Dec 18, 2009

ایمان کی لڑی میں

ایمان کی لڑی میں پرو کر پھیل گئے ہر سو
اپنوں کے مقابل صف آراء ہوئے باوضو

دینا مجھ کو طاقت یا رب قوت گویائی کی
تیرا ذِکر ہی کرے مجھے لحد میں روبرو

مہکتا گل اچھا سوکھے خار کی عمرِ بار سے
میرا دل ہی ہو میرے نفس کا بادِ نو

سینچا مجھ کو میرے باغباں نے
جھاڑی نہیں ہوں میں کوئی خود رو

فراق محبوب و عشق محبوب میں کیا جدا ہے
ایک میں مَیں ہے اور ایک میں صرف تُو

ایک جل کے فنا ہے ایک کی فنا میں جِلا
حیراں کر گئی مجھے ایک درویش کی گفتگو

موسل بار : محمودالحق

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک