Feb 2, 2026

ذکرِالأنفال: (حقیقتِ حیات اور ادراکِ بندگی)

ہم بہت آسانی سے حاصل کی گئی کامیابیوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں پھر اپنی عقل و دانش پر فخر سے سینہ تان لیتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔حاصل وہی ہوتا ہے جو اللہ تبارک تعالی کی رضا ہو ۔ جس سے وہ راضی ہو اسے نوازنے میں دیر نہیں کرتا مگر دنیا کا وقت دن رات اور سونے جاگنے میں ایسے تقسیم رہتا ہے کہ دن ہفتے ، ہفتے مہینے اور مہینے سال بھر تک چلتے ہیں جو ہیجان و بے چینی کا سبب ہوتے ہیں۔ہمیں تواریخ تو یاد رہتی ہیں مگر موضوع و مناسب حالات کا ادراک نہیں ہو پاتا۔ انسان بنیادی طور پر جلد باز جو ٹھہرا نتیجہ جاننے میں سال مہینے چٹکیوں میں چاہتا ہے۔ کیونکہ ماضی اس کے لئے ایک کہانی ، حال خواہش اور مستقبل سہانا خواب نظر آتا ہے۔ ماضی کو بھلانا تو چٹکیوں میں ممکن کر دکھاتا ہے مگر خوابوں کی تعبیر بھی پلک جھپکنے میں تکمیل کے مراحل طے کرتی ہوئی چاہتا ہے۔

مگر وہ یہ نہیں جان پاتا کہ جس طرح ۱۴۳۸ سال کے بعد بھی قرآن مجید کے الفاظ ایک ایسی مستقل حقیقت ہیں جو وقت مقررہ پر منازل کی مسافت کا تعین رکھتے ہیں۔چاند ستاروں سے لے کر سردی گرمی خزاں بہار کے لئے ایک مخصوص وقت کی پابندی لازم قرار پا چکی ہے۔ پھولوں کا کھلنا پھلوں کا پکنا پرندوں کا انڈے سینا اور چرند میں بچوں کی پیدائش کا عمل وقت مقررہ کا مرہون منت ہے۔ مگر خواہش میں انسان نےانہیں منزل مقصود بنا رکھا ہے جو دس بیس پچاس سال کے بعد نہ تو خود ہی اپنا وجود برقرار رکھ پاتے ہیں اور نہ ہی نئے انداز و تخلیق کی پائیداری کی کوئی گارنٹی دے پاتے ہیں۔گھر تبدیل کر کر کے پھر تبدیلی کے لئے کچھ نیا کرنے کی طرف توجہ مرکوز ہو جاتی ہے۔

جن سے جو کام لینا مقصود ہوتا ہے پہلے انہیں منطقی انجام سے دوچار کیا جاتا ہے جسے کبھی آزمائش تو کبھی تقدیر میں نہ ہونے سے تعبیر کر لیا جاتا ہے۔بچہ امتحان دینے تک پرجوش اور پر اُمید ہوتا ہے مگر غیر متوقع رزلٹ کے آنے پر مایوسیوں کے اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے ۔ آگے بڑھنے پر مشکل کا شکار اور ارادے کی کمزوری کا شکار ہونے لگتا ہے۔ جواز ایسا تلاش کرتا ہے جو مصلحت کے بغیر ہوتا ہے۔اللہ تبارک تعالی کسی جان پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ آسانی سے پانے والے مشکلات کی چکی میں پس کر خواہش کی تکمیل تک دو مختلف زاویہ سے زندگی کا مفہوم سمجھنے کی منطق کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر نشانیاں عقل والوں کے لئے ہیں جو قرآن مجید میں طے شدہ ہیں۔ سونے کے سکے لین دین میں کسی نہ کسی صورت آج بھی ہیں مگر بدلے میں کاغذ کے چند ٹکڑوں پر راضی ہو جاتے ہیں۔مٹی گارے کی چنائی سے بنے گھر اینٹ سیمنٹ کی طاقت حاصل کر چکے مگر دوسری نسل تک پہنچتے پہنچتے بڑھاپے کے لاغر پن کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہو جاتے ہیں۔

جس مبارک گھر کی جالیاں عشق و محبت کے متوالوں کو نشہ و سرور کی کیفیت میں مبتلا کر دیں اور عظمت و بزرگی خداوند تعالی کے گھر کا غلاف دیکھنے اور چومنے والوں کو سحرزدہ کر دے ،وہ اسے پاک پروردگار کا احسان عظیم جانے اور اس گھر کی حاضری ایک طویل دعا اور قبولیت کے فرمان کا شاخسانہ قرار دے تو عظمت کے مینار آنے والوں کو اصل حقیقت سے روشناس کرواتے ہیں۔سبز گنبد اور سیاہ غلاف عاشقوں کے لئے عید سعید کے خوشیوں کے لباس ہیں جنہیں نظروں میں سمو کر آنکھوں کے نور میں جذب کر لیتے ہیں۔ نہ جانے کتنے ہی آنسوؤں کی قربانی کے بعد قبولیت کے شرف سے فیضیاب ہونے جا رہے ہوں۔

وجود اپنے احساس کو لمس سے محسوس کرتا ہے مگر روح عشق میں خوشبو کی طرح۔۔۔ کائنات میں آخری ستارے تک رسائی پانے کے فاصلے کی خواہش سے پہلے ۔۔۔عشقِ امتحان وجود میں احساس کی آخری منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔شہد کی مکھی سفر در سفر کے بعد پھول در پھول سے جو رس پاتی ہے وہ مٹھاس میں یکساں ہوتا ہے۔ اللہ تبارک تعالی اپنے گھر تک پہنچنے کے لئے آخری دنیاوی خواہش کی آزمائش کو بھی بندے پر آزماتا ہے کہ فرمان کی تکمیل تک نافرمانی کی کڑواہٹ سے پاک جذبِ احساس وجود کے نہاں خانوں میں گردش خون سے بھی اتنا خالص ہو جائے کہ دعائیں بے اثری سے محفوظ ہو جائیں اور رحمتیں ونعمتیں ظاہر و باطن کو وحدتِ ایمان میں یک جان دو قالب کی طرح پرو کر اظہار و افکار کےسمندر سے نکال کر عمل و کردار کے بہتے میٹھے چشموں کے پانی سے پیاسوں کو سیراب کرتا آگے بڑھتا چلا جائے۔

اللہ تبارک تعالی جب اپنے بندوں کو نمونہءعمل بناتا ہے تو راستوں کو ان کی مرضی کے تابع نہیں کرتا بلکہ ان کے دلوں کو اپنے خیال بندگی سے منور کر دیتا ہے۔ پھر تو نہ ہی امتحان ہوتا ہے نہ ہی نتیجہ اور نہ ہی منزل۔بس ایک راستہ ہے جو عین شباب آفتاب کی طرح روشن جو پہلے قدم سے ہی اپنا رُخ متعین کر دیتا ہے۔ کسی کے دل میں عقیدتِ خیال کا طوفان برپا کر دیتا ہے تاکہ عاشق محبوب رو برو ہو جائیں۔ جہاں سوچ کے در بند ہو جاتے ہیں اورچاہ کی زمین ،چاہت کے آسمان ایک ہو جاتے ہیں۔ آنکھ صرف وہی دیکھتی ہے جو وجود سے باہر ہو ، اندر کہاں تک وہ اُتر پاتی ہے کسی خیال کسی احساس کی دسترس سے انتہائی باہر ہے۔اللہ تبارک تعالی کی محبت جن کا عشق ہو انہیں علم سے بے بہرہ سوکھے پتوں سے اُمید کی فصل اُگنے کی آس نہیں ہونی چاہیئے۔ آندھیاں صرف انہیں کو پھل بننے تک پہنچاتی ہیں جنہیں خوشبو اور ذائقہ دینا مقصود ہو باقی زرد پتوں کی طرح اُتر جاتے ہیں۔ زمین سے اُٹھا کردرختوں پر لٹکانے سے اُمید بہار نہیں آ سکتی۔ کیونکہ لوٹنے کا وقت گزر چکا ، بڑھنے کا وقت ہے، پکنے کا وقت ہے، خوشبو پھیلانے کا آغازِ موسم ہے۔ مایوسیوں محرومیوں کی خزاں ،بہار کی آمد کا انتظار نہیں کرتی مگر اُمید ِنو اپنا سفر ادھورا نہیں چھوڑتی۔ظاہر کی قیاس میں باطن کی حقیقت پوشیدہ رہتی ہے۔

اگر لفظ سچے ہوں تو پھر خیال بھی ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔ گو مگو میں وہی رہتے ہیں جودنیا کی عارضی شہرت کے داعی ہوتے ہیں۔ مگر زندگی کی حقیقت عمل سے ثابت ہوتی ہے جب نفی خیال سے نکل کر وجود کو ریزہ ریزہ کر دے اورکھڑا ہو نے میں بھی درد کی ہائے میں نا شکری نہ ہو۔رحمتوں کی اُمید بر آنے کا یقین ہو۔ جو حق کے ساتھ رہتے ہیں مایوسیاں ان کے قریب نہیں رہتیں۔کمزور پر نفس بھاری رہتا ہے ،مضبوط ایمان کی رسی کو تھامنے سے قوی ہو جاتا ہے۔ جہاں الفاظ اعمال پر بھاری ہو جائیں ،سفارش یقین کی سیڑھی بن جائے وہاں چلتی ٹرین کے پیچھے بھاگنے سے منزل مقصود تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ جہاں ایک ہی پٹڑی پر مخالف سمت جانے والی ٹرینیں پہنچیں تو مسافر اپنی سمت کی طرف سفر کریں گے۔ یہاں تعداد کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ سیاست و تجارت میں تو ایسا ہو سکتا ہے مگر قیامت کا سفر اس سے مختلف ہے۔ جہاں اکیلا بھی جیت کر رحمتوں کی آغوش میں لپٹے گا۔

نئے سال 2017 کا سورج دنیا میں اسی طرح طلوع ہو گا نئی قیاس آرائیوں کے ساتھ مگر شائد کسی کے لئے واضح اور حقیقت پسندی کی چکا چوند روشنیوں سے بھرپور تنہائیوں کا ابتدائے سفر، طالب کی تلاش و جستجو کے لئے ذکرِالأنفال۔

تحریر : محمودالحق

 

فکر انگیز تبصرہ

آپ کی یہ تحریر، "ذکرِ الانفال"، محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ تصوف، فلسفہِ حیات اور انسانی نفسیات کا ایک گہرا مرقع ہے۔ آپ نے جس خوبصورتی سے انسانی جلد بازی، مادی اشیاء کی ناپائیداری اور مشیتِ الٰہی کے سامنے تسلیم و رضا کی تصویر کشی کی ہے، وہ قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

تحریر کے چند اہم نکات جو روح کو چھوتے ہیں:

وقت اور تسلسل: آپ نے یہ واضح کیا کہ کائنات کی ہر چیز (پھلوں کا پکنا، موسموں کا بدلنا) ایک طے شدہ وقت کی پابند ہے، جبکہ انسان "فوری نتیجے" کی خواہش میں اپنی بے چینی بڑھا لیتا ہے۔ یہ نکتہ صبر کی اصل روح کو اجاگر کرتا ہے۔"کائنات کی ہر شے—پھول کے کھلنے سے لے کر چاند کے ڈھلنے تک—ایک مخصوص وقت اور 'اذنِ الٰہی' کی پابند ہے۔ مگر انسان اپنی جلد بازی اور عقل کے تکبر میں یہ بھول جاتا ہے کہ کامیابی سمیٹی نہیں جاتی، عطا کی جاتی ہے۔ 'ذکرِ الانفال' ایک ایسی ہی فکری نشست ہے جو ہمیں مادی فریب سے نکال کر بندگی کے اصل رُخ اور عشقِ صادق کی خوشبو سے روشناس کرواتی ہے۔ آئیے، زندگی کو اس کے حقیقی مفہوم میں دیکھنے کی ایک کوشش کرتے ہیں۔"

عشق اور بندگی: سبز گنبد اور غلافِ کعبہ کا تذکرہ جس والہانہ انداز میں کیا گیا، وہ ایک سچے تڑپنے والے دل کی عکاسی کرتا ہے۔ روح کا عشق میں "خوشبو" کی طرح ہونا ایک بہت ہی بلیغ تشبیہ ہے۔

آزمائش کی حقیقت: یہ جملہ کہ "اللہ راستوں کو بندوں کی مرضی کے تابع نہیں کرتا بلکہ ان کے دلوں کو بندگی سے منور کر دیتا ہے"، پوری تحریر کا نچوڑ معلوم ہوتا ہے۔ جب دل بدل جائے تو پھر منزل کی تھکن کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔

امید اور حقیقت پسندی: آپ نے زرد پتوں اور آندھیوں کی مثال سے واضح کیا کہ ثابت قدم وہی رہتے ہیں جن میں خوشبو اور ذائقہ (اخلاص) ہو۔

ایک مشاہدہ: آپ کی تحریر میں ماضی، حال اور مستقبل کے امتزاج کو "کہانی، خواہش اور خواب" کہنا انسانی نفسیات کی بہت درست عکاسی ہے۔  اس تحریر کے حقائق آفاقی ہیں جو آج بھی اتنے ہی تازہ ہیں۔"کیا ہم واقعی اپنی عقل سے کامیاب ہوتے ہیں یا یہ محض ربِ کریم کا احسانِ عظیم ہے؟ ماضی کی کہانیوں، حال کی خواہشوں اور مستقبل کے سہانے خوابوں کے درمیان کہیں ہماری روح سچی پکار بھول گئی ہے۔ تحریر 'ذکرِ الانفال' میں محمود الحق صاحب نے انسانی نفسیات، مادی زوال اور عشقِ الٰہی کے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے جو ہمیں ایک عام مسافر سے 'طالبِ حق' بنا دیتے ہیں۔"

جذباتی اور وجدانی

"مٹی گارے کے گھروں سے لے کر دل کے نہاں خانوں تک... ہر چیز ایک آزمائش ہے۔ جس مبارک گھر کی جالیاں عشق کے متوالوں کو سحر زدہ کر دیں، وہاں پہنچنے کے لیے وجود کو ریزہ ریزہ ہونا پڑتا ہے۔ 'ذکرِ الانفال' محض ایک تحریر نہیں، بلکہ ایک روحانی سفر ہے جو آپ کو بتاتا ہے کہ جب اللہ کسی کو اپنا نمونہِ عمل بناتا ہے، تو اس کے دل کو اپنے خیالِ بندگی سے کیسے منور کر دیتا ہے۔"

آپ کی تحریر کے تمام حصوں میں پوشیدہ حکمت اور روحانی فلسفے پر تفصیلی روشنی ڈالنے کے لیے ہم اسے چار بڑے فکری ستونوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ہر حصہ انسانی زندگی کے ایک الگ پہلو کی اصلاح کرتا ہے:

1. نفسیاتی کشمکش: جلد بازی اور مادی فریب

آپ نے تحریر کے آغاز میں انسانی نفسیات کے اس پہلو کو چھیڑا ہے جو اسے ہر چیز "فوری" حاصل کرنے پر اکساتا ہے۔

عقل کا تکبر: جب ہم آسانی سے کامیاب ہوتے ہیں، تو اسے اپنی دانش مندی قرار دیتے ہیں، حالانکہ وہ محض اللہ کی عطا ہوتی ہے۔

وقت کا جبر: انسان چاہتا ہے کہ قدرت اس کی خواہشات کے مطابق چلے، جبکہ کائنات ایک منظم الٰہی وقت (Divine Timing) کی پابند ہے۔ آپ کا یہ نکتہ کہ "ماضی کہانی، حال خواہش اور مستقبل خواب ہے" انسان کی اس بے چینی کو ظاہر کرتا ہے جو اسے حال میں جینے نہیں دیتی۔

2. مادی زوال اور وقت کی قید

اس حصے میں آپ نے مادیت کی بے ثباتی کو بہت گہرے پیراۓ میں بیان کیا ہے۔

ناپائیداری: اینٹ، سیمنٹ اور مٹی کے گھروں کی مثال سے آپ نے یہ سمجھایا ہے کہ مادی چیزیں وقت کے ساتھ "لاغر" ہو جاتی ہیں۔ جو چیز آج مضبوط ہے، کل وہ بوجھ بن جاتی ہے۔

قدرت کی گواہی: آپ نے چودہ سو سال سے قائم قرآنی الفاظ، موسموں کی تبدیلی اور حیاتیاتی نظام (انڈے سینا، پھلوں کا پکنا) کو اس بات کی دلیل بنایا ہے کہ پائیداری صرف اللہ کے بنائے ہوئے اصولوں میں ہے۔ مادی ترقی کی کوئی "گارنٹی" نہیں ہے۔

3. روحانی ارتقاء: عشق اور بندگی کی حقیقت

یہ آپ کی تحریر کا سب سے جذباتی اور وجدانی حصہ ہے۔ یہاں آپ نے مادی سفر کو روحانی سفر (حج و زیارت) سے بدلا ہے۔

تطہیرِ قلب: اللہ اپنے گھر بلانے سے پہلے بندے کو آزماتا ہے تاکہ اس کے اندر سے "نافرمانی کی کڑواہٹ" نکل جائے۔

وحدتِ ایمان: یہاں مقصد صرف جسم کا پہنچنا نہیں بلکہ روح کا عشق میں "خوشبو" بن جانا ہے۔ جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کا ظاہر اور باطن ایک ہو جاتے ہیں (یک جان دو قالب)، اور اس کی دعائیں بے اثری سے محفوظ ہو جاتی ہیں۔

4. فلسفہِ عمل: زرد پتے بمقابلہ پختہ پھل

تحریر کا آخری حصہ "امید" اور "کردار" پر زور دیتا ہے۔

نمونہِ عمل: اللہ جب کسی سے کام لیتا ہے، تو اسے حالات کا نہیں بلکہ اپنے "خیالِ بندگی" کا تابع کر دیتا ہے۔ پھر انسان نتیجے کی فکر سے آزاد ہو کر صرف راستے پر توجہ دیتا ہے۔

خلوص کی شرط: آپ نے آندھیوں کی مثال سے واضح کیا کہ مشکلات صرف انہیں "پھل" بناتی ہیں جن میں خوشبو اور ذائقہ (اخلاص) ہو۔ جن کا ایمان کمزور ہوتا ہے، وہ زرد پتوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں۔

تنہائی کا سفر: آخر میں آپ نے واضح کیا کہ حق کی راہ پر تعداد کی اہمیت نہیں ہے۔ سیاست و تجارت میں ہجوم جیتتا ہے، مگر اللہ کی عدالت میں اکیلا شخص بھی اپنے ایمان کی بدولت پوری دنیا پر بھاری ہو سکتا ہے۔

خلاصہِ فکر

آپ کی تحریر کا نچوڑ یہ ہے کہ "ذکرِ الانفال" دراصل اس مالِ غنیمت یا اس روحانی عطا کی تلاش ہے جو انسان کو مادی خواہشات کی نفی کرنے اور رضائے الٰہی کے تابع ہونے کے بعد ملتی ہے۔ یہ "خزاں میں بہار کی امید" کا سفر ہے۔

محمود الحق ایک ایسی فکر کے داعی ہیں جو مادیت کے شور میں گم ہوتی ہوئی انسانی روح کو بندگی اور احساس کے میٹھے چشموں سے سیراب کرنے کی سعی کرتی ہے۔ ان کی تحریروں کا خاصہ "فلسفہِ خودی" اور "تسلیم و رضا" کا وہ امتزاج ہے جو قاری کو ظاہری زندگی کی قیاس آرائیوں سے نکال کر باطن کی حقیقتوں سے روشناس کرواتا ہے۔

آپ کی فکر کے بنیادی عناصر درج ذیل ہیں:

مشاہدہِ کائنات: قدرت کے نظام (موسموں، چاند ستاروں اور وقت) سے سبق کشید کرنا۔

روحانی ادراک: مادی کامیابیوں کے بجائے الٰہی رضا اور عشقِ رسول ﷺ کو منزلِ مقصود قرار دینا۔

اصلاحِ معاشرہ: انسانی جلد بازی اور ہیجان کے مقابلے میں صبر، توکل اور مضبوط ایمان کی رسی تھامنے کی ترغیب دینا۔

محمود الحق صاحب کے نزدیک تحریر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک "ذکر" ہے—ایک ایسا ذکر جو لفظوں کی سچائی سے دلوں میں عقیدت کا طوفان برپا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ان کا قلم آرائشِ الفاظ کے بجائے "تطہیرِ قلب" کا فریضہ سرانجام دیتا ہے، تاکہ مسافر اپنی سمت کا درست تعین کر سکیں۔

آپ کی تحریر کے سب سے حساس اور خوبصورت حصے "عشق اور امتحان" کی مناسبت سے، میں نے اس کے فلسفے کو مزید گہرا کرنے کے لیے کچھ فکری پیراگراف اور اقوال ترتیب دیے ہیں۔ یہ اس مقام کی ترجمانی کرتے ہیں جہاں وجود مٹتا ہے تو روح چمکتی ہے۔

عشق اور امتحان: روح کی کیمیا گری

عشق کوئی آسائش نہیں، بلکہ ایک ایسی آگ ہے جو سونے کو کندن بنانے کے لیے لازم ہے۔ آپ کی تحریر کا یہ نکتہ کہ "وجود لمس کو محسوس کرتا ہے مگر روح عشق کو خوشبو کی طرح"، دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ بندگی صرف جسمانی حرکات کا نام نہیں، بلکہ یہ کیفیات کا سفر ہے۔

1. آزمائش کا فلسفہ (تطہیرِ جذب)

اللہ جب کسی بندے کو اپنے قریب کرنا چاہتا ہے، تو اس کی دنیاوی سہولتیں چھین کر اسے "حیرت" اور "احتیاج" کی وادی میں لے آتا ہے۔ یہ امتحان اس لیے نہیں ہوتا کہ اسے تڑپایا جائے، بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کے اندر سے غیر اللہ کی محبت کا زنگ اتر جائے۔

قول: "عشق کا پہلا سبق 'نفی' ہے؛ جب تک تم اپنی خواہش کو 'لا' (نہیں) کے خنجر سے ذبح نہیں کرتے، 'الا اللہ' کی مٹھاس روح میں نہیں اترتی۔"

2. شہد کی مکھی کی مثال (مسلسل جستجو)

آپ نے شہد کی مکھی کا تذکرہ کر کے کمال کر دیا۔ شہد کی مکھی ہزاروں پھلوں کا رس چوستی ہے مگر مٹھاس ایک جیسی ہوتی ہے۔ اسی طرح مومن کے حالات بدلتے رہتے ہیں (کبھی دکھ، کبھی سکھ) مگر اس کے ایمان کا ذائقہ (توکل) ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے۔

امتحان: پھول سے رس نکالنا۔

نتیجہ: وہ مٹھاس جو دوسروں کو شفا دے۔

روحانی سبق: مومن کا کردار بھی ایسا ہی ہونا چاہیے کہ وہ حالات کی تلخی پی کر معاشرے کو عمل کا میٹھا چشمہ فراہم کرے۔

3. آخری حد: جہاں سوچ کے در بند ہوتے ہیں

آپ نے لکھا کہ "عاشق و محبوب روبرو ہو جائیں تو سوچ کے در بند ہو جاتے ہیں"۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عقل ہار مان لیتی ہے اور صرف "حکم" باقی رہ جاتا ہے۔ یہاں پہنچ کر انسان یہ نہیں پوچھتا کہ "کیوں؟" بلکہ وہ کہتا ہے "جو تیری رضا"۔

نکتہ: عقل حساب کرتی ہے (سیاست و تجارت)، جبکہ عشق سودا نہیں کرتا (قیامت کا سفر)۔

آپ کی تحریر "ذکرِ الانفال" میں موجود گہرائی اتنی وسیع ہے کہ اسے ابھی کئی مزید زاوئیوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان پہلوؤں پر روشنی ڈالنے سے آپ کی فکر کے نئے در وا ہوں گے:

1. عمرانی پہلو (Sociological Perspective): نسلوں کا فرق

آپ نے تحریر میں ذکر کیا کہ گھر "دوسری نسل تک پہنچتے پہنچتے ناقابلِ اعتبار ہو جاتے ہیں"۔ یہ ایک بہت بڑا سماجی نکتہ ہے۔

تجزیہ: مادی ترقی نسلوں کے درمیان خلیج پیدا کر رہی ہے۔ ہم عمارتیں تو پکی بنا رہے ہیں، مگر رشتوں اور اقدار کی وہ بنیادیں (مٹی گارا) بھول گئے ہیں جو برسوں قائم رہتی تھیں۔ یہ پہلو بتاتا ہے کہ معاشرتی استحکام اینٹ سیمنٹ میں نہیں، بلکہ ان 'قدیم اقدار' میں ہے جو وقت کے ساتھ لاغر نہیں ہوتیں۔

2. معاشی پہلو (Economic Insight): کاغذ بمقابلہ سونا

آپ کا یہ جملہ کہ "سونے کے سکے کاغذ کے چند ٹکڑوں پر راضی ہو گئے"، ایک گہرا معاشی فلسفہ ہے۔

تجزیہ: یہ انسانی قناعت کے زوال کی طرف اشارہ ہے۔ ہم نے 'حقیقی قیمت' (سونا/اصلیت) کو چھوڑ کر 'خیالی قیمت' (کاغذ/نمود و نمائش) کو اپنا لیا ہے۔ معاشی دوڑ میں انسان اس لیے بھی بے چین ہے کیونکہ وہ ایسی چیزیں جمع کر رہا ہے جن کی اپنی کوئی حقیقت نہیں۔

3. نفسیاتی پہلو (Psychological Aspect): ہیجان اور بے چینی کا علاج

آپ نے دن، ہفتوں اور مہینوں کے چکر کو "ہیجان کا سبب" قرار دیا ہے۔

تجزیہ: جدید نفسیات اسے 'Anxiety' کہتی ہے۔ آپ کی تحریر اس کا علاج 'ذکر' اور 'انتظار' (پھل پکنے کا وقت) میں بتاتی ہے۔ جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ ہر چیز کا ایک 'وقتِ مقررہ' ہے، تو اس کے اندر کا ہیجان ختم ہو جاتا ہے اور وہ 'مصلحت' کے بجائے 'حقیقت' کو قبول کرنے لگتا ہے۔

4. مابعد الطبعیاتی پہلو (Metaphysical): روح کا لمس

"وجود لمس کو محسوس کرتا ہے مگر روح عشق کو خوشبو کی طرح"—یہ جملہ تصوف کی انتہا ہے۔

تجزیہ: ہم زندگی کو صرف پانچ حواس (Senses) سے ناپتے ہیں، جبکہ اصل زندگی وہ ہے جو ان حواس سے ماورا ہے۔ خوشبو نظر نہیں آتی مگر اس کا احساس پورے وجود کو معطر کر دیتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی محبت نظر نہیں آتی، مگر وہ زندگی کے "ظاہر و باطن کو وحدتِ ایمان میں پرو دیتی ہے"۔

عشق اور بندگی کے درمیان تعلق محض دو لفظوں کا ملاپ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی کیمیا گری ہے جہاں بندگی کے ڈھانچے میں جب عشق کی روح پھونکی جاتی ہے، تو وہ انسان کو "خلیفۃ اللہ" کے درجے پر فائز کر دیتی ہے۔ آپ کی تحریر کی روشنی میں اس موضوع کی مزید گہرائی درج ذیل ہے:

1. بندگی: ضابطہ، عشق: جذبہ

بندگی نام ہے اطاعت کا، ضابطے کا، اور تسلیم و رضا کا۔ یہ ایک فریضہ ہے جو عبد (بندے) کو معبود (خالق) سے جوڑتا ہے۔ لیکن جب اس بندگی میں عشق شامل ہو جاتا ہے، تو "نماز" محض ایک حرکت نہیں رہتی بلکہ "معراج" بن جاتی ہے۔

بندگی سکھاتی ہے کہ کیا کرنا ہے؛ عشق سکھاتا ہے کہ کس طرح (والہانہ پن سے) کرنا ہے۔

بندگی میں "خوفِ خدا" توازن رکھتا ہے، جبکہ عشق میں "شوقِ خدا" بے خود کر دیتا ہے۔

2. عشقِ امتحان: روح کی تڑپ

جیسا کہ آپ نے شہد کی مکھی کی مثال دی، عشق ہمیشہ آزمائش مانگتا ہے۔ اللہ اپنے محبوب بندوں کو مشکلات کی چکی میں اس لیے ڈالتا ہے تاکہ ان کا بھروسہ مادی اسباب (پیسہ، طاقت، رشتہ) سے ٹوٹ کر صرف "وحدتِ ایمان" پر قائم ہو جائے۔

"عشق کی بھٹی میں وجود کا کوئلہ جب تک جل کر خاک نہیں ہوتا، اس میں سے بندگی کا ہیرا برآمد نہیں ہوتا۔"

3. فنا اور بقا کا سنگم

بندگی کا آخری مقام 'فنا' ہے، یعنی اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں گم کر دینا۔ جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے کہ اس کی پسند وہی ہو جائے جو اس کے رب کی پسند ہے، تو اسے عشقِ حقیقی کہتے ہیں۔

پہلا درجہ: بندگی (میں عمل کرتا ہوں کیونکہ حکم ہے)۔

دوسرا درجہ: محبت (میں عمل کرتا ہوں کیونکہ مجھے لگاؤ ہے)۔

تیسرا درجہ: عشق (میں عمل نہیں کرتا، بلکہ میرا ہر عمل میرے محبوب کی رضا کا آئینہ دار ہے)۔

4. عشق کی خوشبو اور بندگی کا لمس

وجود صرف اس چیز کو مانتا ہے جسے وہ چھو سکے (لمس)، لیکن عشق وہ لطیف احساس ہے جو "خوشبو" کی طرح روح میں رچ بس جاتا ہے۔

خوشبو کا سفر: جس طرح پھول کو توڑا جا سکتا ہے مگر اس کی خوشبو کو قید نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح ایک سچے عاشق کے جسم کو تو آزمائشوں میں جکڑا جا سکتا ہے، مگر اس کی بندگی کی خوشبو کائنات کے آخری ستارے تک رسائی پاتی ہے۔

محمود الحق صاحب! آپ کی تحریر کا نچوڑ یہی ہے کہ جب بندگی میں عشق کی خوشبو شامل ہو جائے، تو انسان مٹی کے ڈھیر سے نکل کر "سبز گنبد" اور "سیاہ غلاف" کی ابدی نسبتوں کا امین بن جاتا ہے۔

آپ کی تحریر "ذکرِ الأنفال" میں موجود عشق اور بندگی کے فلسفے کو مزید جلا بخشنے کے لیے صوفیائے کرام کے افکار سے بہتر کوئی گواہی نہیں ہو سکتی۔ مولانا رومیؒ اور علامہ اقبالؒ کے کلام سے چند ایسے انتخاب درج ذیل ہیں جو آپ کی فکر کی مکمل تائید کرتے ہیں:

1. عشق: آزمائش اور تطہیر (مولانا رومیؒ)

آپ نے لکھا کہ "اللہ اپنے گھر تک پہنچنے کے لیے آخری دنیاوی خواہش کی آزمائش کو بھی بندے پر آزماتا ہے"۔ رومیؒ اسی آزمائش کو کندن بننے کا عمل قرار دیتے ہیں:

"عشق آں شعلہ است کہ چوں بر فروخت

ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت"

(ترجمہ: عشق وہ شعلہ ہے کہ جب بھڑکتا ہے تو معشوق کے سوا جو کچھ بھی (دل میں) ہو، سب کو جلا کر خاک کر دیتا ہے۔)

آپ کی تحریر سے ربط: یہ وہی "نفیِ خیال" ہے جس کا ذکر آپ نے کیا، جہاں وجود ریزہ ریزہ ہوتا ہے تاکہ صرف اللہ کی رضا باقی رہ جائے۔

2. بندگی اور خودی کا توازن (علامہ اقبالؒ)

آپ کا نکتہ کہ "اللہ راستوں کو بندوں کی مرضی کے تابع نہیں کرتا بلکہ ان کے دلوں کو بندگی سے منور کر دیتا ہے"، اقبال کے اس شعر میں منعکس ہوتا ہے:

"عشق دمِ جبرئیل، عشق دلِ مصطفیٰؐ

عشق خدا کا رسول، عشق خدا کا کلام"

اقبال مزید کہتے ہیں کہ بندگی محض جھکنے کا نام نہیں، بلکہ خود کو اللہ کے رنگ میں رنگ لینے کا نام ہے:

"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے"

آپ کی تحریر سے ربط: جب بندہ بندگی کے اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں اس کی چاہت اللہ کی چاہت بن جائے، تو پھر "امتحان، نتیجہ اور منزل" سب ایک روشن راستہ بن جاتے ہیں۔

3. وجود کا لمس اور روح کی خوشبو (حضرت سلطان باہوؒ)

آپ نے وجود کے لمس اور روح کی خوشبو میں جو فرق بیان کیا، وہ صوفیانہ فکر کا مغز ہے۔ حضرت سلطان باہوؒ فرماتے ہیں:

"الف اللہ چمبے دی بوٹی، مرشد من وچ لائی ہو"

(ترجمہ: اللہ کے نام کی یہ چنبیلی کی بوٹی میرے مرشد نے میرے دل میں لگا دی ہے، جس کی خوشبو اب میرے پورے وجود میں رچ بس گئی ہے۔)

آپ کی تحریر سے ربط: یہ وہی "خالص جذبِ احساس" ہے جو گردشِ خون سے بھی زیادہ خالص ہو کر دعاؤں کو بے اثری سے محفوظ کر دیتا ہے۔

4. مادی زوال اور عشق کی بقا (بابا بلھے شاہؒ)

آپ نے مٹی، سیمنٹ اور کاغذ کے ٹکڑوں کی ناپائیداری کا ذکر کیا۔ بلھے شاہؒ اسی مادی دوڑ کو عشق کے سامنے ہیچ قرار دیتے ہیں:

"پڑھ پڑھ علم ہزار کتاباں، کدی اپنے آپ نوں پڑھیا نہیں

بھج بھج وڑناں مندر مسجدی، کدی اپنے من وچ وڑیا نہیں"

آپ کی تحریر سے ربط: یہ وہی "باطن کی حقیقت" ہے جو ظاہر کی قیاس آرائیوں میں پوشیدہ رہتی ہے۔ جب تک انسان اپنے من (باطن) میں نہیں اترتا، وہ مٹی اور گارے کی تبدیلیوں میں ہی الجھا رہتا ہے۔


حاصلِ مطالعہ (Synthesis):

ان صوفیاء کے کلام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی تحریر "ذکرِ الأنفال" دراصل اسی قدیم روحانی روایت کا تسلسل ہے جس میں:

بندگی ایک ضابطہ ہے جو انسان کو حدود سکھاتا ہے۔

عشق وہ قوت ہے جو ان حدود کے اندر رہ کر اسے لا محدود (رب) سے جوڑ دیتی ہے۔

 

یہ تحریر عصرِ حاضر کے ہیجان زدہ انسان کے نام ایک پیغام ہے جو مادی دوڑ میں تھک چکا ہے۔ یہ "نفیِ خودی" سے "اثباتِ حق" تک کا ایک سفر ہے، جہاں ہم سیکھتے ہیں کہ زندگی کے فیصلے ہماری عقل کے نہیں، بلکہ ربِ کریم کے "وقتِ مقررہ" کے پابند ہیں۔

محمود الحق ایک فکری قلم کار ہیں جن کی تحریروں کا محور "تطہیرِ قلب" اور "روحانی بیداری" ہے۔ آپ کا قلم آرائشِ الفاظ کے بجائے حقیقتِ بندگی کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے، تاکہ بھٹکے ہوئے مسافروں کو سمتِ عشق مل سکے۔

آپ کی تحریر "ذکرِ الأنفال" جن علمی اور روحانی چشموں سے سیراب ہے، ان کے قارئین کے لیے ایک فہرستِ مآخذ و مطالعہِ تاکہ وہ آپ کی فکر کے پس منظر کو سمجھ سکیں۔

یہ رہی ان کتب کی فہرست جو آپ کے موضوعات (تصوف، فلسفہ اور بندگی) کی بنیاد فراہم کرتی ہیں:

1. بنیادی روحانی مآخذ (Foundational Texts)

قرآن کریم (ترجمہ و تفسیر): بالخصوص سورۃ الانفال اور سورۃ الحدید کی آیات جو انفاق اور اللہ کی قدرت پر روشنی ڈالتی ہیں۔

کشف المحجوب (حضرت داتا گنج بخشؒ): تصوف اور بندگی کے آداب پر اردو زبان میں سب سے مستند اور قدیم کتاب۔

احیاء العلوم (امام غزالیؒ): انسانی نفسیات اور باطنی امراض کی اصلاح کے لیے ایک مکمل ضابطہ۔

2. فلسفہ و تصوف (Philosophy & Sufism)

مثنوی معنوی (مولانا رومیؒ): عشق اور عقل کے تضاد اور روح کے سفر کو سمجھنے کے لیے بہترین انتخاب۔

کیمیاے سعادت (امام غزالیؒ): دنیا کی بے ثباتی اور معرفتِ الٰہی کے حصول کا طریقہ۔

مکتوباتِ امام ربانی (حضرت مجدد الف ثانیؒ): شریعت اور طریقت کے امتزاج پر گہرا علمی کام۔

3. کلامِ شاعرانِ حق (Poetic Wisdom)

بالِ جبریل و ضربِ کلیم (علامہ اقبالؒ): فلسفہِ خودی، فقر اور شاہین کے تصور کے ذریعے بندگی کا جدید ادراک۔

دیوانِ غالب (چند منتخب صوفیانہ کلام): وجود اور عدم کے فلسفے پر غالب کے اشعار۔

کلیاتِ باہو (حضرت سلطان باہوؒ): ذکرِ الٰہی کی تڑپ اور عشقِ حقیقی کے جذبات۔

4. جدید فکری و اصلاحی ادب (Modern Perspectives)

کرن کرن سورج (واصف علی واصفؒ): آپ کے اسلوب سے ملتی جلتی مختصر اور جامع تحریریں جو جدید ذہن کو تصوف سے جوڑتی ہیں۔

زاویہ (اشفاق احمد): عام فہم مثالوں کے ذریعے انسانی رویوں اور اللہ کے ساتھ تعلق کی خوبصورت تشریح۔

 

در دستک >>

Jan 6, 2025

2025 _نمبرز کی جادونگری

پیشتر اس کے کہ 2025 کے متعلق کچھ لکھا جائے ہم 1 تا  9 نمبرز کی حقیقت سمجھنے کی کوشش کریں گے جو کہ چین کے ایک دریا سے باہر نکلنے والے ایک کچھوے کے خول پر ڈاٹس کی صورت میں پائے گئے۔ ٹرٹل میجک سکوائر، جسے لو شو سکوائر بھی کہا جاتا ہے، ایک قدیم چینی جادوئی مربع ہے جو ہان خاندان (206 قبل مسیح - 220 عیسوی) سے 3,000 سال پرانا ہے۔ اسے کچھوے سے منسوب کیا جاتا ہے، جو چینی ثقافت میں اپنی لمبی عمر اور حکمت کی وجہ سے قابل احترام تھا۔ لیجنڈ کے مطابق، ٹرٹل میجک اسکوائر خدا نے انسانوں کو کائنات کی ہم آہنگی اور توازن کو سمجھنے میں مدد کے لیے بنایا تھا۔ مربع 3x3 گرڈ میں ترتیب دیئے گئے نمبر 1تا9 پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں ہر قطار، کالم، اور اخترن 15 تک کا خلاصہ ہوتا ہے، جو اسے ایک منفرد اور دلچسپ ریاضیاتی پہیلی بناتا ہے۔

آیت الکرسی میں الفاظ کا جو بہت خوبصورت توازن اور تناسب ہے ، اس کا پس پردہ تعلق اللہ تعالی کی طرف سے دنیا میں دکھائی جانے والی اسی ایک نشانی سے ہے جسے نعمان علی خان نے آیت میں ربط کلام کوخوبصورت انداز میں پیش کیا ہے 

 سورۂ المدثر کی آیت 3 ربک فکبر (اپنے رب کی بڑائی بیان کرو) کا توازن اور تناسب بھی عین کچھوے پر بنے اعداد کے میجک سکوئر سے مطابقت رکھتا ہے۔

2025 نمبرز کے جادو کاایسا رنگ دکھاتا ہے جو نہ اس سے پہلے دیکھا گیا اور نہ ہی شائد ہزاروں صدیوں میں دیکھا جا سکے گا۔ اس کا ٹوٹل 9 بنتا ہے۔
9=5+2+0+2
اگر 1 تا 9 نمبرز کو جمع کیا جائے تو ان کا ٹوٹل 45 بنتا ہے۔
9+8+7+6+5+4+3+2+1= 45
حاصل شدہ نمبر 45 کو جمع کریں تو 9 آتا ہے۔
اب اس حاصل کردہ 45 نمبر سے 2025 کو تقسیم کرتے ہیں تو ایک بار پھر سے حاصل 45 آتا ہے جو کہ 9 ہی بنتا ہے۔
45=45/2025
2025 = 45x45
یہ نمبر 2025 دراصل 45 کا سکوئر روٹ ہے جو کہ 1 تا 9 کی بنیادی اکائیوں کا ٹوٹل ہے اور خود بھی 9 بنتا ہے۔
2025 کو درج ذیل صرف 15 ہندسوں سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
1,3,5,9,15,25,27,45,75,81,135,225,405,675,2025
یہ تمام نمبرز طاق ہیں جن سے یہ تقسیم ہو سکتا ہے۔
آسٹرالوجسٹ 9 نمبر کے متعلق کیا روشنی ڈالتے ہے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
نمبر 9 انسان دوستی، انسانیت کی خدمت، الہی حکمت، روحانی روشن خیالی، عالمگیر محبت، سخاوت، اور ایک مثبت مثال قائم کرنے کی علامت ہے۔ یہ تعداد انتہائی روحانی ہے اور عالمگیر روحانی قوانین اور کرما کے روحانی قانون کا نمبر ہے۔
شماریات میں، نمبر 9 کا تعلق اکثر انسان دوستی، ہمدردی اور بے لوثی سے ہوتا ہے۔ یہ مثالیت پسندی اور دوسروں کی خدمت کرنے کی خواہش جیسی خصوصیات کو مجسم کرتا ہے۔ نمبر 9 سے متاثر ہونے والوں کو عام طور پر ہمدرد، فنکارانہ اور روادار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو اکثر انسانی تجربے کی گہری سمجھ سے متاثر ہوتے ہیں۔ مزید برآں، نمبر 9 اختتام اور نتائج کی علامت ہے، زندگی کے تجربات سے حاصل ہونے والی حکمت کی نمائندگی کرتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ ذاتی اور روحانی ترقی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، افراد کو اپنے آپ سے آگے دیکھنے اور دنیا میں مثبت کردار ادا کرنے کی تاکید کرتا ہے۔
میرا یہ ماننا ہے کہ چونکہ 9 نمبر کا روحانیت سے بہت گہرا تعلق ہے۔ تو یقینی طور پر یہ پورا سال روح کو کائنات کی انرجی سے قوت حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اپنی ذات کو کھوج اور ٹٹول کر دنیاوی مصروفیات سے روزانہ ایک گھنٹہ نکال کر اپنے وجود کو کائنات میں پھیلی انرجی سے جوڑنے کے لئے وقت نکالنا چاہئیے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اللہ کی رحمتیں ہمیں اپنی آغوش میں لینے کے لئے بانہیں کھولے انتظار کر رہی ہے تاکہ ہم اپنے نفس کی صفائی سے شفافیت پا سکیں اور خالق دو جہاں کی بندگی میں عاجز و طالب رہ کر اپنی زندگیوں کو بدل سکیں۔ ظاہری نمود و نمائش کی جس دلدل میں دنیا دھنس رہی ہے آئیں اپنی روح کو ان سے پاک کر کے قلبی اطمینان اور سکون کے لافانی سفر پر گامزن ہو جائیں۔ اپنی روح کو مادیت کی دنیا سے روزانہ ایک گھنٹے کے لیے نکال کر اللہ کے ذکر ، شکراور گہرےسانسوں کے مراقبہ سے آغاز کرنے سے چند روز میں مکڑی کی طرح جالے بنتے خیالات کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونے کی قوت محسوس کریں۔ روحانیت کی دنیا دین اور عبادت سے جدا نہیں۔ اپنے تن من کو آزمائشوں کی بھٹی میں ڈالنے سے پہلے خود کو خالق کائنات اور مالک ارض و سماں کے سپرد کرنا ہو گا پھر کائنات میں پھیلی انرجی روح و قلب کو ایسے منور کر دے گی کہ انسان لطیف ہوا میں معطر خوشبو کی طرح محو پرواز ہو جائے گا۔
یہ اپنی روح کو کائنات کی قوت سے آلائن کرنے کا ایک بہترین نسخہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نفسانفسی کے اس دور میں بے چینی، ہیجان، خوف، سٹریس، ڈپریشن اور بے سکونی سے نجات کا ایک نہایت موثر اور کارآمد علاج بھی۔ دنیاوی کامیابیوں کے پیچھے اندھادھند بھاگنے کی بجائے شکرگزاری کی بندگی میں سپرد رضا کرنا دونوں جہانوں میں سرخرو کرنے کا سبب و اسباب کا خزینہ ہے۔

رانا محمودالحق

https://mahmoodmathmagic.blogspot.com/?m=0

در دستک >>

Nov 5, 2024

درد کم نہیں ہوتا

 خزاں کی تیز ہواؤں میں سوکھے پتے زمین پر تلملاتے اُڑتے گرتے کبھی اِدھر تو کبھی اُدھر گھسٹتے ٹوٹتے بے بسی کے عالم تنہا میں بظاہر موسم کی تبدیلی کی نوید سمجھے جاتے ہیں لیکن درحقیقت بھرپور زندگی کی توانائیوں کے اختتام پر اپنے اختتام کے سفر میں روندے و رگڑے جاتے ہیں۔آکسیجن دینے والے اور کاربن ڈائی اکسائیڈ لینے والےانسانی بستیوں میں توانائی کھونے پرشاخ کی بے اعتنائی سے بے پرواہ احسان جتانے سے لاپرواہ  مٹی سے بغلگیر ہونے کی تمنا میں ریزہ ریزہ ہو کر اپنے وجود تحلیل کرنے کے عمل جراحی سے ایک دردناک انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔
زندگی کا سفر صعوبت سے خالی نہیں ہوتا۔ بچپن لڑکپن کی طرف بڑھتا ہے تو ماضی ایسے کیڑے کی مانند ساتھ جڑ جاتا ہے  جو کسی کونے کھدرے میں چھپ کر حال کی انرجی سے قوت حاصل کرتا ہے اور کیڑوں کی ایک ایسی فوج تیار کرتا رہتا ہے جو نوجوانی سے ادھیڑ عمری تک پوری طرح فتح یاب ہو کر شریانوں کے راستے برین کے کونوں کھدروں سے نکل کر سسٹم پر غلبہ پا لیتا ہے۔ جس سے چھٹکارا پانا شعور کے بس کی بات نہیں رہتا۔ یہ ایک ایسی خفیہ ایجنسی کی طرح کام کرتا ہے جس کا اس ملک کے باسیوں کو بھی علم نہیں ہوتا۔
بڑھاپے میں سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت اپنی کم ترین سطح پر ہوتی ہے۔ بچپن افزائش نسل انسانی کے گھروندے میں خوف و سراسیمگی کے زیراثرایسی سرنگیں کھودتا رہتا ہے جو بظاہر پہاڑ دکھنے والے برین کے اندر سالہا سال کی محنت سے اپنے لئے طویل راستے بناتا رہتا ہے۔ جیسے ہی سوچ چوٹیوں سے ڈھلوانوں میں اترتی ہے تو سرنگیں اس سے پہلے وہاں پہنچ چکی ہوتی ہیں۔
بچپن کم علمی کی شناخت رکھتا ہے لیکن خوف کے سائے گھمبیر ہوتے ہیں جو خاموشی سے اپنے کام میں جتے رہتے ہیں۔ یہ کام کرنے سے رکتے نہیں ہیں بلکہ وسوسے اور خوف کی دیواریں تعمیر کرتے آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ انسان سمجھتا ہے کہ میں نے سفر طے کر کےمنزل پالی لیکن سرنگیں اور خندقیں کھودنے والا یہ کیڑا انتہائی مہارت اور چالاکی سے اپنی فوج میں نئی بھرتی کرتا رہتا ہے۔ یہ اپنی آخری جنگ تب لڑتا ہے جب اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اس کا مدمقابل لاغر و کمزور ہو چکا ہے۔ یہ آخری جنگ وہ ہمیشہ جیت جاتا ہے۔ پہلی شکست اس پہاڑ کو دیتا ہے جس کے اندر سرنگیں بناتا ہے۔ پھر ارد گرد مضبوط حصاروں کو توڑنے کے لئے اپنی پوری توانائیاں خرچ کر کے قریب ترین سہارا بننے والے مضبوط پتھروں کے نیچے سے زمین کھینچ کر اپنے سے دور کر دیتا ہے۔
ظلم ،زیادتی ،حسد ،رقابت ،نفرت اور خوف کے لامتناہی سلسلوں کے نشیب و فراز میں خندقیں کھود کر وہاں بسیرا کر لیتا ہے۔ نوجوان والدین کے معصوم بچے سخت رویوں اور دنیاوی کامیابیوں کے عشق میں مبتلا اپنے ہم عصروں کے مقابلے کی اُڑان میں پَر باندھ کر چھوڑ دئیے جاتے ہیں۔
بچے دنیاوی کامیابیوں اور کامرانیوں کی بھٹی میں جھونک دئیے جاتے ہیں۔ جہاں کیڑے اپنا ٹھکانہ بنا لیتے ہیں اور برین میں رفتہ رفتہ کیڑوں کی ایک فوج بنا لیتے ہیں۔ بوڑھا ہوتا ہوا انسان اپنے پیچھے ایسا نوجوان چھوڑ جاتا ہے جو حالات کی سختیوں کو کچلتا آگے بڑھتا منزل پانے کی جستجو میں کمر بستہ رہتا ہے۔لیکن کوئی نہیں جانتا کہ انسان کیڑوں سے شکست کھا جاتا ہے۔  جنہیں وہ جانتا تک نہیں لیکن تعلیم و تربیت کے نام پر خوف کے سائے میں پروان چڑھاتا رہتا ہے۔ مائیں بچوں کے سروں سے جوئیں نکالنے پر اکتفا کر لیتی ہیں۔ یہ نہیں جان پاتی کہ نظر نہ آنے والے کیڑے بظاہر کھجلی نہیں کرتے لیکن وجود میں ایسا ڈائنامائیٹ لگا دیتے ہیں جو آتش فشاں کی طرح جب اٹھتا ہے تو وجود کو زیر کر لیتا ہے۔
بچوں کے بالوں پر بہت زیادہ توجہ دینے سے زیادہ بالوں کے نیچے ان سرنگوں میں پائے جانے والے کیڑوں کے قلع قمع کرنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگانےکی ضرورت ہوتی ہے۔  انہیں خوراک رویوں اور حالات سے حاصل ہوتی ہے۔ اچھی خوراک، اچھا لباس اور اچھی تعلیم و تدریس سے الگ بچوں کا محافظ بن کر کیڑوں کی پیدائش کے عمل کو روکا جا سکتا ہے۔
بچے حکم کے پابند اور ہدایت کے تابع بنائے جاتے ہیں جبکہ ان کے اندر سوچ کی ایسی سرنگیں بنانے کی ضرورت ہوتی ہے جو کیڑوں  کو آگے بڑھنے اور ان کی فوج میں اضافہ کے عمل کو روک سکے۔ آتشیں اسلحہ سے لیس ممالک انسانی بستیوں کے لئے تباہی کے سبب سمجھے جاتے ہیں جبکہ اپنے گھروں میں بارود بھرے رویے اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ نسلوں کو تباہی کے دھانے پر کھڑا کر دیتے ہیں۔
اطمینان پانے کے لئے مطمئن ہونا ضروری ہے۔ مطمئن ہونا تبھی ممکن ہے جب سکون میسر ہو۔ سکون ملنا تبھی ممکن ہے جب خیالات برانگیختہ نہ ہوں۔  خیالات تبھی شانت رہتے ہیں جب ان میں ہیجان پیدا کرنے والے کیڑے نہ ہوں۔ کیڑے تبھی پیدا ہوتے ہیں جب انہیں بچپن سے جوؤں کی طرح نکال باہر  نہیں کیا جاتا۔


تحریر: محمودالحق

در دستک >>

Mar 14, 2024

جستجوئے مقام

موسم کی سختیوں سے بچتے بچاتے دنوں کو پھلانگتے سوچوں کے بستر بچھاتے  زندگی کی تلخیوں سے نبردآزماہوتے دھیرے دھیرے آگے سرکتے ہیں ۔ذمہ داریاں آڑے ہاتھوں لیتی ہیں ارمان تجوریوں میں بند جواہرات کی طرح قید بےبسی میں اندھیروں سے اُلجھتے ہیں ۔زندگی مصور کی تخلیق ہوتی یا شاعر کی معشوق ،قلم سے رنگ بھر دیتے ۔بھیانک خواب کی تعبیر خوبصورت خیال میں نہیں ڈھل پاتی ۔
سالوں بعد بھی درخت چند فٹ اونچائی اختیار کرتے ہیں اور خیال صدیوں کی مسافت طے کر کے بھی حقیقت نہیں بن پاتا۔آسمان نے تو زمین کو آزادی نہ دینے کی قسم کھا رکھی ہے ،انسان اس قید میں کتنا سرشار ہے کہ آسمان پر توجہ نہیں کرتا جو رات میں خواب دکھاتا ہے اور دن میں پریشان حقیقت کے تارے ۔زمین کی سختی سزا سے منسوب ہے جہاں پڑاؤ تفریح و طبع کے لئے نہیں بلکہ حکم عدولی کی سزا ہے۔
پیدائش آدمیت کے لئے پیدائش انسانی نے نقل مکانی کی ،دانش و حکمت کے لئے ظہور عقل کا امتحان لیا ۔جن کے پاس جواب نہیں تھے وہ جھک گئے جس نے عبادت کو علم سے جدا جانا ،تکبر نے اسے نافرمانی کی سولی پرچڑھایا ۔حروف آسان ہوتے تو حروف تہجی امر ہو جاتے، علم ماخذ ہے تو حروف مقدس ۔علم وہ سمندر ہے جو شور میں آگے نہیں بڑھتا بلکہ خاموش رہ کر زمین کی تہہ میں اُبلتے آتش فشاں ٹھنڈے رکھتا ہے۔ جب جینا راستے میں آ جائے تو جان ہلکان ہو جاتی ہے، یہ زندگی ہے جس کا منصب ٹیڑھا ترچھا نہیں صراط مستقیم ہے۔ راستے گر کھلتے نہیں ،تو کیا حالات کا تقاضا ہیں یا سیدھے راستہ پر چلانے کی مشق۔
آج سوال کیے تھے آج ہی جواب دے دئیے ،بچپن سے کہانی شروع کرنی تھی ،انجام کی اطلاع کر دی ۔انسان نے روبوٹ میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا قصہ شروع کیا جو خود کی کاپی ہے۔ نیا تو وہ تھا جس نے ممنوعہ شجر تک پہنچنے کی سعی کی ۔معافی سزا سے مشروط ہے  ،دوسروں کی دنیا اور اپنی زندگی کا مقابلہ اختیار آدمیت کا محتاج ہے ۔بنانے والے نے کیا کوئی کسر چھوڑی جو نئے رنگوں کی آرائش میں سلیقہ بھول بیٹھے۔ آگے بڑھنے کا حکم ہو تو بیٹھ رہنے میں کیا مصلحت ہے ۔خاموش رہنے میں عافیت ہے اگر آواز ارتعاش میں زرہ برابر اضافہ کر لے تو کانوں کے پردے اس فریکوئنسی کو برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ ایک دنیا میں الگ الگ باسی اور تمام جہانوں کا صرف ایک جو آگے بڑھنے پر تھام لیتا ہے اور پیچھے ہٹنے پر جھنجھوڑ دیتا ہے ،چھوڑتا اسے ہے جسے بناتا نہیں جو ڈھل گیا وہ شکنجے میں کس گیا۔
چلنا دستور سے ہے، ملنا مقام سے ہے ،رہنا جواز سے ہے ،جانا حکم سے ہے، آنا مقدر سے ہے ،جینا رضا سے ہے ۔جب اپنا کچھ نہیں تو حساب کیسا ۔ لوٹنا خالی ہاتھ ہو تو چلنے میں سر پر بھاری  گٹھڑی کیسی۔
امانت دار جن کی زمین ہے اسے اوپر لے جانا کیسا !انعامات کی دنیا کرامات کی دنیا سے الگ ہےجو نہ مانگے سے ملتی ہے نہ دینے سے ختم ہوتی ہے ۔شروع ہونے میں تاخیر کہاں ،دیکھنے والی نظر چاہئیے جو ایک پل میں یہاں سے وہاں پہنچا دے۔آنے والے سنبھل کر آتے ہیں ،پانے میں  پھر  بھی مشکل ہے ۔وقت طے کرنے سےمنزل تک مسافت پہنچاتی ہے ،پانے کی جستجو مقام کو سامنے لا کھڑا کرتی ہے ۔پہلادن کوئی نہیں ہوتا ،ہر دن نیا دن ہوتا ہے کیونکہ ایک پیچھے رہ جاتا ہے۔

تحریر!  محمودالحق 
 
در دستک >>

Oct 23, 2023

اجنبی خیال

راتوں کی طوالت نے دن کے اجالوں کو گھٹا دیا ہے۔ غموں نے خوشیوں کو جا لیا ہے۔ زندگی چلتی کم ہے سستاتی زیادہ ہے۔خوشیوں بھرا بچپن مست جوانی میں ڈھل جاتا ہے۔آنکھ میں نشہ بھر جائے تو قدموں میں اُٹھان اور گردن میں اکڑاؤ آ جاتا ہے۔
ایک عمر پانے کی آرزو میں گزر جاتی ہے۔ملنے پر پلکیں گر جاتی ہیں۔ تلاش کے سفر میں ہم سفر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ منزل سامنے پا کر بھی پہنچ نہیں پاتے کیونکہ گمان یہ رہتا ہے کہ منزل ہمیں پانے کے لئے آگے بڑھے گی۔ طوفان میں گھری ہچکولے کھاتی ناؤ لہروں سے پوچھے تباہی تو ہمارے اوپر آئی آپ کیوں ہم سے لپٹ لپٹ کر روئے۔
زندگی کو جاننا جتنا آسان ہے اسے پرکھنا اتنا ہی مشکل۔ پتھروں سے جمے پہاڑ صرف زلزلوں سے تھرکتے ہیں، بارش کے قطروں سے گرتے پڑتے مٹی کے تودوں جیسے نہیں۔ ماں کی محبت کا انداز الگ، باپ کی شفقت کا احساس سایہ جیسا۔
کامیابیوں اور خوشیوں کے حصول کے لئے دعاؤں پر انحصار کیا جاتا ہے۔ جب اپنی دعا پر یقین کم پڑ جائے تو نیک انسانوں سے دعاؤں کے لئے التجا ءو التماس کی جاتی ہے۔ دعاؤں کی قبولیت کا ایک وقت مقرر ہے۔ کامیابی محنت کا ثمر ہے تو ناکامی غلطیوں کا خمیازہ۔
 حالانکہ اچھی یا بری حکمت عملی اور اس کے نتائج احساس و تخیل سے بہت دور ہوتے ہیں۔ جسے جو حاصل ہو جاتا ہے وہ فوری طور پر مارکیٹ میں آنے کے لئے بیتاب ہو جاتا ہے۔خزانوں کے متلاشی دکھاوے اور شہرتِ تمنا سے بچ نہیں پاتے۔ تسکین انا کے لئے جام تحسین و تعریف ساقی سے بھر بھر لیتے ہیں۔طوفان جتنی تیزی سے اُٹھتے ہیں ویسے ہی گزر جاتے ہیں۔جو سنبھال لیتے ہیں وہ پا لیتے ہیں۔ جو خوشبو محسوس کر لیتے ہیں وہ رنگ چھوڑ دیتے ہیں۔
 جو لفظ تراشے جاتے ہیں وہ احساس سے کٹ جاتے ہیں۔اندر کی کیفیت ظاہری خدو خال سے آشنائی پیدا کر لیتی ہے۔لفظ آنکھوں میں جگہ پا لیتے ہیں۔ دل میں اُترنے سے پہلے اجنبی ہو جاتے ہیں۔
 گل گلستان میں دیر تک کھلتا اور مہکتا رہتا ہے۔ گلدستہ میں ڈھل کر رسم بن کر جلد مرجھا جاتا ہے۔

تحریر: محمودالحق

در دستک >>

Aug 20, 2023

دانش کی روشنی، علم کا سمندر

حکمت و دانائی ایک ایسی روشنی ہے جس کا پھیلاؤ وسیع ہے اور رکاوٹ ہونے سے وہیں جمع نہیں ہوتی بلکہ منعکس ہو کر راستہ بدل لیتی ہے جبکہ  علم سیکھنا پڑھنے لکھنے سننے سے جڑا ہے جو پانی کے بہاؤ کی مانند ایک محدود راستہ میں سفر پر گامزن رہتا ہے جہاں رکاوٹ ہو تو اپنی طاقت کو وہیں پر جمع کر کے زور میں اسی مقام کو تختہ مشق بناتا ہے۔ 
آج کا موضوع بہت خاص ہے کیونکہ یہ کتابوں سے حاصل مواد پر مبنی نہیں بلکہ حقیقت شناسی کے علم لا محدود سے اخذ خزینہ نور ایمان  میں یقین پختہ پر انحصار کا نتیجہ ہے۔ سیاہی میں ڈھل کر کاغذ پر ڈھلنے والے الفاظ پانی کی فطرت میں بہتے ہیں جو لہروں کی مانند زورو شور سے ریت کے زروں پر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ پانی اپنی  منزل کی سمت کاتعین رکھتے ہیں اور اپنی حدود بھی  پہچانتے ہیں۔ اونچائی سے کنارہ کرتے ڈھلوانوں میں راستہ بناتے ، تباہی مچاتے آگے بڑھتے ،بخارات کی صورت زمین میں جزب ہوتے ہوئے کہیں ختم ہو جاتے ہیں۔
روشنی اپنی راہ میں آنے والوں پر زور زبردستی نہیں کرتی بلکہ منعکس ہو کر اپنا راستہ بدل لیتی ہے اور اپنے سفر کو آگے بڑھانے کے عمل کی راہ میں رکاوٹ نہیں آنے دیتی۔بند کواڑ کے پیچھے دروازوں کھڑکیوں کے معمولی سوراخوں سے اندر جھانک لیتی ہے لیکن طاقت کے استعمال سے اجتناب برتتی ہے دروازہ کھلنے پر اودھم نہیں مچاتی بلکہ اتنی ہی روشنی پھیلاتی ہے جتنی اردگرد کھلی جگہوں کو دیتی ہے۔
علم سمندر ہے جو لفظوں کی سیاہی میں لکھا جاتا ہے پڑھنے والے کے اندر بھی پانی کی مانند سیاہی بن اترتا ہے۔کبھی ہیجان پیدا کرتا ہے کبھی اضطراب کبھی سراسیمگی تو کبھی اکتاہٹ۔ لہروں کی مانند پانی کی فطرت سے استفادہ کرتا ہے۔ الفاظ کا زخیرہ بڑھ جائے تو تکبر کا مادہ پیدا کرتا ہے۔ بند کواڑوں پر زور زور سے دستک دے کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ دروازہ کھلنے پر باہر جمع طوفان کو اندر دھکیل دیتا ہے چاہے اندر والوں کا سانس ہی کیوں نہ رک جائے۔ الفاظ کا چناؤ ابتدائیہ میں بلند لہروں کی مانند دھکیلتا   ریت کے زروں تک اختتام پزیر ہو جاتا ہے۔ 
حکمت و دانائی حسنِ فطرت ہے جو روشنی کی محتاج ہے۔ ایسی روشنی جو اپنی طاقت کو یکجا نہیں کرتی ۔ آگے بڑھتے راستہ کٹنے پر پانی کی طرح زور زبردستی نہیں کرتی بلکہ خاموشی سے ادھر ادھر سمٹ جاتی ہے جتنا کھلا راستہ ملتا جاتا ہے اتنا ہی آگے بڑھ جاتی ہے۔ اپنی حدود کو پھیلاتی آگے بڑھنے کے عمل میں ہر رکاوٹ سے نبردآزما نہیں ہوتی بلکہ برابر بانٹنے کے عمل سے راستے ہموار کرتی ہے اور روشنی پھیلاتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف اس قدر طاقتور ہے کہ ایک محدب عدسے میں سے اسی روشنی کو گزارا جائے تو آگ لگا کر جلا دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔  
دنیاوی علوم پانی سے بنی سیاہی کی تاثیر سے بھرپور علمیت کی معراج رکھتے ہیں۔ جہاں جس نے جتنا چاہا اتنا اپنے کلر میں رنگ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ کتابیں اپنے اندر طرز تحریر کے بہاؤ میں جگہ جگہ رکاوٹیں عبور کرتی نظر آتی ہیں۔ کتابوں کا حجم اتنا ہوتا ہے کہ بوجھ بن جاتا ہے۔ چونکہ لکھنے والے بھی لفظوں کا زخیرہ حروف تہجی کی پہچان کے ساتھ اپنے وجود میں سموئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس لئے تحاریر اپنے مالک کی ملکیت کا پردہ چاک کرتی دکھائی دیتی ہیں۔  
جبکہ حکمت و دانائی کا علم سیاہی سے کوئی واسطہ نہیں۔ یہ روشنی کی مانند اترتی ہے نور کی مانند پھیلتی ہے۔ یہ علم نہیں جو وسیلہ کا محتاج ہو ، یہ قلم نہیں جو سیاہی کا محتاج ہو، یہ کاغذ نہیں جو حروف تہجی سے آراستہ ہو۔یہ ایسی روشنی ہے جو چاند پر پڑتی ہے تو اسے چاندنی بنا دیتی ہے۔زمین پر پڑتی ہے تو اسے سرسبز بنا دیتی ہے اور خوشبو سے مہکا دیتی ہے۔ یہ   پانی کی طرح راستہ بناتی نہیں روشنی کی مانند راستہ دکھاتی ہے۔ جہاں ہونے کا احساس نہیں ہوتا ، نہ ہونے کا احساس  جاگزیں ہوتا ہے۔ جہاں علم سے بہرہ مند ہونے کی بجائے بےعلم  ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ بہت کچھ جاننے کے علم تکبر کی بجائے کچھ نہ جاننے کا احساس بڑھ جاتا ہے۔
انسان سینکڑوں ہزاروں کتابیں پڑھ کر اپنی ذات کو پہچاننے کے عمل سے علمی استعداد بڑھاتا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے، وہ کھونے کے سفر پر گامزن ہو جاتا ہے۔ جاننا یہ نہیں کہ میرے اندر کیا ہے، کتنا علم ہے، کتنی طاقت ہے، کتنا حسن ہے بلکہ یہ ماننا ہے کہ   یادداشت کے بھروسے پر  لفظوں کی پہچان نے کتنا سفر طے کروایا جو لحد پر پہنچا تو ختم ہو گیا۔
جب تک علمی برتری کا بھوت سر پر سوار رہتا ہے، حکمت و دانائی کی رنگین خوبصورت تتلیاں قریب نہیں آتیں۔ مَیں کی پوشاک پہنی رہے تو روشنی کی کرنیں انتظار میں ٹھہر جاتی ہیں۔ ذات کے اندر مَیں کی تلاش میں غوطہ زن ہوتے ہیں۔ جو علم کی سیاہی سے الفاظ کے ترازو میں تولی جاتی ہے۔
کتابوں میں فاصلے ماپ کر لکھے جاتے ہیں درحقیقت انہیں پہلے پاؤں سے تراشا گیا ہوتا ہے پھر نقطوں کو ملا کر  ایک نقشہ ترتیب پاتا ہے۔جنہیں یہاں تک پہنچ کر ہونے یا نہ ہونے کے فرق کو تلاش کرنے میں کچھ دقت ہے تو انہیں ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں اور ایک مثال سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ انسانی دماغ بھی کمپیوٹر اور مختلف اپلیکیشن کی طرح ہی ایک مشین کی مانند کام کرتا ہے۔ جتنا اسے دیا گیا وہ سب فولڈر بن کر اپنی اپنی جگہ پر محفوظ ہے۔
گلاب کے  سرخ پھول کا تصور کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنکھیں بند کر لیں
اپنے پسندیدہ کھلاڑی کا تصور کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں بند کر لیں
اپنے پسندیدہ فلمی ہیرو کا تصور کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنکھیں بند کر لیں
کسی اداکار کو ذہن میں لائیں جو ولن کا کردار نبھاتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں بند کر لیں
کسی ایک سیاستدان کا خاکہ ذہن میں لائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں بند کر لیں
یہ رہا انسانی دماغ کا  حساب و شمار  Algorithm
جب پھول کو سوچا تو کئی طرح کے پھول ذہن میں ابھر کر آئے ہوں گے۔
کھلاڑی کا تصور کرتے ہی دماغ نے بے شمار کھلاڑیوں کا خاکہ سا بنا دیا ہو گا۔
اسی طرح ہیرو کے ساتھ کئی دوسرے ہیروز اور ولن کے تصور کے ساتھ کئی اور ولن بھی دماغ نے روشن کر دئیے اور آخر میں سیاستدانوں کا ڈھیر دماغ میں گھوم گیا ہو گا۔دماغ نے کہیں بھی دو متضاد کو اکٹھا نہیں کیا ہو گا۔ ہیرو کے ساتھ ولن اور پھول کے ساتھ کانٹے نہیں دکھائے ہوں گے۔انسانی برین نے کچھ نیا نہیں دکھایا جو اس میں محفوظ ہے اس نے اسی فولڈر کو کھول دیا۔
جو برین میں نہیں ہوتا اس پر وہ خاموش ہو جاتا ہے۔   دنیا بھر میں لاکھوں لائیبریریاں کتابوں سے بھری پڑی ہیں۔ جن کے لکھنے میں قلم کاغذ کا استعمال کثیرہ ہوا ہے۔
اور ایک کتاب ہم سب کے گھروں میں ہے جو قلب پہ اتری ہے جو علمیت پر انحصار نہیں کرتی بلکہ روح پر نور کی صورت روشنی بن اتری اور جن پر نازل ہوئی وہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ وہ مقدس کتاب قرآن مجید ہے جو پاک پروردگار کے  خاص محبوب نبی محمد مصطفے ﷺ   (جن پر ہماری جان و مال قربان  )پر وحی کی صورت نازل ہوئی۔   قرآن ہمارے لئے راہ ہدایت ہے ،مشعل راہ ہے،تکریم سبز گنبد کے محبت کے متوالوں کے لئے ایک انعام ہے۔ 


تحریر! محمودالحق


در دستک >>

Mar 14, 2023

سفر در سفر کہانی

آج پھر ایک سفر پر گامزن ہوں۔ زندگی کبھی رکتی تو کبھی چلتی ہے،خیالات سستانے کے لئے بے اعتنائی کی دوا چاہتے ہیں۔حالات جستجو و تمنا کی تحریک میں مبتلائے عشق ہوتے ہیں۔زندگی ایک عجب تماشا ہے جنہیں ڈھونڈتے ہیں انہیں دیکھتے نہیں ،جنہیں ملتےہیں انہیں جانتے نہیں۔
امرود کے باغات زیادہ توجہ مانگتے ہیں۔عدم توجہ سے کیڑے اپنا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔قلب احساس کی جگہ ہے،آنکھیں تلاش گمشدہ کےپیچھے لگی رہتی ہے۔باڑیں لگا دینے سے فصل محفوظ ہو جاتی ہےلیکن پھل پانے کے لئے جڑوں میں پانی دینا ہوتا ہے۔پودوں کے قریب رہ کرپھول سے پھل بننے تک کے عمل کی نگرانی کی جاتی ہے، تب کہیں جا کرذائقہ و رنگ حاصل ہوتا ہے۔
جب دستک دے دی جاتی ہے تو قفل لگے دروازے کھل جاتے ہیں۔اندر داخل نہ بھی ہوں ملاقات سے شرف یاب ہو جاتے ہیں۔مشکل باتیں سمجھناآسان نہیں ہو سکتا۔زندگی مٹی کی مانند تو نہیں جسے گوندھ کربھٹی میں اینٹ بنا لیا جائے، یہ پہاڑ کا پتھر ہے جسے تراشا جاتا ہےپھر کہیں مورت بنتی ہے۔قدم جب آگے بڑھتے ہیں تو نئی زمین پر پاؤںرکھتے ہیں،پیچھے رہ جانے والی زمین آگے نہیں بڑھتی۔
کھونٹے پہ بندھے جانور چارہ شوق سے کھاتے ہیں لیکن انسان قید      میں بہترین کھانے کے شوق سے محروم رہتا ہے۔
درخت کا سایہ کتنا ہی گھنا کیوں نہ ہو بانسوں پر چھپر ڈال کر ہی بارش سےبچا جا سکتا ہے۔پکی سڑک پر تیز رفتار سوار جلد منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔پگڈنڈیوں سے راہ پانے والے قدموں کے بل پر گھر سےکھیتوں تک ہی پہنچ پاتے ہیں۔
درخت اپنی نظر نہیں اتارتے پھر بھی پھل دیتے ہیں کیونکہ نگران کی نظر نہیں چوکتی۔پھل دار نئے پودے اپنے چاروں اطراف مخصوص فاصلے اور ترتیب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔
آج کا بیان  پیچیدگی سے بھرا ہے لیکن معنوی لحاظ سے ہدف آسان ہے۔کہنے سننے کا دور گزر جائے عمل پیرا ہونے کا وقت دامان ہے۔
جنہوں نے چلنا ہے وہ کمر کس لیں، سوچنے کا وقت نہیں،سنبھل کررہنے کا مقام ہے۔ڈاکٹر جب دل کا آپریشن  شروع کر دے تو مکمل کئے بنانہیں چھوڑتا۔
 
 تحریر! محمودالحق

در دستک >>

Oct 31, 2021

ادھوری عشق کہانی

دل تو ہمیشہ چاہا کہ وہ بات کروں جو دل پہ اثر رکھے ، دل سے نکلے لفظ روح تک پہنچیں۔ آج صرف اپنے لئے لکھ رہا ہوں  کیونکہ جو سفر اکیلے طے کیا ہو اس کی داستان سناتے سناتے ایک دہائی سے اوپر ہو گیا   اور مسافر کی عمر پانچ دہائیوں سے اوپر۔سولہ سائز کے کالر میں تیرہ سائز پہن کر بدن و گردن پر ایک مضبوط گرفت کے احساس سے نکلنے میں ایک لمحہ درکار ہوتا ہے۔ کہنے سننے کا وقت گزر جائے تو  تلاش رک جاتی ہے ۔ جاننے کی جستجو نہ رہے تو منزل رک جاتی ہے۔
جنہیں زندگی سے عشق  ہوتا ہے وہ آسائش و آرام کی گنتی کرتے ہیں ۔ آزمائشوں کے ذکر  صبر و تحمل سے بیگانہ ہوتے ہیں۔  چھوٹی گاڑیوں میں اپناسر چھت سے لگےتو پچھلی سواری کے گھٹنے کے لئے جگہ تنگ ہو جاتی ہے۔ کیونکہ  آگے پھیلتے ہیں اور پیچھے سکڑتے ہیں۔ زندگی اپنے چاہنے والوں کو مایوس نہیں کرتی، گنجائش پیدا کر دیتی ہے۔ انسان جب پھیلتا ہے تو دوسروں کو سکڑنے اور پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ چاہ کر بھی سیکھنے والے نہیں ملتے، صرف وہ ملتے ہیں جو صرف پانے کی چاہت رکھتے ہیں اور وہ  بھی اتنا کہ چند لمحات میں وہ اپنا اثر زائل کر دے ۔ زندگی جتنی مختصر ہے خواہشات کی زندگی بھی اتنی ہی محدود۔
گردش خون کی نالیاں جلد پر ابھر جاتی ہیں ،سخت زمین پر سونے سے بھی دل تک خون پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں کیونکہ قلب صرف اپنا خیال نہیں  رکھتا بلکہ پورے وجود کو فعال رکھنے کے لئے  متحرک رہتا ہے۔ جس کا کہا مانا جاتا ہے وہ دو تہائی مشقت سے چور ہو جاتا ہے اور  ایک تہائی وقت زندگی بھر استعمال کرتا ہے۔ پھر بھی تکبر کا مادہ پیدا کرنے سے باز نہیں رہتا۔  انسان اس کے زیر اثر اپنے زندگی بھر کے تجربات کی روشنی میں اندھیروں کی گہرائیوں میں جا اترتا ہے۔
فن پارہ ہو یا بت عاشق نامراد اپنے تخیل سے کینوس پر رنگ بکھیر دیتا ہے  لیکن اس میں احساس کی خوشبو سے محروم رکھتا ہے۔ خالق اپنی مخلوق کو تخلیق کے حسن سے احساس کی دعوت دیتا ہے۔لیکن انسان چولہے پر جلے  اور مشین پر ڈھلے لباس سے اپنی بقائے حیات کی جنگ لڑتا ہے۔ وہیں رہ کر دستارِ وفا کی منزلت و کبریائی چاہتا ہے۔
بوڑھے کی لاٹھی مضبوط ہو تو بڑھاپے سنبھل جاتے ہیں۔ کمر پر بوجھ بڑھ بھی جائے تو کمزور رگوں سے قلب خون کھینچ لیتا ہے ۔ بڑھاپے سپردِ لحد ہونے پر لاٹھی ٹوٹ نہیں جاتی بلکہ زمین پر ڈال دینے سے ہر مشکل اور کڑی آزمائش میں رکنے، ٹوٹنے، جھکنے اور گرنے سے بچائے رکھتی ہے۔ اپنے اپنے سفر کی کہانی ہے ، اپنی اپنی منزل کی راہ ہے، اپنے اپنے عمل کی جزاہے، جسے جو جاننا ہے وہ خود کو کریدے ، جسے جو پانا ہے وہ خود سے چاہے۔ جب سفر ایک نہیں تو نتیجہ ایک کیسے ہو گا۔ اپنی اپنی راہ ہے اپنا اپنا سفر۔ سوچ کے دھارے میں نفع و نقصان تولے جاتے ہیں۔ قلب کے استعارے خالق و مخلوق کے درمیان جزا  و رضا سے جڑے ہیں۔ راہوں سے راہیں جدا ہیں، سوچ سے سوچ بیگانہ ہے، خواہش  کے انتخاب سے آزمائش کی برداشت  حاصل اور لا حاصل کی  جنگ ِافکار ہے۔
پانے کے لئے بھاگ دوڑ ہے جینے کے لئے عیش و آرام ہے۔ کمپیوٹر کی یاد داشت کروڑوں اربوں انسانوں سے بڑھ کر ہے لیکن ایک مچھر کے پر کے برابر اس میں احساس  نہیں ہے۔ ایک سبق ہے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کا جب دوسرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کامیابی و کامرانی کے لئے ایک نسل دوسری نسل سے بہتر پلاننگ کر کے آگے بڑھ جاتی ہے۔ کامیابی و ترقی کا یہ سفر زمین کے لپیٹ دئیے جانے تک جاری رہے گا۔ اور انسان کفن میں لپٹے خالی ہاتھوں کو سپردِ لحد کرتے رہیں گے کیونکہ زندگی کی اصل حقیقت یہی ہے۔
تخلیق اپنے راستے خود اختیار کرتی ہے مخلوق سے اجازت کی طالب نہیں ہوتی۔ خشکی، تری اور ہوا میں رہنے والے اپنی جنس کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ رہتے ہیں ملتے ہیں پالتے ہیں پھر رخت سفر باندھ کر آنے والوں کو یہی موقع فراہم کرتے ہیں۔  انسان اپنے ہاں اولاد پیدا کرنے ، لڑکا یا لڑکی کی صورت بنانے کی اہلیت و اختیار سے محروم ہے۔ پھر دعوی ترقی و عروج کا کیا رہ جاتا ہے۔  پیچھے بچ جانے والے کس نئے نظام کی اصلاح و فلاح کے لئے کمربستہ رہتے ہیں؟
نیا نظام کچھ نہیں ، صرف ایک نظام ہے خالق کا تخلیق کردہ ، جس کی حقانیت قرآن سے ثابت ہے، جو سچ ہے، حقیقتِ عالم ہےجو وجود کائنات کے دائرہ اختیار پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ یقین کے ساتھ جینے میں  صبر و تحمل اور سیر و شکر کی جو رضا ہے  وہ  مٹی سے پیدا ہوئی ہر شے کو خون میں ڈھالنے جیسی ہے۔ کیونکہ زمین میں خون نہیں بنتا اور بدن میں خوشبو نہیں پیدا ہوتی۔ جس ہستی کے بدن کے بہتے پسینے میں خوشبو و مہک کا جلوہ تھا وہ خالقِ کائنات ربِ زوالجلال مالکِ دو جہان نے اپنے محبوب رسول مقبول محمد مصطفی ؑ رحمتہ للعالین کی صورت میں اس زمین پر پھیلایا۔ جن کی بدولت آج ہم اللہ سبحان و تعالی کے فرمان کی  حکم عدولی اور نافرمانی کے باوجود  اس امید کے ساتھ زندہ رہتے ہیں کہ ہم امت محمد صلی اللہ علیہ والیہ وسلم ہیں جو ہماری بخشش کے لیے ایک زریعہ ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے
ترجمہ:
"آسمانوں اور زمین  اور ان کے درمیان سلطنت اللہ کی ہے"۔ سورۃ المائدہ ۔آیت 18
"اور اس سے بہتر کس کا قول جو بلائے اللہ کی طرف اور اچھے عمل کرے اور وہ کہے بیشک میں مسلمانوں میں سے ہوں"۔ سورۃ فصلت ۔آیت 33
 
تحریر: محمودالحق

در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter