کرتے۔ ہواہیں بادلوں کو کیسے لے کر وہاں پہنچتی ہیں جہاں مردہ بنجر زمین کو بارش سے زندہ کیا جاتا ہے اور زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ صدیوں کی کہانی نہیں جوآثارقدیمہ سے بیان ہو، یہ حال کی کہانی ہے جو حال دل سے بیان ہوتی ہے۔ جوسر اور بلینڈر کی کہانی جیسی، ایک میں پھل سے جوس نکلتا ہے اور ایک میں ملک شیک بنتا ہے۔ دو اور دو چار ہوتے ہیں گناہوں سے دوزخ اور نیکیوں سے جنت واجب ہوتی ہے لیکن الگ الگ اپنے اپنے دائرے میں رخت سفر باندھ کر چلنے والوں کے لئے۔ جن کے اندر بلیک ہول موجود نہیں وہ اپنے سفر پرگامزن رہتے ہیں اور جو ہر خوشی اور کامیابی پانے کے لمحوں بعد درد کی ٹیس محسوس کریں ان کے سفر روشنیوں کی طرف بڑھنے کےسفر ہیں کیونکہ وجود کا بلیک ہول صرف انہیں ختم کرتا ہے جو اس وجود کے لئے اہم نہیں ہوتے اور پاک پروردگار کی طرف جانےوالے راستوں کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ بلانے کا سفر صدیوں سے جاری و ساری ہے لیکن سننے ماننے اور چلنے میں میَں، تکبر اورضد آڑے آ جاتی ہے۔ بلانے والے بلاتے رہیں گے کیونکہ وہ گونگے نہیں، سننے والے نہیں آتے کیونکہ وہ بہرے ہیں۔  ذات کابلیک ہول اللہ سبحان و تعالی کے حضور رات رات بھر گڑگڑانے کے بعد کہیں روشنیوں سے منور ہوتا ہے۔ 

اوکھے پینڈے لمیاں نیں راہواں عشق دیاں

حق اللہ ہو اللہ ہو اللہ اللہ  ہو اللہ 

تحریر: محمودالحق

در دستک >>

Apr 23, 2021

سراب

دنیا ایک ایسی آماجگاہ ہے جہاں غرض و مفاد کی خاطر نفرتیں پالی جاتی ہیں اور محبتیں دکھاوے سے زیادہ کچھ نہیں۔جینا آسان ہونا چاہئیے تھا جسےمشکل بنا دیا جاتا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں ہم زندہ ہیں جہاںمشینوں سے سانس لیا جاتا ہے اور مسکرانے کے لئے انسان ڈھونڈنےپڑتے ہیں۔کبھی کبھار احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسی بستی میں رہائش پزیر ہیں جہاں صرف دروازے ہیں داخل ہونے کے لئے ، کوئی کھڑکی نہیں باہر جھانکنے کے لئے۔ سیارچوں کی طرح انسان اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں جہاں پانا ہی زندگی کا مقصد ہے، اپنی خوشی سے بڑھکر کچھ نہیں۔ دوسروں کی تکلیف اور دکھ عارضی ہیں۔ جن کے بارے میں سوچنا اور ذکر کرنا بے فائدہ ہے۔ آگے بڑھنے کے راستے میں جو رکاوٹیں آئیں انہیں ہٹایا نہیں جاتا روندا جاتا ہے۔ ہر حال میں حالت جنگ میں رہتے ہیں لفظوں کے گولوں سے رشتوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔زندگی کوجیتے نہیں ہیں صرف گزارتے ہیں۔رشتوں سے نبھا نہیں کرتے صرف تعلق بناتے ہیں جنہیں جب چاہیں جہاں چاہیں چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں،پھر سے نئے تعلق بنانے کے لئے جن میں غمگساری نہیں ہوتی، درد کےاحساس کارشتہ نہیں ہوتا۔ بس ایک ایسی راہگزر پر چلتے رہنے کا سفر جوریگستان کے نشیب و فراز میں دور سے پیاسوں کے لئے سراب دکھائی دینے کی مانند ہوتی ہے۔ 


محمودالحق

در دستک >>

Feb 27, 2021

قوس و قزح

قوس و قزح

سورج کی شعائیں جب آسمان پر موجود پانی کے قطروں سے گزرتی ہیں تو منعکس ہو کر ست رنگی رنگوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ ایسا ہونا تبھی ممکن ہوتا ہے اگر بادل برس کر جا چکے ہوں یا سورج کی شعاؤں کو اند ر آنے کا راستہ دے چکے ہوں۔ ریاضی دانوں نے  Mathematical derivationسے اس کی حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔  جس میں روشنی ،پانی کے قطروں میں ایک مخصوص angle  سے گزر کر شعاؤں کے منعکس  ہونے کے عمل سے  دھنک کے رنگ تشکیل پاتے ہیں۔

نظام کائنات کی یہی خوبی ہے کہ اس میں داخل ہونے والی روشنی اور خارج ہونے والی انرجی اپنا توازن برقرار رکھتی ہے۔ آکسیجن اگر جانداروں کی زندگی کی علامت ہے تو کاربن ڈائی اکسائیڈ درختوں کی خوراک۔ توازن بگڑ جائے تو او ۔زون میں سوراخ پیدا ہو جانے سے گرمی کی شدت میں اضافہ اور گلیشئیرز کے پگھلنے سے زمین کا درجہ حرارت بڑھنے کے امکانات  روشن دکھائی دیتے ہیں۔

یہ باتیں چار انچ کے سیل فون کی سکرین پر قوس و قزح لکھنے سے  ہی حاصل ہو جاتے ہیں۔  تو اس کی تحقیق و جستجو سے لا حاصل بحث سے اصلاح معاشرہ یا فلاح آدمیت  کے لئے کچھ نیا جاننے کا عمل رک بھی جائے تو  کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ ہماری زندگیوں میں لفظ مقرر مقرر کے نعرہ مستانہء  سے ایسے آشنا ہو جاتے ہیں کہ رنگوں کی برسات اپنی تجوریوں اور قلعوں میں محفوظ دکھائی دیتی ہیں۔ زندگی کو سمجھنے کے لئے جتنا دنیا کی ہستی میں بے حال ہوتے رہیں گے، حالات کی رسی میں جکڑے رہنے کے امکانات بھی بڑھتے رہیں گے۔انسان دنیا میں پیدا ہونے کے لئے اپنی مرضی و اختیار کا مالک نہیں ہوتا۔ نہ ہی زبان و بیان پر عبور عطائے رب العزت کی بدولت ہوتی ہے۔ زمانہ کا عجب دستور ہے کہ   ترقی کی رفتار سے حدود وقیود کی حدیں بھی پار کرنے کی ایسی لت کا شکار ہونے میں فکر حیات سے بیگانہ ہو چلے تھے، تب ہی ایک وائرس نے انسانی زندگیوں کو ایسے  جکڑ بند لگایا کہ ہاتھ منہ لپیٹ کر کھانسنے سے ڈر میں مبتلا ہو گئے۔ انسانی بستیوں میں  داخل ہونے والا ایک وائرس دنیا کی تاریخ سے نکل نہیں پاتا۔ صدیوں بعد بھی اس سے لڑنے اور شکست دینے کے بلند و بانگ دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

روزگار میں کمی کا رونا دھونا زیادہ سننے میں رہتا ہے۔اللہ سبحان تعالی اپنے بندوں کو فلاح کی طرف بلاتا ہے پانچ وقت روزانہ۔ نماز کے ساتھ صبر کی تلقین کرتا ہے۔ مدد کرتا ہے اپنی رحمت اور فضل سے۔ لیکن شکر نظر آنا انتہائی دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں راستہ تلاش کرنے جیسا ہوتا ہے۔ اللہ سبحان تعالی  سےمحبت و عقیدت کا تقاضا یہ ہے کہ آزمائش آنے پر امتحان کے پر خطر راستے پر چلنے سے   صبر و شکر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔ اللہ سبحان تعالی فرماتے ہیں کہ

ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۖ فِيْهِ ۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ             

"یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں، پرہیز گارو ں کے لیے ہدایت ہے"۔

جس میں پرہیز گاروں کے لئے ہدایت ہے  تو گناہگاروں کے قلب پر قفل لگ جاتے ہیں۔ قفل بند قلب ہماری زندگیوں کے فیصلے صادر کرتے ہیں۔ انہیں اپنے راہنما بناتے ہیں۔ انہی کے نقش قدم پر چلنے کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔ قرآن ہماری زندگیوں کے لئے راہ ہدایت ہے۔ حکم رب العزت مالک دوجہاں  خالق کل کائنات عظیم المرتبت  ارض وسماں  نے بار بار کہا کہ میں ہوں اور میں ہی ہوں جو فریاد سننے والا ہے ، رزق دینے والا ہے، عزت دینے والا ہے، گناہوں کو معاف کرنے والا ہے، زندگی کی حفاظت کرنے والا ہے، موت دینے والا ہے۔ کسی بشر کے  لئےممکن نہیں کہ وہ اللہ سبحان تعالی کے حکم کے بغیر مر جائے۔ 

وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ وَ اِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ﴿۴۲﴾

"اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے"۔

انسان بنیادی طور پر خسارے میں رہنے والا ہے۔ اپنے لئے انہیں منزل راہ بناتا ہے جن کی منزل دنیا  کی زندگی  میں ہر آسائش و آرام  کےمقصود تک ہو۔  لیکن اللہ سبحان تعالی  سورۃ المائدہ میں فرماتے ہیں!

يَـهْدِىْ بِهِ اللّـٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٝ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُـمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَيَـهْدِيْـهِـمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْـمٍ (16)

"اللہ سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے اسے جو اس کی رضا کا تابع ہو، اور ایسے لوگوں کو اپنے حکم سے اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے، اور انہیں سیدھی راہ پر چلاتا ہے"۔

اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالنے کا اختیار صرف پاک پروردگار کو ہے جو اس کی رضا کے طالب ہوتے ہیں اور زندگیاں ان کی حکم اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہیں۔  اس آیت میں ہمارے لئے روشنی کی راہیں تلاش کرنے کا راستہ بتایا گیا ہے۔ لیکن اس کے لئے دیکھنے والی آنکھ چاہیئے  اور وہ آنکھ اس روشنی کی طالب ہو اور رضا کی تابع ہو۔

قوس و قزح کو انسانی آنکھ صدیوں سے دیکھتی آ رہی ہے اور صدیاں دیکھتی رہے گی۔ اگر روشنی پانی کو آسمان پر اپنا عکس دیتی ہے تو انسان زمین پر رہ کر مٹی کی محبت سے روشنی کی طلب رکھنے کی  جستجوئے تلاش میں مٹی کے کھلونوں  سے کھیلنا اور اس کے کاروبار سے منافع حاصل کرنے کی روش شتر بے مہار  کا شکار رہتا ہے۔

رات سونے سے پہلے قرآنی آیات کا ورد اور آیت الکرسی کے پڑھنے سے اپنی خواب آور زندگی کو اللہ شان زوالجلال کی رحمتوں کے سائے میں دیا جائے تو دنیا اور آخرت میں اپنے لئے بخشش کی راہیں کھولنے کے اسباب پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن دن کی روشنی میں گرد و غبار بن کر شعاؤں سے مڑ بھیڑ کر کے  قوس و قزح کے رنگ نہیں پائے جا سکتے۔ قوس و قزح کے رنگ پانے کے لئے بادل بن کر ایک سفر طے کر کے  زمین کی پیاس بجھا کر بچے کچھے قطروں سے رنگ جمائے جاتے ہیں۔ جس کے لئے رضا کی طلب اور تابع ہونا ضروری ہوتا ہے۔ قلب پر ہاتھ رکھ کر قرآن کھول کر جس آیت پر بھی انگلی رکھیں گے وہ اللہ سبحان تعالی کی حاکمیت اور بادشاہت کے اعلان میں اپنے قاری کو سجدہ ریزی کا حکم دیتی محسوس ہو گی۔ اللہ سبحان تعالی کا فرمان قرآن ہے جو ضابطہ حیات ہے جس میں دائرہ کار سے دائرہ اختیار تک ہر  موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

قرآن کھلے گا تو کائنات بھی کھلے گی کیونکہ اللہ سبحان تعالی سورۃ الطلاق میں فرماتے ہیں !

اَللَّـهُ الَّـذِىْ خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَّّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَـهُنَّۖ يَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَـهُنَّ لِتَعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌۙ وَّاَنَّ اللّـٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًا (12)

اللہ ہی ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمینیں بھی اتنی ہی، ان میں حکم نازل ہوا کرتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ نے ہر چیز کو علم سے احاطہ کر رکھا ہے۔

 

محمودالحق

در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter