Apr 15, 2012

ماں تجھے سلام

ماں  ایک رشتہ ، ایک جذبہ ، قربانی کی مثال ، محبتوں کا گہوارہ ، خوشیوں کا پہناوہ ، غموں   کے بادل سے اوپر  صبر کے پہاڑ کی چوٹی ۔
 گود اپنی میں سر  سہلاتی ،پیار سے تھپتھپاتی ، آنکھوں سے جھولا جھولاتی ۔ راتوں  میں تیری دھڑکنوں کا  پہرہ  ،  انگلی ہی تیری   میرا سہارا ،  قدموں کا  راستہ ،سانسوں سے جڑا میرا کنارہ ۔
تیرا ہی وجود تھا تجھ میں سمایا رہا ۔ اپنےقلب محبت کو مجھ سے زیادہ تم نے بھی نہ سنا ہو گا۔ میرے قلب نے پہلی دھڑکن تیرے قلب سے  سیکھی۔وجود سے سینچ کر اپنی محبت کا پہلا گھونٹ تم نے مجھے پلایا۔ لفظ زمانے نے مجھے سکھائے۔
 تیری عظمت کو سلام کروں بھی تو کیا پیش کروں۔ خون جگر بھی دے دوں  تو کیا وہ بھی تو تیرا ہے۔ میری پہلی دھڑکن بھی تو تیری ہی دھڑکن سے جڑی ہے۔ سانسوں کا طوفان تیرے سینے سے لپٹ کر  تھما تھا۔ تیری روح سے جدا ہوا  بھی تو تیرے وجود سے  نہ جدا ہو پایا۔ جدائی تیری فانی وجود مجھے دے گیا ۔ قلب تیرے سے نکلی جو دعائیں سر میرا سجدہ ہی میں جھکاگیا ۔
لحد میں ہاتھوں سے میں نے تمھیں اتارا  ۔ تیرے رخ ماہ کو جو میں نے قبلہ رخ چاہا ۔  تجھے تو چاہت تھی اپنے خدا کی ۔ ایسی خوشی تو تیرے چہرے پہ مجھے دیکھنے سے بھی نہ کبھی آئی ۔
 پھولوں کی طرح  کھلتی چہرے پہ مسکراہٹ۔ تیری بیماریوں کی کہانی دفن ہو گئی ۔
تیری عشق اللہ و رسول کی جوانی ابھر آئی ۔ جنہیں تو رات کے پہروں میں ذکر یاد کے دئیے جلاتی ۔
 دنیا سے لاتعلقی اور بےزاری کا تیرا اظہار مجھے تیری  قربتوں میں جدائی کا غم دے گیا  مگر تیری چاہتوں کے میں قربان کہ اصل راستہ میں پا گیا ۔ تم نے  مجھے ایسا سکھا دیا   ، دنیا اپنی کو سلا دیا ۔
 محبتیں حسرتوں سے لپٹ جائیں ۔ تو زمین سے جڑیں اکھڑ جائیں ۔ کونپلیں شاخوں میں ہی سمٹ سمٹ کر سکڑ جائیں ۔
 شاخ شجر کی محبت اپنی کونپل سے تب تک
 جڑ سے جو آب امر پہنچے اسے جب تک
محبتوں کے یہ بہاؤ  شجر شجر ، شاخ شاخ ،کونپل کونپل ،گلوں کے مہکانے تک , پھلوں کے پکانے تک , دھوپ سے بچانے تک ۔
 کٹ کٹ کر جو شجر خواہشوں کے ایندھن بن گئے  ۔ آب امر کو ترستے جل جل کر خاکستر  کرب و اذیت سے دوچار رہ گئے۔
تجھے میرا سلام جو محبت کا یہ رنگ مجھے سکھا گئی ۔ ماں سے بھی بڑھ کر اللہ کی محبت کا نشہ مجھے لگا گئی۔

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Apr 12, 2012

راستے میں جو کٹا وہ زادِ سفر میرا نہ تھا

راستے میں جو کٹا وہ زادِ سفر میرا نہ تھا
ہوش میں نہ تھا جو کھویا وہ صبر میرا نہ تھا

پروازمیں کوتاہِ نگاہی نے یوں شرمسار کیا
نشانہ پر جو نہ لگا وہ دعائے اثر میرا نہ تھا

یہ ہاتھ خود چھوٹ کر ہاتھ سے جدا ہو گیا
گلستان جلا جس سے وہ شرر میرا نہ تھا

آس نے یاس سے ہٹ کر خود کو پاس کر لیا
بارانِ رحمت میں پھیلتا ہر ابر میرا نہ تھا

مجھے میری تلاش ہے تو اپنے انتظار میں
نسیمِ جاں میں جو رہ گیا وہ ثمر میرا نہ تھا

اتنا بھی کیا کم ملا پھر انتظار میں بیٹھ گیا
یہ فلکِ جہاں اس کا کوئی امبر میرا نہ تھا

جب لوٹنا ہی لکھا تقدیر میں منزل تا حدِ نگاہ
محمود بس تو لکھتا جا وہ نشر میرا نہ تھا

بر عنبرین / محمودالحق
در دستک >>

جب آسمان نے خود ہی چن لیا


جب آسمان نے خود ہی چن لیا تو کوئی کیا کہے
دل نے جب خود ہی سن لیا تو کوئی کیا کہے

لہر بے کس کو طلاطمِ طوفاں میں ساحل ہی سہارا
شاہ زور جوانی نے ڈھل کر بچپن لیا تو کوئی کیا کہے

قطا در قطار یہ پرزے بیکار اُٹھاتے بدن و بار ہیں
روحِ کلام سے طریقت نے جو لہن لیا تو کوئی کیا کہے

انصافِ ترازو کے حدِ تجاوز سے جو جھول گیا
جلتے گلستان میں اپنا چمن لیا تو کوئی کیا کہے

سمجھاتے مجھ کو کہ ہوسِ نصرت کا انساں ہو جاؤں
گل نے مِٹ کر خار سے َامن لیا تو کوئی کیا کہے

تاریک راستوں میں جلتی روشن یہ کیسی بہزاد ہے
آب ہی آب میں سراب نے من لیا تو کوئی کیا کہے

زمین پر کھینچی لکیروں نے دلوں پر نقش و نگار بنا دئے
جیت کر وطن تو ہار کر اَمن لیا تو کوئی کیا کہے

پتھر ہی کیا انسان بھی کاٹ دے فولادِ اوزار سے
لوٹ مار کا بازار ہے بچا صحن لیا تو کوئی کیا کہے

محمود تو خود سے پریشان ہے کیسا یہ جہان ہے
عمل نے ڈھانپ خود چلمن لیا تو کوئی کیا کہے

بر عنبرین / محمودالحق
در دستک >>

Apr 8, 2012

سچ کی تلاش

وہ سچ کی تلاش میں تھا۔ اس نے آنکھ ایسے ماحول میں کھولی جس کی تمنا دوسرے کئی برس سپنوں کی طرح کھلی آنکھوں میں بساتے ہیں۔مگرجن میں مایوسی لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں سے بھی زیادہ تاریک ہوتی ہے۔معاشرہ سے کٹ کر ضرورت صرف معاش رہ جاتی ہے ۔ پھر انسان بھی انس آن نہیں رہتا ۔ رشتوں کے ٹوٹنے کی آواز سوکھی لکڑی کے تنے سے الگ ہونے جیسی ہوتی ہے مگر سنائی نہیں دیتی ۔ اپنے پن سے جدا ہونے کا درد محسوسات سے خالی کبھی نہیں ہوتا ۔
اس کا یہی درد پیشانی پہ پڑی سلوٹوں سے عیاں تھا ۔ہر سوال کے آخر میں کیوں اور پھر ایک نئے سوال کی ابتدا ء ، یوں نہ تو وہ سوال سے اپنے آپ کو روک پایا اور نہ ہی جواب سے تسلی ۔" کیوں "نے اس میں گھبراہٹ کا سایہ پھیلا رکھا تھا ۔ سایہ اتنا گہرا ہو گیا کہ مایوسی کے اندھیرے میں اسے روشنی کی تلاش نے بے چین کر دیا۔ باپ سے سوال کرتا تو وہ دوسری بیوی اور اس کے پہلے بچوں کے معاملات میں الجھنے کی وجہ سے اسے پہلی غلطی کی سزا نظر آتا ۔
اس کی پہلی بیوی دوسرے شوہر کے ساتھ رہنے کے لئے اس کے بچوں کو بھی ساتھ لے گئی اور دوسری بیوی اپنی پہلی اولاد کے ساتھ ساتھ اس کی بچی پر بھی اپنا حق جتاتی ۔ ہمسائے اس سے نالاں ، دوست اس سے کنارہ کرتے ،مذہب میں اسے پناہ نہ ملتی ۔وہ الجھتا چلا گیا ۔نشہ کی بجائے اس نے دوا کا سہارا لیا ۔ جس سے خیالات کچھ دیر سستا لیتے مگر آنکھ کھولتے ہی اسے بے رحم سوالوں کے تھپیڑے آ لیتے۔وہ سوالوں کی گٹھڑی کندھوں سے اوپر دماغ میں سجائے سوالی بنا پھرتا ۔
آخر اسے کس کی تلاش تھی۔ کہیں رشتوں سے فرار کا راستہ ڈھونڈنے کے لئے سہارے کی تلاش میں تو نہیں مارا مارا پھر تا رہا ۔
ملاقات دو سری بار سوال پہلے والا ۔
اسے ایسی کتاب کی تلاش کیوں جس کے ایک ایک لفظ پہ سچائی لکھی ہو۔ بندے پہ جس کا اثر تو ہو مگر دسترس و اختیار سے اوپر ہو۔
جن کی نظریں اپنے چاروں اطراف برپا ہنگامہ خیزی سے دوچار ہوں۔ دماغ کے تندور میں خیال کے پیڑے سے اختلاف کی روٹی پکانے کا عمل جاری و ساری ہو۔ وہاں قلب میں میوے انتظار میں ہی سوکھ جاتے ہیں ۔
جو زندگی آنکھوں اور کانوں سے بسر کرتے ہیں زندہ قلب سے نہیں رہتے ۔ جو لفظ پڑھنے یا سننے سے ذہن میں سما جائیں مگرقلب میں نہ اتر پائیں تو برین واش تو ہو جاتا ہے مگر قلب صفائی سے محروم رہ جاتا ہے ۔
دروازے پہ دستک گھر کے مکین سے تعلق کی غماز ہوتی ہے۔ مکین سے محبت ہو تو دستک ملائمت احساس سے بھری ہو گی۔ دوسری صورت میں ہاتھ کی ضرب آنے والے کے ارادے کا ڈھنڈورا پیٹے گی۔
اللہ سبحان تعالی کے فرمان تک پہنچنے کے لئے ذہن کے دریچے بند کر کے قلب کی سیڑھی سے سچائی کی رسی تک رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اگر جینے میں کیوں ، کیا ، کیسے کےحروف اضافی کی تکرار ہو تو سوالوں کی بھرمار کے وزن سے پیشانی پہ سلوٹیں بڑھتی ہی رہتی ہیں ۔
چاندپر پڑتی سورج کی شعائیں اسے گھٹا بڑھا کر تاریخوں میں بدل دیتی ہیں۔ یہی شعائیں زمین پر دن رات کی تمیز کرتی ہیں۔ اس سے آگے کا علم نہیں ۔ کہیں مفروضے تو کہیں کہانیاں ہیں ۔
زمین میں ننھے بیج کے دبانے سے خوشبو اور مہک میں لپٹنے تک پھل اور پھول ایک وقت کی حقیقت کے عکاس ہیں ۔ پل بھر کے چکھنے کی داستان نہیں۔جو ابر کے کرم کے محتاج ہیں۔ جو اتاریں نہ جا سکیں تو خود ہی اتر کر زمین سے لپٹ کر فنا ہو کر پھر نئی زندگی بن جاتے ہیں ۔
رب العالمین کا تصور کرنے کے لئے بند کمرے سے نکل کر کھلے آسمان کے نیچے آنا ہو گا۔ نعمتوں کا تصور باغوں و بہاروں سے جدا ہو کر رنگ نہیں دکھا پائے گا۔ مہتاب کو اپنا کہہ دینے سے کسی کی ناراضگی کا اندیشہ نہیں رہتا۔کیونکہ زمین کے عشق میں وہ خود دیوانہ وار جھومتا ہے۔
ہوائیں زندگی کی محبت میں بسترسے لپٹی سانس تک آمدورفت جاری رکھتی ہے جو زرد پتوں کو گرا دیتی ہیں اور آندھی بن جائیں تو اُڑا دیتی ہیں ۔خیالات کی زمین پر جب شک کی پنیری لگائی جائے گی۔ تو اختلاف کی فصل کو کاٹنا بہ امر مجبوری بن جائے گا۔دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ ضروری ہے۔ ترازو میں تولنے والا ایک طرف ہمیشہ اپنے پاس باٹ رکھتا ہے۔ جس کے وزن کا پورا ہونا تول کی گارنٹی ہے۔
نئے ماڈل کی کار ، پوش علاقے میں مہنگے بنگلے خواہشات کے غلاموں کی امارت کی منڈیوں میں نیلام ہونے کی نشانیاں ہیں۔ جسے پانے کے لئے آزادی کے پروانے اپنی جانوں پر کھیل جاتے ہیں ۔
باتیں تو پرانی تھیں اسے نہ جانے کیوں نئی محسوس ہوئیں۔ شائد اسے دنیا میں جینے کے لئے جینے کا ڈھنگ ہی بتایا جاتا رہا۔ مگر سچ تو قلب میں ایسے اترے جیسے پھل میں رس اترتا ہے۔کلام کا اثر قلب کے پاک ہونے سے بڑھ جاتا ہے۔ علم تو معلم کا محتاج ہو سکتا ہے۔ عقیدتِ عشق،محبوب کے وصل سے وابستہ نہیں۔ خوشنودی کے لئے رضا بھی درکار ہوتی ہے۔
زیادہ سوالات کبھی گتھیاں سلجھانے کی بجائے خود ہی اُلجھ جاتے ہیں۔ جس سے طالب متعلم ہو جاتے ہیں اور فیصلے کرتے چلے جاتے ہیں۔ جو علم کی معراج تو بن جاتے ہیں مگرعمل کی میراث نہیں۔ برسہا برس کی دھول چند لمحوں میں قلب سے دھل جائے تو شکریہ کا ہار الفاظ کے گلے میں نہیں ڈالا جائے گا ۔بلکہ اس قلب کو پہنایا جائے گا جو سچائی کی تلاش میں در بدر بھٹک رہا تھا ۔ لفظوں کو موتیوں کی مالا بنا کر جس نے پرو لیا ۔

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Mar 16, 2012

سیاست میں ریاست ، الیکشن میں سلیکشن

ابھی حال ہی میں الیکشن کمیشن نے ایک خاتون پریزائیڈنگ آفیسر کے تھپڑ کی قیمت چکائی ہے ۔ اب ایک نیا ٹیسٹ پھر عدالت کے دروازے پر دستک دینے پہنچ چکا ہے ۔ سرگودھا کے ستر سالہ ٹیچر پر بد ترین تشدد کر کے دونوں ٹانگوں سے معزور کر دیا گیا ہے ۔ جسے اگر میڈیا ہائی لائٹ نہ کرتا تو شائد ایک دو احتجاجی جلسہ کے بعد سیای مفاہمت کی نظر ہو جاتا ۔ مگر آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے ۔ طاقت کا استعمال لاٹھی ، گولی کا وہی پرانا رنگ رکھتا ہے ۔ مگر دیکھنے والی آنکھ بدل چکی ہے ۔ کیمرے کی آنکھ سے وہ ان پڑھ لوگ بھی اسے دیکھ لیتے ہیں جو اس سے پہلے اپنی ناخواندگی کی وجہ سے اخبار میں خبر پڑھنے سے محروم رہ جاتے تھے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا  انتہائی چالاک سیاست سے واسطہ پڑا ہے ۔ انہیں عام لوگوں کے مسائل سے دور رکھنے کے لئے کبھی پریس کلب پر حملہ کیا جاتا ہے ۔ تو کبھی بیس بائس سال پرانا کھاتہ کھول لیا جاتا ہے ۔ کرپٹ کرپشن کے کھیل میں  دوسروں کو اپنے حمام میں لایا جاتا ہے ۔ مہران بینک سکینڈل ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا شاہکار ہے ۔ لینے کے دینے والا معاملہ ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ہو گا ۔ اور دوسرا تحریک انصاف کو ۔ جو اس سکینڈل کے برے اثرات سے محفوظ ہیں ۔ فیصلہ چاہے کچھ بھی ہو ۔ جس کی امید کچھ نہ ہونے کی ہے ۔ کیونکہ عدالتیں ایک کے بعد ایک ریاستی بد اعمالیوں کی دھلائی پر کمر بستہ ہیں ۔ مگر پوری قوم جانتی ہے کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک ہی خاندان کے افراد سیاسی گدی نشینی کے وارث نہ سمجھے جاتے ۔ وحیدہ شاہ مرحوم شوہر کی خالی نشست کے لئے پورے علاقہ کی واحد امید وار قرار پائی تھی ۔ جو وہ اپنی سیاسی  شعور کے فقدان کے سبب ہاتھ دھو بیٹھی۔
اخبارات عوامی مسائل پر جب قلم کشائی کرتے ہیں ۔ حکمران اس کی قبر کشائی پر ہمہ تن مصروف ہو جاتے ہیں ۔ عوام لب کشائی سے بھی محروم رہ جاتے ہیں ۔

سیاسی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں اس لئےمسلم لیگی قیادت نے جوابی حملہ کی پیش بندی کر لی ہے ۔ یونس حبیب کو اپنے کہے کی سزا ہرجانہ کی صورت میں ادا کرنا ہو گی ۔ ایسا مسلم لیگ نون سمجھتی ہے ۔عوام بیچارے سمجھنے سمجھانے سے کوسوں دور ہیں  کیونکہ بجلی کا خسارہ ۵ ہزار میگا واٹ تک برقرار ہے ۔ چھ سے آٹھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ مرکز اور صوبے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے انہیں ان کے اپنے مسائل ہی سے جکڑ دیتے ہیں ۔

اللہ رحم کرے الیکشن کے بخیر و عافیت گزرنے تک قوم نہ جانے کن کن مسائل سے دوچار کی جائی گی ۔ آج کی ساری اقبالی روحیں نا امید نہیں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔       
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter