Dec 24, 2009

قربانی ہو چکی

تحریر : محمودالحق

کسی نے بکرا لیا تو کوئی گائے کا خریدار ہوا۔ چند ایک نے کچھ نیا کرنے کی ٹھانی ۔اونٹ کی قربانی کی نیت کی ،غرض ہر آدمی نے اپنی جیب کے مطابق اپنے اسلامی فرض کی ادائیگی کا فرض ادا کیا۔ بعض ان سے بھی آگے نکل گئے ایسے جانور کے طلب گار ہوئے جو دیکھنے میں اپنا ثانی نہ رکھتا ہو ۔ پھر کیمرے کی فلش روشن ہوئی ،مسکراتے چہروں سے تصویریں بھی بنوائی گئیں ۔ محبت کا ایک لا جواب نمونہ پیش کیا۔ اپنے اپنے جانور کی خوبیوں اور تلاش میں پیش آنے والے مسائل کو زیر بحث لایا گیا۔ غریبوں کو بھی یاد رکھا گیا گھر کے دروازے پہ ہر سائل کو مایوس نہیں لوٹنا پڑا ۔ جو سارا سال گوشت کے صرف نام سے ہی واقف تھے ۔آج انہیں اسے دیکھنے اور چکھنے کا بھی موقع ملا۔ پورا معاشرہ بھائی چارہ رواداری اور یگانگت کی تصویر بنا ہوا تھا۔ شہروں سے گئے بیٹوں کو ماؤں کی آغوش میں کچھ سستانے کا موقع بھی ملا ۔ چھوٹے بڑے اپس میں گلے مل مل کر مبارکباد دے رہے تھے ۔عید کا ہر گزرتا دن تھکاوٹ کا احساس مٹاتا جا رہا تھا اور آخر کار وہ دن بھی آ گیا ۔ ماؤں سے جدائی کا ، بیوی بچوں کو چھوڑ کو اپنی اسی منزل کی طرف لوٹ جانے کا دن ۔گاڑیاں مسافروں سے بھری انہیں ان کی منزل پر اتار کر پھر لوٹ جاتی ،نئے مسافروں کو اٹھانے ۔تاکہ وہ بھی اپنے سفر کے آغاز کے مقام تک پہنچ جائیں۔ جہاں وہ ایک فرض کی ادائیگی کو ادا کرنے کے لئے زندگی کے پہیے کو روک کر آئے تھے ۔ ایک ایسی منزل کے راہی جہاں سے آگے جانے کے تو بہت راستے ہیں ۔مگر پیچھے مڑنے کے لئے جلی کشتیوں کا نظارہ کرتے ہیں اور اگر لوٹنا بھی چاہیں ، تو امید کے جگنو چمک کر انہیں پھر ایک مبہم سی تصویر کا عکس دکھا دیتے ہیں ۔ آہستہ آہستہ آگے بڑھتے خوشیوں کی تلاش میں اپنوں کی جدائی کی قیمت میں ،خوش نصیب ہیں وہ جو دل کے رشتوں کے قریب بستے ہیں ۔ فاصلے چاہے جتنے بھی زیادہ کیوں نہ ہوں مگر محسوس انہیں ہمیشہ قریب ہی کرتے ہیں قلب کی قربتیں جسموں پربہت بھاری ہوتی ہیں ۔ اس رشتے کو ہمیشہ ساتھ رکھیں جو روح کے لئے ایک لطیف ہوا کے جھونکے کا احساس رکھتا ہے اور جو قدموں کوبھاری پن کے احساس سے نہ نکلنے دے۔اسے قربانی کے جزبہ سے کاٹنے کاعمل شروع کر دیں ،جو احساس لیکر گئے تھے ۔اسے پلیٹوں میں سجائے گئے ضرورت سے زائد گوشت کی طرح نہیں ۔بلکہ قربانی کے جانور کی خرید سے لیکر ذبیح کرنے تک کے عمل کے ساتھ شاخ شجر کی طرح پیوست کر لیں ۔ اور اگلے سال کی قربانی کے انتظار میں نہ رہیں ۔بلکہ ہر آنے والا دن اسی جذبہ کا اظہار ایمان ہو ۔ تو روح پھول پنکھڑیوں کی طرح نرم ،محبت کی چاشنی سے لبریز ہو گی اور قدم بھاری پن کے احساس سے آزاد رہیں گے۔

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک