Dec 17, 2009

انسان متوکل

تحریر : محموالحق
زندگی میں ہر انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسا کام کرے جس سے دوسروں کی نظر میں معتبر اور ہر دلعزیز ہو۔ میں نے بھی کئی بار ایسی کوششیں کیں مگر اکثر ناکام رہا ۔ سچی بات کہنے کی عادت نے دوستوں میں ایک واضح فرق پیدا کیا۔ تملق ہمیشہ طبیعت پر گراں گزرتی۔ کیونکہ اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ مزاج کے بر خلاف مقصد کے حصول پر نظر ہونی چاہیئے ۔ ہر انسان کی پیدائش فطرت پر ہوتی ہے ۔مگر حالات و واقعات اس کے اندر تغیر و تبدل پیدا کرتے ہیں۔ہماری اسی عادت نے ہمارا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا ۔ ڈاکٹر کے پاس گئے تو ریسیپشن پر فیس جمع کروانے کا کہا گیا۔ تو بول پڑے کہ جناب آجو گئے ہیں تو قربان ہو کر ہی جائیں گے۔ خواہ مخواہ شک میں کیوں پڑتے ہیں کہ بھاروں (بکرا ) بھاگ نہ جائے کہیں انتظار کی اذیت سے۔ اور اگر اپوائنٹمنٹ کے مطابق باری پر نہ بلایا ۔تب جواب طلب کر لیتے کہ یہاں تین گھنٹے بٹھانا ہی تھا ۔تو دو ہفتہ قبل وقت لینے کا فائدہ۔ مگر وہ بیچارے بھی مجبور ہیں کہ ڈاکٹر صاحب اسی معاشرے کے شہری ہیں ۔ ایسے طاقتور شیروں سے ٹکر تو نہیں لے سکتے جو عام شہریوں کے ساتھ انتظار کی قطار میں بیٹھنے کو ہتک جانیں ۔ وہ پہلے آئیے پہلے پائیے کا حق مروجہ کے حامل طبقہ سے تعلق جو رکھتے ہیں ۔ میرے جیسا پڑھا توسکتا ہے استادی نہیں دکھا سکتا پھر ایسے بے ضرر معاشرتی حیوان( بقول ارسطو) کو جہاں چاہو بٹھاتے رہوکیا فرق پڑتا ہے ۔مگر ہم بھی ضدی مزاج واقع ہوئے ہیں اپنی بات کہے بنا تو چھوڑنے والے نہیں ۔ اسی وجہ سے لوگ حیران ہو کر سر تا پاؤں ملاحظہ کرتے۔مگر وہ یہ بھول جاتے کہ شہر کی انہی گلیوںمیں جوان ہوئے ہیں۔ صرف کتابوں کی ورق گردانی نہیں کی ، لوگوں کی بھی گرد جھاڑتے رہے ہیں ۔
ہمیں ہر معاملے میں خودکفالت کا ہمیشہ جنون رہا ۔ اگر کبھی آلارم کی بھی ضرورت پڑی ، توسوچ لیا صبح 4 بجے اُٹھنا ہے ،تو آنکھ ایسے کھل جاتی جیسے کسی نے جنجھوڑ کر جگا دیا ہو ۔ ڈاکٹر کے پاس بھی تبھی جاتے جب اپنے تمام فارمولے کارگر نہ ہوتے ۔ اگر مکینک نے گاڑی ، موٹر سائیکل یا ٹیپ ریکاڑر سامنے کھولنے کی غلطی کی ۔ تو اگلی بار ہمارے انتظار میں آنکھیں سو جاتیں ۔ اس بات پر ہمیں ہمیشہ ہی فخر رہا کہ ہر کام کے لئے احتیاج ٹھیک نہیں ۔ وقت کی قدر کا ہمیشہ ادراک رہا ۔ اس میں خاص طور پر جس شے نے اہم کردار ادا کیا ۔ وہ ہماری 1969 ماڈل کی ٹیوٹا کرونا کار تھی ۔ جس نے بچپن سے خوب تربیت کی ۔ بارہ سال کی عمر میں ہی نیچے اور پیچھے کشن رکھ کر سڑکوں پر ہارن بجاتے دوڑاتے ۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ہم جوانی میں اور وہ بڑھاپے میں ڈھلتی گئی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس کا استعمال ایسے کاموں کے لئے کیا گیا کہ دوست احباب ہمارے ساتھ اس کی بھی خیریت پوچھتے " سناؤ گڑ (بیل گاڑی) کیسی چل رہی ہے " ۔ ہم صرف مسکرا دیتے اور کوشش کرتے کہ اس کی ٹپ ٹاپ میں فرق نہ آئے۔ تو اکثر منٹگمری روڈ سے بناؤ سنگھار کرواتے ۔ اب تو ڈیش بورڈ بھی دھوپ سے جل کر ایسا معلوم ہوتا کہ سوکھے کی بنجر زمین میں دراڑیں پڑی ہوں ۔آخر فیصلہ کر لیا اس بار سیٹوں کی بجائے جو بجٹ میں رقم بچی ہے ڈیش بورڈ ہی پوشش کیوں نہ کروا لیں ۔ یہ نیت باندھی اور منٹگمری روڈ کا رخ کیا ۔20 ،22 سال کا ایک نوجوان بھاگتا ہوا پاس آیا۔ اور جو جو کام اسے آتے تھے ایک ہی سانس میں بیان کردئے ۔ میرا مدعائے دل جب اس نے سنا تو بولا اس کام کی اجرت کے بارے میں میرے ابو بتائیں گے ۔ ہمارے اس نئے خیال سے اسکی ہنر مندی کے تمام پول کھل گئے ۔تمھارے ابو کہاں ہیں ، میرے اس سوال پر اس نے دو آدمیوں کی طرف اشارہ کیا جو آپس میں کسی بات کو طے کرنے میں محو گفتگو تھے ۔ ہر بات کی جستجو اور سوال کرنے کی عادت سے مجبور تھا سوال داغ دیا ۔
وہ سفید بالوں والا ہے تمھارا ابو!
اس نے نفی میں سر ہلا کر کہا ساتھ والا ۔
میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ تیس پینتیس سال کے لگ بھگ آدمی کو اپنا باپ بتا رہا تھا ۔ میرے استفسار پر اس نے یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ سچ کہ رہا ہے ۔ اب تو میرا تجسس اور بڑھ گیا کہ ماجرا کیا ہے ۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ میرے پاس تھا ۔ نوجوان نے کام کے بارے بتایا ۔ اس سے پہلے کہ وہ اگلی بات کہتا میں نے پھر سوال داغ دیایہ تمھارا بیٹا ہے ؟

جی باؤ جی !
لیکن تم تو خود نوجوان دکھائی دیتے ہو ۔میری حیرانگی اور بڑھ گئی جب اس نے کہا یہ تیسرے نمبر کا ہے ۔
کیا ؟
میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ وہ بولتا جا رہا تھا کہ باؤ جی میرا بڑا بیٹا 28 سال کا شادی شدہ ہے 26 سالہ بیٹی بھی شادی شدہ ہے چوتھا 17 سال کا ہے ۔دادا ، نانا بن چکا ہوں ،میری عمر 45 سال ہے 16 سال کی عمر میں شادی ہوئی تھی۔
لیکن دیکھنے میں تم پینتیس سے زیادہ کے دکھائی نہیں دیتے ۔
باؤ جی آپ کیا کوئی بھی نہیں مانتا ۔ اور یہی حال میری بیوی کا ہے وہ ان کی ماں نہیں لگتی ،لوگ مجھے ان کا بڑا بھائی اور میری بیوی کو ان کی بھابھی سمجھتے ہیں ۔
میں اپنے خیالات میں گم سوچے جارہا تھا کہ ہمارے چہرے پہ سارے زمانے کی پریشانیاں دکھائی دیتی ہیں مگر یہ انسان دیکھنے میں ایسا کیوں ہے ۔
آخر تم میاں بیوی کا ایسا نظر آنے میں راز کیا ہے؟ میں وہ فارمولا جاننا چاہتا تھا ۔
باؤ جی اگر دیہاڑی 500 روپے کی لگی تو بہت خوشی نہیں کی اور اگر 25 کی لگی تو غم نہیں کیا ۔ہر حال میں خوش رہتے ہیں۔مجھے اس کا جواب سن کر ایک کتاب میں پڑھے یہ الفاظ یاد آ گئے۔
"متوکل وہ ہے جس کے وجود اور عدم برابر ہوں مطلب یہ ہے کہ رزق پانے سے دل خوش نہ ہو اور اس کے نہ ہونے سے دل غمگین نہ ہو"
وقت گزرتا گیا ، زندگی میں اس کے بعد کافی تبدیلی بھی آئی ۔لیکن اس کے الفاظ آج بھی میرے ذہن میں نقش ہیں ۔ لاکھوں کروڑوں کمانے والوں سے بھی واسطہ پڑا ۔
لیکن اس سے بڑھ کرانسان متوکل نہیں ملا ۔جس کی زبان سے بڑھ کر اس کا چہرہ سچائی کا آئینہ دار تھا ۔

1 تبصرے:

Jafar said...

عمدہ انداز تحریر ہے۔۔۔
اور ایسے ایک بندے سے میں بھی واقف ہوں۔۔۔

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک